چور مچائے شور: افغان عراق(حصہ سوم)۔

September 6, 2013 at 05:46
نئیر خان؛

عراق اور افغانستان کی جنگیں:
عراق اور افغانستان میں امریکی اور مغربی فوجی کاروائیاں اب مسلمانوں کی اہل مغرب کے خلاف رنجش کا مرکزی نقطہ بن چکی ہیں۔ روائتی فلسطینی مسئلہ عارضی طور پر پس منظر میں چلا گیا ہے۔ اسلامسٹ اور سوشلسٹ مبصروں نے میڈرڈ او رلندن(7/7)میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں کا اصل سبب انہیں جنگوں کو قرار دیا۔ جولائی 2005ء میں لندن کے ریلوے نظام کو ہدف بنانے والی ناکام دہشت گردی میں مقرر شدہ خودکش حملہ آوروں نے اپنے عدالتی بیانات میں بھی اسی وجہ کی توثیق کی۔ اس پراپیگنڈے نے نہ صرف مسلمان عوام کو بلکہ مغرب میں رہنے والے تقریباً تمام کمیونسٹوں، سوشلسٹوں اور لبرل گردہوں کے بڑے حصے کو متاثر کیا۔ وہ حالیہ سالوں میں مغربی ممالک میں ہونے والی ہر دہشت گردی کا بنیادی سبب انہی دو جنگوں کو سمجھتے ہیں۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکہ او ریہودیوں سے نفرت کرنے کے لئے اسلامسٹوں کو کسی وجہ کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ نفرت اُن کے عقائد اور مذہبی سرشت کا ایک لازمی حصہ ہے۔ اگر بات یہ نہیں ہے تو طالبان کے افغانستان اور عراق کی دوسری لڑائی سے پہلے القاعدہ کے خفیہ سیل امریکہ اور یورپ میں کیا کررہے تھے؟

اگست2005ء میں فرانس میں دہشت گردی کے دو بڑے منصوبے بے نقاب ہوئے۔ پہلے منصوبے میں حملے کا نشانہ7/7کی طرز پر پیرس کےSubwayاور ائرپورٹ کو بنایا جانا تھا۔ اس سلسلے میں فرانسیسی پولیس نے9دہشت گردوں کو گرفتار کیا۔ اس کے علاوہ ایک اور دہشت گرد سیل بھی فرانس میں بے نقاب ہوا جس کا منصوبہ فرانس کے مسافر بردار طیاروں کو زمین سے فضا تک مارکرنے والے میزائیلوں کے ذریعہ گرانا تھا۔ یہ کتنی عجیب بات ہے کیونکہ فرانس تمام مغربی بلاک میں عراق پہ حملے کا سب سے بڑا مخالف تھا۔ مزید برآں فرانس ہی وہ واحد مغربی ملک ہے جو فلسطینی موقف کا حامی رہا ہے۔ پھر یہ دہشت گرد فرانس کو کس بات کا انعام دینا چاہتے تھے؟ کیا اس بات کا نہیں کہ بالاخر وہ بھی ایک کافر ملک ہے۔ حال ہی میں فرانس میں ایک انتہا پسند مسلم الجزائری نوجوان نے وہاں7شہریوں کو قتل کردیا۔ کیا یہ بھی فرانس کا مسلمانوں کے موقف کی حمایت کا صلہ تھا؟

امریکہ، برطانیہ او ردیگر مغربی ممالک میں لاکھوں افغان اور عراقی رہ رہے ہیں۔ ابھی تک شاید ہی کوئی عراقی یا افغانی باشندہ دہشت گردی کے سلسلے میں وہاں گرفتار ہوا ہو یا القاعدہ کے سیل کا حصہ پایا گیا ہوجبکہ زیادہ تر پاکستانی، مراکشی، الجزائری، سعودی، مصری، صومالی، سوڈانی، اُردنی وغیرہ ہی دہشت گردی میں ملوث پائے گئے ہیں۔ حالانکہ عراق اور افغانستان میں انسانی جانوں کے زیاں کی سب سے زیادہ تکلیف تو مغرب میں مقیم افغانی اور عراقی باشندوں کو ہونی چاہئے تھی۔ اُن کے عزیز واقارب او ررشتے دار ہی ان جنگوں میں سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ گو یہ بھی ایک مسلّم حقیقت ہے کہ عراق اور افغانستان کے شہریوں کو امریکہ یا نیٹو فوجیوں کے حادثاتی طور پہ چوکے ہوئے نشانے سے تو خال خال ہی نقصان ہوا ہے۔ اصل میں تو وہاں شہری آبادی کا جانی نقصان خود اسلامی انتہا پسندوں کے ہاتھوں سے ہی ہوا ہے۔ لیکن یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا مغرب میں مقیم افغانیوں اور عراقیوں کو اپنے ہم وطنوں سے پیار نہیں ہے جو کہ وہاں ان جنگوں کے سبب مارے جارہے ہیں؟ آخر وہ برطانیہ، اٹلی، اسپین اور امریکہ میں جہادی کارروائیوں میں شریک کیوں نہیں ہوتے؟ کیا پاکستانی، سعودی یا شمالی افریقہ کے باشندے ہی افغانستان اور عراق کے شہریوں کے سب سے بڑے ہمدرد ہیں؟پس مسلمانوں میں امریکہ اور اہل مغر ب کے خلاف پائی جانے والی نفرت کا موجب افغان اور عراقی جنگیں نہیں ہوسکتیں۔ مسئلے کی جڑ کوئی امریکی یا مغربی زیادتی نہیں ہے۔ یہ نفرت تو ہر مسلمان بچے کو اُس کی گھٹی میں دی جاتی ہے۔

آئیے ذرا عراق اور افغان لڑائیوں کے متعلق حقائق کا جائزہ لیں۔

صدام کا1990میں کویت پر قبضہ:
جب صدام حسین کی عراقی فوجوں نے1990میں کویت پر حملہ کرکے وہاں کے شہریوں کو قتل اور بے گھر کیا، اُن کی خواتین کی آبروریزی کی او راُن کے مال واسباب کو لوٹ لیا، تو القاعدہ اور دوسری اسلامسٹ تنظیمیں کہاں تھیں؟ اُنہوں نے خودکش بمباروں کو بھیج کر صدام حسین سے اس کی ظلم و زیادتی کا بدلہ کیوں نہیں لیا؟ اُنہیں اپنے کویتی بہن بھائیوں کے بے گھر ہونے اور لٹنے سے کوئی تکلیف کیوں نہیں پہنچی؟ اس کے برعکس تمام دنیا میں بسنے والے مسلمانوں کی اکثریت )95%سے زیادہ( نے صدام کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔ حالانکہ صدام نے ایک اسلامی ملک کے خلاف جارحیت دکھائی تھی۔ اُس نے اقوام عالم او رمہذب دنیا اور خود اسلامی اُمہ کے وضع کردہ تمام اخلاقی اور قانونی قواعد وضوابط کو پامال کیا تھا۔ پھر بھی وہ مسلمانوں کا ہیرو کیوں تھا؟ سارے عالم اسلام کی مساجد میں صدام حسین کی امریکی اور اتحادی افواج کے خلاف فتح کے لئے دعائیں کی گئیں۔ حالانکہ حملہ صدام نے کیا تھا اور امریکہ کویت کا نجات دہندہ تھا۔ بجائے اس کے کہ صدام کے خلاف خودکش حملہ آور بھیجے جاتے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے ملکوں کے لاکھوں نوجوانوں نے صدام حسین کی حمایت میں فدائین بننے کے لئے اپنے نام پیش کئے تاکہ امریکی فوج سے لڑسکیں۔

آج اسلامی دنیا میں امریکہ کے عراق پر اُس 2003ء کے حملے کے اخلاقی اور قانونی جواز پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ صدام کے پاس1990ء کے کویت پر حملے کا کیا اخلاقی جواز موجود تھا؟ پھر ساری دنیا کے مسلمان عوام کیوں اُس کے حامی تھے؟ یہاں بات نہ قانون کی ہے نہ اخلاقیات کی۔ بات کچھ اور ہے۔ مسلمانوں کی امریکہ کے خلاف نفرت کسی اصول پر نہیں بلکہ سراسر مذہبی تعصب پہ مبنی ہے۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ امریکہ پر11/9کے دہشت گرد حملوں کے وقت امریکہ کس اسلامی ملک سے جنگ میں ملوث تھا؟ پھر آخر اُس کے خلاف اس دہشت گردی کی وجہ اُس کا کون سا جرم تھا؟

یہاں پر اسلامسٹ اور لیفٹسٹ مبصرین اور دانشور اس کا تعلق فلسطین کے تنازعہ سے جوڑتے ہیں۔ اُن کے خیال میں کیونکہ اسرائیل کے فلسطینیوں پر مبینہ مظالم میں اسرائیل کو امریکہ پشت پناہی حاصل ہے اس لئے اُس پر11/9 کے حملے کئے گئے۔ ہم اس مضمون کے پہلے حصے میں اس بات کا جائزہ لے چکے ہیں کہ اگر امریکہ اسرائیل کی حمایت نہ کرے تو آج عرب ممالک اسرائیل کا زندہ رہنا مشکل کردیں۔ گویا یہ امریکہ کا جرم ہے کہ وہ ایک ریاست کو جو کہ اقوام متحدہ کی عین منظوری سے وجود میں آئی ہے، زندہ دیکھنا چاہتا ہے۔ لیکن اگر اس وجہ کو وقتی طور پر درست مان بھی لیا جائے تو سوال ایک بار پھر یہ پیدا ہوتا ہے کہ اُن دہشت گرد نوجوانوں میں، جنہوں نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگون کے ہیڈکوارٹر سے اغواہ شدہ طیاروں کو ٹکرا دیا، کیوں ایک بھی فلسطینی شامل، نہیں تھا؟ حالانکہ لاکھوں فلسطینی جن میں زیادہ تر سیاسی پناہ کو جواز بناکرامریکہ میں مقیم ہیں۔

افغانستان اور عراق میں آج تک اسلامی انتہاپسندوں کے دہشت گرد حملے جو کہ اکثر خودکش بمباروں کے ذریعے کئے جا رہے ہیں۔ ہزاروں بے گناہ مسلمان شہری مارے گئے ہیں۔ اس پیمانے پرمسلمانوں کا قتل وغارت تو کسی غیر اسلامی ملک نے بھی کبھی نہیں کیا۔ پھر پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک میں القاعدہ، طالبان اور دوسری اسلامی دہشت گرد تنظیموں کے خلاف غم وغصہ کیوں نہیں پایا جاتا؟ اس سے یہی ثابت ہوتا ہیکہ انتہا پسندی کے سارے جذبات مظلوم مسلمانوں کی محبت یا ہمدردی میں نہیں بلکہ غیر مسلموں سے نفرت میں ہیں۔

ہمارے مبصرین گھر بیٹھے چاہے جو بھی اعداد وشمار گھڑلیں، UNایجنسیوں کی مستند رپورٹیں حقیقت حال کو منکشف کرتی ہیں۔ اس سال30مئی کو اقوام متحدہ کا خصوصی نمائندہ(Jan Kubis)نے ایک پریس کانفرنس میں افغانستان کے شہریوں کی اموات پر اعداد شمار پیش کئے۔ اُس کے مطابق اس سال کے پہلے چار مہینوں میں579 شہری اموات جنگ کے باعث ہوئیں جبکہ1219افراد زخمی ہوئے۔ ان میں79فیصد اموات کے ذمہ دار طالبان یا حکومت مخالف قوتیں تھیں جبکہ صرف 9فیصد کی اموات کے ذمہ دار نیٹو یا ایساف کے غیر ارادی غلط انداز نشانے تھے۔ جب کہ باقی 12فیصد اموات کی ذمہ داری دونوں میں سے کسی ایک حریف پر واضح طور ثابت نہ ہوسکی… اگر آپ پچھلے سارے سالوں کے اعداد وشمار پڑھیں تو آپ انہیں ان سے مختلف نہ پائیں گے۔

یہاں کے مبصرین کچھ اس طرح کا تاثر دیتے ہیں کہ جیسے افغانستان کی ساری خونریزی وہاں نیٹو کے2002ء میں حملے کے بعد شروع ہوئی۔ گویا اس سے پہلے افغانستان امن وآشتی کا گہوارہ تھا۔ وہاں لوگ چین کی بانسری بجاتے تھے۔ وہاں خوشحالی کا دور دورہ تھاکیا یہی حقیقت ہے؟

حقیقت اس کے برعکس ہے۔ 2002ء سے پہلے بھی طالبان کے زیر تسلط افغانستان میں قتل و غارت گری کا بازار گرم تھا۔ خانہ جنگی میں روز سینکڑوں افراد لقمہ اجل بن رہے تھے۔ شہریوں کے معمولی جرائم میں ہاتھ پیر کاٹے جارہے تھے۔ انہیں سنگسار کیا جارہا تھا۔ لڑکیوں کے پڑھنے پر پابندی تھی۔ اور خوراک کی صورتحال کا یہ عالم تھا کہ ایک قحط کا سامنا تھا۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق2002ء میں غذائی قلت کے باعث تقریباً دس لاکھ نوعمر افغان بچوں کی موت کا خدشہ تھا۔ آج جو اسلامسٹ‘‘مظلوم’’ افغانوں کے ہمدرد ہیں وہ اُس وقت کہاں تھے؟ کیوں یہ خودکش حملہ آور اور امریکہ مخالف مبصرین اور سیاسی لیڈر خوراک او رادویات کے ٹوکرے لے کر افغان بھائیوں کی مدد کو نہ پہنچ گے؟

آج افغان بھائیوں کی ‘‘آزادی’’ کے لئے خودکش حملہ کرکے اپنی جان گنوانے والے کیوں اپنی روٹی میں سے آدھی افغان بھائی کو نہ دے سکے؟ کیا آج اسلامی دنیا میں پائے جانے والی امریکہ کے خلاف نفرت کی وجہ افغان بھائیوں سے اخوت کے جذبات ہیں؟

جیسا کہ اُوپر واضح کیا گیا2002ء سے پہلے بھی افغان شہریوں کو طالبان ہی مار رہے تھے۔ 2002ء کے بعد بھی اُنہیں طالبان ہی مار رہے ہیں۔ لیکن طالبان کے لئے مسلمان عوام میں ہمدردی کے جذبات ہیں۔ وہ آج اُن کے لئے مجاہدین ہیں اُن کے ہیرو ہیں۔ عمران خان جیسے سیاستدانوں کے نزدیک وہ حریت پسند ہیں اور امریکہ… وہ توہے ہی قابل نفرت کیوں کہ اُس نے طالبان کی ڈکٹیٹر شپ کو ختم کرکے افغانستان میں جمہوری حکومت قائم کرنے میں مدد دی۔ اُس نے افغانستان کی از سر نو تعمیر کی۔ آج نہ صرف افغان بچیاں اسکول جارہی ہیں(گواُن پر آج بھی طالبان تیزاب پھینک رہے ہیں اور اُن کے اسکولوں کے پانی کے ٹینکوں میں زہر ملا رہے ہیں) بلکہ افغان خواتین سرکاری دفاتر میں کام رہی ہیں۔ افغان خواتین پارلیمنٹ میں بیٹھ کر ملک کی تقدیر کا فیصلہ کررہی ہیں۔ یہ امریکہ کا ہمارے مسلم افغان بھائیوں پر کتنا بڑا ظلم ہے کہ وہاں آج کوئی غذائی قلت نہیں ہے۔ بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ امریکہ اور اہل مغرب کتنے بڑے ظالم ہیں وہ افغانستان میں سڑکیں، پُل، بجلی گھر، ڈیم وغیرہ تعمیر کر رہے ہیں۔ ابھی دو روز پہلے امریکی کوششوں کے نتیجے میں اقوام عالم نے افغانستان میں ترقیاتی کاموں کے لئے مزید 16ارب ڈالر مختص کئے۔ واقعی یہ بہت بڑا ظلم ہے۔


جاری ہے

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



7 + one =

%d bloggers like this: