نقل بمطابق اصل

February 6, 2014 at 00:02 ,
سید حمید اصغر؛

کسی شہر میں ایک مشہور ڈکیٹ رہتا تھا اسنے اپنا ایک گروہ بنا رکھا تھا وہ رات کو شہر میں آکر قتل و غارت کرتا اور رات کو جنگل میں چھپ جاتا آخر کار ایک دن ملک کی فوج کو اسکے ٹھکانے کا پتا چل گیا اور فوج نے جنگل کا محاصرہ کر لیا ڈکیٹ کو پتا چلا کہ اب جنگل کا محاصرہ ہوگیا اب میری خیر نہیں تو اس نے شہر میں موجود اپنے ہمدردوں کو پیغام بھیجا کہ میری جان بچاو اور ان فوجیوں کو محاصرے سے ہٹاو اور کسی طرح میرے فرار کا راستہ ہموار کرو ورنہ اگر میں پکڑا گیا تو میں تم سب کا بھی پول کھول دوں گا کہ تم سب میرے ساتھی ہو۔

وہ سارے ہمدرد یہ سن کر گبھرا گئے اور بادشاہ کے پاس پہنچے اور بادشاہ سے کہنے لگے کہ جناب بادشاہ وہ ڈکیٹ دراصل بڑا نیک آدمی ہے فوج نے جنگل کا محاصرہ کر لیا ہے مگر فوج کے ہاتھ خون خرابے کے کچھ نہیں آئے گا اتنے سال ہوگئے اس ڈکیٹ کو پکڑتے آج تک نہیں پکڑا گیا تو کیونکہ اس ڈکیٹ سے مذاکرات کر لیے جائیں ۔ بادشاہ سیدھا آدمی تھا ہمدردوں کی باتوں میں آگیا اور فوج کو محاصرے اٹھانے کا حکم دے دیا اور انہی ہمدردوں سے کہا کہ ٹھیک ہے اگر مسئلہ بنا خون خرابے کے حل ہو جائے تو کیا ہی اچھا ہوجائے ۔ ملک کی فوج بادشاہ کے اس اقدام سے بالکل خوش نہیں تھی کیونکہ ڈکیٹ بڑے عرصے بعد قابو میں آیا تھا لیکن چونکہ بادشاہ کا حکم تھا چاروناچار اسے محاصرہ اٹھانا پڑا ۔ بادشاہ کی طرف سے وہ سارے ہمدرد ڈکیٹ سے مذاکرات کرنے پہنچ گئے ۔ وہاں جاکر ڈکیٹ اور اسکے ہمدردوں نے جو شرائط آکر بتائیں وہ کچھ یوں تھیں؛

۱ـ ہمارے تمام گرفتار ساتھی جو دو سے تین سو لوگوں کے بھی قتلوں میں ملوث ہیں انکو رہا کیا جائے
۲- سارا ملک باجماعت نماز ادا کیا کریے
۳ـ پورا ملک اپنے بچوں کی شادیاں وقت پہ کیا کریے
۴- پورا ملک وضو کرتے وقت پانی ضائع نہ کیا کریے

پھر کیا ہونا تھا ڈکیٹ نے شرائط بتائیں تو ڈکیٹ کے ہمددر خوشی کے شادیانے بجاتے بادشاہ کے پاس آگئے اور کہنے لگے دیکھا ہم نے کہتے تھے ڈکیٹ بڑا نیک ہے دیکھو کیسی پاکیزہ شرائط بتا رہا ہے ۔ آخر صرف پہلی شرط تھوڑی سخت ہے ورنہ باقی شرائط تو دیکھیں کتنی اچھی ہیں ۔ ایسے نیک ڈکیٹ تو ہمارے ملک کے لیے نعمت ہیں۔

ساتھیو کہانی ابھی جاری ہے آخری خبریں آنے تک ملک کے کچھ لوگ ڈکیٹ کی شرائط کی تعریفیں کرتے ہوئے پائے گئے ہیں جیسے ہی کہانی آگئے بڑھے گی آپکو جلد بتانے کی کوشش کریں گے اور ہو سکتا ہے بتانے کی ضرورت نہ پڑے آپکو خود پتا چل جائے گا۔

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



5 + eight =

%d bloggers like this: