ڈی این اے ٹیسٹ اور نام نہاد سائنسدانوں کی معرکہ آرائیاں (حصہ دوم)۔

June 15, 2013 at 07:41 , , ,

محمد عمر؛

گزشتہ حصے میں ڈاکٹر غلام اصغر ساجد صاحب کی تحریر کا پوسٹ مارٹم کیاگیا تھا اور قارئین پر یہ واضح کیا تھا کہ کیسے موصوف نے ایک واقعے کو جذباتی انداز میں پیش کر کے نا پختہ ذہنوں میں ڈی این اے ٹیسٹ کے متعلق بے بنیاد شکوک پیدا کئے۔ حالانکہ ڈی این اے ٹیسٹ ایک انتہائی قابل اعتبار ٹیسٹ ہے اور پوری دنیا میں مختلف نوعیت کے امراض، جن میں موروثی بیماریاں بھی شامل ہیں، کی تشخیص کے ساتھ ساتھ دیگر کئی مختلف اقسام کی صورتوں، جیسے کہ لاوارث اور مسخ شدہ لاشوں کی شناخت، میں کامیابی سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ مضمون کے موجودہ حصے میں ہم ڈاکٹر صاحب کی تحریر کے باقی حصے کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ اس موضوع کے کچھ اور پہلووں پر بھی بحث کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس کے علاوہ مختلف انٹرنیٹ فورمز پر نام نہاد اسلام پسندوں اور اسلامی نظریاتی کونسل کے فیصلے کے حمایتیوں کی جانب سے اٹھائے جانے والے مختلف سوالات کا جواب دینے کی سعی بھی کی گئی ہے۔
اس موضوع پر آگے بڑھنے سے پہلے بہتر ہوگا کہ ایک بنیادی نکتے کو واضح کر لیا جائے۔ اسلامی جمہوریہ کے قانون میں جب لفظ زنا کا ذکر کیا جاتا ہے، تو اس سے مراد دو اقسام کے جنسی اعمال لئے جاتے ہیں۔ اول زنا بالرضا، دوم زنا بالجبر۔ راقم کا خیال ہے کہ زنا بالرضا ریاست کے دائرہ کار سے باہر اور اس میں ملوث افراد کا ذاتی عمل ہے، جسے ایک اخلاقی برائی تو قرار دیا جا سکتا ہے، لیکن اس کو ایک کریمنل ایکٹ قرار دینے میں بہت سے قباحتیں ہیں۔ زنا بالرضا کی حمایت یا مخالفت اس مضمون کا موضوع نہیں اس لئے میں اس پر مزید کسی بحث میں فی الحال نہیں پڑنا چاہتا۔ تاہم یہاں یہ عرض کر دینا مناسب سمجھتا ہوں کہ آیا ڈی این اے ٹیسٹ زنا بالرضا کے کیسوں میں شہادت کے طور پر استعمال ہو سکتا ہے یا نہیں، اس سے قطع نظر راقم کے لئے زیادہ اہمیت اس بات کی ہے کہ زنا بالجبر کے کیسز میں حقیقی ملزمان کو قرار واقعی سزا دی جا سکے۔ نہ تو کسی بے گناہ کو اس طرح کے کسی کیس میں پھنسایا جا سکے اور نہ ہی کوئی قصوروار سزا سے بچ سکے۔ کیونکہ زنا بالجبر ایک ایسا گھناونا عمل ہے جو نہ صرف اس عمل کا شکار ہونے والے فرد کے لئے معاشرتی تکلیف کا باعث بنتا ہے، بلکہ اس کے ذہن پر دور رس نفسیاتی اثرات بھی مرتب کرتا ہے۔ اور عموماً یہ دیکھا گیا ہے کہ اس گھناونے عمل کا شکار ہونے والے افراد یا تو ایک زندہ لاش کی شکل اختیار کر جاتے ہیں یا پھر اپنے ہاتھوں اپنی جان لے کر اس اذیت بھری زندگی کو خیر باد کہہ جاتے ہیں۔
انٹرنیٹ پر مختلف فورمز میں بحث کے دوران ہم پر انکشاف ہوا کہ دائیں بازو کے حمایتی ہماری عوام کا ایک بڑا حصہ ڈی این اے ٹیسٹ کے متعلق ایک بنیادی مغالطے کا شکار ہے۔ اب نجانے یہ مغالطہ ہمارے ملک کے ملا صاحبان نے دانستہ اپنے پیروکاروں کے ذہنوں میں ٹھونسا ہے یا شائد وہ خود بھی اس ٹیسٹ کی اصلیت سے ناواقف ہیں۔ مناسب ہو گا کہ اس نکتے کو بھی یہاں واضح کر دیا جائے۔ ڈی این اے ٹیسٹ جنسی عمل کے وقوع پذیر ہونے یا نہ ہونے، اور اس عمل کے بزور یا برضا ہونے کی تصدیق کے لئے ہر گز استعمال نہیں کیا جاتا۔ فرض کیجئے کہ ایک خاتون کسی مرد پر الزام لگاتی ہے کہ مذکورہ مرد نے اس سے زبردستی جنسی زیادتی کا ارتکاب کیا ہے۔ پہلے تو اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ آیا اس خاتون نے جنسی عمل کیا بھی ہے یا نہیں۔ اس میں ڈی این اے ٹیسٹ نہیں بلکہ کچھ اور طرح کے ٹیسٹ کئے جاتے ہیں۔ اگر یہ ثابت ہو جائے، تو پھر اس بات کا جائزہ لیا جاتا ہے کہ آیا یہ عمل زبردستی ہوا یا رضا سے، فورنزک سائنس کے دیگر مختلف ٹیسٹس سے اس بات کا جائزہ لیا جاتا ہے، جیسا کہ خاتون کے جسم پر تشدد کے نشان، اس کے جنسی اعضا پر پائے جانے والے ایسے نشان جو یہ پتہ دے سکیں کہ یہ عمل زبردستی تھا یا رضا سے۔ یہاں بھی ڈی این اے ٹیسٹ کا کوئی عمل دخل نہیں۔ اگر ان سب ٹیسٹوں سے یہ بات ثابت ہو جائے کہ خاتون واقعی سچ کہہ رہی ہے تو اگلا مرحلہ مجرم کی درست شناخت کا ہوتا ہے۔ اور یہ وہ واحد مرحلہ ہے جہاں ڈی این اے نامی ٹیسٹ استعمال کیا جاتا ہے۔ یعنی ڈی این اے ٹیسٹ کا اس بات سے کوئی تعلق ہی نہیں کہ آیا زنا ہوا بھی تھا یا نہیں، اور اگر ہوا تھا تو کیا بالرضا تھا یا بالجبر۔ ان تمام باتوں کا تعین کرنے کے لئے کئی دوسرے قسم کے ٹیسٹ کئے جاتے ہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل اور اس کے حمایتیوں کی جانب سے ان ٹیسٹوں پر خاموشی اور فقط ڈی این اے ٹیسٹ کی مخالفت اس امر کا کھلا اظہار ہے کہ ان کی یہ مخالفت کسی علمی و تکنیکی بنیاد پر نہیں، بلکہ اپنی مخصوص رجعت پسندانہ سوچ اور ترقی مخالف رویے کی وجہ سے ہے۔ یہ وہی رویہ اور سوچ ہے جس کی بنیاد پر آپ کے پیشرو حضرات کبھی چھاپہ خانے کو تو کبھی ریل کو اسلام کے لئے خطرہ بیان کرتے رہے ہیں۔
ہمارے فاضل دوست شائد اپنے لاشعور میں موجود اس سچائی سے جان نہیں چھڑا پا رہے کہ جس ٹیسٹ کی مخالفت میں ان کا قلم اٹھا ہے، وہ دراصل ایک انتہائی معیاری سائنسی ٹیسٹ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک جگہ پر موصوف اس کے معیاری ہونے کا اقرار کرنے پر مجبور ہو گئے، تاہم فوراً ہی اپنے بے بنیاد دعووں کی قلعی کھلنے سے محفوظ رکھنے کی خاطر بظاہر نہایت عالمانہ انداز میں اس پر ذمہ داری اور ایمانداری کی شرائط عائد کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن یہ شرائط عائد کرتے وقت موصوف یہ بھول گئے کہ کسی بھی جرم میں پیش کی جانے والی کوئی بھی شہادت ان شرائط سے مستثنیٰ نہیں۔ مثلاً جائے وقوعہ سے انگلیوں کے نشانات کو اکٹھا کرنے کے عمل کو ہی لے لیجئے۔ اگر یہ عمل بھی غیر ذمہ داری اور بے ایمانی سے کیا جائے، تو یقیناً جرم کی تفتیش کو متاثر کر سکتا ہے۔ چنانچہ یہ اندیشہ کہ کسی شہادت کے اکٹھا کرنے میں اس عمل میں شامل افراد کی جانب سے کسی کوتاہی یا بے ایمانی کا خطرہ ہے، اس بات کی بنیاد نہیں بن سکتا کہ آپ اس شہادت کے قابل قبول ہونے سے ہی یکسر مکر جائیں۔
مختلف فورمز پر بحث اور مجھے ارسال کئے گئے کچھ ذاتی پیغامات میں ایک سوال یہ بھی اٹھایا گیا کہ چونکہ ڈی این ٹیسٹ حتمی طور پر عمل زنا کے ارتکاب کو ثابت نہیں کر سکتا، اس لئے قابل قبول نہیں۔ اس کے مقابل چار گواہوں کی موجودگی اس عمل کو تمام شکوک و شبہات سے بالا ہو کر ثابت کر سکتی ہے۔ یہ بھی ایک انتہائی مضحکہ خیز دلیل ہے۔ اول تو ڈی این اے ٹیسٹ کا عمل زنا کو ثابت کرنے سے کوئی تعلق ہی نہیں، تاہم اس بنیاد پر ٹیسٹ کی اصل افادیت یعنی مشکوک فرد کی درست شناخت سے کسی طور انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے بر عکس چار گواہوں کی موجودگی، بالخصوص زنا بالجبر کے کیسز میں، تقریباً نا ممکنات میں سے ایک ہے، چنانچہ یہی وجہ ہے کہ ریپ کے ملزمان دندناتے پھرتے ہیں اور اس گھناونے جرم کا شکار لڑکیاں یا تو شرم کے مارے منہ ہی نہیں کھولتیں، یا پھر بے بسی سے ملکی قوانین کی مضحکہ خیزی پر کڑھتی رہتی ہیں۔
ایک اور نقطہ جو اٹھایا گیا، وہ تھا اس ٹیسٹ کی کامیابی کے تناسب کا۔ ایک صاحب نے کچھ اعدادوشمار کی روشنی میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ چونکہ ہر سو میں سے دو یا چار کیسوں میں نتائج درست نہیں ہوتے، اس لئے یہ ٹیسٹ قابل اعتبار نہیں۔ یہ نقطہ بھی کئی زاویوں سے ایک مغالطے سے بڑھ کر نہیں۔ اول تو کسی شہادت کا سو فیصدی کیسز میں درست نہ ہونا صرف ڈی این اے ٹیسٹ کا طرہ امتیاز نہیں، بعض اوقات عینی شاہدین بھی بوجوہ اپنے بیان میں غلطی کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں۔ مخالف وکیل کی جرح ان کے بیان میں سچ کے تناسب کا تعین کرتی ہے۔ لیکن کیا کیا جائے کہ ہمارے فاضل ڈاکٹر صاحب اور دیگر حضرات اپنے تئیں خود ہی اخذ کئے بیٹھے ہیں کہ ڈی این اے ٹیسٹ کے نتائج پر جرح نہیں کی جا سکتی۔ تو جناب میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ مخالف وکیل اس موضوع پر بھی جرح کر سکتا ہے، اور سیمپل حاصل کئے جانے کے حالات سے لے کر لیب کی استعداد اور اس سے جڑے تمام حالات و واقعات کا جائزہ لے کر اس ٹیسٹ کی کے قابل اعتبار ہونے یا نہ ہونے پر مکمل بحث کمرہ عدالت میں کی جا سکتی ہے۔ اور اگر موجودہ قوانین اس بحث کی اجازت نہیں دیتے تو بجائے ڈی این اے ٹیسٹ کو یکسر جھٹلانے کے بہتر ہوتا اگر اسلامی نظریاتی کونسل اپنی سفارشات میں قوانین میں مجوزہ ترامیم کی سفارش کرتی۔
آئیے اب ہم ذرا اپنے دوست کی جانب سے کی گئی ایک اور سائنسی معرکہ آرائی کا جائزہ لیتے ہیں۔ موصوف لکھتے ہیں کہ

ڈی این اے ٹیسٹ کی کامیابی کا انحصار اسی پر ہوتا ہے کہ آپ نے جو نمونہ حاصل کیا اس میں واقعی وہ جنسی جرثومے اپنی اصل حالت میں موجود ہیں جس پر آپ ٹیسٹ کرنے والے ہیں یہ مختلف کیفیات پر منحصر ہے جس میں طریقہ واردات،ذانی کی جسمانی و جنسی صحت، نمونہ حاصل کرنے کا وقت اور نمونہ حاصل کرنے کا طریقہ کار و تجربہ کاری۔

اس معرکہ آرائی پر میں موصوف کو ان کے اپنے پسندیدہ لقب یعنی سائنسی دولہ شاہ کے چوہے کے لقب سے تو نہیں نوازوں گا، البتہ ڈاکٹر پرویز ہود بھائی کے الفاظ میں ‘سائنس کا حافظ‘ ضرور کہوں گا۔
جناب شائد آپ کو اس بات کا علم ہی نہیں کہ ریپ کیسز کے لئے کیا جانے والا ڈی این اے ٹیسٹ صرف جنسی جرثوموں کا استعمال نہیں کرتا۔ بلکہ جائے وقوعہ پر موجود ملزم کے جسم سے خارج ہونے والا کسی بھی قسم کا سیال مادہ مثلاً پسینہ، تھوک، ریپ کے دوران ہونے والی کشمکش کے نتیجے میں مجرم کے جسم سے نکلا ہوا خون، جائے وقوعہ پر موجود اس کے بال، بستر کی چادر حتیٰ کہ اس کی انگلیوں کے نشانات سے بھی ڈی این اے حاصل کر کے اس ٹیسٹ میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ شائد آپ کو اس بات کا بھی علم نہیں کہ ڈی این اے ایک انتہائی سخت جان کیمیکل ہے اور ہزاروں برس تک بھی اس کا کچھ نہیں بگڑتا۔ مثال کے طور پر سائنسدان آجکل ہزاروں سال پہلے معدوم ہو جانے والے جانوروں کو دوبارہ پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان کی کوششوں کی بنیاد ہی ان جانوروں کا وہ ڈی این اے ہے جو سائنس دانوں کو ان جانوروں کے ہزاروں سال پرانےفوسلز سے ملا ہے۔ تو جناب، جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والا کسی بھی قسم کا مواد جس میں مجرم کا ڈی این اے موجود ہو سکتا ہے، جن کی تفصیل اوپر بیان کی جا چکی ہے، ان سے سیمپل حاصل کر کے وقوعہ کے کئی دن بعد تک بھی ٹیسٹ کیا جاسکتا ہے۔
رہی بات اس نقطے کی کہ جنسی جرثوموں سے حاصل کیا جانے والا ڈی این اے سب سے زیادہ قابل اعتبار ہوتا ہے اور سیمپل کے دوسرے ماخذ نسبتاً کم قابل اعتبار ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سیمپل حاصل کرنے اور وقوعہ کے رونما ہونے کے اوقات میں فرق جتنا بڑھتا جاتا ہے، سیمپل پر اعتماد کی سطح اتنی ہی کم ہوتی جاتی ہے، تو جناب ہم اوپر اس نکتے پر تفصیلاً بحث کر چکے ہیں کہ مخالف وکیل کی جرح ان تمام نکات کو جج کے نوٹس میں لا سکتی ہے۔ ڈی این اے ٹیسٹ کا رزلٹ کوئی قرآن کی آیت نہیں جس پر آنکھیں بند کر کے یقین کرنے کو کہا جا رہا ہو۔
ایک آخری نقط،  ہمارے کچھ احباب نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ چونکہ زنا کی شرعی سزائیں انتہائی کڑی ہیں اس لئے شہادت ہر قسم کے شکوک سے پاک ہونی چاہئے۔ تو حضور، یہ شرط کیا باقی اقسام کی شہادتوں اور دوسرے جرائم پر لاگو نہیں ہوتی؟ انگلیوں کے نشانات کی بنیاد پر جب عدالت کسی کو سزائے موت سنا دیتی ہے، تو اس وقت آپ کی یہ دلیل کہاں چلی جاتی ہے؟ کیونکہ جہاں تک ہمیں علم ہے، انگلیوں کے نشانات حاصل کرتے وقت بھی کوتاہیاں ہو سکتی ہیں اور اس عمل میں بھی بے ایمانی کی جا سکتی ہے۔
مختصراً یہ کہ اول تو ڈی این اے ٹیسٹ ایک انتہائی مستند طریقہ کار ہے، جو لاوارث لاشوں کی شناخت، بیماریوں کی تشخیص، جرائم کے حل کرنے اور جدید تحقیق کے لئے پوری دنیا میں مستعمل ہے۔ دوسری بات یہ کہ اگر اس ٹیسٹ میں کسی انسانی کوتاہی یا بدنیتی کی بنیاد پر کسی غلطی کا احتمال ہے، تو نہ تو غلطی کا یہ احتمال صرف ڈی این اے ٹیسٹ کے لئے مخصوص ہے اور باقی شہادتیں اس سے پاک ہیں، اور نہ ہی اس ٹیسٹ کا رزلٹ کوئی قرآن کی آیت ہے کہ عدالت اس پر بحث کر کے اس کے مستند ہونے یا نہ ہونے پر اپنی کوئی رائے ہی نہ دے سکے۔
ان تمام دلائل کی روشنی میں میری محدود عقل صرف یہی نتیجہ اخذ کر سکتی ہے کہ اس ٹیسٹ کے مخالفین اپنی کم علمی، سائنس سے نا بلدی اور روایتی رجعت پسندی کی وجہ سے اس ٹیسٹ کے مخالف ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ میں یہ بھی یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اسی قبیل کے لوگ اپنی سابقہ روایت کے مطابق اب سے کچھ سالوں کے بعد اس ٹیسٹ کو حلال قرار دے دیں گے، جیسا کہ ان حضرات نے چھاپہ خانے اور تصویر کھچوانے کے متعلق کیا، تاہم اس وقت تک پلوں کے نیچے سے مزید بہت سا پانی گزر چکا ہو گا۔

Related Posts

Comments

comments

1 Comment

Leave a reply

required

required

optional



3 − = two

%d bloggers like this: