چور مچائے شور: عراق پر امریکی حملہ (حصہ چہارم)۔

September 7, 2013 at 06:54

نئیر خان؛

2003ء میں عراق پر امریکی حملہ:
بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے بیشتر مغربی مبصرین اور تمام اسلامسٹ، 2003ء میں عراق پر امریکہ کے حملے کو امریکہ کا ایک جنگی جرم قرار دیتے ہیں۔ اُن کے نزدیک امریکہ کے پاس ایسا کرنے کا کوئی قانونی یا اخلاقی جواز موجود نہیں تھا۔ اس سلسلے میں عام طور پر دو دلائل پیش کئے جاتے ہیں۔ اوّل امریکہ کے پاس اقوام متحدہ کی جانب سے ایسا کرنے کا اختیار موجود نہیں تھا جیسا کہ افغانستان کے لئے تھا۔ دوم امریکہ کی طرف سے عراق پر لگایا ہوا یہ الزام کہ اُس کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار (WMD) موجود تھے غلط ثابت ہوا۔ کیونکہ آخر کار امریکہ وہاں سے ایسا کوئی ہتھیار برآمد نہیں کرسکا۔ گویا مسلمانوں کی امریکہ کے خلاف نفرت کی ایک منطقی اور اصول پر مبنی وجہ موجود ہے اور متذکرہ بالا حالتوں میں دونوں یا کوئی ایک بھی موجود ہوتی تو مسلمان کاامریکہ کے خلاف غم وغصہ کایہ عالم نہ ہوتا۔ یہ ایک کم فہمی پر مبنی سوچ ہے۔

اس مضمون کے تیسرے حصے میں ہم اس امر کا جائزہ لے چکیں ہیں کہ1991ء میں امریکہ کے پاس عراق پر حملے کے لئے تمام تر اخلاقی اور قانونی جوازات موجود تھے۔ جنگی جرم عراق نے کیا تھا۔ امریکہ کو اقوام متحدہ اور کئی مسلمان عرب حکومتوں کی جانب سے حملے کا استحقاق حاصل تھا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ اس قسم کا پہلا واقعہ تھا کہ جس میں ایک طاقتور ملک نے اپنے سے چھوٹے ایک پڑوسی ملک پر مستقل طور پر قبضہ کرلیا ہو جیسا کہ نازی حرمنی نے کئی یورپی ممالک پہ کیاتھا۔ اس دوران اگر کسی بڑے ملک نے کسی چھوٹے ملک میں فوجی کارروائی کی بھی تو اپنا مقصد حاصل کرنے کے بعد اپنی فوج واپس بلالی۔ مثال کے طور پر بھارت نے1971ء میں مشرقی پاکستان پر حملہ کیا لیکن بنگلہ دیش کو آزادی دلانے کے بعد وہاں پر اپنا قبضہ برقرار رکھنے کی کوشش نہیں کی۔

1990ء میں عراق نے تیل سے مالا مال کویت پر نہ صرف قبضہ کرلیا بلکہ اُسے عراق کا ہی حصہ قرار دے دیا۔ اگر عالمی برادری اُس کے اس اقدام پر خاموشی اختیار کرلیتی تو آئندہ ہر بڑے ملک کو یہ جواز مل جاتا کہ اپنے سے کمزور کسی بھی چھوٹے پڑوسی ملک پر قبضہ کرکے بیٹھ جائے۔ اگر 2003ء میں عراق پر لگا ہواWMDرکھنے کا الزام درست ثابت نہ ہوا تو کیا 1990ء میں اُس کا کویت پر قبضہ کرنا بھی محض ایک غلط الزام تھا؟ کیا کوئی اس بات سے انکار کرسکتا ہے کہ عراق کا 1990ء میں کویت پر قبضہ کرنا اُتنا ہی سنگین جرم تھا جتنا کہ اُس کا 2003ء میں WMD کی ملکیت ثابت ہوجانا ہوتا؟ اس کا مطلب تو یہ ہونا چاہئے تھا کہ1991ء میں عراق پر امریکی حملے کو مسلمانوں میں سراہا جاتا۔ کیونکہ وہاں تو جرم عراق کا ہی ثابت ہوتا تھا۔ جس کے خلاف کارروائی ضروری تھی۔ لیکن کیا ایسا ہی ہوا؟ حقیقت تو یہ ہے کہ جتنی نفرت امریکہ کے خلاف اُس کے2003ء کے عراق پر حملے کے خلاف مسلمانوں میں پائی گئی اُتنی ہی1991ء کے حملے کے وقت بھی پائی گئی تھی۔ پس اگر عراق سےWMDبرآمد ہو بھی جاتے اور امریکہ کا الزام صحیح بھی ثابت ہوتا تو بھی امریکہ کے خلاف مسلمانوں میں نفرت کا یہی عالم ہوتا جو اب ہے یا جو 1991ء میں تھا۔

رہا اقوام متحدہ کے مینڈیٹ کا سوال تو وہ1991ء میں عراق اور2002ء میں افغانستان پر حملے کے وقت امریکہ کو حاصل تھا۔ تو کیا اُن حملوں کو مسلم عوام نے صحیح سمجھا تھا؟ پس الزام صحیح ہو یا غلط۔ اقوام متحدہ کی اجازت حاصل ہو یا نہ ہو، مسلمانوں کے نزدیک ہر حال میں مجرم امریکہ ہی گردانا جائے گا۔ اس سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ اگر2003ء میں عراق سےWMDبرآمد ہو بھی جاتے یا امریکہ کو اقوام متحدہ کی پشت پناہی حاصل بھی ہوتی تو بھی مسلمان عوام میں امریکہ کے خلاف نفرت کی یہی حالت ہوتی۔ کیونکہ کافر ہر حالت میں غلط ہوتا ہے اور مسلمان ہر زیادتی کرنے کے بعد بھی مسلمانوں میں مقبول ہی رہتا ہے۔ کیونکہ یہاں کوئی اصول نہیں بلکہ مذہبی تعصب کار فرماہے۔ یہ بات درست ہے کہ اسلامی اّمہ میں جتنی مذمت 2003ء میں عراق پر حملے کی ہوئی اتنی اُس سے ایک سال قبل اُس کے افغانستان پر حملے پر نہیں ہوئی تھی۔ لیکن جہاں تک مسلم عوام کا تعلق ہے اُس میں2002ء کے طالبان کے افغانستان پر اقتدار سے ہٹائے جانے اور2003ء میں عراق سے صدام حسین کے ہٹائے جانے کو ایک جیسی نفرت کی نگاہ سے دیکھا گیا۔

افغانستان پر امریکہ کے حملے کے وقت بیشتر اسلامی حکومتوں کو خاموشی اختیار کرنی پڑی۔ لیکن اس سے ہرگز بھی یہ مطلب اخذ نہیں کرنا چاہئے کہ وہ دل سے اس حملے کی تائید کرتی تھیں۔ اُن کی خاموشی کی وجہ یہ مجبوری تھی کہ سلامتی کونسل نے9/11کے غیر معمولی واقعے کے بعد اتفاق رائے سے افغانستان کے طالبان پر حملے کا عندیہ دے دیا تھا۔ اس کے باوجود اتحادی افواج کی افغانستان میں کارروائی میں کسی مسلم ملک کی فوج کی عدم شمولیت اُن کی دل سے اس حملے کی ناپسندیدگی کا اظہار کرتی ہے۔ درحقیقت2003ء میں ہونے والیOICکے اجلاس میں ملیشیاء کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے عراق اور افغانستان پر نیٹو کے حملے کی ایک جیسی مذمت کی۔ کیونکہ افغانستان پر 2002ء اور عراق پر2003ء کے حملے میں بہت قلیل مدت کا درمیانی وقفہ تھا اس لئے اسلامی دنیا کی توجہ افغانستان سے جلد ہی عراق کی جانب منتقل ہوگئی۔

بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے مغربی مبصرین میں یہ رائے عام ہے کہ اگر امریکہ عراق پر حملے کے لئے اقوام متحدہ کی تائید حاصل کرلیتا تو وہ اسلامی دنیا میں اتنانا مقبول نہ ہوتا۔ کیونکہ2003ء میں عراق پر حملے کی کئی ملکوں بشمول فرانس، جرمنی، اور روس نے مخالفت کی۔ اس لئے امریکہ اس حملے کے لئے اقوام متحدہ کا آشیرواد حاصل نہ کرسکا۔ اُن کے خیال میں امریکہ کے اس حملے نے اسلامی دنیا میں دہشت گردی کے رجحان میں اضافہ کیا۔ اُن کے نزدیک امریکہ کا یہ ناجائز حملہ دراصل اسلامی انتہا پسندی کو فروغ دینے کا موجب بنا۔ لیکن یہ اصل میں ایک بچگانہ سوچ ہے۔

اسلامسٹ پراپیگنڈہ ماہرین نے عراق پر امریکہ کے حملے کے نامقبولیت سے پورا پورا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے اسلامی انتہا پسندی کی توجہیہ بنانے اور دہشت گردی کو حق بجانب ثابت کرنے کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کی، اور ساری دنیا کی رائے عامہ کو متاثر کیا۔ لیکن حقیقت تو یہ ہے اسلامسٹوں کو جتنا غم وغصہ طالبان کے ہٹائے جانے پر ہوا اتنا صدام حسین کے ہٹائے جانے پر ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ اُس کی وجہ یہ ہے کہ طالبان ایک عالمی اسلامی خلافت کے داعی ہیں۔ وہ اسلام کی نشاۃ ثانی پر یقین رکھتے ہیں۔ جبکہ صدام ایک سیکولر شخص تھا۔ اُس کا اسلامی قسم کے نعروں کا استعمال محض ایک سیاسی حکمت عملی تھی۔

صدام حسین کے ہٹائے جانے کے بعد اسلامی انتہا پسندوں اور خود کش حملہ آوروں نے عراق کا رخ کیا۔ لیکن اُنہوں نے یہ سب کچھ نہ عراقی عوام کی محبت میں کیا نہ صدام کی حمایت میں اور نہ ہی امن کے قیام کے لئے۔ اُن کا مقصد امریکہ اور اُس کے حامی شیعہ اور کُرد اتحادیوں کو وہاں سے نکال کر اپنے سُنی اسلامسٹوں کے ذریعہ طالبان کی طرز پر ہی ایک اسلامی حکومت کا قیام تھا نہ کہ عراقی عوام کی فلاح وبہبود۔ کیونکہ طالبان طرز کی اسلامی حکومت عوام کو مزید بد حال تو کرسکتی ہے، خوشحال نہیں، یہ اسلامی انتہا پسند صدام کی بعث پارٹی سے بھی اُتنی ہی نفرت رکھتے ہیں جتنی کی امریکہ اور شیعوں سے۔

لیفٹسٹ اور اسلامسٹ پراپیگنڈہ ماہرین نے امریکہ کے عراق میںWMDبرآمد کرنے میں ناکامی کو امریکہ کو جھوٹا ملک ثابت کرنے کے لئے ایک موثر دلیل کے طور پر استعمال کیا۔ لیکن وہ ایسا کرتے ہوئے دو باتیں فراموش کردیتے ہیں۔ اوّل اگر امریکہ عراق سےWMDبرآمد کر بھی لیتا تو سازشی مفروضہ ساز اُسے امریکہ کی جعل سازی اور دھوکہ دہی ہی قرار دیتے۔ جو لوگ آج تک9/11کو خود امریکہ سازش قرار دیتے ہیں کیا وہ کبھی بھی اس بات کو مان لیتے کہ عراق سے حقیقت میںWMDبرآمد ہوئے؟ ظاہرہے وہ اُسے بھی امریکی سازش ہی گردانتے۔ وہ اس وقت بھی یہی کہتے کہ امریکہ نے وہ ہتھیار خود وہاں چھپاکر خود ہی برآمد کرلیے۔ لہٰذاWMDکا برآمد ہونا یا نہ ہونا بالکل بے معنی تھا اُن کے نزدیک امریکہ بہرحال بُرا تھا اور بُرا ہی رہتا۔

جو لوگ9/11 جیسے بڑے دہشت گردی کے حملے کو خود امریکی سازش قرار دیتے ہیں وہ یہ اس بات پر کچھ دھیان نہیں دیتے کہ وہ ملک جو بقول اُن کے9/11جیسے بڑے اور پیچیدہ پلان کا موجد تھا، آخر اتنی چھوٹی سازش کرنے کی کوشش بھی نہ کرسکا کہ عراقWMDکی برآمدگی کا ڈرامہ ہی رچالیتا۔ لیکن جب امریکہ کو وہاں سے حقیقت میں کوئی WMD نہ ملا تو اُس نے کا دیانت داری سے اقرار کیا۔ امریکہ کو ایک دروغ گو ملک ثابت کرنے والے اس کی اس دیانت داری کو کبھی نہیں سراہتے۔ عراق پر اپنے تسلط کے بعد امریکی فوجی سامان کے کنٹینر بغیر روک ٹوک کے عراق میں آتے جاتے تھے۔ کیا اُن کا وہاں کوئی کسٹم سے معائنہ ہوتا تھا؟ تو پھر امریکہ کے لئے یہ کتنا آسان تھا کہ کسی قسم کا بھی بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والا ہتھیار عراق میں چھپادیتا۔ جسے اسلامسٹ اور لیفٹسٹ دنیا کا سب سے بڑا سازشی ملک قرار دیتے ہیں وہ اتنی چھوٹی سی سازش بھی نہ کرسکا۔ یہ کیسی بے ربطی ہے؟ یہ کیسا تضاد ہے؟

باوجود اس کے کہ2003ء میں امریکہ کو عراق پر حملے کے لئے اقوام متحدہ کا استحقاق حاصل نہ تھا او رنہ ہی امریکہ عراق سے کوئیWMDبرآمد کرسکا، کیا امریکہ کا عراق پر حملہ بالکل بلاجواز اور ناجائز تھا؟یہاں ہونے والی بحث یہ ثابت کرے گی کہ ایسا ہرگز نہیں تھا۔ کیا عراق پرWMDرکھنے کا شک بے بنیاد تھا؟ آئیے پہلے عراق کاWMDسے تعلق کا تاریخی جائزہ لیتے ہیں۔
1979ء کے ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد وہاں کی بنیاد پرست اسلامی حکومت نے ایرانی فوج کی کُل اعلیٰ قیادت کو فائرنگ اسکواڈ کے سامنے کھڑا کرکے گولیوں کا نشانہ بنایا کیونکہ اُن پر معزول شاہ سے وفاداری کا الزام تھا۔ صدام حسین نے ایرانی فوج کی اس زبردست تباہی کو اپنے لئے ایک غنیمت موقعہ جانا اور1980ء میں ایران پر حملہ کردیا۔ ابتداء میں عراق کو کچھ کامیابیاں حاصل ہوئیں لیکن تین سے چار سال کے اندر جنگ کا پانسہ پلٹ گیا۔ عراق کو پیچھے ہٹنا پڑا او رایران کی فوج عراق میں گھس گئی۔ صدام کو لینے کے دینے پڑ گئے۔ اب صدام نے اپنی روایتی بزدلی دکھاتے ہوئے ایران سے جنگ بندی کی کوششیں شروع کردی۔ لیکن اب ایران کب ماننے والا تھا۔ بالآخر 1988ء صدام حسین نے اپنا آخری حربہ آزماکر ایران کو صلح پر آمادہ ہونے پر مجبور کردیا۔ اس واقعہ کوHulabja Poisim Gas Attack کے نام سے یاد کیا جاتا ہے جب عراق نے ایرانی فوج کے خلاف کیمیاوی ہتھیاروں کا استعمال کیا۔ کیمیاوی ہتھیارWMDمیں شمارکئے جاتے ہیں اور ایٹمی ہتھیاروں سے کسی طرح بھی کم تباہ کن نہیں ہوتے۔ اس حملے کے نتیجے میں تقریباً ایک لاکھ ایرانی افواج لقمہ اجل بن گئیں۔ اتنے بڑے اچانک نقصان کی تاب نہ لاتے ہوئے ایران کو جنگ بندی پر آمادہ ہونا پڑا۔ یہ واقعہ عراق کےWMDسے تعلق کا منہ بولتا ثبوت ہے۔1997ء میں عراق کی ایران کے ہاتھوں درگت سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے عراقی کرُد باغیوں نے صدام حسین کے خلاف اپنی حریت پسندانہ کارروائیاں تیز تر کردیں۔ صدام نے کرُد باغیوں پر بھی کیمیاوی ہتھیاروں کا استعمال کیا اورAnfalپر کئے گئے ایک ہی حملے میں تقریباً ایک لاکھ کرُد عسکریت پسندوں کو بشمول اُن کی شہری آبادی کے موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ یہ حملہ صدام کے چچا زاد بھائی کی سرکردگی میں ہوا جو اسی مناسبت سے کیمکل علی کے نام سے جانا جاتا تھا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان دو حملوں میں صدام کے WMD استعمال کرنے کی وجہ سے ہونے والا جانی نقصان دوسری جنگ عظیم میں امریکہ کے جاپان پر ایٹمی حملے میں ہونے والے جانی نقصان سے زیادہ تھا۔ لیکن لیفٹسٹ اور اسلامسٹ سیاسی مبصرین عراق کے ان حملوں کو تاریخ کے ایک گمشدہ باب کی طرح فراموش کرچکے ہیں۔ وہ ان کا کبھی ذکر تک نہیں کرتے۔ جب کہ اُنہیں امریکہ کے ‘‘جنگی جرائم’’ ازبر یاد ہیں جنہیں وہ موقع بے موقعہ طوطے کی طرح رٹتے رہتے ہیں۔

مندرجہ بالا واقعات ثابت کرتے ہیں کہ صدام حسین کا WMDکے استعمال کا ایک ریکارڈ موجود تھا۔ جب آپ کا کسی چیز کے استعمال کے ماضی میں شواہد موجود ہوں تو آپ کے پاس حال میں اُس چیز کا ہونا کوئی ایسا بعید القیاس بھی نہیں ہوسکتا۔ مندرجہ ذیل واقعات کا بیان ثابت کرے گا کہ عراق پر2002ء میںWMDکا ہونا ایک منطقی شبہ تھا۔ یہ بالکل بھی بے بنیاد الزام نہ تھا۔ 1990ء میں صدام حسین نے کویت پر قبضہ کرکے اُسے عراق کا مستقل حصہ قرار دے دیا۔ 1991ء میں عراق کو عالمی اتحادی کے ہاتھوں شکست ہوئی۔ عراقی فوج کویت چھوڑ کر عراق علاقے کی طرف بھاگی اور اتحادی افواج اُن کا پیچھا کرتے ہوئے عراق میں گھس گئیں۔ اس موقع پر صدام حسین نے بجائے مسولینی یا ہٹلر کی طرح آخری دم تک لڑنے کے اپنے آپ کو بچانے لئے، اقوام متحدہ کی پیش کردہ شرائط پر جنگ بندی میں اپنی عافیت سمجھی۔ وہ اس وقت اتحادی ممالک کے قدموں پر گر کے صلح کرنے کے لئے تیار ہوگیا۔ ان شرائط میں یہ نقاط شامل تھے کہ عراق اپنی فوجیں محدود کردے گا، خطرناک اسلحے کی صنعت سازی بند کردیگا اور جنوبی عراق میں کرُد وں پر حملے نہ کرے گا۔ واضح رہے کہ دوسری جنگ عظیم میں شکست کے بعد اٹلی، جرمنی او رجاپان پر جنگ بندی کے لئے اس سے بھی کڑی شرائط عائد کی گئیں تھیں جن کے تحت اُن کے فوج رکھنے یا اسلحہ سازی پر تقریباً مکمل پابندی شامل تھی۔ متذکرہ بالاتینوں ممالک نے آج کے دن تک معاہدے کے نقاط کی مکمل پابندی کی ہے اور کبھی بھی اُن کی خلاف ورزی کی کوشش نہیں کی۔ لیکن صدام حسین نے ایسا نہیں کیا۔

ابھی صلح نامے کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ صدام نے ایک بار پھر عراق میں فوجی قوت کو ازسرنو مستحکم کرنا شروع کردیا۔ اس کے ساتھ ہی اُس نے جنوبی عراق میں کرُدوں پر فضائی حملے شروع کردئیے۔ کرُدوں کا قتل عام روکنے کے لئے 1992ء میں اقوام متحدہ نے جنوبی عراق کو نو فلائی زون قرار دے دیا۔ لیکن 1996ء نے عراقی افواج نے جنوبی عراق میں کرُد علاقوں پر زمینی حملہ کردیا اور اربل)Arbil(پر قبضہ کرکے وہاں شہری آبادی کا سخت قتل عام کیا۔ 1997ء میں اقوام متحدہ نے ایک کمیشن)Unscom(تشکیل دیا جس کا مقصد عراق کا اپنےWMD ذخائر کو ضائع کرنے کو یقینی بنانا تھا۔ اس کمیشن کا نامUN Special Commistion to Oversee the Destruction of Iraq’s Weapons of Mass Destructionتھا۔ اس کمیشن کے انسپکٹروں کے ساتھ عراق نے نہ صرف عدم تعاون کامظاہرہ کیا بلکہ اُن کے ساتھ نہایت ناروا سلوک کیا گیا۔ کئی کئی ہفتے تک ان انسپکٹروں کو اُن کے ہوٹل سے باہر نکلنے کی اجازت تک نہ دی جاتی۔ 1998ء میں عراق نے باضابطہ طور پر Unscom سے تعاون کے خاتمے کا اعلان کردیا۔

کبھی کسی نے سوچا ہے کہ عراق کے ا قدام کا دوسرا مطلب کیا تھا؟ یہ بالکل اسی طرح ہے کہ آپ کسی چیک پوسٹ پر تلاشی دینے سے انکار کردیں۔ اس صورت میں چیک پوسٹ کے محافظین یہ سمجھنے پر مجبور ہونگے کہ یقینا آپ کے پاس کوئی غیر قانونی چیز ہے جسے آپ چھپانے کی کوشش کرہے ہیں۔ آج کل پورے پاکستان میں پولیس اور فوج نے انسداد دہشت گردی کے طور پر جگہ جگہ ناکے لگائے ہوئے ہیں۔ چاہے آپ کے پاس ایک سوئی بھی نہ ہو آپ ایسے کسی ناکے کو تیزی سے عبور کرنے کی کوشش کریں اور اشارے کے باوجود نہ ٹھہریں تو وہاں موجود محافظین آپ کو ایک دہشت گرد ہی تصور کریں گے۔ وہ آپ کو بموں سے لیس ایک خود کش حملہ آور ہی سمجھیں گے اور اسی مناسبت سے آپ پر گولی چلانے سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔

یہی سب کچھ عراق میں بھی ہوا۔ عراق کا اسلحہ انسپکٹروں کے ساتھ عدم تعاون اس بات کی غماضی کرتا تھا کہ وہWMD کے ذخائر رکھتا تھا جنہیں وہ چھپانے کی کوشش کررہا تھا۔ چنانچہ اگر عراق کے پاسWMDنہیں بھی تھے تو بھی یہی مانا جانا لازمی تھا کہ اس کہ پاس وہ تھے۔ عراق سے Unscom کے ارکان کے واپسی کے بعد امریکہ نے عراق سے صلح نامے کی شرائط پر عملدرآمد اور صدام کی معزولی کے لئے اُس پرحملے کی تجویز اقوام متحدہ میں پیش کردی اور اُس کی منظوری کے لئے عالمی سطح پر لابنگ شروع کردی۔ 9/11کے واقعہ کے بعد جب نیٹو افواج افغانستان پر حملہ آور ہوئیں او رصدام نے یہ محسوس کیا کہ امریکہ اُس کے معاملے میں بھی سنجیدگی اختیار کرسکتا ہے تو اُس نے2002ء میں ایک بار پھر اقوام متحدہ کو عراق میںWMDکی تلاشی لینے پر آمادگی کا اظہار کیا۔ اس دوران امریکہ کو اقوام متحدہ میں نہ صرف اسلامی ممالک بلکہ کئی سے مغربی ممالک کی طرف سے بھی عراق پر حملے کی مخالفت کا سامنا تھا۔ صدام اسی صورتحال سے فائدہ اُٹھانا چاہتا تھا۔

8نومبر2002کو سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر عراق پر ہتھیاروں کی سخت پابندی عائد کرنے کی قرار داد پاس کی اور ایک نیا کمیشن تشکیل دیا جسےUnited Nations Monitering Verification and Inspection Commission )Unmvic( کا نام دیا گیا۔ اس کا سربراہ سویڈن کے ماہرHuns Blik’sکو بنایا گیا۔ انسپکٹروں کی اس ٹیم کے ساتھ عراق میں اس پہلے والی ٹیم کے مقابلے میں قدرے کم بُرا سلوک ہوا لیکن وہ بھی حقیقی تعاون کی سطح سے بہت نیچے تھا۔ 16جنوری2003ء میں بلکس کی ٹیم نے عراق سے کیمیاوی ہتھیاروں کے گیارہ خالی War Headبرآمد کئے۔ لیکن27جنوری 2003ء میں بلکس نے سلامتی کونسل میں اپنی باضابطہ رپورٹ میں عراقی حکومت کے عدم تعاون کی اطلاع دی۔ اُس نے یہ لکھا کہ عراق سلامتی کونسل کی قرار داد پر عملدرآمد کرنے میں بالکل بھی سنجیدہ نہیں ہے۔ اب پانی سر سے گزر چکا تھا۔ امریکہ نے عراق پر حملے کا اصولی فیصلہ کرلیا گو 14فروری2003ء کی رپورٹ میں بلکس نے عراق کے تعاون میں معمولی بہتری کی اطلاع دی۔ لیکن اس رپورٹ کی حملے کے حامی اور مخالفین نے اپنے اپنے انداز میں تشریح کی۔ مخالفین نے تعاون کی بہتری کو اہمیت دی لیکن حملے کے حامی ممالک نے اس بات پر نظر رکھی کے یہ بہتری بہت معمولی اور ناکافی تھی۔ اب بہت دیر ہوچکی تھی۔ عراق کو کافی سے زیادہ وقت دیا جاچکا تھا۔

اس کے باوجود اب بھی جنگ کو رکوانا صدام حسین کے ہاتھ میں تھا۔ امریکہ نے17مارچ2003ء کو صدام کو عراق چھوڑنے کے لئے48گھنٹوں کا الٹی میٹم دے دیا۔ جس پہ عمل درآمد کی صورت میں اس نے حملے سے گریز کا اعلان کیا۔ صدام کو کئی اسلامی ممالک بشمول شام، ترکی، مصر، اور حتیٰ کہ سعودی عرب نے سیاسی پناہ کی پیشکش کردی۔ اگر صدام چاہتا تو عراق کو جنگ کی تباہی سے بچالیتا۔ لیکن اُس نے ملکی مفادات کو اپنی اقتدار کی ہوس کی بھینٹ چڑھانا ایک معمولی بات سمجھا۔

اُوپر بیان کردہ واقعات یہ واضح کرتے ہیں کہ 2003ء میں عراق پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری سراسر صدام پر عائد ہوتی ہے۔ 1993ء سے لے کے2003ء تک صدام کو دس طویل سالوں کی مہلت دی گئی کہ وہ عراق کو ایک پرُ امن ملک ثابت کرسکے۔ اُس کو امریکہ او رعالمی برادری نے بار بار موقعہ دیا کہ وہ عراق کوWMDسے پاک خطہ ثابت کرسکے۔ لیکن صدام نے اپنی بے جا ضد کے آگے ملک کو جنگ میں جھونک دینے سے گریز نہیں کیا۔ سچ تو یہ ہے کہ صدام نے عالمی طاقتوں کو طاقت کے استعمال پر مجبور کردیا تھا۔

کیا عراق میں اموات کا ذمہ دار امریکہ ہے؟
2003ء میں عراق پر حملے کے وقت سے لے کے اب تک گیارہ لاکھ سے اُوپر اموات واقع ہوچکی ہیں۔ ان میں عراقی اور اتحادی فوجیں، عراقی اور کرُد شہری اسلامی انتہاپسند سب شامل ہیں۔
وکی پیڈیانے عراق میں ہونے والی ہلاکتوں کے اعداد وشمار کو تفصیل سے درج کئے ہیں۔ اُن کے بغور مطالعہ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ عراق میں بیشتر اموات کی ذمہ داری اسلامی انتہا پسندوں پر عائد ہوتی ہے۔ اُنہوں نے ریموٹ کنٹرول بموں او رخود کش حملوں کے ذریعہ عراق میں اکثریتی شیعہ آبادی کو نشانا بنایا۔ اصل جنگ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کچھ ہزار سے زیادہ نہیں تھی اور وہ بھی زیادہ تر فوجی ہلاکتیں تھیں۔ لیکن اسلامی انتہا پسندوں نے عراق میں خون ریزی کا ایک ایسا کھیل شروع کیا جو آج تک جاری ہے۔ جس کا نشانہ شہری آبادیاں ہیں۔

کیا عراق میں ہلاکتوں کا سلسلہ2003ء سے شروع ہوتا ہے؟
سوشلسٹ اور اسلامسٹ مبصرین افغانستان کی ہی طرح عراق کے بارے میں بھی ایسا ہی تاثر پیش کرتے ہیں جسے کہ امریکہ نے ایک پرُ امن خطے میں داخل ہوکر وہاں ہلاکتوں کا ایک سلسلہ شروع کردیا۔ ہم اس مضمون کے پچھلے حصے میں اس بات پر بحث کرچکے ہیں کہ افغانستان 2002ء سے پہلے بدترین خانہ جنگی کا شکار تھا جہاں روزانہ سینکڑوں ہلاکتیں ایک معمول تھیں۔ لیکن عراق کے حالات کیا تھے؟ کیا2003ء سے پہلے وہاں لوگ چین اور سلامتی سے بستے تھے؟

صدام حسین نے1980ء میں ایران سے ایک بلا جواز جنگPersian Gulf warشروع کی جو آٹھ سال جاری رہی اور جس میں دس لاکھ سے زیادہ افراد لقمۂ اجل بنے جس میں دونوں اطراف کے فوجی اور شہری دونوں شامل تھے۔ یعنی آٹھ سال تک عراق اپنے مطلق العنان حکمران کی ضد کی وجہ سے حالت جنگ میں رہا۔ ابھی اس جنگ کے بادل چھٹنے بھی پائے تھے کہ 1990ء میں عراق نے کویت پر قبضہ کرکے ایک دفعہ پھر اپنے اُوپر جنگ مسلط کرلی۔ اس جنگ میں دسیوں ہزار عراقی فوجی اور کچھ ہزار کویتی اور عراقی شہری کام آئے۔ صدام حسین نے کرُد باغیوں کے خلاف فوجی کارروائیوں میں تقریباً پانچ لاکھ کرُدوں کو ہلاک کیا جس میں Anfalکے ایک حملے میں ایک لاکھ سے زیادہ کرُدوں کوزہریلی گیس (Mustard Gas) کے ذریعے ہلاک کیا گیا۔
Source: Human Rights watch

یہ سب تو حالت جنگ کی باتیں ہیں لیکن ‘‘زمانۂ امن’’ میں کیا ہوتا رہا؟دوسری عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کے جمع کردہ اعداد وشمار کے علاوہ Documental Center for Human Rightsکے مطابق اپنے24سالہ دور میں صدام حسین نے تقریباً چھ لاکھ عراقی شہریوں کو پھانسی گھاٹ پہنچایا۔ مختلف اعدادوشمار کے مطابق اُن آٹھ ہزار سے زیادہ ایام میں جب صدام عراق کا حکمران تھا اُسطاً 70سے 125شہریوں کو ہر روز(دوبارہ نوٹ کیجئے‘‘ہر روز’’)مارا جاتا رہا۔

یہ تمام اموات جن کا اُوپر ذکر کیا گیا کیوں کسی شمار میں نہیں آتیں؟ کیا سوشلسٹوں اور اسلامسٹوں کو2003ء کے بعد ہی کی عراقی ہلاکتیں نظر آتی ہیں؟ عراق میں موت کی آندھی تو اسی روز سے چلنا شروع ہو گئی تھی جب ایک جابر آمر نے وہاں اقتدار پر قبضہ کیا تھا۔

2003ء سے پہلے اور بعد کی ہلاکتوں میں صرف ایک فرق ہے۔ پہلے والی ہلاکتیں صدام کی ایما پر ہوئیں اور اُن کا مقصد صرف اُس کے اپنے اقتدار کو طول دینا تھا۔ 2003ء کے بعد بیشتر ہلاکتوں میں امریکہ کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ امریکہ نے صرف عراقی فوج، چھاپہ مار اور اسلامی انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی کی جس میں غیر ارادی ضمنی جانی نقصانات بھی ہوئے۔ لیکن زیادہ تر شہری اموات خود اسلامسٹوں کے ہاتھوں ہوئیں۔ امریکہ کا عراق پر حملہ ایک ایسی حکومت کے خاتمے کے لئے کیا گیا جس نے20سال تک خطے کے امن کو تباہ کئے رکھا اور عراق کے شہریوں کا بے دریغ قتل کیا۔

امریکہ کا عراق پر یہ حملہ نہ تو کسی سامراجی عزائم کے تحت کیا گیا اور نہ ہی وہاں کے وسائل پر قبضہ کرنے کے لئے جس کا راگ سوشلسٹ اور اسلامسٹ مبصرین الاپتے آئے ہیں۔ تاریخ نے ثابت کیا کہ اپنا مشن مکمل کرنے کے بعد جو کہ عراق سے ایک عسکریت پسند آمریت کا خاتمہ اور وہاں جمہوری نظام کا قیام تھا۔ امریکی افواج نے عراق سے کوچ کیا اور ُاس کی آئندہ قسمت کا فیصلہ اُس کے عوام کے ہاتھ میں چھوڑ دیا۔ کسی امریکی کمپنی نے تیل کا کوئی بڑا ٹھیکہ یا کسی آئل فیلڈ کی لیز وہاں سے حاصل نہیں کی۔

جاری ہے

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



+ eight = 10

%d bloggers like this: