چور مچائے شور: خلاصہ (آخری حصہ)۔

September 9, 2013 at 07:06
نئیر خان؛

عالمی افواج کی دوسرے ممالک میں موجودگی:
جب بھی عالمی طاقتوں نے کسی اسلامی ملک کے خلاف اُس کے عالمی یا علاقائی امن کو تباہ کرنے کے نتیجے میں فوجی کاروائی کی، اُسے اسلام پر ایک حملہ گردانا گیا اور غیرملکی تسلط اور قبضہ گیری سے تعبیر کرکے اُس کو ایک ظلم قرار دیا گیا اور دہشت گردی کا جواز بناکر پیش کیا گیا۔ خواہ وہ فوجی مداخلت دوسرے اسلامی ممالک کی ایما پر ہی کیوں نہ کی ہوگئی یا وہاں کی مقامی مسلمان آبادی کے لئے فائدہ مند ہی کیوں نہ ثابت ہوئی ہو۔ لیکن ایسی فوجی مداخلتیں جب دوسرے ملکوں کے خلاف کی گئیں تو انہیں اُن کے ہم مذہبوں نے حقائق کے تناظر میں دیکھا او رکبھی بھی بگاڑ کر پیش نہیں کیا۔

مضمون کے پانچویں حصے میں ہم نے دیکھا کہ نیٹو کی سربیا کے خلاف فوجی کاروائی مقامی آبادی کے بجائے مسلمان البانوی مہاجرین کے حق میں ہوئی۔ لیکن اُس کے نتیجے میں تو کسی دہشت گرد تحریک نے سربیا یا یورپ میں جہنم نہیں لیا اور نہ ہی خودکش حملہ آوروں نے امریکہ پر انتقامی حملے کئے۔ اس طرح کی اور بھی کئی مثالیں موجود ہیں۔ دو عیسائی ملکوں کی ظالم حکومتوں کو امریکی دباؤ کے تحت اپنے اقتدار سے محروم ہونا پڑا۔ یہ ممالکLibeviaاورHaitiتھے جہاں بالترتیب چارلس ٹیلر اورAristrideکو وہاں کے آمروں نے حکومت سے علیحدہ کردیا گیا۔ لیکن وہاں کسی بھی قابل ذکر احتجاجی تحریک نے سر نہ اُٹھایا اور نہ ہی دنیا بھر سے عیسائی دہشت گردوں نے آکر ڈیرے ڈال دئیے۔ اس کے برخلاف وہاں کی عوام اور اطراف کے ممالک نے ان اقدامات کو سراہا۔

لیکن جب 1993ء میں اقوام متحدہ کی امن فوج کو صومالیہ کی عوام کو وہاں پر جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں پڑنے والے قحط سے بچانے کے لئے صومالیہ میں مداخلت کرنی پڑی تو القاعدہ اور دیگر جہادی تنظیموں نے دنیا بھر سے صومالیہ پر ہلا بول دیا۔ نتیجہ اقوام متحدہ کی افواج کو اپنے مقاصد حاصل کرنے میں سخت ناکامی ہوئی او ربالآخر صومالیہ کو اُس کے حال پر چھوڑنا پڑا۔ اقوام متحدہ کی اس مداخلت کو بھی عالم اسلام پر ایک حملہ قرار دے کر جہادیوں نے اُس کے خلاف اعلان جنگ کردیا۔ امن فوج کی ناکامی کے نتیجے میں صومالی عوام کو دوبارہ قحط کا شکار ہوکے لاکھوں کی تعداد میں لقمہ اجل بننا پڑا۔ اگر جہادی افغانستان اور عراق میں عالمی افواج کو شکست دینے میں کامیاب ہوجاتے تو وہاں کی عوام کا حشر بھی صومالی عوام سے کچھ مختلف نہ ہوتا۔

اس کے برعکس جب1974ء میں اسلامی ملک انڈونیشیا نے مشرقی تیمور)East Timor( پر حملہ کیا تو وہ وہاں کی عوام کو کسی آمر سے آزادی دلانے یا اُن کی فلاح و بہبود کے لئے نہیں کیا گیا۔ بلکہ اُس کا مقصد وہاں پر قبضہ اور تصرف تھا۔ اسے اپنے دودہائیوں سے زیادہ طویل قبضے کے دوران انڈونیشیا دو لاکھ تیموری باشندوں کی اموات کا ذمہ دار بنا۔ کبھی بھی کسی مسلمان ریاست یا تنظیم نے اس ظلم کی مذمت نہ کی اور تو اور کسی عیسائی ملک نے بھی اپنے عیسائی بھائیوں کی حمایت میں کوئی کاروائی نہیں کی نہ ہی صلیبی جنگجو تنظیمیں اُنہیں ایک اسلامی ملک کی استبداد سے بچانے آئیں۔

القاعدہ اور اُسامہ بن لادن نے9/11کی دہشت گردی کی بنیادی وجہ سعودی عرب میں امریکی فوج کی موجودگی کو قرار دیا۔ 1991ء کی عراق کے خلاف کارروائی کے بعد امریکی فوج کے سعودی عرب میں قیام کو اسلامی دنیا میں نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا ہے۔ سعودی عرب میں امریکی سفارت خانے اور دیگر امریکی دفاتر پر بارہا خود کش حملے کئے گئے۔ جب کہ سعودی عرب کی حکومت اپنی مرضی سے امریکی افواج کا میزبان بنی ہے۔

سعودی عرب ہی وہ واحد ملک نہیں جہاں امریکی افواج اپنا قیام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دو بدھ مت کے پیروکار ممالک جاپان او رجنوبی کوریا نے پچھلے پچاس سال سے امریکی فوج کو اپنے یہاں قیام کیااجازت دے رکھی ہے کیونکہ وہاں امریکی فوج کی موجودگی خطے کے امن وسلامتی اور خود اُن دو ممالک کی حفاظت کے لئے ضروری تصور کی جاتی ہے۔ جاپان اور جنوبی کوریا میں بعض بائیں بازوں سے تعلق رکھنے والی تنظیمیں کبھی کبھی امریکی فوج کی اپنے یہاں موجودگی پر پُر اُمن احتجاجی مظاہرے کرتی رہتی ہیں۔ لیکن کبھی بھی اس بات پر وہاں کسی دہشت گرد تنظیم کا قیام عمل میں نہیں آیا، نہ ہی امریکہ افواج پر حملے کئے گئے۔ نہ ہی دنیا بھر کے بدھسٹوں نے اپنے ہم مذہب جاپانی او رکوریائی باشندوں کو غیر ملکی تسلط سے آزاد کرانے کے لئے وہاں خودکش حملہ آور بھیجے۔ اُنہوں نے کبھی بھی اس بات کو ایک مسئلہ بنانے کی کوشش نہیں کی۔ کبھی بھی اس بدھ مت پر ایک حملہ قرار نہیں دیا۔ اس قسم کی ساری تکلیفیں صرف مسلمانوں کو ہی ہوتی ہیں۔ پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے ممالک غیر مسلم ممالک کی امداد پر زندہ ہیں لیکن اُن کی ‘‘غیرت’’ کی سطح جاپان او رکوریا جیسے امیر اور ترقی یافتہ ممالک کی‘‘غیرت’’ کی سطح سے بہت بلند ہے۔

جب صومالیہ او رافغانستان کے عوام قحط او ربیماریوں سے مررہے ہوتے ہیں تو کوئی مسلم حکومت یا جہادی تنظیم اُنہیں روٹی کھلانے یا ادویات دینے نہیں آتیں۔ لیکن جب بھی ترقی یافتہ عالمی طاقتیں اُن کی بھلائی میں وہاں مداخلت کرتی ہیں تو سارے عالم اسلالم کی غیرت جاگ اُٹھتی ہے۔

اسلامی دنیا اپنے یہاں مطلق العنان آمر اور کرپٹ حکومتیں ہی پیدا کرتی ہے جو اپنی عوام میں غربت افلاس پھیلاتی اور انسانی حقوق کا گلا گھونٹتی رہتی ہیں۔ طالبان کا افغانستان ہو، عراق ہو، مصر ہو، لیبیا ہو، صومالیہ ہو، ایران ہو، سعودی عرب ہو یا کوئی بھی اسلامی ملک ہو، وہاں حکومتیں خود اپنی عوام کا قتل عام کرتی ہیں اور اُن سے غلاموں والا سلوک کرتی ہیں۔ یہ سب کچھ مہذب دنیا میں کیوں نہیں ہوتا؟ امریکہ تو اپنی عوام کا قتل نہیں کرتا۔ یورپ تو اپنے یہاں انسانی حقوق کو پامال نہیں کرتا۔ جاپان تو اپنی عوام کو دونوں ہاتھوں سے نہیں لوٹتا۔ یہ سب کچھ اسلامی دنیا میں ہی کیوں ہوتا ہے؟ جب بھی اسلامی دنیا میں کوئی آفت آتی ہے وہ مہذب دنیا کو مدد کے لئے پکارتی ہے۔ اُن سے امداد کی اپیلیں کرتی ہے۔ بلکہ اکثر تو مطالبہ کرتی ہے۔ جب بھی باضمیر دنیا اسلامی ممالک کے مسائل کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے کی کوشش کرتی ہے او روہاں جمہوریت کے قیام اور انسانی حقوق کی پاسداری کو یقینی بنانا چاہتی ہے، ساری دنیا کے مسلمان اُن کے خلاف جہاد کا پرچم بلند کردیتے ہیں۔

لیکن یہی مسلمان کبھی بھی اپنے ممالک کے مسائل کو حل کرنا نہیں چاہتے۔ کبھی بھی اپنے بھائیوں کے لئے تعمیراتی کام نہیں کرنا چاہتے۔ ان کی اپنے بھائیوں کے لئے مدد صرف تخریب پر مبنی ہوتی ہے۔ سعودی عرب جیسا امیر اسلامی ملک پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش جیسے غریب اسلامی ممالک میں وہابی مدر سوں پر مدرسہ کھولتا رہتا ہے تاکہ یہاں تخریب کاری او ردہشت گردی اور زیادہ پھیلے۔ جب کوئی اسکول بنتا ہے، پل بنتا ہے، سڑک بنتی ہے، ہسپتال بنتا ہے توUS Aidsکی امداد سے۔ کسی منصوبے کی تعمیر ہوتی ہے تو امریکہ یا یورپ کی عالمی یا ایشیائی ترقیاتی بینکوں کو دی ہوئی کریڈٹ لائن سے۔ ہم مغرب سے فائدہ بھی اُٹھاتے ہیں او راُسی کو ظالم بھی کہتے ہیں۔

اسلامی دنیا کے اُس دوہرے معیار، تنگ نظری، تعصب او رنفرت پسندی کی وجہ سے مہذب دنیا کے لئے اس کے ساتھ کام کرنا اور اس کے مسائل حل کرنا مشکل سے مشکل ہوتا جارہا ہے۔ اسلامی دنیا کے میڈیا کا سب ایک ہی کام ہے۔ مسلمانوں پر عالمی مظالم کی کہانیاں سنانا اور غیر مسلم دنیا کے خلاف نفرت پھیلانا۔

ختم شد

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



8 − five =

%d bloggers like this: