ہاتھوں سے لگائی گرہیں، دانتوں سے کھولنا

November 8, 2013 at 03:29 ,
تحریر : خاک نشین؛

آج جمعہ کا اسلامی حوالے سے مبارک دن ہے۔ ملک بھر میں نماز جمعہ کے اجتماعات ہوئے۔ جو بات قبل غور تھی کہ کچھ مخصوص دیوبندی مساجد و مدارس میں ہونے والے اجتماعات میں آج جشن کا سا سما تھا۔ خطیب حضرات نے طالبان کے حوالے سے بھرپور تقاریر کیں۔ دیوبندی علماٴ عمومی طور پر لفظ طالبان کے بجائے “اہل حق یا مجاہدین” کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ جن علماٴ کی تقاریر کے اقتباسات مجھ تک پہنچے انہوں نے آج واضح طور پر کہا ہے کہ بہت جلد ملک پر اہل حق کا غلبہ قائم ہونے والا ہے اور کافرانہ نظام کے بجائے اسلامی خلافت کا نظام آنے والا ہے۔ مجاہدین کی قربانیاں رنگ لانے والی ہیں اور یہود و نصارا کے نظام کے ساتھ ساتھ انکے ایجنٹوں کا بسترا گول ہونے والا ہے۔

آج کی ان تقاریر سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے علماٴ دیوبند پاکستانی عوام کو طالبان کے استقبال کےلیے تیار رہنے کا عندیہ دے رہے تھے۔ مجھے نہیں معلوم کہ ارباب اختیار اور مقتدر حلقے ان تقاریر کو کس طرح لیتے ہیں لیکن مجھ جیسے عام پاکستانی کےلیے ایسی تقاریر کسی بھیانک خواب سے ہرگز کم نہیں۔ جب سے مذاکرات کی بات شروع ہوئی ہے، علماٴ دیوبند کی چال ڈھال ہی بدل چکی ہے۔ کچھ تو ہے، انتہائی غیرمعمولی۔ جس نے عید سے پہلے ہی دیوبندی مدارس اور مساجد میں عید کا رنگ بنا دیا ہے۔

دوسری طرف عمران خان کے سپائیوں اور طالبان کے اسلامی مذہبی بھائیوں نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے حق میں زبردست مہم ہر جگہ چلا رکھی ہے۔ طالبان سے مذاکرات کے حامی یہ دلیل دیتے ہیں کہ اگر جلد از جلد نتیجہ خیز مذاکرات شروع کرکے کوئی معائدہ نہ کیا گیا تو عالمی طاقتیں پاکستان کے اندرونی خلفشار کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کو توڑ دیں گی۔ کہنے والے شاید ٹھیک ہی کہتے ہوں گے لیکن کوئی اس کا بھی تو جواب دے کہ ملک آئین کے مطابق چلانا ہے یا کہ “نظریہ ضرورت” کہ تحت؟ اگر ملک کو آئین و قانون کے مطابق چلانا ہے تو پھر طالبان کے خلاف آرٹیکل ٦ کے تحت سنگین غداری کے مقدمات ہی وہ واحد حل ہے جو آئینِ پاکستان تجویز کررہا ہے لیکن اگر فیصلے “نظریہ ضرورت” کے مطابق ہی کرنے ہیں تو پھر طالبان کو معافی کے ساتھ ساتھ حکومت اور ملکی دفاع کے معاملات بھی دے دینے چاہیے۔

کیونکہ جس انداز میں پاک آرمی کو طالبان کے سامنے سرنڈر کروایا جارہا ہے اس سے بظاہر تو یہی نظر آئے گا کہ طالبان زیادہ فعال اور بہتر انداز میں ملکی دفاع کے اہل ہیں۔ کیا مذاکرات او طابان جیسے مسلح دہشتگردوں سے سیزفائر کےلیے منتیں اس بات کے مترادف نہیں کہ پاک آرمی ان دہشتگردوں کے مقابلے میں ناکام ہوچکی ہے۔ طالبان کی موجودگی میں کسی کو کیا ضرورت ہوگی کہ پاکستان کو نقصان پہنچائے۔ لہذا پاکستان کو توڑنے کی عالمی سازش ناکام ہوجائے گی۔ کیونکہ ملک اپنے ہی “بچوں” کے کنٹرول میں رہے گا۔ اگر آئین کا مذاق ہی اڑانا ہے تو پھر ارباب مذاکرات دل کھول کر اڑائیں تاکہ کوئی حسرت باقی نہ رہے۔

پاکستان اگر اس دوراہے پر کھڑا ہے تو زمہ دار کون ہے؟ کس نے افغانستان اور کشمیر فتح کرنے کےلیے جہادی وائرس پاکستان میں پھیلایا؟ کس نے جہادی تعلیمات کے لیے دیوبندی مدارس کو ملک کے کونے کونے میں قائم کرنے میں مدد کی؟ سب جانتے ہیں دیوبندی مدارس جہادیوں کی “لائف لائین” ہیں، طالبان کی چھاونیاں اور پناہ گاہیں ہیں، یہی مدارس طالبان کو افرادی قوت کے ساتھ لاجسٹک سپورٹ بھی فراہم کررہے ہیں۔ لیکن گزشتہ ١٢ سالوں میں ارباب اختیار نے ان دہشتگردی، فرقہ واریت کی تعلیمات کے اڈوں کے خلاف کیا اقدامات کیے؟ سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی، جیش محمد، لشکر طیبہ اور دیگر گروہوں کے معاملے میں قوم کے ساتھ سنگین مذاق کیاگیا۔ صرف ناموں کو کالعدم قرار دیا گیا۔ اور یہ دہشتگرد گروہ ماضی سے زیادہ طاقت کے ساتھ سینہ تان کے پاکستان میں اپنے ایجنڈے پر کام کررہے ہیں۔ ہم ناجانے کس کو بے وقوف بنا رہے ہیں؟ ہم نے سنجیدگی سے دہشتگردی کے خلاف جنگ کی ہی کب ہے؟ سوات میں سنجیدہ تھے تو کامیاب ہوئے۔ وزیرستان میں گڈ اینڈ بیڈ طالبان کے چکر سے ہم ابھی تک نہیں نکلے۔ اور مزید اب تو اصلی اور جعلی طالبان کا چکر شروع کر دیا گیا ہے۔ ہم نہ جانے کب تک خودفریبی میں مبتلا رہیں گے۔

ملک آئین کے مطابق چلتے ہیں۔ داخلی و خارجی مسلح جارحیت کے خطرات سے نمٹنے کےلیے ہی ریاستیں افواج کھڑی کرتی ہیں۔ تقریبا ٧ لاکھ افراد پر مشتمل پاک آرمی ایسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہی ہے۔ ان مسائل کے پیدا کرنے میں سب سے بڑا حصہ جرنیلوں کا ہے اور انہیں ہی نظریہ ضرورت کے بجائے آئین کے مطابق یہ مسائل حل کرنا ہیں۔ جنہوں نے یہ کانٹے بکھیرے تھے انہیں ہی یہ کانٹے سمیٹنا ہوں گے۔ جنہوں نے گرہیں لگائی تھیں انہیں ہی یہ گرہیں کھولنا ہوں گی۔ گرہیں بہت مضبوط ہوچکی ہیں اور شاید یہ محاورہ سچ ثابت ہوگا کہ:

“ہاتھوں سے لگائی گئی گرہیں، کھبی کھبی دانتوں سے کھولنا پڑتی ہیں”

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



nine + = 13