چشمِ عشق

September 1, 2013 at 07:20 ,
انا الحق؛

آنکھیں انسانی ذات کا عکس ہوتی ہیں اگر کسی کی ذات کو دیکھنا اور پرکھنا ہو تو آنکھوں کو پرکھ لیا جائے۔ ان پر نمایاں ہونے والا ذات کا عکس صر ف وہی لوگ پڑھ سکتے ہیں جن کے لیے وہ پیغام ہو تا ہے۔انسانی آنکھیں ظاہری مشاہدہ کرنے اور اس کی تصویر بنانے کے علاوہ کیا کام سر انجام دیتی ہیں؟مشاہدے کے علاوہ انکھوں میں عیاں انسانی جذبات دیکھنے والے کی آنکھ میں اتر جاتے ہیں اس طرح بصارت کے علاوہ آنکھیں پیغام رسانی بھی کر سکتی ہیں۔

عشق مجازی ہو یاں عشق حقیقی آنکھوں کا ایک ہی کردار ہے عشق مجازی میں کسی کے حسن کا مشاہدہ کرنے کے بعد اس کے حسن کا گرویدہ ہونا اس کے نظر نہ آنے پر ہجر محسوس کرنا اور گریہ کرنا آنسو بہانا یہ انکھوں کا ہی عمل ہے۔ جبکہ عشق حقیقی میں تخلیق کائنات کا مشاہدہ کرنا اور خالق کی جستجو میں گریہ کرنا اور رونا یہ تمام کام اسی بصارت کے ہیں۔عشق مجازی میں محبوب کا حسن ِظاہری متاثر کرتا ہے روحانی عشق میں ایک حد تک حسن ظاہری کا کردار ہے مگر پھر روح اور باطنی آنکھ اپنے عشق کی تکمیل کرتی ہے۔دوسرے جانداروں کی نسبت رونے کا ہیجانی عمل جو انسانوں کے اندر موجود ہے ایک پیچیدہ نفسیاتی عمل ہے بہت سارے دوسرے جاندار اس سے محروم ہیں۔

انسانی دماغ بچپن سے ہی چیزوں کو تصاویر کی صورت میں مخفوظ کرتا ہے جو وقت کے ساتھ ایک بہت بڑی یاداشت بن جاتی ہے اس سے ساری زندگی انسان کو دیکھنے اور پہچاننے کا کام آنکھوں سے ہی سرانجام دینا ہوتا ہے۔وہ تصاویر جو انسان کے دماغ میں مخفوظ ہو رہی ہوتی ہیں ان کی نفسیاتی تشریح ہر انسان کی وراثت سے ہو تی ہےاگر کسی انسان میں جمالیاتی حس والدین کی طرف سے بہت نمایاں ہو تو اس چیز کی تشریح حسن کی بنیاد پر ہوتی ہے۔

دوسرا کردار حسن کا ہوتا ہے آنکھوں میں جانے والی کسی حسین چیز کی تصویر ہم آہنگ ہوتی ہے یعنی عناصر ترکیبی کی ترتیب اپنے عروج پر ہوتی ہے جو دیکھنے والے کو اپنا گرویدہ بنا لیتی ہیں۔

بے شک حسن تسکین چشم و نفس ہے جس کو دیکھنے سے سرور کی کفیت پیدا ہوتی ہے اور با ر بار دیکھنے کی حسرت بھی پیدا ہوتی ہے۔ اور کسی حسین چیز کو بار بار دیکھنے کی حسرت بنیادی طور پر اس مرکز کو متحرک کرنا ہے جو کسی چیز کی عادت اور لت پڑنے پر ہوتا ہے۔یہ مرکز انسانی دماغ میں موجود ہوتا ہے۔ اور بوقت ضرورت تحریک حاصل کر کے سرور حاصل کرتا ہے اگر اس مرکز کو تسکین نہ ملے تو اس کی حالت بالکل ایسے ہوتی ہے جیسے کسی نشہ آور زچیز کے استعمال کو روکنے سے پیدا ہوتی ہے۔

آنکھ اور اس کی تشریح: آنکھ سنسکرت کا لفظ ہے جس کے لیے عربی میں عین اور فارسی میں چشم کا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ آنکھ ایک ایسا عضو ہے جو کہ مختلف رنگوں کی روشنی کا ادراک کر سکتا ہے۔

آنکھ کی شکل گول کروی ہوتی ہے جو کہ کاسہ سر یا کھوپڑی میں سامنے کی جانب حلقہ چشم میں موجود ہوتی ہے۔

آنکھ کی دیواریں تین تہوں سے مل کر بنی ہے۔

1: صلبہ (سییکلیرا) بیرونی تہ

2:مشیمیہ(کیروائڈ) درمیانی تہ

3:شبکیہ(ریٹینا) اندرونی تہ

روشنی قرینہ سے آنکھ میں داخل ہوتی ہے جو سب سے بیرونی حصہ ہے ۔ پردہ چشم روشنی کو عدسہ پر مرکوز کرتا ہے ۔ پردہ چشم میں پھیلنے اور سکڑنے کی صلاحیت ہوتی ہے ۔ پردہ چشم کے درمیانی راستہ کو پتلی کہتے ہیں ۔ عدسہ کو حلقی ریشے اور ھدبی عضلات خاص مقام پر رکھتے ہیں جس کی وجہ سے خاص تصویر ہی آنکھ کی پشت پر بنتی ہے۔ جو تصویر آنکھ میں بنتی ہے وہ بصری عصب سے دماغ کے پیچھے بصارت کے مرکز میں جاتی ہے۔

آنکھ کی اس تشریح سے یہ بات واضع ہو گئی ہو گی کہ آنکھ قدرت کا شہکار ہے ۔ انکھ صرف دیکھنے کے لیے ہی استعمال کی جاتی ہے مگر اس کے نفسیاتی ، جذباتی بہت سے اثرات ہیں بصارت بینائی ہی کو کہتے ہیں کس طرح بصارت کے علاوہ آنکھیں انسانی زندگی میں اثر انداز ہوتی ہے۔

آنکھوں کی نفسیات: بیشک آنکھوں کی خاص رنگت ہوتی ہے اور حسن ہوتا ہے اس کے علاوہ آنکھوں کی خاص زبان ہوتی ہے جو انسان بغیر لب کشائی کیے استعمال کر سکتا ہے اور اپنا پیغام دوسرے تک پہنچا سکتا ہے۔ خوبصورت آنکھیں ہر کسی کے لیے کشش کا باعث ہوتی ہیں جو قانون کشش میں اہم کردار کرتیں ہیں۔ آنکھوں کی رنگت کے بارے میں ہونے والی تحقیق سے یہ بات واضع ہوئی ہے کہ مختلف آنکھوں کی رنگت والی خواتین کی تصاویر پر تحقیق کی گئی تو جن مردوں کی براؤن آنکھیں تھیں ان کا خاص چناؤ کا معیار نہیں تھا ۔ لیکن نیلی اور سبز آنکھوں والے مرودوں نے اپنی طرح کی آنکھوں والی عورتوں کی تصاویر کو پسند کیا۔

اسی طرح آنکھوں کی ساخت کے لحاظ سے مختلف قسمیں ہیں جو شخصیت سے محبت اور عشق کا باعث بنتی ہیں۔

سات اہم قسم کی آنکھیں:

خدمتگار آنکھیں،ہنرمند آنکھیں، جنگجو آنکھیں،عالم آنکھیں،سمجھدار آنکھیں، عبادت گزار آنکھیں،بادشاہ آنکھیں۔

جس طرح آنکھوں کی ایک خاص شناخت کسی کو متاثر کرنے میں کردار ادا ہے اسی طرح آنکھوں کی ایک خاص زبان ہوتی ہے جس کو باڈی لینگوج کہا جاتا ہے یہ زبان بنیادی طور پر زبان کے استعمال کے بغیر اپنے جذبات اور ہیجان کی عکاسی کرتی ہے مثلا روتے وقت انسان کی آنکھیں دکھ کا احساس دلاتی ہیں ۔محبوب کی موجودگی میں اس سے نظر ملانے پر اضطراب کی کفیت اور پلکوں کے بے ہنگم ہو جانا اسی طرح ظلم و جبر میں آنکھوں سے عیاں ہو جاتا ہے کہ شخص پر ظلم کیا گیا ہے ۔ ایسی طرح خوشی کی حالت میں آنکھوں کی چمک بھی زبان ہی ہے۔اسی طرح ایک لفظ نظروں کا ملنا ہے جس کو آئی کونٹکٹ کہتے ہیں اور خوبصورت چیز کو مسلسل دیکھتے رہنے کو گیز یاں نظر جمانا کہتے ہیں۔ اور انگریزی میں اس کے مطالعہ کو آکلوسیس کہتے ہیں۔

آنکھوں سے پیغام رسانی کا عمل زبان کی ابتدا سے پہلے کا ہے جو بہت سارے دوسرے جانوروں میں ابھی بھی پایا جاتا ہےزبان کی ابتدا تو تقریبا 100000سال پہلے ہوئی اس سے پہلے آنکھوں سے ہی زیادہ تر پیغام رسانی کا کام سرانجام دیا جاتا تھازبان کی ابتدا کے ساتھ ہی آنکھوں سے یہ عمل ختم ہوگیا۔ لیکن ابھی بھی ان کا بہت عمل دخل ہے جب جاندار لڑائی کے وقت بہت دیر تک ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھتے ہیں یہ ٹکٹکی باندھنے کی وجہ یاں تو لڑائی ، شکار یاں جنسی عمل کا ہوتا ہے اسی طرح ہمارے معاشرے میں اجنبی کی آنکھ میں دیکھا نہیں جاتا اور نظریں ملانے میں شرم محسوس کی جاتی ہیں اور اس کی وجہ اجنبی کو اہمیت نہ دینے کے ہیں۔

آپ کا کسی اجنبی سے تعارف کرایا جاتا ہے یاں تو آپ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہیں یاں چہرے کے کسی حصے پر آنکھوں کو مرکوز کرتے ہیں۔ کسی کی آنکھوں میں دیکھنا اور اس کے دیکھنے کا جواب دینا اس کو مظبوط بنا دیتا ہے۔ جب کہ مسلسل کسی اجنبی کی آنکھوں میں دیکھنا پریشانی اور حیرانی کا باعث ہے۔ ماہرین کے خیال میں صحتمندانہ نظری رابطہ اس طرح ہوتا ہے کہ تین یان چار سیکنڈ کے لیے کسی کی آنکھوں میں دیکھنا اور پھر اس کے چہرے کے دوسرے حصوں کو دیکھنا اور پھر دوبارہ نظری رابطہ قائم کریں۔

جب کسی سے نظریں ملانے میں دقت محسوس ہو تو اس کا مطلب آپ اس سے کچھ راز رکھ رہے ہیں یاں آپ اس سے شرم محسوس کر رہے ہیں۔

اور اگر آپ کسی شخص کو دیکھیں جو کسی جواب کی تلاش میں ہو تو اس کی آنکھوں کی حرکات پر غور کریں وہ شخص اگر بائیں جانب دیکھ رہا ہو تو اس کا مطلب ہے کہ وہ اپنی یادشت تک رسائی حاصل کر رہا ہے اور اگر وہ دائیں جانب دیکھ رہا ہو تو اس کا مطلب ہے کہ وہ اپنے دماغ کے تخلیقہ حصے پر زور دے رہا ہے۔ وہ کوئی کہانی تخلیق کر رہا ہے تاکہ آپ کو سنائے اس سے یہ اخذ ہو سکتا ہے کہ وہ جھوٹ اور سچ کب بولے گا۔

انسانی آنکھ کا ایک اہم حصہ جس کو پتلی کہا جاتا ہے اس کو انسان کنٹرول نہیں کر سکتا یہ غیر ارادی طور پر پھیلتی اور سکڑتی ہے اس کو 1975 میں ایکہارڈ نے دریافت کیا انسانی کی آنکھ کی پتلی نہ صرف روشنی میں سکڑتی اور پھلتی ہے بلکہ جب عاشق محبوب کو دیکھ رہا ہو اور اس سے مخاطب ہو نظریں مل رہی ہوں تو پتلی کا سائز بڑھ جاتا ہے اور اگر آپ کسی ایسے سے بات کر رہے ہیں جس سے بات نہیں کرنا چاہتے تو اس کا سائز چھوٹا ہو جاتا ہے۔

آئی کنٹیکٹ : اور جب آپ اپنے محبوب کی آنکھوں میں دیکھ رہے ہوں تو بہتر ہے کہ اس کی بائیں آنکھ میں دیکھیں کیونکہ بائیں آنکھ ہمارے ہیجانی مرکز سے تعلق رکھتی ہے اور دائیں آنکھ کا تعلق سوچنے والے دماغ کے حصے سے ہے ۔ کیونکہ ہر آنکھ اپنے مخالف قشر سے تعلق رکھتی ہے یعنی بائیں آنکھ دائیں قشر اور دائیں قشر بائیں قشر سےتعلق رکھتی ہے۔پہلی دفعہ کی ملاقات میں بہتر ہے کہ دائیں آنکھ میں دیکھا جائے جیسے کاروبار کے سلسے میں ہونے والی ملاقات۔

ایک کتاب دی پاور آف آئی کنٹیکٹ جو کہ مائیکل السبرگ نے لکھی ہے جس میں آنکھوں پر بہت تفصیل بحث کی گئی ہے۔ اس امر میں آپ آئی کنٹیکٹ کو بہتر کرنے کے لیے یہ مشق کسی ایسے دوست سے کر سکتے ہیں جو آپ سے گہرا تعلق رکھتا ہو یاں قانون کشش کے مطابق کشش رکھتا ہو۔

تنہائی میں کسی ایسی جگہ کا انتخاب کریں جو لوگوں سے خالی ہو اور شور سے بلکل پاک صاف ستھری فضا ہو تاکہ آپ اپنے دوست کے بہت قریب آ سکیں اور تما م تر توجہ اس کی آنکھوں میں مرکوز کر سکیں اور اپنے جسم کو بلکل سکون میں کر دیں یہاں تک کہ اردگرد کی دنیا سے تعلق نہ رہے۔

روشنی بلکل مدھم ہونی چاہیے زیادہ روشنی سے پتلی سکڑ جاتی ہے اور کم روشنی میں پھلتی ہے اس لیے کم روشنی میں آپ با خوبی یہ عمل سر انجام دے سکتے ہیں۔ نرم سے ٹکٹکی باندھ کر اور اس کی آنکھوں میں محبت سے دیکھنا اور اپنے چہرے کے پٹھوں کو بلکل پر سکون رکھیں۔ باتوں سے پرہیز کریں۔

آنکھوں میں دیکھنے کا عمل جاری رہے اور ذہنی دباؤ کو دور کریں اور ایک دوسے کے لیے محبت کو محسوس کریں اور آنکھوں کو بلکل بھی اپنی جگہ سے ہلایا نہ جائے تاکہ زیادہ دیر دیکھنے میں آسانی رہے۔آہستہ آہتہ آپ کا نظری رابطہ گہرا ہو جائے گا اور بہت زیادہ طاقت کا احساس ہو گا اس عمل سے کسی کا اعتماد حاصل کرنے اور اس سے بہتر تعلق قائم کیا جا سکتا ہے۔

Related Posts

Comments

comments

1 Comment

Leave a reply

required

required

optional



eight − 6 =

%d bloggers like this: