ڈی این اے ٹیسٹ اور نام نہاد سائنسدانوں کی معرکہ آرائیاں

June 14, 2013 at 07:12

محمد عمر؛

کچھ فورمز پر ایک صاحب جو اپنا نام ڈاکٹر غلام اصغر ساجد بیان کرتے ہیں، کا ایک بلاگ ہمارے نام نہاد اسلام پسند دوست دھڑا دھڑ شیئرکئے جا رہے ہیں اور جیسا کہ ان سے توقع کی جا سکتی ہے، ان کے ہاتھ ایک ایسی چیز آگئی ہے جس کی مثال کچھ لوگ بندر کے ہاتھ بندوق آجانے سے بھی دیا کرتے ہیں۔ مصنف اور ان کے ماننے والے حضرات نے اس مضمون کے ذریعے اپنی کم علمی کے سوا اور کچھ بھی ظاہر نہیں کیا۔
ڈاکٹر صاحب نے اپنے نام کے ساتھ ڈاکٹر کا لفظ استعمال کر کے شائد نا پختہ ذہنوں پر اثر انداز ہونے کی ناکام کوشش کی ہے کیونکہ جس سطح کے سائنسی علم کا موصوف نے اظہار کیا ہے، بائیو ٹیکنالوجی اور مالیکیولر بائیولوجی کےایک طالب علم کی حیثیت سے مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ اس پر افسوس کا اظہار کروں یا تمسخر اڑاوں۔ دوسری بات یہ کہ مصنف کے اپنے نام کے ساتھ ڈاکٹر کا سابقہ استعمال کرنے سے یہ احتمال ہے کہ ہمارے اسلام پسند حضرات کل کو اس مضمون کو اپنی تحریروں میں حوالے کے طور پر استعمال کریں اور ان موصوف کو مسلم دنیا کے نامور سائنسدان کی حیثیت سے پیش کریں۔ بہرحال، ان سب باتوں سے قطع نظر میں یہاں موصوف کی پھیلائی ہوئی کنفیوژن کا جواب دینے کی کوشش کروں گا۔ مزید یہ کہ اس مسئلے کے باقی قانونی پہلووں پر بہت تفصیل سے لکھا جا چکا ہے اور میں یہاں ان کا صرف سرسری ذکر دینا ہی کافی سمجھتا ہوں۔
سب سے پہلی بات یہ کہ موصوف نے ملک کے ایک انتہائی معتبر اور معزز ادارے کا نام لے کر اپنے مضمون میں تذکرہ کیا ہے جو یقیناً لکھاریوں کے مروجہ ضابطہ اخلاق کی نفی کرتا ہے۔ ان صاحب نے جس انداز میں اس ادارے میں ہونے والے واقعات کا تذکرہ کیا ہے، اس سے یہ احتمال لاحق ہے کہ ادارے کی نیک نامی اور اس کے لوگوں کی پیشہ ورانہ استعداد پر حرف آئے۔ اس ادارے سے بحیثیت ایک طالب علم اور محقق کے منسلک ہونے کی وجہ سے اس بے بنیاد پراپیگنڈے کا جواب دینا میں اپنا فرض سمجھتا ہوں۔ موصوف جس شعبے اور ہپاٹائٹس کے جس ٹیسٹ کا حوالہ دے رہے ہیں، اس حوالے سے یہ ادارہ اور اس کے ٹیسٹ کے نتائج نہ صرف ملک میں بلکہ پوری دنیا میں قابل اعتبار مانے جاتے ہیں۔ ملکی سطح پر اس ٹیسٹ کے قابل اعتبار ہونے کے ثبوت کے طور پر میں صرف ایک واقعہ کا ذکر کرنا کافی سمجھتا ہوں۔ کچھ برس پہلے لاہور ہائیکورٹ نے ایک سرکاری ملازم کی ہپاٹائٹس کا مریض ہونے کی بنیاد پر معطلی کے کیس میں خصوصی ہدایت جاری کی تھی کہ عدالت میں مذکورہ ادارے سے کروائے گئے ٹیسٹ کا رزلٹ پیش کیا جائے۔ کیونکہ عدالت کے خیال میں اس سے زیادہ قابل اعتبار ٹیسٹ کسی اور ادارے میں نہیں ہوتا۔ دنیا بھر میں اس ادارے میں کئے گئے اس ٹیسٹ کے استناد کا ثبوت وہ بیسیوں سائنسی مقالہ جات ہیں جو وقتاً فوقتاً اعلیٰ درجے کے مستند سائنسی جریدوں میں شائع ہوتے رہتے ہیں اور جن میں اس ٹیسٹ کی بنیاد پر مختلف تحقیقات کی گئی ہیں۔ تاہم میں یہاں یہ کہنے سے ہر گز گریز نہیں کروں گا کہ موصوف کا ادارے پر یہ الزام شائد پیشہ ورانہ مخاصمت کا نتیجہ ہو سکتا ہے جو وہ بوجوہ اپنے لا شعور میں پالے بیٹھے ہیں۔
موصوف نے جس واقعے کو بنیاد بنا کر مضمون کے شروع ہی سے قارئین کے ذہنوں میں ڈی این اے ٹیسٹ کے متعلق ایک منفی تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی ہے، اس شعبے اور خصوصاً اس ٹیسٹ سے براہ راست منسلک ہونے کی وجہ سے میں اپنے فاضل دوست کے بیان کردہ آدھے سچ کے علاوہ ان کے چھپائے گئے باقی آدھے سچ سے بخوبی واقف ہوں۔ حقیقت کچھ یوں ہے کہ جیسا کہ موصوف نے خود بیان کیا کہ یہ اور ان کے ساتھی ایک ٹریننگ کے لئے مذکورہ ادارے میں گئے تھے، اور ان کی اپنی تحریر سے ہی یہ بھی واضح ہے کہ ان کے لئے یہ سب کچھ نیا تھا۔ چنانچہ ہمارے دوست ڈاکٹر صاحب اور ان کے ساتھی شرکا کے اناڑی پن کی وجہ سے اس ٹیسٹ کے نتائج میں گڑ بڑ ہوئی۔ تاہم جیسا کہ سائنسی طریقہ کار ہے، سینئر پروفیسر صاحب نے اس ٹیسٹ کے نتائج کو اس وقت تک تسلیم نہ کیا جب تک انہوں نے نتائج کے قابل اعتبار ہونے کی ہر ممکن انداز میں تسلی نہ کر لی۔ اگرچہ مصنف مضمون میں ایک جگہ سرسری انداز میں اس ٹیسٹ کی افادیت کا اقرار کرتے ہیں تاہم اپنے مضمون کے آغاز میں اس واقعے کا ذکر نہایت سنسنی خیز انداز میں کرنا یقیناً ٹیسٹ کی افادیت اور اس کے استناد کے متعلق قارئین کے ذہنوں میں شکوک پیدا کرنے کی ایک بھونڈی کوشش ہے۔ جناب میں آپ سے دست بستہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اپنے اناڑی پن کی وجہ سے خراب ہونے والے نتائج کو بنیاد بنا کر ڈی این اے ٹیسٹ کو ایک کمزور شہادت کہنے سے گریز کریں۔
موصوف نے جس طرح ہپا ٹائٹس کے ٹیسٹ کا موازنہ کسی انسان کی شناخت کرنے کے لئے کئے جانے والے ڈی این اے ٹیسٹ سے کیا، اسی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان نام نہاد ڈاکٹر صاحب کا ڈی این اے اور بائیو ٹیکنالوجی کے متعلق علم شائد اس ٹریننگ کورس سے زیادہ نہیں جس کا انہوں نے حوالہ دیا۔ ہپاٹائٹس کی تشخیص کے لئے مریض کے خون میں وائرس کے ڈی این اے کی موجودگی یا عدم موجودگی کا پتہ لگایا جاتا ہے۔ اس ٹیسٹ کے لئے وائرس کے ڈی این اے کا وہ حصہ چیک کیا جاتا ہے جو دنیا بھر میں پائے جانے والی اس وائرس کی تمام اقسام میں ہو بہو ایک جیسا ہو، تاکہ پوری دنیا میں ایک ہی طرح کا ٹیسٹ اس بیماری کے لئے سٹینڈرڈ مانا جا سکے۔
انسانی شناخت کے لئے کئے جانے والے ٹیسٹ کو سمجھنے کے لئے پہلے ہمیں کچھ بنیادی باتوں کو سمجھنا ہو گا۔ انسانی جسم کے خلیات میں پائے جانے والے ڈی این اے کا ۹۹ فیصد سے بھی زائد حصہ دنیا کے تمام انسانوں میں کم و بیش ایک جیسا ہوتا ہے۔ باقی کے ایک فیصد سے بھی کم حصے میں تنوع پایا جاتا ہے اور یہی تنوع انسانی شناخت کے اس ڈی این اے ٹیسٹ کی بنیاد ہے۔ سائنسدانوں نے انسانی جینوم میں ایسے کئی مقامات کی نشاندہی کر رکھی ہے جو ہر انسان میں دنیا کے کسی بھی دوسرے انسان سے مختلف ہوتے ہیں۔ اگرچہ خون کے رشتہ داروں جیسے کہ بھائی بہن ماں باپ وغیرہ میں ان تنوع پذیر مقامات میں کسی حد تک مماثلت پائی جاتی ہے، تاہم سوائے جڑواں بھائی بہنوں کے، دنیا میں کوئی بھی دو اشخاص ایسے نہیں جن کے جینوم میں مذکورہ تنوع پذیر مقامات ہو بہو ایک جیسے ہوں۔ انسانی شناخت کے اس ٹیسٹ کے لئے پندرہ سے سترہ ایسے مقامات کو پرکھا جاتا ہے۔
ریپ یا اس جیسے کسی اور جرم جس میں مجرم کی شناخت کا معمہ درپیش ہو، جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والے نمونوں اور مشکوک افراد، دونوں سے ڈی این اے حاصل کر کے ان تنوع پذیر مقامات کا آپس میں موازنہ کیا جاتا ہے۔ اگر ان پندرہ یا سترہ مقامات میں سے سب کے سب دونوں سیمپلز میں ایک جیسے ہوں تو حتمی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ مشکوک فرد جائے وقوعہ پر موجود تھا، تاہم اگر ان میں سے کوئی ایک بھی تنوع پذیر مقام دونوں سیمپلز میں مختلف نکلے تو ٹیسٹ کے نتائج قابل اعتبار نہیں جانا جاتا۔
مذکورہ بالا بحث کے بعد شائد قارئین کے ذہن میں یہ نکتہ واضح ہو گیا ہو کہ ڈی این اے ٹیسٹ ایک انتہائی قابل اعتبار ٹیسٹ ہے چاہے وہ ہپاٹائٹس یا کسی اور بیماری کی تشخیص کے لئے کیا جائےیا کسی انسان کی شناخت کے لئے۔ اس نکتے کو مزید واضح کرنے کے لئے عرض کرتا چلوں کہ دنیا بھر میں ایسی بیسیوں بیماریاں ہیں جن کی تشخیص ڈی این اے ٹیسٹ کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ دنیا کے لاکھوں معالجین روزانہ ان ٹیسٹوں کی بنیاد پر تشخیص اور علاج سے متعلق فیصلے کرتے ہیں۔ جو ٹیسٹ بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج جیسے پیچیدہ فیصلوں میں دنیا بھر میں ایک قوی شہادت کے طور پر مستعمل ہے، وہ زنا بالجبر کے کیس میں کمزور کیسے ہو سکتا ہے، میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں۔ اس کے علاوہ جدید حیاتیاتی تحقیق میں کئی ایک دقیق ترین تجربات اور نت نئی ایجادات اور دریافتوں کے عمل میں ایسے ٹیسٹوں کی مدد لی جاتی ہے۔ دنیا بھر کے اعلیٰ ترین دماغ ان ٹیسٹوں کے نتائج پر یقین کرتے ہیں، اور ان نتائج کی بنیاد پرکی جانے والی عملی دریافتیں اور ایجادات ان ٹیسٹوں کے استناد پر حتمی مہر تصدیق ثبت کرتی ہیں۔ یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ لاوارث اور مسخ شدہ لاشوں کی شناخت کے لئے بھی یہی ڈی این اے ٹیسٹ استعمال کیا جاتا ہے۔ اس صورتحال میں ناقابل شناخت لاش سے حاصل کئے گئے ڈی این اے کا موازنہ اس کے ممکنہ ورثا کے ڈی این اے سے کیا جاتا ہے اور ان کے جینوم کے مخصوص مقامات، جن کی تفصیل اوپر بیان کی گئی ہے، میں مماثلت لاش کی شناخت میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ اگر آپ کو یاد ہو، تو کچھ عرصہ پہلے سیاچن کے گیاری سیکٹر میں ڈیڑھ سو سے زائد فوجی افسران اور جوان برف تلے دب گئے تھے۔ اسی طرح گزشتہ برس کراچی میں ایک فیکٹری میں آتش زدگی کا واقعہ بھی رو نما ہوا تھا۔ ان دونوں واقعات میں نا قابل شناخت لاشوں کو ڈی این اے ٹیسٹ کی مدد سے ہی شناخت کیا گیا تھا۔ نجانے ہمارے فاضل دوست نے اس وقت اس مشکوک ڈی این اے ٹیسٹ کے نتائج پر سوالات کیوں نہیں اٹھائے؟
میرے فاضل ہم پیشہ (راقم خود ویٹرنری میڈیسن میں ڈگری رکھتا ہے اور ہمارے فاضل دوست اپنے مبینہ ٹوئٹر اکاونٹ میں اپنے بارے میں بھی یہی دعویٰ کرتے ہیں) ڈاکٹر صاحب نے اپنے مضمون میں بار بار پاکستان کی لیبارٹریوں میں وسائل کی کمی، پیشہ ورانہ استعداد کے فقدان اور بے ایمانی کو ڈی این اے ٹیسٹ کو رد کرنے کا جواز بنانے کی کوشش کی، لیکن میں اپنے ان برادر عزیز سے پوچھنا چاہوں گا، کہ کل کو خدانخواستہ اگر ان کے خاندان کا کوئی شخص ایسی بیماری کا شکار ہو جائے، جس میں ڈی این اے ٹیسٹ سب سے افضل تشخیصی ذریعہ ہو، تب موصوف اس ملک کی لیبارٹریوں کے رزلٹ پر یقین کریں گے یا نہیں؟ اور اگر خدانخواستہ کوئی ایسی بیماری ہو گئی جس کے علاج کے دوران ان کے معالج نے علاج کی کامیابی یا ناکامی کو جانچنے کے لئےمتعدد بار ڈی این اے ٹیسٹ تجویز کیا، تو پھر کیا یہ صاحب اپنی جماعت کے امیر سے اس کا قرآن و حدیث کی روشنی میں حل پوچھیں گے یا چپ چاپ ہزاروں روپے خرچ کر کے یہ ٹیسٹ کروائیں گے؟
اسی حوالے سے چند اور سوالات بھی کرتا چلوں، کچھ عرصہ پہلے آپ کے پیشے سے منسلک ملک کی ایک بڑی جامعہ نے ڈی این اے ٹیسٹ کی بنیاد پر جانوروں میں ولدیت کا پتہ لگانے کا طریقہ اس ملک کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کروانے کا دعویٰ کیا تھا، اگر آپ نے اس وقت اس کی مخالفت میں کوئی مضمون لکھا تھا تو براہ کرم مجھے ضرور عنایت کیجئے گا، پڑھ کر خوشی ہوگی۔ اور سب سے آخری بات، آپ کے ٹوئٹر اکاونٹ کے بقول آپ خود مالیکیولر بائیولوجی میں ایم فل میں داخلہ لے چکے ہیں۔ میں آپ سے التماس کروں گا کہ اپنے ایم فل کے مقالے میں ہر گز ہر گز اس انتہائی نا قابل اعتبار ڈی این اے ٹیسٹ کا سہارا نہ لیجئے گا۔ اور ہاں فرض کریں اگر آپ کو کوئی ایسی صورتحال درپیش ہو جہاں آپ نے ایک جانور میں کسی موذی متعدی بیماری کو ڈی این اے ٹیسٹ کی مدد سے تشخیص کر لیا، اور اس جانور کو قتل کردینے جیسا انتہائی اقدام باقی جانوروں اور انسانوں کی جان بچانے کے لئے ضروری ہوا، تو ہر گز ڈی این اے ٹیسٹ پر اعتبار نہ کیجئے گا، بلکہ چار گواہان کو بلا کر ان سے تصدیق کروائیے گا اور پھر کوئی فیصلہ کیجئے گا۔ کیونکہ آپ کے بقول یہی درست طریقہ ہے۔
ڈی این اے ٹیسٹ کے قانونی معاملات میں استعمال پر بحث اور ہمارے برادر عزیز کی کچھ مزید معرکہ آرائیوں کا جائزہ بلاگ کے دوسرے حصے میں پیش کیا جائے گا۔
نوٹ: اس مضمون کا ایک ورژن پہلے بھی شائع کیا جا چکا ہے، موجودہ ورژن میں کچھ اضافے اور تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ان اضافوں اور تبدیلیوں کے کچھ مقاصد ہیں۔ ان میں سب سے پہلا یہ کہ جس ادارے کا تذکرہ موصوف نے اپنے مضمون میں کیا ہے، اس سے منسلک ہونے کی وجہ سے میں اس ادارے کا دفاع کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتا ہوں۔ دوسرا یہ کہ عام قارئین کی سہولت کی خاطر پہلے ورژن میں کچھ تکنیکی تفصیلات کا سرسری سا ذکر کیا گیا تھا، یہاں میں نے ان میں کچھ تبدیلیاں کی ہیں تاکہ مضمون کو مزید قابل فہم بنایا جا سکے۔ ان تبدیلیوں کی وجہ سے یہ بلاگ کچھ طویل ہو گیا ہے اور اسے دو حصوں میں شائع کیا جائے رہا ہے۔

Related Posts

Comments

comments

1 Comment

Leave a reply

required

required

optional



seven + = 12

%d bloggers like this: