چور مچائے شور: افغان اور عراق کی لڑائیوں میں موازنہ (حصہ پنجم)۔

September 8, 2013 at 07:01
نئیر خان؛

عراق میں امریکہ وبرطانیہ کی فوجی کاروائی کی مدت افغانستان میں نیٹو کی کاروائی کی مدت سے کم رہی لیکن عراق کی لڑائی زیادہ خونریز ثابت ہوئی۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ افغانستان کے جغرافیائی حالات گوریلا لڑائی کے لئے زیادہ موزوں ہونے کی وجہ سے اسلامی شدت پسندوں کے لئے نیٹو سے مقابلے کے لئے زیادہ موافق ثابت ہوسکتے تھے۔ لیکن عام افغانیوں کی غالب اکثریت کی حمایت سے محرومی کی وجہ سے جہادیوں کے لئے وہاں اپنی کاروائی جاری رکھنا ایک مشکل کام ثابت ہورہا ہے۔ یوں تو عراق کے عوام کی اکثریتی آبادی بھی جوکہ شیعہ ہے، صدام سے بے حد نالاں تھی۔ کرد آبادی بھی صدام کے ظلم کی ماری ہوئی تھی۔

صدام سے اس بے زاری کا اور نئے نظام کی حمایت کا اندازہ اب تک عراق میں ہونے والے دو عام انتخابات میں عوام کی بھر پور شرکت سے ہوتا ہے۔ القاعدہ کی دھمکی کے باوجود عراقی عوام نے موت کے سائے تلے اپنے ووٹ دینے کا حق جو انہیں امریکہ وبرطانیہ کی کاروائی کی وجہ سے حاصل ہوا ہے، کا کُھل کے استعمال کیا۔ 2004ء کے اختتام پر اُنہوں نے عبوری حکومت کے قیام، 2005ء کے اختتام پر آئین کی منظوری اور2006ء کے شروع میں مستقل حکومت کے قیام کے لئے بڑھ چڑھ کے ووٹ دئیے۔ انتخابات کو سبو تاژ کرنے اور کافروں کے لائے ہوئے جمہوری نظام کو روکنے کے لئے القاعدہ نے کئی شہروں میں فدائی حملے کرکے ہزاروں عراقیوں کو موت کے گھاٹ اُتارا لیکن پھر بھی عراقی عوام کے عزم کا گلا نہ گھوٹ سکا۔

باوجود اس کے کہ عراقی او رافغانی عوام میں عسکری شدت پسندوں سے ایک جیسی بے زاری موجود تھی۔ طالبان اور صدام کے ادوار میں کئی اعتبار سے فرق موجود تھا۔ جس کی وجہ سے امریکہ، برطانیہ اور عراق کی منتخب شدہ حکومت کو جنگ کے بعد کے حالات کو قابو کرنے میں نسبتاً زیادہ دِقت پیش آئی۔ طالبان کے دور حکومت میں افغانستان کے عام شہری کی حالت تباہ تھی۔ جس کی وجہ سے انہیں عوامی حمایت سے ہر سطح پر محروم ہونا پڑا تھا۔ طالبان کے پانچ سالہ دور میں تقریباً25 فیصد افغان آبادی خانہ جنگی اور قحط کی وجہ سے نقل مکانی کرنے اور ہمسایہ ملکوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوچکی تھی۔

دوسری جانب صدام کی طرف سے وہاں کی اقلیتی سنی آبادی پر خصوصی لطف وکرم کی بارش تھی جس کی وجہ سے اسے مراعت یافتہ جماعت کی دلی ہمدردی اور وفاداری حاصل تھی۔ یہ بات ظاہر وباہر ہوچکی ہے کہ عراقی جنگ کے بعد وہاں گڑ بڑ پھیلانے والا دراصل یہی مراعت یافتہ سنی طبقہ تھا جو اکثریتی شیعہ اور کرُد آبادی پر اپنا کئی دہائیوں پر محیط تسلط گنوانا نہیں چاہتا تھا اور اس مقصد کے لئے القاعدہ سے مکمل طور پر مِل چکا تھا۔ کیونکہ صدام کے بعد اُن کو اپنی آخری اُمید القاعدہ میں ہی نظر آرہی تھی کہ وہ اسے شیعہ آبادی پر دوبارہ غلبہ دلا سکے۔ اس کے برعکس طالبان کو کسی ایک بھی طبقہ یا جماعت یا فرقے کی باقاعدہ اور مخصوص حمایت حاصل نہ تھی۔ جس کی وجہ سے وہ افغانستان میں عراق جیسی مزاحمتی تحریک نہ پیدا کرسکے۔

ایک دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ صدام کے پاس ایک اعلیٰ تربیت یافتہ انتہائی مسلح او رجدید اسلحے سے لیس تقریباً پانچ لاکھ باقاعدہ فوج اور دس لاکھ رضاکار یا نیم فوجی افراد موجود تھے۔ ان کے پاس اسلحے کے کثیر ذخائر بھی پوشیدہ تھے۔ کھلی جنگ میں ذلت آمیز شکست کے بعد اِس بھگوڑا فوج کا بڑا حصہ وردیاں اُتار کے عام عوام میں ضم ہوگیا۔ لیکن خفیہ روابط کے ذریعے یہ از سر نو مجتمع او رمنظم ہونے کے بعد نئی حکومت کے لئے ایک وبال جان بن گئے۔ انہوں نے شیعہ، عوام سرکاری اہلکار اور ملازموں کا دہشت گرد حملوں کے ذریعہ بے دریغ قتال کیا۔

اس کے برعکس طالبان کے پاس مشکل سے ایک لاکھ بے ترتیب، بے قاعدہ اور نیم تربیت یافتہ فوج تھی جو کہ اوسط درجے کے اسلحے سے لیس تھی۔ وہ نیٹو کی فوج کے سامنے لڑنے کی اہلیت نہیں رکھتی تھی۔ طالبان کا سب سے بڑا ہتھیار ایک ہمسایہ ملک میں اس کی قائم شدہ فیکٹریوں میں تیار کی ہوئی بارودی سرنگیں یا اپنے وہ انسانی بم ہیں، جن سے وہ نیٹو افواج کو گاہے بہ گاہے معمولی نقصان پہنچاتے رہتے ہیں۔ اُس کا سب سے بڑا نشانہ تو بے تفریق افغان عوام ہی رہے ہیں۔

تیسرا فرق دونوں مزاحمتی گروہوں میں یہ تھا کہ صدام کے دور کی مراعت یافتہ جماعت خاصی متمول ہے اور عراق کے مزاحمت کاروں کی مالی معاونت کرتی رہی ہے۔ جب کے طالبان کے پاس سوائے منشیات اور دیگر اشیاء کی اسمگلنگ اور بھتہ خوری کے آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ آپ کو یہ بات جان کر حیرت ہوگی کہ نیٹو سپلائی کی پاکستان سے بحالی کے سب سے بڑے حمایتی خود طالبان تھے کیونکہ پاکستانی اور افغانی ٹرانسپورٹروں سے اپنے علاقے سے گزرنے کا بھتہ وصول کرنا اُن کی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ طالبان بیشتر ترسیلی راستوں پر اپنا کنٹرول عرصہ دراز سے کھو چکے ہیں۔ اب منشیات او ردیگر اشیاء کی اسمگلنگ زیادہ تر غیر طالبان کے ہاتھوں میں آگئی ہے۔ طالبان کے پاس مالی ذرائع بہت محدود رہ گئے ہیں۔ مالی بحران ان کا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ چوتھی وجہ یہ بھی ہے کہ عراقی مزاحمت کاروں کو بیرون ممالک سے آئے ہوئے خود کش بمباروں کی ایک بڑی کھیپ میسر رہی ہے جو کہ طالبان کے پاس بھرتی دینے والی آبادیوں کی کمی کی وجہ سے کافی حد تک محدود ہوگئی ہے۔

اُوپر دی ہوئی وجوہات کی وجہ سے القاعدہ او راُس کی ذیلی عالمی تنظیموں کے لئے عراق، افغانستان کے مقابلے میں ایک زیادہ پُر کشش مقام بن گیا۔

اکثر مغربی تبصرہ نگاروں کا خیال ہے کہ امریکہ افغانستان میں فوجی کاروائی جس کو کہ سلامتی کونسل کی حمایت حاصل تھی میں اچھا خاصا کامیاب جا رہا تھا۔ لیکن عراق پر اپنے‘‘غیر قانونی’’ حملے کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہوگیا۔ اُن کا خیال ہے کہ کیونکہ عراق پر امریکہ کا حملہ ناجائز تھا(جو کہ ہم اس مضمون کے پچھلے حصے میں پڑھ چکے ہیں ہرگز ایسا نہ تھا)اس لئے اُسے وہاں پر عالم اسلام کے زیادہ غم وغصہ اور اس کے نتیجے میں ہونے والی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ ایک خام خیالی ہے حقیقت تو یہ ہے کہ عراق کا محاذ کھلنے کے بعد عالمی دہشت گرد تنظیموں کو اُوپر دی گئی وجوہات کی بنا پر عراق میں ایک زیادہ ساز گار میدانِ جنگ نظر آیا اور چنانچہ انہوں نے وہاں کا رُخ کیا۔ لیکن اگر عراق میں امریکہ وبرطانیہ کی فوجی کارروائی نہ ہوتی تو لامحالہ دنیا بھر کے ان دہشت گردوں کے لئے میدان عمل صرف افغانستان یا پاکستان کا پشتون علاقہ رہ جاتا اور ہم ان دونوں علاقوں کے عوام کی حالت آج سے کہیں زیادہ ابتر پاتے۔

چنانچہ یہ خیال کہ اگر عراق پر حملہ نہ ہوتا تو اسلامی جہادیوں کی کاروائیوں میں کمی آجاتی ایک احمقانہ خیال ہے۔ عراق پر حملہ صرف افغانستان او رپاکستان میں دہشت گرد کاروائیوں میں کمی کا سبب بنا۔ عراق میں جہادیوں کی شدید تر کا روائیاں امریکہ کی اقوام متحدہ سے بلا اجازت عراق پر حملہ کرنے کے سبب سے پیدا ہونے والے ردعمل کا نتیجہ نہیں تھیں۔ اگر عراق کا محاذ نہ ملتا تو دنیا جہاں سے آئے ہوئے دہشت گرد افغانستان او رپاکستان پر ہی اپنی توجہ مرکوز کرتے اور اس خطے کو جہنم کا نمونہ بنا دیتے۔ جہادیوں کی کاروائی امریکہ کے کسی عالمی قانون سے روگردانی کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ اُن کا مقصد ہر حال میں ایک اسلامی نشاۃ ثانیہ قائم کرنا ہے جہاں وہ بریدہ سروں او رکٹے ہوئے ہاتھوں او رپیروں والے انسانوں کی جنت عرضی بسانا چاہتے ہیں۔

اسلامی ممالک میں غیر ملکی افواج کی موجودگی:
ہم اس بات کا جائزہ لے چکے ہیں کہ عالم اسلام میں مغرب کے خلاف حالیہ غم وغصہ کی وجہ اقوام متحدہ کی حمایت سے موجود عالمی افواج کی افغانستان میں اور امریکی و برطانوی فوج کی عراق میں موجودگی کو بتایا جاتا رہا ہے۔ لیکن دنیا میں صرف اسلامی ممالک ہی نہیں ہیں جہاں غیر ملکی افواج کو دخل اندازی پر مجبور ہونا پڑا ہو۔ ہم اس کی سب سے بڑی مثال سربیا کے علاقے کوسووKosovoمیں دیکھتے ہیں۔ سربیائی باشندے اورSlayنسل کے لوگ چھٹی اور ساتویں صدی سےKosovoمیں آباد ہیں۔ سترویں صدی میں جابر سلطنت عثمانیہ نے سربیا کو اپنی سلطنت میں شامل کرلیا اور شمالی البانیہ کے مسلمان باشندوں کوKosovo میں لاکر آباد کرنا شروع کردیا۔ تاکہ علاقے کی معاشرتی ہیت کو مصنوعی طور سے تبدیل کیا جاسکے۔ یہ سلسلہ انیسویں صدی کے اختتام تک جاری رہا۔

بہرحال1912ء میں ہونے والیBalkan war میں سربیاKosovoکو دوبارہ اپنی سلطنت میں شامل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ سربیا وہاں البانوی باشندوں کے ساتھ گفت وشنید کے ذریعے ایک معاہدے پر پہنچا جس کے مطابق البانوی افراد کو تُرکی میں منتقل کیا جانا تھا۔ لیکن 1914ء میں پہلی عالمی جنگ کے آغاز کے باعث اس معاہدے پر عمل درآمد نہ ہوسکا۔ جنگ کے نتیجے میں سربیا کے کمزور پڑجانے کی وجہ اور معاہدے پر عمل درآمد میں التوا نے البانوی باشندوں کوKosovoمیں اپنے قدم مضبوط کرنے کا موقعہ دے دیا۔ دوسری جنگ عظیم اور مغربی یورپ میں اشتراکی انقلابوں نے اس مہلت کو او رطوالت دی۔ اب ان آباد کار البانوی مسلمانوں نے سربیا کے زیر تسلط رہنے سے انکار کردیا اور گزشتہ پچاس سال سے وہاںKosovoکو سربیا سے علیحدہ کرنے کے لئے ایک پر تشدد جدوجہد شروع کردی ہے۔ اُوپر بیان کیا گیا ہے کہ سلطنت عثمانیہ بالکن Balkan ممالک کی جبری اسلامائزیشن کی خواہش مند تھی۔ Kosovoمیں عیسائی افراد کو جبراً مسلمان کیا گیا، مسلمان افراد کو وہاں لاکر آباد کیا گیا اور عیسائی افراد کو مظالم کے ذریعے نقل مکانی پر مجبور کیا گیا۔

سلطنت عثمانیہ کے ظلم وجبر کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ1919ء میں بلغاریہ کے شہر بلغراد میں عثمانی افواج نے پچاس ہزار کی شہری آبادی کا صرف ایک دن میں قتل عام کیا جو جدید انسانی تاریخ کے تیز ترین مردم کشی میں شمار ہوتا ہے۔ لیکن حسب معمول اب البانوی آباد کار مسلمانKosovo میں ایک اسلامی مملکت کے قیام کے دعوایدار بن بیٹھے۔ بجائے 1913ء کے معاہدے پر عمل درآمد کرتے ہوئے ترکی میں منتقلی کے اُنہوں نے کوسوو Kosovoمیں حق خود ارادیت کے تحت ایک آزاد ریاست کا مطالبہ شروع کردیا جس کے لئے مسلح بغاوت بھی شروع کردی۔ 1999ء میں سربیا نے البانوی مسلمانوں کے خلاف شدید فوجی کارروائی شروع کردی۔ واضح رہے کہ یہ کارروائی اُسی نوعیت کی تھی جیسی کہ سری لنکا کی حکومت نے تامل باغیوں کے خلاف کی تھی۔ تامل افراد بھی انیسویں صدی وسط سے لے کر بیسویں صدی کے آغاز تک تامل ناڈو سے ہجرت کرکے سیلون آئے تھے تاکہ وہ وہاں انگریزوں کے شروع کئے ہوئے گنے کی کاشت کے منصوبے کا حصہ بن سکیں۔ لیکن اُنہی آباد کاروں نے ایک دن سری لنکا سے ایک علیحدہ ملک کے مطالبے کے سلسلے میں مسلح گوریلا کارروائی شروع کردی۔ سری لنکا نے اُس بغاوت کو بھر پور طریقے سے کچلا اور بعد ازاں اس میں کامیاب بھی رہا۔

لیکن جب یہی حرکت سربیا نے اپنے باغیوں کے خلاف کی تو عالم اسلام میں ایک شور مچ گیا۔ اقوام متحدہ میں قرار داد پر قرار داد پیش ہونے لگی۔ سربیائی کارروائی کو مسلمانوں کی نسل کُشی قرار دیا گیا۔ اس موقعہ پر امریکہ، جسے کہ دنیائے اسلام میں نمبر1دشمن سمجھا جاتا ہے، نے اقوام متحدہ سے سربیا کے خلاف کارروائی کی اجازت لے لی۔ اس کے بعد نیٹو کی فضائی فوج مسلسل78دنوں تک سربیا پر بم برساتی رہی۔ سربیا کی فوجی چھاونیوں، صنعتوں، کارخانوں، پلوں اور بنیادی ڈھانچے کو ملبے کا ڈھیر بنادیا گیا۔ جنگ بندی پر دستخط ہونے کے بعد اقوام متحدہ کی امن فوجKosovoمیں داخل ہوگئی جو گزشتہ بارہ سال سے وہاں مقیم ہے۔

اُس فوج کے خلاف سربیائی عیسائیوں نے نہ تو کوئی گوریلا کارروائی کی اورنہ ہی خود کش حملے کئے۔ اس کے برخلاف مسلمانوں نے امن فوج کے ہوتے ہوئے بھی سربیائی عیسائیوں پر بارہا حملے کئے۔ تقریباً دو لاکھ سے زیادہ سربیائی عیسائیKosovoسے نقل مکانی کرکے سربیا کے دوسرے علاقوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے۔ مسلمان باقی ماندہ عیسائیوں کو بھیKosovo سے نکالنے پر کمر بستہ ہیں تاکہKosovoکو ایک خالصتہً اسلامی ملک بناسکیں۔ باقی ماندہ عیسائی آبادی اپنی جان کے خوف کے باعث امن فوج کے پہرے میں محفوظ علاقوں(Ghettos)میں رہ رہی ہے۔ نہ صرف یہ کہ مسلمان سربیا سے مکمل آزادی چاہتے ہیں بلکہ عیسائی آبادی کو بھی وہاں سے بے دخل کرنا چاہتے ہیں۔ یعنی اُن لوگوں کو جو پچھلے تیرہ سو سال سے وہاں بس رہے ہیں۔
Kosovoکی خود مختاری اقوام متحدہ میں زیر بحث ہے اور اس بات کے امکانات روشن ہیں کہ امن کے قیام کے ساتھ ہی نہ صرف امن فوج کاKosovoسے انخلاء بلکہ اُس کے ساتھ ہیKosovoکی خود مختاری بھی عمل میں آئے گی۔ سربیا کی 1999ء سے پہلے کی قیادت جنگی جرائم کے سلسلے میں عالمی عدالت برائے انصاف کے کٹہرے میں اپنی تقدیر کے فیصلے کی منتظر ہے کتنوں کو تو سخت سزائیں سنائی جاچکی ہیں۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ امریکہ او رنیٹو نے کبھی تامل باغیوں کو بچانے کے لئے سری لنکا پر حملہ نہیں کیا۔ اُس پراس سلسلے میں کوئی دباؤ تک نہیں ڈالا گیا۔ جب کے سری لنکا اور سربیا کے حالات میں خاصی مماثلت پائی جاتی تھی۔ کُردوں کا معاملہ اس سے بھی خراب رہا ہے۔ وہ اپنے علاقوں میں ہمیشہ سے آبادہیں۔ وہاں آباد کار یا مہاجر نہیں ہیں۔ اُن پر چار اسلامی ریاستیں یعنی ایران، ترکی، شام اور عراق ظلم کے پہاڑ توڑتی آئی ہیں۔ لیکن امریکہ یا نیٹو نے اُن اسلامی حکومتوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ گویا عراق میں امریکہ وبرطانیہ کی مداخلت سے وہاں کے کُردوں کو ظلم سے نجات ضرور ملی لیکن یہ محض ایک اتفاق تھا۔ امریکہ کی فوجی کاروائی کی وجہ عراق کی دوسری بے اعتدالیاں تھیں، کُردوں پر زیادتی نہیں۔ وہ تو ایک ضمنی اثر کے تحت کُردوں کو بھی اس کاروائی سے کچھ فائدہ ہوگیا لیکن کُردوں کے لئے عالمی طاقتیں تو کیا کبھی اسلامی ممالک نے بھی ہمدردی کا اظہار نہیں کیا۔

افغانستان اور عراق میں بلا ترتیب اقوام متحدہ نیٹو اور امریکہ وبرطانیہ کی مداخلت کا فائدہ براہ راست وہاں کی عوام کو ملا جنہیں جدید عالمی تاریخ کی دو جابر ترین حکومتوں سے نجات ملی، اپنے ملک کی تقدیر کا فیصلہ کرنے کا اختیار ملا، خوشحالی ملی شہری آزادی ملی، تو بھی عالم اسلام میں ان فوجی مداخلتوں کو ظلم سے تعبیر کیا گیا۔

سربیا میں اقوام متحدہ نیٹو کی مداخلت کو سراسر اُس کے عوام کے مفاد کے خلاف ثابت ہوئی۔ اس کا نتیجہ تو یہ ہوا کے مسلمان مہاجروں نے دو لاکھ سے زیادہ مقامی سربیائی باشندوں کو اُن کی اپنی سر زمین سے بے داخل ہونے پر مجبور کردیا۔ اب انہی مہاجروں کو سربیا کے ایک بڑے علاقے کو سربیا سے علیحدہ کرکے وہاں کا مالک بنایا جانے والا ہے۔ یہ سربیا کے لئے کتنا بڑا نقصان ہے۔ تو بھی سربیائی عیسائی گروپوں نے نہ تو نیٹو افواج پر نہ ہی امریکہ کے کسی شہر میں خود کش حملے کی کوشش کی۔ نہ ہی دوسری عیسائی او ریورپی تنظیموں نے باہر سے آکر نیٹو افواج پر حملے کئے۔
بیرونی مداخلت کا سارا فائدہ افغان او رعراق عوام کو ہوا تو بھی مسلمان ظلم کی دہائی دے رہے ہیں اور دنیا بھر میں اپنی تمام دہشت گردی کی وجہ اس ظلم کو بتاتے ہیں۔ سربیائی عوام کے ساتھ اقوام عالم نے واقعی ظلم کیا لیکن اس کو تو کسی نے ظلم نہیں کہا۔ نہ ہی اُنہوں نے اس ظلم کے خلاف کوئی دہشت گرد کارروائی کی۔

جاری ہے

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



nine − 2 =

%d bloggers like this: