ٹیکس میں کمی مگر کیسے؟

July 3, 2013 at 19:45 ,
امام دین؛

پاکستان کی پینسٹھ سالہ تاریخ میں بہت سے واقعات رونما ہوئے اور یہ ملک بہت سے مدوجزر سے گزرا۔ 1979ء بھی بہت سے سالوں کی طرح ایک سال تھا اور اس سال ہونے والے کچھ اہم واقعات نے ملک کے مستقبل پر بہت نقوش عکس کیے ۔ پاکستان، افغانستان اور ایران تینوں ممالک کا آپس میں گہرا علاقائی تعلق ہے جو اس سال ہونیوالے واقعات میں مزید نمایاں رہا۔

ماضی کا یہ اہم سال جہاں ایرانی انقلاب سے شروع ہوا جس نے تیزی سے نہ صرف خلیج فارس بلکہ سارے مڈل ایسٹ کو ہلا کر رکھ دیا اور اس خطے کی سیاست اور شباہت کو بدل کے رکھ دیا وہاں پاکستان میں اس سال کے آخر میں ایک منتخب وزیر اعظم، ذولفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر لٹکانے سے ہوا۔ اس طرح ایک فوجی آمر ضیاء الحق کو ملک کے سیاہ و سفید کا مالک بن گیا اور اگلے گیارہ سال تک نفرت اور بارود کے ان سنپولوں کو دودھ پلاتا رہا جو آج شیش ناگ بن کر اس ملک و قوم کو ڈس رہا ہے۔

ایک طرف تو فوج کی سول معاملات میں مداخلت شروع ہوئی اور دوسری طرف اسٹرجک گہرائی جیسی اصلاحات متعارف ہوئیں جبکہ تیسری طرف ملک کو از سر نو مسلمان کرنے کا کام سرکاری جمع خرچ پر شروع ہوا۔ اسٹرجک گہرائی اور مذہب کو ملا کر اسلامی جہاد کو ملک کی پالیسی کا درجہ دیا گیا۔

اس سال نومبر میں سعودی عرب کے شہر مکہ میں شہنشاہیت کے خلاف مسلح جدوجہد ہوئی۔ پاکستان میں یہ افواہ پھیلی کہ سعودی عرب میں امریکی فوج شہنشاہ کی مدد کے لیے مکہ میں داخل ہو گئی ہے۔ اس افواہ کو پھیلانے میں اہم کردار ان لوگوں کا تھا جو پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو کشیدہ دیکھنے کے خواہشمند تھےجو پہلے ہی جوہری پروگرام اور ایرانی انقلاب پر تناؤمیں تھے۔ اس افواہ کے نتیجے میں مشتعل عوام کا ایک جم غفیر اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے پر چڑھ دوڑا اور اس کی اینٹ سے اینٹ بجا ئی اور نذر آتش کیا۔اسی ماہ میں باون امریکیوں کو ایک سال سے زائد عرصہ کے لیے تہران میں امریکی سفارت خانے میں یرغمال بنا لیا گیا اور یوں مسلم دنیا میں امریکہ مخالف جذبات کو ہوا دی گئی۔اس دوران پاکستان اور ایران نے ایک دوسرے کو مسلم دنیا میں امریکہ مخالف جذبات ابھارنے کے لیے کندھا بھی فراہم کیا۔ اس دور میں جہاد کی جو پالیسی تشکیل پائی اس کی بنیادیں کمزور تھیں اور اس نے آگے چل کر ملک کو اقوام عالم میں ایک دہشت گرد ملک کے طور پر پیش کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔

اس سال کا سب سے اہم واقعہ دسمبر میں پیش آیا جب سویت یونین کی فوجیں افغانستان میں داخل ہوئیں۔ امریکی سرپرستی اور پاکستان میں ضیاءالحق کے فوجی دور میں شروع ہونیوالے جہاد نے شدت پسندوں اور دہشت گردوں کی بنیاد ڈالی جس نے نہ صرف امریکی مفادات کا تحفظ کیا بلکہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان اختلافات کو بھی ہوا دی۔

جنرل ضیاء نے جنگ، تنازعات اور جہاد کو نئے معانی پہنائے۔ تب سے جنگ دفاع کی بجائے جارحانہ حکمت عملی تصور کی جانے لگی جس کی داغ بیل جہاد پر منحصر تھی۔ ضیاء کے دور میں پاکستانی سٹائل کا جہاد ترتیب پایا جس نے جہادی دہشت گردوں کی پوری ایک فصل تیار کی۔ فوج اس کھیل کی ایک اہم کھلاڑی اور حصہ دار تھی۔ اس طرح بہت سے ذاتی مفادات کی آبپاری بھی کی گئی۔ بہت سے سکیورٹی کے معاملات کو فوج کے سیاسی مقاصد ، فوجی غرور، دوسرے اداروں سے جذبہ بغض اور انڈیا کو نیچا دکھانے کے لیے ہوا دی گئی۔ اس طرح ایک مضبوط اور طاقتور فوج کو کمزور اور ناتواں ملک کے کندھوں پر مسلط کر دیا گیاجس کا واحد انحصار امریکی امداد تھی۔

افغان جنگ کا اختتام ہوا اور امریکہ اس خطے سے رخصت ہوا ساتھ ہی اس کی امداد بھی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بدلتے حالات کے تحت ملک کی جہادی پالیسی کی سرپرستی ختم کی جاتی جس سے فوج کے اخراجات میں بھی کمی آتی۔ لیکن نواز شریف نے اپنے پہلے دور میں انڈیا سے معاملات میز پر حل کرنے کی کوشش کی اس کوشش نے فوج کو اضطراب میں مبتلا کر دیا۔ کیونکہ اگر اختلافات ختم ہو جائیں گے تو ان کا بھاری بھرکم بجٹ کا حصہ بھی چھوٹا پڑ جائیگا۔ اس لیے پہلے نواز حکومت کو چلتا کیا گیا۔ اس کے بعد امریکہ بہادر کو اس کی بیوفائی کرنے کی سزا کا سوچا گیا۔القائدہ نے 9/11 کا سانحہ کیا تو امریکہ بہ امر مجبوری پھر سے افغانستان میں آن پھنسا اور ملا، ملٹری سب کے وارے نیارے ہو گئے اور پھر سے امریکی امداد کے طفلیے اس پر پلنے لگے۔
tax-large
اب جب امریکہ اپنے مفادات کے تحفظ کے بعد یہاں سے جانے کو ہے تو اس نے بتدریج اپنی امداد کا حجم بھی کم کر لیا ہے۔جہادی فوج سے نالاں ہو کر اسی کو نشانہ بنائے ہوئے ہیں اور عوام ان دو چکی کے پاٹوں کے درمیان پس رہی ہے۔ لیکن اب عوام کا حال کچھ ایسا ہے کہ اس بھاری بھرکم فوج کا بوجھ اٹھانے کی سکت بھی جواب دینے لگی ہے۔ وزیر خزانہ نے ٹیکسوں کی شرح بڑھائی ہے تو پورے ملک میں ہاہاکار مچی ہے حالانکہ کہ وزیر خزانہ کہ چکے ہیں کہ اگر فوج اپنے اخراجات کم کرے تو عوام پر ٹیکسوں کو بوجھ کم کیا جا سکتا ہے۔لیکن آ جا کے عوام کا نزلہ بھی سول حکومت پر ہی گرتا ہے کوئی فوج سے اپنے اللے تللے کم کرنے کو کہنے کو تیار نہیں۔ حالانکہ پچھلے کچھ عرصے میں اس پر ہونیوالے حملوں میں اس کی کارکردگی بھی اب سوالیہ نشان ہے۔کوئی تو اس سارے معاملے میں عوام کی بھی سنے کیونکہ اب سوال یہ ہے کہ عوام اور کتنا ٹیکس دے؟

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



+ 6 = thirteen

%d bloggers like this: