کیمیائی ہتھیار

August 28, 2013 at 06:12
انا الحق؛

کیمیائی ہتھیار ایک ایسا آلہ ہے جو کیمیائی ترکیب سے تشکیل دے کر انسانوں کو مارنے یا ہمیشہ کے لیے معذ ور بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ حالیہ واقعہ کے پیش نظر جس میں شامی حکومت نے کیمیائی ہتھیار استعمال کر کے بہت سارے انسانوں کو قتل کیا ہے بلکہ اس جیسے دوسرے ممالک کو بھی حیران کیا ہے۔ کیمیائی ہتھیار بہت سارے دوسرے ہتھیاروں کی نسبت زیادہ خطرناک اور اذیت ناک موت کا سبب بنتے ہیں۔ حیاتیاتی ہتھیار اور کیمیائی ہتھیار دونوں ہی بہت خطرناک ہیں۔

ان ہتھیاروں کہ لیے ایک اصلاح استعمال کی جاتی ہے۔انبوہ تباہی ہتھیار( ویپن آف ماس ڈسٹریکشن) سے مراد ایسے ہتھیار ہیں جو لوگوں کی کثیر تعداد کو مار سکتا ہو اور ان کو خطیر ضرر پہنچا سکتا ہو۔ اس کے علاوہ انسان کی بنائی عمارتوں اور دوسری چیزوں کے ساتھ ساتھ کرہ ارض کو نقصان پہنچا سکتے ہوں۔

جدید دور میں انسان نے اپنے دشمن کو تلف کرنے کے لیے جدید اصلحہ تیار کر لیا ہے کہیں پر انسانی کی طرز کے ربوٹ جنگ لڑنے کے لیے تیار ہیں اور کہیں پر جان لیوا بیماریوں کے جراثیم سے جنگ کے لیے تیاریا ہو رہیں ہیں اسی میں سے ایک نرو گیس ہے جو کہ کیمیائی ہتھیاروں میں شامل ہے۔

کیمیائی ہتھیاروں کی ایک لمبی تعداد ہے جن میں سے انسانی جسم پر اثرانداز ہونے کہ اعتبار سے ذکر کیا جائے گا۔

سب سے پہلے وہ کیمیکل جو انسانی اعصاب پر اثر انداز ہوتے ہیں اور انسان کو حرکت کرنے سوچنے اور کسی بھی اعصابی عمل سے روک کر کچھ ہی وقت میں موت کا باعث بنتے ہیں۔

1: سیرین: یہ بے رنگ اور بے بو مائع ہے یہ نرو ایجنٹ بھی کہلاتا ہے اور اس کو اقوام متحدہ کی طرف سے عوام الناس کی موت کا سب قرار دیا گیا ہے۔ اس کا سب سے پہلے استعمال 1950 میں ہوا اور آخری دفعہ 2013 میں ممکنہ طور پر خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شامیوں نے یہ کیمیکل استعمال کیا ہے۔ یہ سائینائڈ سے بھی پانچ سو گناہ زیادہ خطرناک ہے۔ اور اس کا اثر سب سے پہلے ناک بہنا، سینے میں جکڑن، آنکھ کی پتلیوں کا سکڑنا، سانس کا روکنا، متلی، اور قے کے ساتھ ہی جسم روک جاتا ہے جس کہ ساتھ جھٹکے لگتے ہیں تھوڑی دیر بعد موت کا سبب بن جاتاہے۔

2: سومان: یہ کیمیکل بھی بہت زہریلہ ہے اور عمل کے لحاظ سے سیرین کی طرح ہی ایسی ٹائل کولین ایسٹریز انزیم پر عمل کرتا ہے۔اس کو بھی نرو ایجنٹ ہی کہتے ہیں۔ اس کو جنگ عظیم اول میں استعمال کیا گیا۔

3: سائیکلوسیرین : یہ کیمیائی ہتھیار سب سے پہلے جرمنی نے جنگ عظیم دوم میں تیار کیے تھے یہ نرو ایجنٹ کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں۔ یہ ایسے ہتھیار ہیں جو انسانی اعصابی نظام پر اثر کرتے ہیں۔

4:تابون: یہ شفاف،بے رنگ، بے ذائقہ مائع ہے جس کی پھلوں جیسی خوشبو ہے۔ یہ بھی اعصابی نظام پر اثر انداز ہو کر اسے مفلوج بنا دیتا ہے۔ اوپر درج تمام کیمیکل اور تابوں کو جی سیریز کیمکل کہا جاتا ہے جو انتہائی زہریلے ہیں۔ اس کو حادثاتی طور پر جرمنوں نے 1936 میں دریافت کیا تھا۔

دوسرے نمبر پر ہم جلد کو جلا دینے والے کیمیکل کا ذکر کریں گے جن کو بلسٹرینگ ایجنٹ کہتے ہیں۔ یہ کیمیائی ہتھیار جنگوں میں مخالف فوج کو جلانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور اس سے انسانی جلد کو جلا کر بھسم کر دیتے ہیں۔

مسٹرڈ گیس: مسٹرڈ گیس کاربن، ہائیڈرجن، سلفر اور کلورین کا مرکب ہے۔ یہ بے رنگ گاڑھا مائع ہے جو زرد سے بھورے رنگ کا ہوتا ہے اور بو سرسوں اور لہسن کے پودے سے ملتی ہے۔ اس کو بھی جرمن آرمی نے1916میں ہی بنایا تھا۔اس کے اثرات میں سب سے اہم جلد کا جل جانا اور اس میں زرد رنگ کا پانی بھر جانا ہے جو سلفر ہی ہوتا ہے اس کے علاوہ نظام تنفس پر بھی اس کا بہت خطرناک اثر ہے۔صدام حسین نے اس کو استعمال کر کے 4000 کے قریب کرد ماردیے تھے۔ اس کے علاوہ اسرائیل نے مصری افواج کے خلاف ہونے والی دونوں بڑی جنگوں میں اِن بھیانک کیمیائی ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال کیا۔

تیسرے نمبر پر نظام تنفس پر اثر کرنے والے ہتھیار شامل ہیں

کیمیائی ہتھیاروں کی ایک اور بھیانک قسم سانس روک کر انتہائی دردناک موت سے دوچار کرنے والے کیمیکلز کلورین اور فاسجین وغیرہ شامل ہیں۔ ان کیمیائی ہتھیاروں کا شکار بننے والے کی سانس کی نالی بند ہوجاتی ہے اور دم گھٹنے سے وہ انتہائی بھیانک موت کا شکار ہوجاتا ہے۔

ایسے کیمیائی ہتھیار بھی ہیں جن کے شکار افراد پر ایسے اثرات مرتب ہوتے ہیں جیسے لقوے/ فالج کا شکار ہوگئے ہوں۔ اچھا خاصا تندرست انسان اِن ہتھیاروں کے اثر کی وجہ سے کوئی بھی حرکت کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ ایسے کیمیائی ہتھیاروں کو دہشت گردوں پر قابو پانے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ایک کیمیائی ہتھیار ایسا بھی ہے۔ جس کا شکار انسان الٹیاں کر کر کے نڈھال ہو جاتا ہے اور موت واقع ہو جاتی ہے۔

ان کے علاوہ بہت سارے زہریلے مادے استعمال کیے جا سکتے ہیں جن میں سے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی جاتی ہے۔

اس مضمون کا مقصد ہتھیاروں سے آگہی ہے جس کا شکار پوری دنیا کے انسان ہو رہے ہیں۔ ویسے تو ہتھیاروں کی بہت ساری قسمیں ہیں لیکن کیمیائی ہتھیار سب سے زیاد استعمال ہو تے ہیں۔

Related Posts

Comments

comments

1 Comment

Leave a reply

required

required

optional



nine + 1 =

%d bloggers like this: