نیند اور خواب

August 29, 2013 at 07:00 , ,
انا الحق؛

نیند دورہ کرنے والا ایسا فطری عمل ہے جو شعور کی مکمل یاں جزوی موت کا نام ہے۔ جس کے ساتھ کچھ حسی عوامل کارفرما رہتے ہیں۔ اور تقریبا تمام اختیاری پٹھوں کا ساکن ہونا شامل ہے۔ یہ مدہوشی سے کچھ درجے آگے ہوتی ہے یعنی محرک کا جوابی عمل نہیں کیا جاسکتا اور کوما اور ہائبرنیشن ( ایسا عمل جس میں جاندار لمبے عرصہ کے لئے سست و ساکن پڑا رہتا ہے) کی نسبت نیند میں کسی بھی فرد کو زیادہ آسانی سے بیدار کیا جاسکتا ہے۔

پستانیوں اور پرندوں میں نیند کو دو اہم مدارج میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

تیز حرکت چشم نیند (آر ای ایم) یہ رات بھرمیں کئی مرتبہ وقوع پزیر ہوتی ھے اور تقریباً ہماری نیند کے دورانیے کا پانچواں حصہ ہوتی ھے۔ آر ای ایم نیند کے دوران ہمارا دماغ کافی مصروف ہوتا ھے اور ہمارے پٹھے بالکل ڈھیلے پڑ جاتے ہیں۔ ہماری آنکھیں تیزی سے دایئں با یئں حرکت کرتی ہیں اور ہم خواب دیکھتے ہیں۔

بغیر تیز حرکت چشم نیند ( این آر ای ایم) دماغ خا موش ہوتا ھے لیکن ہو سکتا ہے جسم میں کچھ حرکت ہو۔ دوران خون میں ہارمون یا غدودی مائعات شکست و ریختکے بعد اپنی مرمت کرتا ہے

امریکن اکیڈمی آف سلیپ میڈیسن نے این آر ای ایم کو مزید تین مدارج میں تقسیم کیا ہے۔

۱۔ قبل از نیند: این 1 پٹھے ڈھیلے پڑ جاتے ھیں، دل آہستہ دھڑکتا ہے اور جسم کا درجہ حرارت کم ہو جاتا ہے۔

۲۔ ہلکی نیند۔ این 2 ہم بغیرکسی ذہنی مشکل کے آسانی سے بیدارہو سکتے ہیں۔

۳۔ سست موج نیند: این 3 ہما را فشارِخون کم ہو جاتا ہے اور سونے کی حالت میں بولنا اور چلنا دیکھنے میں آتا ھے۔

۴۔ گہری “سست موج” نیند: اس نیند سے بیدار کرنا کافی مشکل ہوتا ھے۔ اگر ہمیں جگایا جائے تو ہم کسی قدر بدحواس ہوتے ہیں۔

نیند ایک سیئکل میں چلتی ہے جو این آر ایم اور آر ای ایم کے درمیان گھومتی رہتی ہے اور ایک رات میں چار سے پانچ دفعہ اپنا سائیکل مکمل کرتی ہے اور یہ عمل اس طرح ہوتا ہے۔ این1—–این2——این3—–این2—- آر ای ایم

آر ای ایم سے نان آر ای ایم نیند میں منتقلی کا عمل دورانِ شب تقریبا پانچ مرتبہ ہوتا ھے اور صبح کے قریب زیادہ خواب دیکھے جاتے ہیں۔ ایک معمول کی رات میں بیداری کے مختصر وقفے بھی دیکھنے میں آتے ہیں۔ اِن کا دورانیہ ہر دو گھنٹے بعد ایک یا دومنٹ کے لیے ہوتا ھے۔ ہمیں عام طور پہ ان کی خبر نہیں ہوتی۔ صرف اس صورت میں ان کے یاد رھنے کا زیادہ امکان ھے اگر ھم فکرمند ھوں یا کوئی اور واقعہ ھو رھا ھو جیسے کہ اگر باھرشور ھو یا ھمارا شریکِ حیات خراٹے لے رہا ھے

ایسا نہیں ہے کہ نیند کے دوران ہمارے جسم کی ایک ہی کیفیت رہتی ہو۔ ہمارا دماغ اور ہمارا جسم نیند کے مختلف مدارج سے گزرتا ہے۔ یہ مدارج درجہ اول نیند سے لے کر درجہ چہارم نیند تک کے مدارج ہوتے ہیں۔ درجہ اول نیند ابتدائی نیند کی کیفیت ہوتی ہے اور درجہ چہارم نیند انتہائی نیند کی کیفیت ہے۔

اس کے بعد انکھوں کی تیز حرکت والی نیند کا درجہ ہے۔ درجہ چہارم سے ہمارا ذہن اور ہمارا جسم انکھوں کی تیز حرکت والی نیند کے درجے میں جاتا ہے۔ ہماری روزانہ کی نیند کا تقریباً پانچواں حصہ‘ اسی قسم کی نیند پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ انکھوں کی تیز حرکت والی نیند ایک عجیب و غریب کیفیت ہوتی ہے۔ ہماری انکھیں اس نیند کے دوران دائیں اور بائیں تیزی سے حرکت کرتی ہیں۔ ہم خواب دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ ہمارے دل کی دھڑکن‘ اور سانس کی رفتار بڑھ جاتی ہے اور ہم جنسی طور پر بیدار ہوجاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہماری جلد میں خون کی رفتار بڑھ جاتی ہے اور جسمانی درجہ حرارت بھی تھوڑا سا بڑھ جاتا ہے۔ دماغی عمل کی رفتار تیز ہوجاتی ہے اور دماغ اتنا ہی بیدار ہوجاتا ہے جتنا کہ حالت بیداری میں بیدار ہوتا ہے۔

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



− 7 = zero

%d bloggers like this: