کتے کی شہادت

November 6, 2013 at 16:19 , , ,

خانزادہ؛

امتِ مسلمہ بے چاری کے مسائل ختم ہوکے ہی نہیں دیتے۔ اب مولانا صاحب کے بیان کے بعد علماءِ حق کے سامنے ایک اور گھمبیر مسئلہ کھڑا ہوگیا اور وہ یہ کہ اگر کتا شہید ہوجائے تو اسے کتنی حوریں ملیں گی؟ اگر اسے بھی 72 حوریں ہی ملتی ہیں تو وہ ایک مرد شہید کے برابر ہوجائے گا جبکہ اسلام میں تو مرد کے برابر عورت بھی نہیں ہوسکتی کجا کہ ایک کتا (چاہے وہ کتنا ہی شہید کیوں نہ ہو)۔ اور اگر اسے 72 سے کم حوریں ملتی ہیں تو کیا یہ شہادت کے رتبے کیساتھ زیادتی نہیں ہوگی؟

ہمارے ایک جید عالم نے خواب میں اصحابِ کہف کے کتے کو جنت میں پریشاں حال ٹہلتے دیکھا ہے۔ ان حضرت کتے کو سبکی محسوس ہورہی ہے کہ مقدس اصحاب اور سرزمین سے تعلق اور قرآن میں ان کا ذکر ہوتے ہوئے بھی انہیں وہ درجہ نہیں نہیں مِلا جو پاکستانی کتوں کو ملا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جب فردوس میں سیاہ کافور برسنا شروع ہوجاتا ہے اور حوریں صحبت کی غرض سے خیمے میں جاکر پردہ کھینچ لیتی ہیں تو وہ بے چارہ کتوں کی طرح باہر ٹہلنا شروع کردیتا ہے۔

علماء کے ایک طبقے کا خیال ہے کہ موصوف کتے کو شہید بعد ازمرگ کا درجہ دے کر جنت کے کتوں کا سردار بنایا جائے اور کتابوں پر سے گرد جھاڑ کر کچھ “کتی حور” کا گنجائش نکالی جائے تا کہ شہداء کی دل جوئی کا مناسب انتظام کیا جاسکے۔ مذکورہ خواب دیکھنے والے عالم سے تھوڑے سے کم جید عالم نے خواب میں دیکھا ہے کہ پردہ کھینچے جانے کے بعد باہر ٹہلنے والے کتے کی شکل رئیس الشہداء جناب حکیم اللہ محسود سے ملتی جلتی ہے۔ تاہم سیر حاصل بحث و مباحثہ کے بعد اس خواب کو متفقہ طور پر ایک “ضعیف خواب” قرار دیا گیا۔ تاہم اس ضعف کا موصوف عالم کے عقیدے سے کوئی تعلق نہیں۔ ایک تیسرے عالم نے نشانِ حیدر سے آراستہ میجر بھٹی کو خواب میں دیکھا جو مذکورہ کتے (ضعیف العقیدہ لوگ پھر بھی اسے رئیس الشہداء حکیم اللہ محسود ہی کہیں گے) سے بھی زیادہ رنجیدہ تھے۔ بقول میجر صاحب کے تمام پاکستانی “شہداء” (ظاہر ہے وہ تو خود کو اب بھی شہید ہی سمجھتے ہیں) کو یہ قلق ہے کہ کاش انہیں بھارت کے بجائے امریکہ نے مارا ہوتا۔

مزید یہ کہ شہید چی گویرا جب شام کے وقت ویت نام اور روس کے ملحد شہداء کے ساتھ واک پر نکلتے ہیں تو بھارت کے ہاتھوں مارے جانے والے پاکستانی “شہداء” کو چھیڑنے کی غرض سے اپنے پہلو میں موجود کامریڈ حوروں کی چٹکیاں لے کر کہتے ہیں “امریکہ تیرا شکریہ”۔ خواب دیکھنے والے عالم کے بقول “یہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے”۔ اگرچہ یہ اعتراض بھی سامنے آیا کہ چی گویرا سمیت امریکہ کے ہاتھوں مارے جانے والے باقی ملحدین شہادت کا مرتبہ اس لئے نہیں پاسکتے کہ شہادت کیلئے ایمان شرط ہے۔ تاہم ایک چوتھے عالم نے کتوں کے ایمان کا مسئلہ اٹھایا اور یوں ایک نئی بحث چھڑ گئی۔

بات وہی ہے، امت مسلمہ بے چاری کے مسائل ختم ہوکے ہی نہیں دیتے۔ ڈیڑھ گھنٹہ لیٹ آنے والے ایک اور عالم نے اپنے دیر سے آنے کی وجہ یہ بتائی کہ وہ خواب میں بھارت کے ہاتھوں مارے جانے والے پاکستانی فوجیوں کی دل جوئی میں مصروف تھے جنہیں مولانا صاحب کے فتوے کے بعد تمام حوروں اور باقی انعام و اکرام کی ریکوری کا نوٹس مل گیا تھا۔ اور وہ پریشان تھے کہ اب ہزار ہزار سال کی ہمبستری کی ریکوری کیونکر ہو۔

علماء کی نظر میں نئی صورتحال کا سب سےاندوہناک پہلو یہ ہے کہ اب شہادت کی تمنا لئے مدارس کے تمام طلباء، تبلیغی حضرات، اور سوشل میڈیا پر موجود اسلام کے مجاہدین باری تعالٰی کے سامنے گڑ گڑا کر ایک ہی دعا مانگ رہے ہیں۔ “یا اِلٰہی میں کتے کی موت مارا جاوں”۔

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



7 − = four

%d bloggers like this: