پاکستان کی سماجی ترقی کی کنجی: ملالہ یوسفزئی

July 23, 2013 at 05:32 ,
محمد عمر؛

شعلے فلم ۱۹۷۵ میں پہلی بار پردہ سیمیں پر دکھائی گئی۔ اپنے اجرا کے پہلے دو ہفتوں میں فلم بینوں کی جانب سے اسے کچھ زیادہ گرم جوش رد عمل حاصل نہ ہو سکا۔ نقادوں نے بھی اس فلم کو کوئی خاص گھاس نہ ڈالی، الٹا کئی ایک نامی گرامی نقادوں نے تو فلم کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے مکمل طور پر فلاپ کہا۔ اپنے اجرا کے سال میں اسے گنتی کے چند ایوارڈ ملے۔ فلم فیئر ایوارڈز میں نو نامزدگیوں کے باوجود یہ فلم صرف بہترین ایڈیٹنگ کا ایوارڈ اپنے نام کر پائی۔ لیکن آہستہ آہستہ اس کی مقبولیت میں اضافہ ہونے لگا، جن لوگوں نے فلم دیکھی دوسروں کو بتایا اور یوں منفی تشہیر اور سخت تنقید کے با وجود فلم بین سینما کی جانب کھنچنے لگے۔ پھر ایک وقت وہ بھی آیا جب شعلے سال کی سب سے زیادہ بزنس کرنے والی فلم بن گئی۔ آگے چل کر اس فلم نے کئی ایک منفرد اعزاز اپنے نام کئے۔ یہ اب تک ساٹھ گولڈن جوبلی مکمل کرنے والی واحد بھارتی فلم ہے اور بالی ووڈ کی پہلی فلم تھی جس نےسو سینماوں میں سلور جوبلی مکمل کی۔ ۲۰۰۱ تک سینما میں سب سے لمبے عرصے تک لگاتار نمائش کا ریکارڈ بھی شعلے فلم کے ہی پاس تھا۔

بی بی سی انڈیا نے ۱۹۹۹ میں اسے ہزارئیے کی بہترین فلم قرار دیا، ۲۰۰۲ میں برٹش فلم انسٹیٹیوٹ کے سروے میں یہ فلم دس بہترین بھارتی فلموں کی فہرست میں اول نمبر پر آئی، اور فلم فیئر ایوارڈز جس نے ۱۹۷۵ میں اسے ایک ایوارڈ پر ٹرخا دیا تھا، ۲۰۰۵ میں انہی ایوارڈز کی تقریب میں شعلے کو پچھلے پچاس سالوں کی بہترین فلم قرار دیا گیا۔شعلے فلم کی ایک خاص بات جو اسے باقی تمام مقبول ترین فلموں سے ممتاز کرتی ہے وہ اس کی عوامی سطح پر مقبولیت ہے۔ فلم کے مرکزی کرداروں کے علاوہ کئی ایک چھوٹے کردار مثلاً سامبا، کالیا اور مولوی صاحب آج تک لوگوں کو یاد ہیں اورفلم کے کئی ایک ڈائیلاگ زبان زد عام سے آگے بڑھ کر روز مرہ کی گفتگو کا تقریباً حصہ بن چکے ہیں۔

۱۹۷۵ میں کئی اور فلمیں بھی پیش کی گئی ہوں گی، کئی ایک کی کہانی شائد شعلے سے بھی زیادہ جاندار ہو۔ بالی ووڈ کی سو سالہ زندگی میں ہزاروں فلمیں پیش ہوئیں، شعلے سے پہلے بھی کئی ایک معرکۃ لآرا پروڈکشنز بنیں اور اس کے بعد بھی فن کاروں اور تکنیک کاروں نے سینکڑوں فلموں میں اپنے اپنے فن کے جوہر دکھائے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو اعزاز شعلے کے ہاتھ آیا، آج تک غالباً ایک بھی بھارتی فلم حاصل نہ کر سکی۔ تو آخر ایک شعلے ہی کیوں؟

جن دنوں میں تھیٹر سے وابستہ تھا، ہمارے ایک سینئر ساتھی ، جن کو میں تھیٹر میں اپنا پہلا استاد بھی مانتا ہوں، اس فلم کے بہت شیدائی ہوا کرتے تھے۔ اس وجہ سے اس فلم کے ساتھ ایک جذباتی وابستگی فلم دیکھنے سے پہلے ہی میرے دل میں جگہ بنا چکی تھی، تاہم جب پہلی بار میں نے یہ فلم دیکھی تو مجھے ہلکا سا دھچکا لگا۔ پہلے تو میں یہ سمجھا کہ چونکہ شائد میں اس فلم کے متعلق بہت کچھ سن چکا ہوں اس لئے کچھ زیادہ ہی توقعات وابستہ کر بیٹھا تھا، لیکن آہستہ آہستہ مجھ پر آشکار ہوا کہ شعلے حقیقتاً ایک اوسط درجے کی میلو ڈرامہ فلم ہے۔ اگرچہ فلم کے ہدایتکار نے کرداروں کو یادگار بنانے کا کام بخوبی سر انجام دیا، تاہم مجموعی طور پر شعلے بالی ووڈ کی کئی ایک دیگر فلموں سے ہر حوالے سے انتہائی کم درجے پر آتی ہے۔ پھر شعلے کو اتنی شہرت کیوں ملی؟ کچھ نقادوں کا کہنا ہے کہ رومانوی فلموں میں گھرے بالی ووڈ میں شعلے فلم اپنے وقت میں ایک منفرد پیشکش تھی، اس لئے شائد بہت مقبول ہو گئی، لیکن یہ نقطۂ نظر بھی اس عہد ساز فلم کی سالہا سال تک ہاؤس فل نمائش کی وضاحت کرنے سے قاصر ہے۔ نہ تو میں ایک فلمی نقاد ہوں اور نہ ہی اس مضمون کا موضوع رمیش سپی کی اس فلم کی مقبولیت کے راز سے پردہ اٹھانا ہے۔یہاں صرف اتنا کہنا مقصود ہے، جو کچھ دن پہلے بی بی سی اردو پر معروف لکھاری وسعت اللہ خان بھی کہہ چکے ہیں کہ اس دنیا میں بہت سے ایسے مواقع آئے جب بظاہر عام دکھائی دینے والے افراد، واقعات یا اشیا مقبولیت کے اگلے پچھلے ریکارڈ توڑ گئیں لیکن ان کے مقابل بہتر یا برابر درجے کے افراد، واقعات اشیا وغیرہ گمنامی کے اندھیروں میں کھو گئیں۔بات شائد نئی نہ ہو، لیکن حقیقت یہی ہے، اس دنیا میں ہر ایک شے اپنی پہچان کے لئے مخصوص زمینی حالات کی محتاج ہوتی ہے۔ جس شے کو بھی موافق حالات میسر آجائیں وہ امر ہو جاتی ہے، ورنہ تاریخ کے صفحات میں ایک سطر کی جگہ بھی بمشکل ہی حاصل کر پاتی ہے۔ شائد وسعت اللہ خان نے درست کہا، ملالہ کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے۔

ملالہ یوسفزئی کی کہانی نہ تو اس کے ڈائری لکھنے سے شروع ہوتی ہے، نہ طالبان کی جانب اسے گولی مارے جانے کے دن سے۔ نہ تو یہ کہانی افغانستان پر امریکی حملے سے شروع ہوتی ہے اور نہ ہی اسی کی دہائی کے امریکی سپانسرڈ جہاد سے۔ یہ کہانی ملالہ کی پیدائش سے سینکڑوں سال پرانی ہے۔ اس کہانی کا آغاز اس دن سے ہوتا ہے جب مرد نے عورت کو اپنے تابع کر کے غلام بنانے کے عمل کا آغاز کیا۔ اس کہانی کا پہلا باب ان کرداروں پر مشتمل ہے جنہوں نے اول اول اس ظلم کے خلاف جدوجہد آغاز کیا۔ اس داستان کے اب تک کئی ابواب لکھے جا چکے ہیں، ہزاروں کردار آئے اور گئے، دنیا کے ہر ہر ملک قوم اور قبیلے میں اس لافانی فلم کی عکس بندی کی گئی اور یہ سلسلہ تا حال جاری ہے۔ ملالہ اس ہزاروں سال پر محیط جدوجہد میں فقط ایک معمولی سا کارکن ہے، واقعاتی تسلسل میں ایک چھوٹا سا پڑاؤ جسے اس کے مخصوص حالات و واقعات نے بڑا کر دیا ہے۔ صدیوں کی روایت پسندی میں جکڑے پختون معاشرے پر حالیہ برسوں کی مذہبی شدت پسندی نے اپنی پکڑ مضبوط کی تو اس کا پہلا نشانہ عورت ذات ہی بنی۔ پھر پاکستانی فوج کی توسیع پسندی اور اسلامی بنیاد پرستی کے اختلاط سےعفریتوں کی ایک نسل نے دنیا بھر میں بالعموم اور پاکستان کے ہر شہر میں بالخصوص جنم لیا۔ ویسے تو ان عناصر کی کارستانیوں نے دنیا کا کوئی کونہ محفوظ نہ رہنے دیا لیکن ملک پاکستان کے باسیوں کے شب و روز تو جیسے خود کش دھماکوں سے ہی عبارت ہو کر رہ گئے۔ آئے دن ملک کے کسی نہ کسی شہر میں دھماکے ہونے لگے، نہ مسجد محفوظ رہی نہ بازار،نہ افواج کا ہیڈ کوارٹر بچا نہ بے نظیر بھٹو۔پھر سوات پر طالبان کا قبضہ ہو گیا، کل تک جو پہاڑوں میں چھپے بیٹھے تھے اب دارالحکومت سے چند سو کلومیٹر کے فاصلے پر اپنی متوازی حکومت چلانے لگے۔ خود کو مسلمان کہنے والے اس گروہ کے نظریات کسی کے لئے ڈھکے چھپے تو کبھی بھی نہ تھے، لیکن سوات میں ان کا عملی مظاہرہ بہت سے دلوں کو پریشان کر گیا۔ سر عام کوڑے لگائے جانے کی ویڈیو ہو یا عورتوں کے اکیلے بازار جانے پر پابندی، سکولوں کو دھماکوں سے تباہ کرنا ہو یا مخالفین کو وحشیانہ انداز میں زبح کرنا، طالبان کا ہر ایک عمل پاکستانی عوام کے دلوں میں موجود ان کی خاموش حمایت کو کم کرنے لگا۔ جو حمایتی تھے وہ سوچنے پر مجبور ہوئے اور جو جوانی میں قدم رکھ رہے تھے، اپنے بڑوں کے نقش قدم پر چلنے سے باز رہے۔ مکمل طور پر نہ سہی، مگر پاکستانی عوام کے ایک حصے نے کسی حد تک کھل کر طالبان کے اقدامات کو ناپسندیدگی سے دیکھا۔ سازشی نظریات نے بھی جنم لیا، بھارتی اور یہودی ایجنٹ بھی کہا گیا، لیکن چاہے جس بنیاد پر بھی، طالبان پاکستانی عوام کے ایک قابل ذکر حصے کے لئے پریشانی کا باعث بن گئے۔ اکیسویں صدی میں طالبان طرز کے نظام کی عملی شکل کو سامنے دیکھ کر بہت سے لوگ جھرجھری لے کے رہ گئے۔

مخالفین کے لئے سب سے بڑا درد سر نظریاتی سطح پر طالبان کا مقابلہ کرنا ثابت ہوا۔ اسلام کا نام لینے والے ان لوگوں کی درندہ صفتی مذہب کی اوٹ میں چھپ گئی اور سادہ لوح مسلمان طالبان کو قوم کا نجات دہندہ تصور کرنے لگے۔ مذہبی چادر اوڑھے ان نظریات کا مقابلہ کچھ آسان نہ تھا، کہ عقیدہ ہر دلیل پر بھاری ہوتا ہے۔ ایسے میں سوات کی ایک معصوم لڑکی نے اپنے تعلیم کے حق کے لئے آواز اٹھائی۔ مشہور نشریاتی ادارے بی بی سی پر ایک ڈائری لکھی، مقبول ہوئی، اور پھر طالبان کے جانے کے بعد اپنے محدود حلقہ اثر میں اپنی بساط کے مطابق جدو جہد کرنے لگی۔ ایک عام پاکستانی شائد اس کم سن لڑکی کی جدو جہد کے دور رس اثرات کو پہچان نہ سکا، لیکن اس کے مخالفین کو فوراً ہی اس بچی کے پیغام کی طاقت کا اندازہ ہو گیا۔ یہ جدوجہد شائد اور بہت سی خواتین کی طرح ایک دائرے تک محدود رہتی اور یہ بچی اور اس کا باپ گھپ اندھیرے میں شائد ایک آدھ دیا جلا کر اس دنیا سے رخصت ہو جاتے۔ اس دنیا اور اس ملک میں ایسے ہزاروں کارکن اپنے اپنے شعبوں میں کام کر رہے ہیں۔ کئی ایک کو مخالفین نے ظلم و تشدد کا نشانہ بھی بنایا ۔ کئی ایک کی خدمات بھی ملالہ سے شائد کئی درجے زیادہ رہی ہوں گی اور ظلم و ستم بھی یقیناً ان پر بے انتہا ہوئے ہوں گے، لیکن مخصوص حالات نے ملالہ پر قاتلانہ حملے کو اچانک سب پر حاوی کر دیا۔ طالبان کی بربریت سے خوفزدہ، ان کی نظریاتی رسائی سے پریشان اور اکیسویں صدی میں دنیا کے ساتھ مل کر چلنے کی خواہش رکھنے والوں کے دلوں پر اس واقعے نے گہرا نقش چھوڑا۔ مخالفین پاکستان سے تعلق رکھتے تھے یا چاہے کسی مغربی ملک سے، ان سب کے لئے یہ واقعہ جہاں ایک طرف خوفزدگی کا باعث بنا، وہیں ان کے لئے مشعل راہ بھی بن گیا۔ ایک کم سن لڑکی طالبان کی بار بار کی دھمکیوں کے باوجود اگر اپنے موقف پر ڈٹی رہ سکتی ہے تو اس سے بہتر آزادی پرستوں کے لئے پریرتا کا ماخذ اور کیا ہو سکتا ہے۔ یوں سمجھئے ارشمیدس نے اچھال کا قانون دریافت کر لیا۔

اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہمیں ملالہ کی بہادری اور جرات پر کوئی شک ہے یا ہم اس بچی کی ہمت اور صلاحیت کے معترف نہیں، بس ملالہ مخالفین کے اس اعتراض کا جواب دینا ہے کہ صرف ملالہ ہی کو کیوں اقوام متحدہ سے خطاب جیسا مقام ملا۔ اس جنگ میں کئی اورمجاہدائیں بھی تو شامل رہی ہیں، ملالہ سے بڑھ کر پر اثر، اور مظالم بھی انہوں نے کم نہ سہے، انہیں کیوں یہ مقام نہ مل سکا۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ مخصوص حالات و واقعات نے ملالہ کو ایک فرد کے درجے سے اٹھا کر استعارہ بنا دیا ہے، ایک ہمہ جہت استعارہ۔ بات تعلیم کی ہو، تو ملالہ ایک موثر استعارہ، بات خواتین کی تعلیم کی ہو تو ملالہ موثر ترین مثال۔ بات خواتین کی آزادی کی ہو، بچوں کے حقوق کی ہو، شدت پسندی کے خلاف جنگ کی ہو یا پھر بنیاد پرستی پر اکسانے والے نصاب تعلیم کو بدلنے کی،اس استعارے کی بے شمار جہتیں ہیں۔ ایک معصوم صورت، خوش شکل، خوش گفتار، باہمت اور پر اعتماد بچی سے بڑھ کر بہتر جدیدیت کا چہرہ اور کیا ہو سکتا ہے۔ اور پھر بچی بھی وہ جو دہشت گردی کا گڑھ سمجھے جانے والے علاقے سے تعلق رکھتی ہو، اپنی وضع قطع اور چال ڈھال سے بھی مقامی آبادی کے لئے قابل قبول ہو۔ ہم شعلے فلم کی مقبولیت کا راز تو نہیں جانتے، لیکن اتنا ضرور جانتے ہیں کہ اس کے پیچھے کوئی نا دیدہ اور خفیہ عناصر ہر گز کار فرما نہیں تھے۔ دوسری طرف ملالہ کی مقبولیت کے پس پردہ عناصر بھی ہمارے سامنے ہیں اور ہم ان کا تفصیلی تجزیہ بھی پیش کر چکے ہیں، یوں کسی قسم کے سازشی نظریات پر یقین عقلی نابالغی اور کج ذہنی کے سوا کچھ نہیں۔

Malala educationحقیقت یہ ہے کہ ملک پاکستان کی سماجی ترقی کی کنجی اس وقت ملالہ کے پاس ہے۔ ملالہ کی حمایت یا مخالفت یہ طے کرے گی کہ پاکستانی قوم کس سمت جانا چاہتی ہے۔ اگر یہ بد قسمت قوم ملک میں تعلیم کو رائج کرنا چاہتی ہے ، عورتوں کو آزادی دینا چاہتی ہے ، بچوں کے حقوق کا تحفظ چاہتی ہے اور بنیاد پرستی ، رجعت پسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ چاہتی ہے تو اسے ملالہ یوسفزئی کو واقعتاً ایک ہیرو اور مشعل راہ کا درجہ دینا ہو گا۔ لیکن اگر اس قوم کا نصب العین اقوام عالم کی تباہی، جدیدیت دشمنی، خواتین کے حقوق غصب کرنا اور تعلیم کو تنگ نظری کے تابع کرنا ہے تو بے شک شوق سے ملالہ کو ڈرامہ، سازش ، جھوٹ کا پلندہ کہے اور طالبان کے حق میں یا انہیں بری الذمہ قرار دینے کے لئے نت نئی تاویلیں گھڑے۔

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



5 − one =

%d bloggers like this: