پاکستان کیوں قائم ہوا؟۔

November 8, 2014 at 19:40 ,

پاکستان کیوں قائم ہوا؟۔
امام دین؛



“پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے” اس فقرے کی گردان ہر وہ شخص کر رہا ہے جو اصل میں یہ جانتا ہی نہیں کہ پاکستان کیونکر بنا۔
پاکستان کن لوگوں نے بنایا۔ ان لوگوں نے “مسلم ہے تو لیگ میں آ ” کا نعرہ لگایا۔ نہ کہ “سنی ہے تو لیگ میں آ”۔
سوچیں اگر نعرہ لگا ہوتا کہ سنی ہے تو لیگ میں آ، کا نعرہ لگا ہوتا تو کیا پاکستان بن پاتا۔ اسی طرح احمدی کو کافر کہا جاتا تو کیا پاکستان بنانے کے لیے ووٹ کم نہ پڑ جاتے۔

پاکستان کا خواب علامہ محمد اقبال نے دیکھا۔ پاکستان کی ہر درسی کتاب اس فقرے کی حقیقت کی گواہی دے گی۔ لیکن کیا کوئی اقبال کے حالات زندگی سے واقف ہے۔ ہم میں سے کتنے جانتے ہیں کہ اقبال اپنی وفات (1938ء) سے تقریباً سات سال قبل تک ایک احمدی کافر تھے۔یعنی 1930ء کے مشہور زمانہ خطبہ الہ آباد تک وہ ایک احمدی کافر تھے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک کافر ایک مسلمان ملک بنانے کا خواب دیکھے؟

اسی طرح آپ نے “کافر کافر شیعہ کافر “کے نعرےسے نہ صرف واقف ہوں گے بلکہ شدومد کیساتھ وال چاکنگ اور عملاً لوگوں کے منہ سے یہ فقرہ سنا ہوگا۔ لیکن ہم میں سے کتنے اس حقیقت سے آشنا ہیں کہ بانی پاکستان ایک شیعہ کافر تھے۔ ہزارہ برادری کے قتل کی کوئی نہ کوئی خبر کبھی نہ کبھی نظر سے گزری ہو گی۔ سپاہ صحابہ کے نام کا تذکرہ بھی کبھی نہ کبھی کسی نہ کسی زبان نے آپ کے روبرو کیا ہو گاجو مبینہ طور پر ہزارہ برادری کے قتل کوشیعہ کافر کا نعرہ لگا کر جائز قرار دیتی ہے۔ پر یہ بھی کھلی حقیقت ہے کہ محمد علی جناح ایک اسماعیلی شیعہ تھے ،ہزارہ برادری بھی اسماعیلی شعیے ہیں۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک کافر شیعہ ایک مسلمان ملک بنانے کا خواب دیکھے؟

ان حقائق کو بنیاد بنا کر اس مضمون کا مقصد کسی فرقے کی وکالت کرنا ہرگز نہیں لیکن میں آپ کو سوچنے کی دعوت دے رہا ہوں کیونکہ ہمارے ملک میں شدت پسندی کا فروغ لوگ اپنی مالی اور سیاسی فوائد کے لیے کر رہے ہیں جبکہ دنیا میں ہماری پہچان ایک دہشت گرد ملک کی ہے۔ کسی زمانے میں ہماری مذہبی رواداری کا یہ عالم تھا کہ ایک احمدی اور ایک شیعہ آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ بنے اور تمام مسلمان ان کی قیادت پر متفق تھے۔ کسی نے ان کے مسلک کی بنیاد پر اقبال اور جناح کو غیر مسلم یاکافر قرار نہیں دیا۔ جن نام نہاد مسلم علما نے ایسا کہا عوام نے ان کو مسترد کر دیا۔

لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ آج کا پاکستان نہ تو اقبال کا پاکستان ہے نہ ہی جناح کا۔ یہ ان رہنماؤں کی مخالفت کرنے والے دینی اکابرین کا پاکستان ہے جنہوں نے انہیں کافر اعظم کے خطبات سے نوازا تھا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ یہی دینی اکابرین جو اقبال اور جناح کے پاکستان کو کافر قرار دیتے تھےآج اس ملک کا نصب العین پاکستان اسلام کی تجربہ گاہ کے لیے بنا ہے کے فقرے کو لیے اپنے مذموم مقاصد کی خاطر استعمال کر رہے ہیں۔

ھندو کم عمر بچیوں کا اغوا، اغوا کے بعد زنا بالجبر اور پھر زبردستی مسلمان بنا کر شادی بھی اس ملک میں رواج پا رہا ہے۔ پاکستان کیسا ہو، محمد علی جناح کیا ایسا پاکستان چاہتے تھے؟ کیا ان کی جدوجہد ایسے شدت پسند معاشرے کے لیے تھے۔ کیا وہ یہ چاہتے تھے کہ لوگوں کے عقیدے کی بنا پر انہیں قتل کر دیا جائے؟ ان سوالات کے جواب میں قائد اعظم کی غازی علم دین شہید کے کیس کا واقعہ سنا کر دیتے ہیں کہ کیسے انہوں نے ایک قاتل کا مقدمہ لڑا جس نے ایک ھندو کو توہین رسالت کے جرم سے بچانے کی کوشش کی؟ لیکن لوگوں کو یہ حقیقت کبھی نہیں بتائی جاتی کہ جناح ایک وکیل تھے کیس لڑنا ان کا پیشہ تھا۔ وہ باوجود کوشش کے کیس نہیں جیت سکے تھے اور سربراہ مملکت بن کر ایسا کوئی قانون نہیں بنایا جس میں ایسے کسی ملزم کو کوئی رعایت مل سکے۔

قائد اعظم کیسا پاکستان چاہتے تھے بالخصوص ہندؤں کیساتھ کیسے تعلقات چاہتے تھے آئیے انہیں کی زبانی ملاحظہ کرتے ہیں۔

“قیام پاکستان جس کے لیے ہم گزشتہ دس سال سے جدوجہد کر رہے تھے خدا کا شکر ہے کہ آج ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ اپنے لیے ایک مملکت قائم کرنا، یہی ہمارا ایک مقصد نہیں تھا۔ بلکہ یہ ذریعہ تھا حصول مقصد کا۔ خیال یہ تھا کہ ہم ایک ایسی مملکت کےمالک ہوں جہاں ہم اپنی روایات اور تمدنی خصوصیات کے مطابق ترقی کر سکیں۔ جہاں اسلام کے عدل و مساوات کے اصولوں کو آزادی سے برسرعام آنے کا موقع ہو”۔ افسران سے خطاب 11 اکتوبر 1947۔

اس تقریر میں وہ اولین ترجیح برصغیر کی رواداری پر مبنی روایات کو دے رہے ہیں اور اسلام کے بھی عدل و مساوات کے اصولوں کو فروغ دینے کی بات کر رہے ہیں۔ چونکہ مخاطب پاکستان کے سول سروسز کے افسران ہیں تو یہ برملا کہا جاسکتا ہے کہ مساوات یعنی رنگ، نسل، ذات، برادری، مسلک اور مذہب سے بالاتر ہو کر ہر پاکستانی بشمول ہندو، عیسائی، سکھ، احمدی، شیعہ اور سنی سے برابری کی بنیاد پر مملکت کا نظام چلانے کی ہدایت کی جارہی ہے۔

قیام پاکستان پر ہونے والے فسادات کے جواب میں ہندؤں کو محمد علی جناح نے کیا پیغام دیا ملاحظہ کریں۔
“انتقام لو ۔ تلوار سے نہیں رواداری سے۔ آنحضرتﷺ نے اپنے بدترین دشمنوں کیساتھ بھی یہی سلوک کیا جس کا نتیجہ تسخیر عرب و عجم کی صورت میں ظاہر ہوا”۔ بیان ، 24 اگست 1947۔

نسل، فرقےاور عقیدے کی تفریق کی ممانعت ان الفاظ میں کی۔
“اگر آپ باہمی تعاون سے کام کریں، ماضی کو بھول جائیں اور گزشتہ راصلواۃ پر عمل کریں تو یقیناً کامیاب ہوں گے۔ اگر آپ مل جل کر اس جذبے سے کام کریں کہ ہر شخص خواہ کسی بھی فرقے سے تعلق رکھتا ہو، ماضی میں آپ کے تعلقات خواہ کیسے بھی ہوں۔ اس کا رنگ، مذہب کچھ بھی ہواولاً ثانیاً آخراً اسی مملکت کے شہری ہے۔ اس کے حقوق، مراعات اور ذمہ داریاں مساوی و یکساں ہے تو ہم بےحد ترقی کرجائیں گے۔ ہمیں اسی جذبے سے کام شروع کر دینا چاہیےپھر رفتہ رفتہ اکثریت اور اقلیت کے مسلمان فرقہ اور ہندو فرقہ کے تمام اختلافات مٹ جائیں گے”۔ مجلس دستور ساز سے خطاب 14 اگست 1947

قیام پاکستان کے موقع پر دستور ساز اسمبلی سے ان کا یہ خطاب ملک میں ہر شخص کو برابری کی بنیاد پر پاکستانی شہری بننے کا حق دے رہا ہے جس میں کسی رنگ، نسل، مذہب، فرقے اور دین کو کوئی فوقیت نہیں۔

اقلیتیں پاکستان میں کیسی ہونگی اسکا جواب قائد اعظم محمد علی جناح نے ان الفاظ میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی تقریر کے جواب میں دستور ساز اسمبلی 14 اگست 1947 کویوں دیا تھا کہ جیسی شہنشاہ اکبر کے زمانے میں تھی ویسی ہی پاکستان میں اقلتیں ہوں گی۔
“شہنشاہ اکبر نے غیر مسلموں کے ساتھ جو خیر سگالی اور رواداری کا برتاؤ کیا وہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔ اس کی ابتدا آج سے تیرہ سو سال پہلے ہی ہمارے رسول(ﷺ) نے کر دی تھی۔ انہوں نے زبان سے ہی نہیں بلکہ عمل سے بھی یہود و نصاریٰ پر فتح حاصل کرنے کے بعد اچھا سلوک کی۔ ان کیساتھ رواداری برتی اور عقائد کا احترام کیا۔ مسلمان جہاں کہیں حکمران رہے ایسے ہی رہے۔ ان کی تاریخ دیکھی جائے تو وہ ایسے ہی انسانیت نواز اور عظیم المرتب اصولوں کی مثالوں سے بھری ہوگی جن کی تقلید ہم سب کو کرنی چاہیے”۔

آج پاکستان کے ہندؤں کو مذہب کی بنیاد پر جس تعصب کا سامنا ہے اسکا شافی حل بھی کراچی فسادات کے بعد کے بیان میں پنہاں ہے۔
“یہ امر میں تمام مسلمانوں کے ذہن نشین کرادینا چاہتا ہوں کہ وہ اپنے ہندو ہمسائیوں کو غنڈوں، پایخویں کالم والوں اور فسادات برپا کرنے والوں سے محفوظ رکھنے اور تمام فرقوں میں دوبارہ اعتماد اور بھروسہ پیدا کرنے کے سلسلہ میں حکومت اور افسران کے ساتھ پورا پورا تعاون کریں۔ پاکستان کے ہندؤں کی حفاظت کریں یہ ہمارا اسلامی، دینی اور مذہبی فریضہ ہے”۔ 10 جنوری 1948۔

مضمون کے اختتام میں قائد کے مطابق پاکستان مستقبل میں کیسا ہو انہی کے الفاظ میں پیش خدمت ہے۔
“ترقی کے مقاصد کے متعلق پاکستان میں کوئی اختلاف رائے نہیں ہےکیونکہ ہم نے پاکستان اس لیے طلب کیا تھااس کی خاطر جدوجہد کی تھی اور اسے حاصل کیا تھا کہ ہم اپنی روایات کے مطابق اپنے معاملات حل کرنے میں آزاد ہو۔ اخوت، مساوات اور رواداری یہ ہیں ہماری تہذیب اور تمدن کے اساسی نقطے۔ ہم نے پاکستان کے لیے اس واسطے جنگ کی تھی کہ اس برعظیم میں ہمیں ان انسانی حقوق سے محروم کردیے جانے کا اندیشہ تھا”۔ چاٹگام ۔ 26 مارچ 1948۔

تمام تقاریر کا متن ‘خطبات قائداعظم ‘از رئیس احمد، ناشر مقبول اکیڈمی لاہورسے لیا گیا ہے۔

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



− 4 = five

%d bloggers like this: