کیا شریعت پاکستان کے تمام مرضوں کی دوا ہے؟

February 11, 2014 at 00:01 ,
خاک نشین؛

پاکستان میں ملائیت اس وقت پورے جوش وخروش کے ساتھ نفاذِ شریعت کے لیئے سرگرم ہے۔ جبکہ مُلا اور بعض سیاستدان عوام کو یقین دلانے کی کوشش کررہے ہیں کہ پاکستان کے تمام مرضوں (مسائل) کی دوا شریعت کا نفاذ ہے۔

خواتین کا پردہ، خواتین کا گھروں سے باہر آنا، مخلوط نظامِِ تعلیم، داڑھی کا نہ ہونا، زنا، شراب نوشی، نماز و عبادات کا نہ ہونا، موسیقی، رقص، فلمیں، فنونِ لطیفہ، ویڈیو اینڈ سی ڈیز سینٹرز وغیرہ کیا ہمارے بڑے مسائل ہیں جن کی بنیاد پر پاکستان ترقی نہیں کر رہا اور پسماندگی کی دھنستا چلا جارہا ہے؟ شریعت کے نفاذ کے بعد ان مسائل کے حل کے بعد کیا پاکستان میں پسماندگی کا خاتمہ ہو جائے گا؟ ہرگز نہیں۔

عوام کو دھوکہ دیا جارہا ہے۔ شریعت جن مسائل کی نشاندہی کررہی ہے وہ کھبی بھی پاکستان کے حقیقی مسائل نہ رہے تھے۔ پاکستان کے حقیقی مسائل دہشت گردی، فرقہ واریت، لسانیت، لاقانونیت، غربت، ناقص تعلیمی نظام، جہالت، توانائی کا بحران، بے روزگاری، مذہب کے نام پہ استحصال، مذہبی منافرت، کرپشن وغیرہ ہیں۔ جن میں سے آدھے سے ذیادہ مسائل مذہب کے “بائی پروڈکٹ” ملائیت کے ہی پیدا کردہ ہیں۔ ملائیت کے پاس پاکستان کے حقیقی مسائل کا کوئی حل موجود نہیں ہے کیونکہ ملائیت بذاتِ خود زیادہ تر حقیقی مسائل کی خالق اور بنیاد ہے۔

دراصل شریعت سے اختلاف وہ کر رہے ہیں جو شریعت کے نفاذ سے حاصل ہونے والے ثمرات سے واقف ہیں اور جو شریعت کا نفاذ چاہتے ہیں ان میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جن کو خود شریعت کا علم نہیں یا جنھیں محض درسی کتابوں میں یہ بتایا جاتا ہے ہے کہ اسلام کا ابتدائی دور کتنا حسین تھا یا مسلمان کتنے علاقے پر قابض تھے، وہ اس علاقے کے قبضے کو شریعت کی برکت سمجھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ شریعت کی بدولت ہم دنیا پر حکومت کر سکتے ہیں اور شائد اس دور خلافت میں دنیا کے تمام مسائل مسلمانوں نے حل کر لئے تھے اور آج بھی دنیا کو اسی نظام کی اشد ضرورت ہے۔ حالانکہ یہ سب کتابی اور افسانی قصے ہیں، شریعت کا ماڈل ایسا فلاپ ہوا کہ اسلام کے ابتدائی سالوں کے بعد کہیں نظر نہیں آیا۔ آج بھی سعودی عرب میں بادشاہت ہے شریعت نہیں اسی طرح ایران میں نیم جمہوری حکومت ہے شریعت نہیں۔

وجہِ مرض کھبی مرض کی دوا نہیں ہوتی۔ وجہِ مرض کو دوا قرار دینے والے دنیائے اخلاق و انسانیت کے بہروپیوں، شعبدہ بازوں، اطائیوں، بیوپاریوں، ٹھگوں، نوسربازوں، بونوں اور شاہ دولوں کے مذہبی دلال مُلاوں کے ٹولے کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ بحیثیت انسان ہم ایسے ملائیت کے ضابطے (شریعت) کو مسترد کرتے ہیں جس میں انسانیت سے زیادہ مذہبی عقائد کو ترجیح دی جائے، جہاں مختلف عقائد کے حامل لوگوں کے لیئے عدل و انصاف کے معیار مختلف ہوں، جہاں خواتین کو فقط بچے جننے کی مشین سمجھا جائے۔ ایسی جعلی مساوات کو ہم نہیں مانتے!! ایسے ضابطہِ ملائیت (شریعت) کو ہم نہیں مانتے!!!

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



5 + = six

%d bloggers like this: