نہتی ملالہ یوسف زئی سے نام نہاد دانشوروں کی محاذ آرائی

October 25, 2013 at 14:48 ,
نیرؔ آفاق؛

گزشتہ برس، تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے قاتلانہ حملے کے بعد، جب ملالہ یوسف زئی زندگی اور موت کی کشمکش میں تھی، سوشل میڈیا پر اس کے خلاف ایک بھرپور مہم شروع کردی گئی۔ حملے کے کچھ ہی روز بعد ،ایک سیاسی مذھبی جماعت سے منسک ویب سائٹ نے ملالہ کی کردار کشی کی مہم چلاتے ھوئے، اس مظلوم بچی کی بی بی سی اردو کے لئے لکھی گئی ڈائری کو شائع کیا، اور کمال مہارت سے برقعے اور داڑھی سے متعلق ایک متنازعہ جملہ از خودشامل کر دیا، جو ملالہ کی اپنی تحریر نہ ھونے کے باوجود اس سے منسوب ھوتا رھا، اور اس کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاتا رھا۔ اس کے فوراً بعد پے در پے شائع ھونے والے سازشی نظریات اوران کی بنیاد پر حقائق کو توڑ مروڑ کر طالبان کے حق میں رائے عامہ ھموار کی گئی۔ کبھی یہ کہا گیا کہ ملالہ کو تو کوئی گولی لگی ھی نہیں۔ کبھی یہ کہا گیا کہ یہ سب امریکہ اور آئی ایس آئی کی سازش ھے، اور وہ اس واقعے کی آڑ میں وزیرستان پر حملے کا جواز پیدا کرنا چاھتے ھیں ۔ کبھی یونیسیف کی تقریب میں ملالہ اور اس کے والد کی لی گئی تصویر کو یہ کہہ کر اچھالا گیا کہ یہ کوئی خفیہ ملاقات تھی، جس میں قومی امور کے معاملات زیر بحث آئے اور ملکی مفادات کا سودا کیا گیا۔ اس طرح کی ان گنت لغو باتیں ھمارے سامنے آئیں، مگر ان میں سے کوئی بھی عقل اور دلیل کی کسوٹی پر پوری نہ اتری۔کسی نے یہ تک نہ سوچا کہ اگر بدنامِ زمانہ اسامہ بن لادن کے یہاں سے بر آمد ھو جانے پر بھی امریکہ نے وزیرستان پر چڑ ھائی نہیں کی، تو اسے ملالہ جیسی کم سن لڑکی پر حملے کے واقعے کی کیا ضرورت پیش آنی ھے؟ بس ایک جنون تھا، اور سازشی نظریات کا ایک طوفان، جس کے دھارے میں سب بہتے چلے گئے۔ سوشل میڈیا پر مذھبی جذبات ابھارنے والی اور فریب پر مبنی ایک ایسی مہم کا آغاز کیا گیا کہ لوگ بنا کسی تحقیق کے اس پر ایمان لاتے چلے گئے ۔ ھماری عقل وخرد کی صفات سے عاری قوم نے ملالہ کے بارے میں منفی اور لغو پروپیگینڈا میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔اس معاشرے کو موت اور حیات کی کشمکش میں مبتلا اس معصوم بچی پر ذرہ بھر رحم نہ آیا۔ میری روح تک لرز اٹھتی ھے کہ فساد پھیلانے والے، فریب اور نفرت کے یہ نمائندے، دائے بر حق کا کیسے سامنا کریں گے؟

طالبان نے بارھا اس پر حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ صرف یہی نہیں، اس پر اور اس کے والد پر پھر سے حملہ کرنے کے لئے طالبان نے مزید دھمکیاں دیں۔ مگر ملک سے باھر علاج کے لئے جانے کی وجہ سے وہ طالبان کی دسترس سے دور تھی، سو محفوظ رھی۔ آئیے ھم دیکھتے ھیں کہ ملالہ دنیا کے لئے اس قدر اھم کیسے بنی اور اس نے ایسا کیا کارنامہ سر انجام دیا جو دنیا بھر کے لوگ اس کی ھمت کی داد دیتے ھوئے اس کی پزیرائی کر رھے ھیں۔

سوات میں 2005ء کے لگ بھگ ایک انتہائی بے رحمانہ کمپین شروع ھوئی، جسے مولانا فضل اللہ (تحریک نفاذ شریعت محمدی) اور ان کے ھزاروں عسکریت پسندوں کی سرپرستی حاصل تھی۔ یہ لوگ فرسودہ سوچ کے حامل، تنگ نظر افراد تھے۔ یہ حجاموں کے خلاف تھے، ٹی وی کی مخالفت کرتے تھے، پولیو مہم سے روکتے تھے اور لڑکیوں کی تعلیم سے تو انہیں انتہا درجے کا بیر تھا۔ ان لوگوں نے دھمکی آمیز خطوط لکھ کر حجاموں اور سکولوں میں بھیجنا شروع کئے۔ اپنی دھشت کا بازار گرم کرنے کے لیے ،انہوں نے لیڈی ھیلتھ ورکروں کو مارنا شروع کردیا۔ آئے روز حجاموں کی دکانوں اور سکولوں کو دھماکوں سے اڑانا شروع کردیا۔ اپنے مخالفین کی سر عام گردنیں کاٹنا شروع کردیں۔ جب 2007ء کے وسط میں وھاں پر فوج کو بھیجا گیا، تواسے ان دھشت گردوں کی طرف سے شدید مذاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ سیکورٹی فورسز اور فوجیوں کو پکڑ پکڑ کر ان کی سر عام گردنیں کاٹی گئیں۔سڑکوں اور بازاروں میں سر بریدہ لاشیں ملنا روز کا معمول بن گیا۔ اس درندگی کے ویڈیو ثبوت تک موجود ھیں، اورمولانا فضل اللہ اور ٹی ٹی پی اس سب پر فخر کا اظہار بھی کرتے ھیں۔

ان حالات میں، جب وہاں کوئی ان طالبان کے خلاف کھڑے ھونے کی ھمت نہیں کر سکتا تھا، ملالہ اور اس کے والد نے اپنی قوم کے لئے یہ خطرہ مول لیا۔ ملالہ کے والد، ضیاء الدین یوسف ذئی، ایک شاعر اور ماھر تعلیم ھونے کے ساتھ ساتھ اسکولوں کے ایک سلسلے کے بانی اور پرنسپل تھے۔ انہیں بھی دھمکی آمیز خطوط ملنا شروع ھوئے۔ ان ھولناک حالات میں ، بی بی سی نے جب وھاں کی رپورٹ بنانا چاھی، تو ان کی مدد کے لئے کوئی تیار نہ تھا۔ تاھم، ضیاء الدین نے ھمت دکھاتے ھوئے، وھاں کے حالات دنیا کے سامنے لانے کا فیصلہ کیا تاکہ وھاں امن آسکے اور ملک بھر میں طالبان کی بربریت کے خلاف بھی شعور اجاگر ھو۔ملالہ نے بی بی سی اردو کے رپورٹر عبدالحئی کاکڑ کو اپنے ھاتھوں لکھی ھوئی ڈائری دی، جس میں طالبان کے موجودگی میں سوات میں بیتے ھوئے دنوں کی روداد درج تھی۔ اسے بی بی سی اردو نے گل مکئی کے قلمی نام سے شائع کیا۔ ملالہ نے اس طرح ایک نہایت مشکل حالات میں اپنا آپ منوانا شروع کیا۔ اس نے امن اور علم کے دشمن طالبان کو بے نقاب کیا، اور لڑکیوں کی تعلیم کے لئے آواز بلند کی۔ اس سب میں اسے اپنے والد کی سپورٹ حاصل رھی۔

بعد میں جب 2009ء میں ھونے والا ملٹری آپریشن کامیاب ھو گیا، اور سوات میں امن آگیا، تو پھر ملالہ اور اس کے والد کی حوصلہ افزائی اور تعریف کے لئے حکومت نے اقدام کئے۔ ملالہ کو قومی ایوارڈ بھی دیا گیا۔ ظاھر ھے کہ کسی اور گھرانے یا لڑکی نے ملالہ جیسی ھمت اور قابلیت نہیں دکھائی تھی، تو کسی اور کو پزیرائی کیوں ملتی اور سرکاری تقاریب میں کیوں مدعو کیا جاتا؟ تو المختصر،اس پس منظر میں ملالہ اور اس کے والدین کی امریکی عہدیداران سے ملاقات بھی ھوئی۔ یہ ایک سرکاری نوعیت کی تقریب تھی، جس میں ملالی نے رچرڈ ھالبروک سے تعلیم کے معاملے میں مدد فراھم کرنے کی درخواست کی۔ اس ملاقات کی تصاویر سوشل میڈیا پر یہ کہہ کر جاری کی گئیں کہ جیسے یہ کوئی خفیہ یا سات پردوں میں چھپی ھوئی ملاقات تھی،اور اس میں کوئی قومی سلامتی کا سود اھونا تھا۔ اس قوم کی عقل پر افسوس۔آپ کو یاد ھو گا کہ ارفع کریم کی بھی بل گیٹس سے ملاقات ھوئی تھی۔ اس لئے کہ اس نے اتنی کم عمری میں اپنی قابلیت کا ثبوت دیا۔ یہی صورت ملالہ کے معاملے میں بھی بنی۔

ایک لڑکی، جس نے صرف امن اور تعلیم کے لئے اس کم سنی میں آواز بلند کی ، اسے اس ‘‘جرم’’ کی پاداش میں بے رحم افراد نے گولیوں کا نشانہ بنا یا، اور اس کی ذمہ داری بھی قبول کی۔ طالبان نے اس حملے کو عین اسلامی احکامات کے مطابق قرار دیا اور کہا کہ یہ قاتلانہ حملہ قرآن الحکیم کی رو سے جائز تھا۔ واضح رھے کہ یہ اس تکفیری نظریات کے حامل لوگ ھیں، جن کے نزدیک ان کے علاوہ پورا پاکستان مرتد اور واجب القتل ھے۔ یہی وجہ ھے کہ وہ بے دردی سے مساجد، امام بارگاھوں اور اولیاء اللہ کے مزارات پر خود کش حملے کرتے پھرتے ھیں۔ یہ صرف نام کے طالبان ھیں، وگرنہ ان کا طلبِ علم سے کیا رشتہ۔ یہ تو ظالمان ھیں۔ یہ پاکستان کا آئین تسلیم کرتے ھیں،اور نہ ھی جمہوریت۔ اس کے نزدیک قائد اعظم، کافرِا عظم ھیں اور پاکستان کا آئین کفریہ دستاویز۔ یہ درندے، انسانوں کی گردنیں کاٹنے کا جواز پیش کرنے کے لئے بھی مذھب کی آڑ لیتے ھیں اور دین کی ایک ایسی بھیانک اور وحشیانہ تشریح پیش کرتے ھیں کہ خدا کی پناہ۔ ذیل میں دی گئی ویڈیوز سے آپ کو ان کے سیاہ کارناموں اور جرائم کا بخوبی اندازہ ھو جائے گا۔

اب دیکھنا یہ ھے کہ بقول کالم نویس، ملالہ نے ایسا کیا جرم کر دیا، جو موصوف اس قدر بھڑک اٹھے ھیں۔ اسے ثابت کرنے کے لئے وہ آگے رقم طراز ھوتے ھوئے پہلے تو کرسٹینا لیمب کے بارے میں ایک غیر ضروری سا جملہ لکھتے ھیں۔ پھر اس کے بعد فرماتے ھیں،

۔‘‘ملالہ کی یہ کہانی، جو 276 صفحات پر مشتمل ھے، پڑھنے کی آپ کو شاید ضرورت ھی نہ پڑے، اگر بیس سالوں سے اسلام، مسلمانوں اور خصوصاً پاکستان کو بدنام کیا جاتا ھے، وہ سب آپ کے علم میں ھو’’۔


پھر ساتھ ھی اوریا مقبول صاحب لکھتے ھیں،۔

۔‘‘آپ کے ذھن میں یہ سوال ابھرے گا کہ اس کمسن بچی کے منہ میں میرے دین، مسلمان اور پاکستان کے لوگوں کے بارے میں یہ ذلت آمیز لفظ کس نے ڈالے اور کس مقصد کے لئے ڈالے گئے’’۔


اللہ اکبر۔ موصوف نے پہلے تو ایک خاص نفسیاتی داؤ کھیلتے ھوئے اپنے قارئین کو یہ پیغام دیا کہ انہیں اس کتاب کو پڑھنے کی ضرورت نہیں ھے۔ اور اس کے بعد انہوں نے ملالہ پر اسلام، مسلمانوں اور پاکستان کو بدنام کرنے کا الزام بھی دھر دیا اور یہ بھی لکھ مارا کہ اس نے ‘‘یہ ذلت آمیز’’ الفاظ کیوں لکھے۔ بھلا کون سے ذلت آمیز الفاظ؟ کوئی ثبوت تو دکھایا جائے۔


مگرھاں، اوریا مقبول جان، ان سنگین الزامات کے فوراً بعد کچھ بلا جواز ‘ثبوت’ بھی پیش کرتے ھیں۔ ذرا ان پر بھی ایک نظر ڈال لیتے ھیں۔

۔ ‘‘سب سے پہلے جس شخص کا تذکرہ ھے، وہ سید الانبیا(صلی اللہ علیہ وسلم)، امہات المومنین اور اھل بیت کے خلاف غلیظ الفاظ استعمال کرنے والا سلمان رشدی ھے، جو مغرب کی آنکھ کا تارہ ھے’’۔


کس نفاست سے دروغ گوئی کا مظاھرہ کرتے ھوئے جناب نے ‘‘سب سے پہلے’’ کے الفاظ استعمال کئے ھیں۔ اوریا صاحب،سب سے پہلے سے مراد تو پہلا صفحہ، یا چلئے دوسرا صفحہ، یا چلئے پانچواں صفحہ ھو سکتا ھے۔ مگر صفحہ نمبر تیس کو آپ کسی صورت ‘‘سب سے پہلے’’ نہیں کہہ سکتے۔ آپ کا ایک جھوٹ تو یہیں پکڑا گیا۔

آگے چلتے ھوئے آپ لکھتے ھیں؛

۔‘‘اس کے بارے میں ملالہ لکھتی ھے:‘‘پاکستان میں اس کتاب کے خلاف مضامین سب سے پہلے ایک ایسے مولوی نے لکھنے شروع کئے، جو ایجنسیوں کے بہت نزدیک تھا۔’’ (صفحہ 30)۔ تاریخ کا یہ بدترین جھوٹ اس کے منہ میں کس نے ڈالا؟ اسے کس نے یہ لکھنے پر مجبور کیا کہ سلمان رشدی کو ‘آزادیء اظہار’ کے تحت یہ پورا حق تھا’’؟


بہت بھیانک الزام لگایا گیا ھے۔ مگر آپ کو یہ جان کر حیرانی ھوگی کہ ملالہ کی کتاب میں ھرگز ھرگز ایسا کچھ نہیں لکھا گیا کہ سلمان رشدی کو توھین آمیز ناول لکھنے کا حق تھا۔ اوریا مقبول جان اس قدر ڈھٹائی سے ایسا جھوٹ بول سکتے ھیں، اس کا اندازہ تو تھا، مگر یہ توقع نہیں تھی کہ وہ ایک سولہ برس کی نہتی لڑکی کو توھینِ اسلام کے الزام میں پھنسانے کے لئے ایسا اوچھا وار کریں گے۔

موصوف کے بہیمانہ الزام کے برعکس ملالہ کی کتاب میں یہ لکھا گیا ھے کہ جب اس کے والد اپنے کالج میں تقاریر اور مباحثوں میں حصہ لیتے تھے، تو ایک موقع پر سلمان رشدی کی کتاب پر ایک علمی مباحثہ میں ان کا نکتہ نظر یہ تھا کہ ھمیں پرتشدد احتجاج کی راہ اپنا کر اپنی املاک کا نقصان کرنے کی بجائے ایک دانشمندانہ لائحہ عمل سوچنا چاھئیے، اور بہتر ھے کہ ھم کتاب کا جواب کتاب سے ھی دیں۔ ملالہ لکھتی ھے کہ اگرچہ ان کے والد آزادی ء اظہار کے حامیوں میں سے ھیں، مگر انہیں بھی رشدی کی کتاب کا جان کر دکھ پہنچا اور ان کے جذبات بھی مجروح ھوئے۔کتاب میں لکھا ھے کہ کالج کے مباحثے میں اس کے والد نے کہا کہ اسلام کو کسی کی ( توھین آمیز ) کتاب سے کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا ۔ اس کے والد نے اپنی تقریر میں کہا کہ میرا دین ایسا کمزور نہیں۔

گویا وہ یہ یقین رکھتے تھے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی ذاتِ بالا صفات اس قدر ارفع اوراعلیٰ مقام پر فائز ھے کہ کسی کی دشنام طرازی سے اسلام اور محبوبِ خدا کی پاک ذات پر کوئی حرف نہیں آسکتا۔یہ کس قدر پختہ اور قابل قدر سوچ ھے۔ اپنے دل پر ھاتھ رکھ کر بتائیے کہ کیا اس سب سے یہ مطلب نکالا جا سکتا ھے کہ ملالہ یا اس کے والد یہ یقین رکھتے تھے کہ سلمان رشدی کو توھین آمیز کتاب لکھنے کا حق تھا؟ انا للہ ونا علیہ راجعون۔ اوریا مقبول جان نے اتنا بھیانک بہتان لگانے کی حد پار کرلی اور وہ بھی ایک معصوم اور کم سن لڑکی کے بارے میں۔


لگے ھاتھوں اوریا مقبول کا وہ اعتراض بھی دیکھ لیتے ھیں، جو بقول ان کے تاریخ کا سب سے بدترین جھوٹ ھے، جو ملالہ کی کتاب میں لکھا ھوا ھے، یعنی یہ کہ رشدی کی کتاب کے خلاف تحریک کے لئے ایک ایسے مولانا نے اخبارات میں کالم لکھنا شروع کئے، جو ایجنسیوں کے نزدیک تھے۔ یہ کہنا کہ یہ تاریخ کا سب سے بڑا جھوٹ ھے، نہایت ھی مضحکہ خیز بات ھے۔ مگر خیر، اس بات کو چھوڑ کر ذرا اس زمانے کی صورت حال کا ایک مختصر جائزہ لے لیتے ھیں۔ سلمان رشدی کی کتاب، پاکستان میں فوری طور پر بین کر دی گئی تھی ۔ اس کے بعد اخبارات میں اس کے خلاف کالموں اور مضامین کا ایک سلسلہ شروع ھو گیا، جس میں مولانا کوثر نیازی پیش پیش تھے۔ عوام الناس کو احتجاج کے لئے کچھ اس انداز میں اکسایا گیا کہ پر تشدد مظاھرے بھی ھونے لگے۔ اس سب سے نہ صرف پاکستان کی بدنامی ھوئی، بلکہ دنیا بھر میں رشدی کی غیر معیاری اور توھین آمیز کتاب کی مفت میں تشہیر بھی ھوئی۔ مولانا کوثر نیازی کی ایماء پر 12 فروری 1989ء میں اسلام آباد میں امریکن کلچرل سنٹر کے سامنے دس ھزار افراد کا احتجاجی مظاھرہ ھوا، جس میں امریکہ کے پرچموں کو نذر ِ آتش کیا گیا اور حالات اس قدر خراب ھو گئے کہ بالآخر سو سے ذائد افراد زخمی اور چھ مظاھرین جاں بحق بھی ھوئے۔

Continues Reading…, Page 2

Related Posts

Comments

comments

Pages: 1 2

Leave a reply

required

required

optional



four − = 2

%d bloggers like this: