ڈرون کیونکر رکیں گے؟

November 26, 2013 at 07:27 , ,
شاہ بابا؛

ڈرون کیونکر رکیں گے؟
جب تک ڈرون کی ’’وجہ‘‘ کو ختم نہیں کیا جائے گا۔

امریکہ، پاکستان اور پاکستانی دیوبند مدرسوں نے مل کر روس کو افغانستان سے باھر نکالا۔ اب ان مدرسوں کے مجاہدین کا کام ختم ہو گیا تھا ان کو پُر امن شہری کے طور پر رہنا چاہیے تھا ۔پاکستان الگ ملک۔ افغانستان الگ ملک۔

پھر عرب سے اسامہ بن لادن افغانستان میں مہمان بن کر براجمان ہوئے۔ اور افغان حکومتی کارندوں کی میزبانی کی، گھوڑوں کے اصطبل، محلات وغیرہ کی شکل میں لیکن بہرحال ہمیں کسی سے کیا، یہ ہماری سردردی نہیں تھی، افغانستان جانے یا بن لادن جانے۔

9/11 کے واقعہ کے بعد امریکہ نے افغانستان پر حملے کا فیصلہ کیا، اس پر حکومتِ پاکستان نے جو بھی کیا اگر اس پر کسی کو اعتراض تھا تو اس کو احتجاج کا جمہوری راستہ اپنانا چاہیے تھا لیکن

؏جن پتھروں کو ہم نے عطا کی تھیں دھڑکنیں
جب بولنے لگے تو ہم ہی پر برس پڑے

اب فوری طور پر صوفی محمد اور کئی دیگر مذہبی لیڈروں کے ایما پر یہی مجاہدین سینکڑوں ہزاروں کی تعداد میں اپنی ریاست کی منشاء ،کے برخلاف امریکی بمباری کے نیچے پاک افغان سرحد پر ’’اسلام‘‘ کے نام پر ’’بم کیچ کرنے کے جہاد‘‘ پر چلے گئے اور واپس نہ آ سکے، لیکن یہ ’’مذہبی لیڈر‘‘ نہ خود وہاں گئے اور نہ اپنے بیٹوں کو لے کر گئے اور پھر یوں امریکہ کے تیار کردہ یہ مجاہدین اسلام کے نام پر امریکہ کے ہی خلاف لڑنا کیا تھا، جھگڑنا شروع ہو گئے، کہ آ بیل مجھے مار۔

**تو بس پھر امریکہ نے ڈرون بھیجنا شروع کر دئیے **

اور یوں اس ’’جہاد‘‘ کی وجہ سے بطور ملک و قوم ہماری غیرت کا جنازہ نکلا۔

ڈرون حملوں پر ’’مجاہدین‘‘ امریکہ کا تو کچھ کر نہیں سکتے تھے، پاکستانی حکومت اور عوام کے خلاف تکفیری فتوے لگا کر اپنے ہی ملک میں دہشت گردی پھیلائی، ہزاروں کی تعداد میں عوام کا قتلِ عام کیابازار خانقاہیں، مسلم اور غیر مسلم کی عبادت گاہیں، کچھ بھی ان کی زد سے محفوظ نہ رہا۔

پھر کبھی نفاذِ (حنفی) اسلام کے مطالبے اور کبھی افغانستان کی جنگ میں براہِ راست کودنے کے مطالبے، اور یہ مطالبات پورا نہ ہونے کی وجہ سے مزید دہشت گردی، اور یوں ملک اندرونی طور پر مزد کھوکھلا ہوتا گیا۔

امریکہ تو پوری دنیا میں تباہی مچا چکا ہے، اور ڈرون سے یہ ’’مجاہدین‘‘ بھی ٹارگٹ کئے گئے ، لیکن امریکہ کے خلاف بولنے سے زیادہ نتائج اس لئے گرآمد نہیں ہو سکتے کہ وہ اس سے کئی کئی گنا بڑے جرائم کر کے بھی دنیا میں سب سے زیادہ ’’شریف النفس‘‘ اور امن کا دعویدار ہے۔

ہم نے نہ کبھی تاریخ سے سبق حاصل کرنے کی کوشش کی ، نہ اقوامِ سابقہ سے، کیونکہ عقل کا استعمال ہمارے ہاں حرام ہے۔

اِسی امریکہ نے جاپان پر ایٹم گرایا، آج سو سال بعد جاپان دنیا کی سپر معاشی طاقت بن چکا ہے کیونکہ اس نے جارحیت کا جواب ہماری طرح نہیں دیا۔یہودی کو عیسائیوں نے یروشلم سے مار مار کر نکال دیا، دو ہزار سال تک خوار ہوتے رہے، روتے رہے، زبان پہ ایک ہی بات کہ ’’اگلے سال یروشلم‘‘۔ لیکن عمل یہ کہ باقی یورپی ممالک تو ایک طرف، جتنی سائنسی تحقیق ایک اسرائیل کی ہے ، پوری مسلم دنیا کی تحقیق اس کا عشرِ عشیر بھی نہیں،(بمطابق ایک سابقہ ٹی وی رپورٹ)۔

اور پھر ان کے اسلام اسلام کی رٹ بھی سمجھ نہیں آتی، آج یا ہم سنی ہیں یا شیعہ، یا حنفی یا شافعی، وغیرہ وغیرہ ہیں، بجائے کسی کو مسلمان کرنے کے پہلے خود تو مسلمان ہو جاؤ۔

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



7 − = five

%d bloggers like this: