وما یحیطون بشے من علمہ الا بماشا آللہ

September 11, 2013 at 05:34
مبارک حیدر؛

جب بھی کوئی اوریا جان مقبول کسی سازش کی خبر دینے لگتا ہے تو میں تیار ہو جاتا ہوں کہ یقینی طور پر یہ سازش امریکہ نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف تیار کی ہوگی۔ یہ سازش روس نے نہیں کی ہوگی کیونکہ اسے تو ہم یعنی اسلام کے مجاہدین برباد کر چکے، لہٰذا وہ اب ہمارا زمی بن کر ہماری طرفداری کرتا ہے مثلا شام میں دیکھ لو۔ یہ سازش چین بھی نہیں کر سکتا کیونکہ وہ تو ہمارا دینی بھائی ہے، چین میں تو اللہ اور اسکے رسول کا نام گلی گلی گونجتا ہے۔

میں نے ایک دن اسی طرح کے ایک عالم سے پوچھا امریکہ آخر اپنے برابر کی قوتوں کو چھوڑ کر مسلمانوں کے پیچھے کیوں پڑا ہوا ہے ؟ تو فرمایا اسلام کو مٹانے کیلئے۔ میں نے پوچھا وہ اپنے ہاں کے مسلمانوں کو کیوں نہیں مارتا؟ فرمایا اصل میں وہ پہلے اسلام کی طاقت کو ختم کرنا چاہتا ہے، مسلمانوں کو بعد میں مارے گا ۔ میں نے سوال کیا : اسلام کی طاقت مٹا کر اسے کیا ملے گا ؟ فرمایا تیل ۔ میں نے کہا تیل ہمارے پاس تو نہیں۔ یہ توعربوں کے پاس ہے، کئی دوسری قوموں کے پاس بھی ہے، پھر سازش کا الہام ہم پاکستانیوں کو کیوں ہوتا ہے۔ بولے اسلام کی اصل طاقت تو ہم ہیں کیونکہ ہم ایٹمی طاقت ہیں ۔ علم کے لئے میری پیاس اور بڑھی ۔ میں نے پوچھا ایٹمی طاقت تو بھارت بھی ہے، چین بھی ہے چین اسے معیشت کے میدان میں روند رہا ہے اور روس تو خلائی سطح پر بھی اسکا حریف ہے ، تو کیا ہم اسکا نشانہ صرف دین کی بنیاد پر ہیں ؟ فرمایا اے مرد ناداں یہی تو میں اتنی دیر سے سمجھا رہا ہوں تمہیں ۔ میں نے پوچھا کیا دوسرے مذاہب کے لوگ امریکہ کے اس مذہب دشمن طرز عمل سے پریشان نہیں ہوتے ؟ آخر عالمی برادری ہمارے خلاف ہونے والی اس امریکی سازش پر خاموش کیوں ہے؟ کیا ہم نے آج تک دنیا کو اس کی خبر نہیں دی؟ کہنے لگے سارے کافراسلام کے خلاف متحد ہو جاتے ہیں، لہذا سب مست ہیں۔ میں نےآخری سوال پوچھا ہم امریکہ کا مقابلہ کرنے کیلئے سائنس اور ٹیکنالوجی کیوں نہیں سیکھتے؟ جوش میں آ کر فرمایا اس کی ضرورت نہیں ہے۔ تم اپنا ایمان پکّا رکھو۔ ہم ساری دنیا کا مقابلہ کریں گے ۔ ہم موت سے نہیں ڈرتے ۔ ویسے بھی امام مہدی آنے والے ہیں ۔ وہ ایک پھونک مار کر امریکہ کی جدید ترین ٹکنالوجی کو تباہ کر دیں گے۔

مسلم امّہ کا المیہ یا خوش نصیبی یہ ہے کہ اسے ہر دور میں اوریہ جان مقبول جیسے درباری دانشور میسر آتے رہے ہیں۔ دربار چاہے مسلم خلیفہ کا ہو، عرب شیخوں کا ہو یا جرنیلوں کے کسی گروہ کا، مسلم دربار کو علم اور ہنر کی ضرورت نہ کبھی پہلے تھی نہ اب ہے ، اسکا اقتدار مسلم عوام کی شہید لاشوں پر ہی تعمیر ہوتا آیا ہے۔ مسلم عوام کو موت کے لئے تیار کرنے میں دو نسخے ہمیشہ کامیاب ہوئے : جنّت اور نرگسیت ۔ لیکن آج کی دنیا میں جدید علم و ہنر کے ہاتھوں مسلم مفت خوروں نے اتنی شکستیں کھائی ہیں کہ ہمارا خبط عظمت مالیا خولیا میں بدل گیا ہے۔

اس نئی صورت حال میں سازش کی خبر دینے والوں کا طریقه واردات یہ ہے کہ پہلے شدید خوف پیدا کرتے ہیں، پھر خبط عظمت کو اکساتے ہیں اور آخر میں شہادت کے انعام گننے لگ جاتے ہیں۔ لہٰذا آج کے اوریہ جان مجبور ہیں کہ جدید علم وھنر سے شدید نفرت اکسانے کے لئے علم کی روشن شبیہ پر خون اور کالک مل دیں۔ پھر اپنے آدم خوروں کے خون میں لت پٹ چہروں سے توجہ ہٹانے کے لئے کوئی افسانہ گھڑیں ، پھر ان جرائم پیشہ مجاہدوں کا حوصلہ بڑھانے اور بے تیغ لڑا نے کے لئے دجال اور قیامت کی کہانیاں سنائیں۔

اوریا جان صاحب کے اس “ریسرچ بھرے” کالم کو پڑھتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ اس شخص کے قارئین ان پڑھ تاجروں اور مدرسوں کے طالبان کے علاوہ کون لوگ ہو سکتے ہیں ۔ کیونکہ اگر کوئی متوازن فکر، غیر نرگسی مسلمان اسے پڑھے گا تو حیرت سے پوچھے گا کہ اتنا علم اور اتنی قوت تو اللہ کی بیان کی جاتی تھی ۔ قرآن کہتا ہے “و ما یحیطون بشےمن علمہ الا بماشا آللہ” (اور وہ اللہ کے علم میں سے اسکی اجازت کے بغیر ایک چیز کا بھی احاطہ نہیں کر سکتے” تو آخر اللہ نے اپنے دشمنوں کو اپنے علم و اختیار میں سے اتنا کچھ کیسے دے دیا ؟ ایک اور خیال یہ آیا کہ اگر یہ دجالی قوت کسی کو دور سے اڑا سکتی ہے تو کہیں ہمارے اوریا کا بوریا ؟ مگر نہیں اوریا جان جیسے لوگوں پر تو خدائی ہاتھ ہے یا شاید یہ خود کسی دجالی لبارٹری کے بنے ہوئے روبوٹ ہیں جو مسلم امہ کے اس قلعہ میں جہالت قائم رکھنے پر مامور ہیں…اوریا صاحب نے غلیل والوں کا حوصلہ بڑھا نے کے لئے کئی مزیدار انکشاف کئے ہیں ۔ اتنی خدائی ٹیکنالوجی والے آج تک اپنے ٹینکوں کے سائیلنسر کا منہ اوپر یا نیچے نہیں کر پائے ۔ غلیل والے کی سہولت کے لئے سائیلنسر کا منہ سامنے رکھتے ہیں اور سکرین ایسے شیشے کی بناتے ہیں کہ مرد کہستانی پتھر سے توڑ دے۔

یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ جس طبقہ کے مقاصد اوریا جان مقبول جیسے لوگوں کی اس جیسی تحریروں سے پورے ہوتے ہیں، وہ اپنی قوموں اور بستیوں کے بد ترین دشمن ہیں۔

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



seven − 3 =

%d bloggers like this: