کیا مذاکرات کی کامیابی سے امن قائم ہو جاۓ گا؟

February 5, 2014 at 06:43 , , ,
خاک نشین؛

حکومتِ پاکستان اور طالبان کے درمیان اگر مذاکرات کامیاب بھی ہو جائیں تو میری راۓ کے مطابق پاکستان میں امن قائم نہیں ہوگا۔ اس کی ایک بنیادی وجہ ہے کہ ان مذاکرات کے ایجنڈے پہ طالبان کی بریلوی، شیعہ، عیسائی، قادیانی، ہندو اور دیگر مذاہب و مسالک کے خلاف دہشتگردانہ کاروائیوں کے حوالے سے سرے سے زکر ہی موجود نہیں ہے اور نہ ہی ان مسالک و مذاہب کے اکابرین کو اس عمل کا حصہ بنایا گیا یا اعتماد میں لیا گیا ہے۔

جب سے مذاکرات ڈرامہ شروع ہوا ہے، تب سے پاکستان اور طالبان (دیوبندی مافیا) کے بیچ غیراعلانیہ جنگ بندی ہو چکی ہے۔ لیکن قابلِ توجہ امر یہ ہے کہ طالبان مخالف شیعہ مسلک کے لوگوں کا پورے پاکستان میں قتلِ عام پورے زور و شور سے جاری ہے۔ آج صبح پشاور میں شیعہ مسلک کے صوبائی صدر سید سردار علی اصغر کو قتل کیا گیا جبکہ ابھی شام کو قصہ خوانی بازار میں واقع امام بارگاہ کے قریب خود کش دھماکہ کیا گیا۔ امکان ہے کہ طالبان کے حمایتی اس کاروائی کو حسبِ عادت و روایت تیسری قوت کے سر تھونپیں گے۔ لیکن سب کو معلوم ہے کہ یہ دیوبندی مافیا کی کاروائی ہے۔ فوج، پولیس اور سرکاری املاک پر حملوں کے خاتمہ سے کیا دہشتگردی ختم ہو جاۓ گی؟ ہرگز نہیں۔ طالبان 4 سے 5 کروڑ پاکستانی شیعہ سے صلح نہیں کریں گے اور ناہی شیعہ طالبان کی اطاعت قبول کریں گے۔ جبکہ حالیہ دنوں میں شیعہ اور بریلوی مسالک کے اکابرین کافی قریب آچکے ہیں۔ جوکہ طالبان کی بالادستی کسی صورت قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

ہم کو سمجھنا ہوگا کہ طالبان، سپاە صحابہ، لشکرِ جھنگوی، جمعیت علماٴ اسلام وغیرە میں کوئی فرق نہیں ہے۔ یہ دیوبندی مدارس مافیا ہے۔ فکری حوالے سے سب ایک ہیں، طالبان اس دیوبندی فکر پر عملی طور پر کار بند ہیں جبکہ دیگر دیوبندی جماعتیں اور انکے مدارس طالبان کو افرادی قوت، لاجسٹک سپورٹ، فنڈز، خفیہ اطلاعات اور پناە گاہیں مہیا کرتی ہیں۔ جب تک اس سوچ کا تدارک نہیں کیا جاتا، امن ایک دیوانے کا خواب ہی ثابت ہوگا۔ جبکہ ریاست ان اہم نکات کو فراموش کرتے ہوۓ مذاکرات پر توجہ مرکوز کیۓ بیٹھی ہے۔ یہ خود فریبی کے سوا اور کچھ بھی نہیں۔ بنیادی وجوہات کے تدارک تک یہ آگ نہیں بجھ سکتی۔ امن کو قائم کرنا ہے تو درج زیل نکات پر غور کیا جاۓ۔

1:۔ پہلے مرحلے میں پاکستان بھر میں دیوبندی مدارس کے خلاف بھرپور کاروائی کی جاۓ اور سپاہ صحابہ پر حقیقی پابندی عائد کی جاۓ۔ جبکہ وزیرستان میں بھرپور اپریشن کیا جاۓ۔

2:۔ دوسرے مرحلے میں پاکستان میں تمام مسالک کے مدارس کے اخراجات کا صاف اور شفاف طریقے سے حساب کتاب لیا جاۓ۔

3:۔ مدارس کی بیرونی ممالک سے امداد پر مکمل پابندی عائد کی جاۓ۔ جبکہ علماٴ کے بیرونِ ملک رابطوں کی سختی سے نگرانی کی جاۓ۔

4:۔ آخری مرحلے میں حکومت تمام مسالک کے مدارس کو سرکاری تحویل میں لے لے۔

5:۔ مدرسہ میں داخلہ کے لیۓ انٹرمیڈیٹ کو تعلیمی قابلیت اور کم از کم عمر کی حد اٹھارہ سال کو مقرر کیا جاۓ۔

6:۔ نئے مدارس کے قیام پر پابندی عائد کی جاۓ۔

7:۔ دہشتگردی اور فرقہ وارانہ کاروائیوں میں جن دہشتگردوں کو پھانسی کی سزا کا حکم ہوچکا ہے انہیں فوری پھانسی دی جاۓ۔

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



+ 4 = nine

%d bloggers like this: