نیکی و بدی کا ادارک

October 27, 2013 at 05:19 ,
مبارک حیدر؛

کہتے ہیں جہاں چاہ وہاں راہ ۔ لیکن انسانی زندگی میں چاہ یعنی خواہش اتنی الہڑ نہیں جتنی حیوان میں ہے ۔ انسانی وجود میں خواہش کی نگرانی اور رہنمائی کے لئے ذہن کا کردار اہم ہے ۔ ذہن ایک مخصوص منطق کے تحت خواہش کو منظور یا مسترد کرتا ہے ۔ یہ مخصوص منطق صحیح اور غلط کے وہ تصورات ہیں جو ہمیں سماج نے سکھائے ہیں۔

اپنے اجتماعی نظام یعنی سماج کی تنظیم کے لئے انسانوں نے ہزاروں برس میں صحیح اورغلط کے تصورات بنائے ہیں ۔ ان تصورات کو مضبوط کرنے کے لئے سماج کے مؤثر طبقوں نے مختلف طریقے ایجاد کئے ، جن میں سب سے کامیاب عقیدت پیدا کرنے کا طریقه ہے ۔ ہم عام لوگ سوچ کی گہرائی اور بلندی سے گھبراتے ہیں ، ہم صحیح اور غلط کا تجزیہ کرنے کی بجائے سیدھے اور دوٹوک فیصلے پسند کرتے ہیں ۔ ہمیں عادت اور معمول میں رہنا آسان لگتا ہے ۔ ہماری اسی کمزوری کا نتیجہ ہے کہ ہم عوام اپنے معمولات کو مقدس مان لیتے ہیں ۔ یوں عقیدت اورعقیدہ کا جنم ہوتا ہے۔

خواہش کا ابھرنا زندگی کی علامت ہے ۔ جب خواہش ابھرتی ہے تو وجود اسے آسودہ کرنے کے لئے حرکت کرتا ہے ۔ لیکن اگر خواہش ذہن کی منطق کے مطابق نہیں تو ذہن وجود کی حرکت کو مسترد کر دیتا ہے ۔ دوسری طرف ہر پل بدلتی ہوئی دنیا اور حالات ہمیں اکساتے ہیں کہ ہم اپنی خواہشوں کا ساتھ دیں ۔ یوں ایک طرف خواہشیں ، جو بڑھتے ہوئے امکان کی اس دنیا میں مسلسل بڑھتی ہیں اور دوسری طرف وہ عقائد ، جو اپنی ساخت اور فطرت میں ایسے ہیں کہ بدل نہیں سکتے ۔ ہماری خواہشوں اور ہمارے عقائد کا یہ تضاد پورے سماج کو احساس گناہ اور ریا کاری سے بھر دیتا ہے۔

عقیدہ صرف دین تک محدود نہیں ۔ یہ الحاد اور انقلاب کی صفوں میں بھی گھس آتا ہے اور آکاس بیل کی طرح ذہن کے سرسبز پودے کو جکڑ لیتا ہے، حتیٰ کہ فکر و تدبیر کی کونپلیں نکلنے کا سلسلہ رک جاتا ہے ۔
ہم اپنے جس وجود کو انسان کہتے ہیں ، اس کی شناخت ذہن اور ذہانت ہے ،یعنی تخیل اور عرفان کی صلاحیت۔

ذہانت کیا ہے ؟ اپنی اعلیٰ ترین حالت میں ذہانت ہمارے ذہن کی وہ صلاحیت ہے جس سے ہم حقیقی وقت میں حقیقت کی درست “فکری تصویر” بناکر درست رد عمل کا تعیّن کرتے ہیں ۔ فکری تصویر یعنی کانسپٹ کو ادراک بھی کہہ سکتے ہیں۔ درست فکری تصویر سے مراد وہ خیال ہے جو عمل اور اسکے نتائج میں صحیح ثابت ہو ۔ درست رد عمل بھی وہی ہے جو توقع کے مطابق نتائج پیدا کرے ۔ حقیقی وقت میں رد عمل کا معنی اتنا تیز رد عمل کہ صورت حال پر ہم حاوی ہو جائیں نہ کہ وہ ہم پر۔

ہم اس صلاحیت کی مدد سے ہر روز ہر لمحہ حالات کا سامنا کرتے ہیں ۔ عام انسان کو اپنے اور اپنے کنبہ کے یا کسی چھوٹے سے گروہ کے مسائل پیش آتے ہیں ۔ ذرا بڑی سطح پر یہ معاشرہ کے یا قوم کے اجتماعی مسائل ہو سکتے ہیں اور اس سے بھی بڑی سطح پر نسل انسانی اور زندگی کی بقا کے مسائل ، یعنی ہستی کو شعور کے ماتحت لانے کے مسائل۔

ذہن کا بنیادی وصف ادراک ہے ۔ اس میں صلاحیت ہے کہ ہر پل ہستی کو جاننے پہچاننے اور اسے اپنے حق میں ڈھالنے کے لئے سرگرم رہے ۔ ہمارے اندر اور باہر کی دنیا کو جاننے کی محنت ہمارے ذہن کو تھکآتی نہیں بلکہ توانا کرتی ہے ۔ اور اگر دماغ کو مسلسل محنت پر لگایا جائے تو توانا ہونے کا یہ عمل وقت کے ساتھ کم ہونے کی بجائے بڑھتا ہے ۔ تاہم ذہن کی صحت اور توانائی کے لئے لازم ہے کہ ذہن کو سمت دینے والی منطق درست ہو ۔ ۔

درست منطق کا پیمانہ پھر وہی ہے جو دوسرے معاملات میں ہے ، یعنی ذہنی تصورات کوعمل میں آزمانا ۔ ذہن جینیائی مجبوریوں کو توڑنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے ۔ اس پر وراثت کا اثر برائے نام سے زیادہ نہیں ۔ یہی سبب ہے کہ کسی نیم وحشی قبیلہ کا دودھ پیتا بچہ جدید ماحول میں پل کر سائنس دان بن سکتا ہے تو سائنس دانوں کے گھر پیدا ہونے والا بچہ اغوا ہو کر کسی حقانی درس میں پلے تو عالمی تھذیب کا دشمن بن سکتا ہے۔

شاید اسی لئے کچھ لوگ انسانی ترقی کے سارے عمل کو مہمل مانتے ہیں۔ کچھ لوگ تو ایسے بھی ہیں جو انسانی ذہن کی ان الجھنوں سے بیزار ہو کر حیوانات کو دانش اور کردار کے شاہکار مان لیتے ہیں کیونکہ حیوان درسگاہوں اور فضاؤں کے بدل جانے سے اپنا کردار نہیں بدلتے۔

لیکن ارتقا جہد بقا کا وہ پھل ہے جس کی مٹھاس حیوان پرستوں ، صحرا پرستوں اور انسانی ہاتھ کی پوجا کرنے والوں کو کہیں جانے نہیں دیتی ۔ ہمیں جنگلوں ، صحراؤں اور دستی مشقت کے عذابوں سے نکلنا اچھا لگتا ہے ، جو ہمارے ذہن کی اسی صلاحیت کے باعث ممکن ہوا ہےجسے چاہیں تو بیوفائی کہہ لیں چاہیں تو تیزی سے ڈھلنے اور بدلنے کی خوبی۔ سوال یہ ہے کہ کیا گزرے ہوئے مراحل کی عظمت ثابت کرنے کے لئے موجودہ عظمت کی مذمت ضروری ہے جو اپنی خامیوں کو تسلیم کرتی اور آگے بڑھنے کو برحق مانتی ہے؟ کیا انسانی تاریخ کا کوئی پہلا دور خود تنقیدی اور تبدیلی پر اس قدر مائل تھا ؟

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



− eight = 1

%d bloggers like this: