نظریہ اور انسان ٢

April 16, 2013 at 23:32

مبارک حیدر
کسی معاشرہ کی نشو و نما کے لئے ضروری ہے کے نظریہ اور انسان سے متعلق سوالوں
کے درست جواب فراہم کیے جائیں
کیا ہمارا یہ ماننا ہوشمندی ہے کہ (1) ہم سب دوسرے انسانوں سے بڑھ الله کرعزیز ہیں اور(2) ہم سب سے افضل ہیں ؟ کیا ایسا خیال کرنے کے لئے ہمارے پاس ایک بھی جواز موجود ہے؟ پہلی بات یہ کہ افضل سے مراد ہے منصب یا صلاحیت میں بہتر ہونا – کیا ہم کسی ایسے وصف میں دنیا سے افضل ہیں؟ تو وہ کونسا وصف ہے ؟ الله کو سب سے عزیز ہونے کا معنی ہے کے وہ سب لوگوں سے بڑھ کر ہماری پرواہ کرتا ہے ، مصائب اور آلام سے بچاتا ہے اور دوسروں پر فائق ہونے میں ہماری مدد فرماتا ہے- اگر عزیز ترین ہونے کے یہی معنی ہیں تو کیا ہم زندگی کا ایک بھی شعبہ بتا سکتے ہیں جہاں وہ ہمیں عزیز ترین رکھتا ہے؟

ہمیں بتایا جاتا ہے کہ الله نے ہمارا امتحان لینے کے لئے ہمیں بدحالی میں ڈال رکھا ہے – مگر یہ بڑی قابل غور بات ہے کہ الله نے مسلمانوں کی پہلی نسلوں کو بدحالی میں نہیں ڈالا تھا جو ہمارے عقیدہ کے مطابق الله کو عزیز ترین تھیں – رسول الله صلعم کے چند مکّی صحابہ کو تیرہ برس تک تکلیف دہ آزمائش میں ڈالا گیا اور پھر انھیں بھرپور انداز سے دنیا کی ہر اس نعمت سے نوازا گیا جس کا کوئی خواب دیکھتا ہے – مدینہ کے مسلمانوں اور فتح مکّہ کے بعد شامل ہونے والے لاکھوں مسلمانوں کو ایسی آزمائشوں سے نہیں گزرنا پڑا- اس کے بعد الله نے ایک ہزار برس تک دنیا پر حکومت کرنے والے مسلمانوں کو امتحان میں نہیں ڈالا حالانکہ وہ شاید آج کے مسلمانوں سے زیادہ اچھے نہ تھے – کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ
الله کو اتنے عزیز نہ تھے جتنے ہم ہیں؟
اگر الله نے رسول الله کوبشارت دی کے آپ کے صحابہ اور آپ کے وقت میں موجود مسلمان دنیا کی بہترین قوم ہیں تو یہ بشارت چودہ سو سال بعد والے مسلمانوں پر کیسے لاگو ہوتی ہے؟
قر’ان میں کئی بار کہا گیا ہے کہ” اگر الله چاہتا تو سب انسانوں کو ایک ہی مذھب پر کر دیتا لیکن ایسا نہیں اور لوگ قیامت تک اختلاف کرتے رہیں گے” – کیا یہ الله کی اجازت کے بغیر ہے؟ اگر وہ چاہتا کہ سب انسان اسلام قبول کر لیں یا چاہتا کہ مسلمان سب سے بالا اور برتر ہو جائیں تو کیا لوگ اس کی مشیّت کے برعکس راستوں کا انتخاب کر سکتے؟ لیکن اگر اس نے انسانوں کو فیصلوں کا اختیار عطا کیا ہے تو پھر کیا اس کا مقصد یہ نہیں کہ انسانوں کو الله کی طرف سے اپنے لئے سوچنے اور راستہ چننے کی اجازت ہے –
دنیا میں چھ ارب لوگ ہیں جو اسلام کو نہیں مانتے جبکہ ماننے والوں کی تعداد ایک ارب تیس کروڑ کے لگ بھگ ہے جو عالمی آبادی کا اٹھارہ فی صد ہے – لیکن بد قسمتی سے ہم جو بہترین امّت ہونے کے دعوی دار ہیں ، پسماندہ ، نااہل اور دماغ سے خالی لوگ ہیں ، ہم نے صدیوں سے کسی شعبہ میں بہتری پیدا نہیں کی اور کچھ ایجاد نہیں کیا – کیا تخلیقی صلاحیتوں والی اکثریت کے خلاف الله کو اس سوکھی ہوئی اقلیت کی خدمات درکار ہیں؟ کیا الله کو کسی مدد کی ضرورت ہے ؟ کیا ایسا خیال شرک نہیں؟
اس سوال کے جواب میں علما کہتے ہیں کے الله کو کسی مدد کی ضرورت نہیں- لیکن وہ خود ہمارے ہی فائدہ کے لئے چاہتا ہے کہ ہم دنیا کو اسلام کے دائرہ میں لایئں ، انکے مذاہب کو کافر ، جہنمی اور جاہلی جیسے کرخت الفاظ سے مسترد کریں یا ان سے جنگ کریں حتیٰ کہ وہ زمی اور غلام بن جائیں – پوچھا جا سکتا ہے کہ کونسا فائدہ – کیا فائدہ سے مراد ترقی اور خوشحالی ہے؟ جی ہاں – کیونکہ مسلمانوں سمیت ہر کوئی اسی معنی کو تسلیم کرتا ہے – جدید ترین سہولت کی محبّت ہماری روح میں جہنّم کی آگ جیسی جلتی ہے – جوں جوں ہم زیادہ خوشحال اور زیادہ پارسا ہوتے جاتے ہیں مزید دنیاوی نعمتوں کو قابو کرنے کی تڑپ گہری ہوتی جاتی ہے حالانکہ یھاں کچھ بھی ہمارا بنایا ہوا نہیں- ایک سوئی بھی نہیں، کوئی فکری تصور ، کوئی انتظامی سانچہ بھی نہیں- کیا دوسروں کے بناۓ ہوئے پر ہاتھ صاف کرنا یا انھیں چرانا فخر کی بات ہے؟
تاہم ہر طرح کے مادی آرام اور لذت کی ھوس کے باوجود ہم اپنی روحانیت کے دعوے اور کفار کی مادیت پرستی کی مذمّت جاری رکھتے ہیں- پھر جدید معاشروں کے انسانی حقوق سے نظر ہٹانے کے لئے ہمارے علماء مسلمانوں کے خلاف مغربی کفّار کے تعصّب کی جھوٹی کہانیاں سناتے ہیں ، لیکن مسلمانوں کا مسلمانوں سے اور عربی مسلمانوں کا غیر عرب مسلمانوں سے کیا جانے والا سلوک بڑی احتیاط سے گول کر جاتے ہیں- ایک غیر عربی مسلمان ساری عمر عرب کی ریت میں ناک رگڑنے کے بعد بھی شہریت یا رہائشی حقوق نہیں لے پاتا – وہ چاہے جتنا بھی با صلاحیت ہو وہ عربی مالک کا ملازم یا عربی شریک کا محتاج حصّہ دار ہی رہتا ہے یعنی ایک موالی –
لاطینی امریکہ ، امریکہ ، کنیڈا ، یورپ ، روس، چین ، بھارت اور آسٹریلیا کی آبادیاں مل کر دنیا کی آبادی کا دو تہائی بنتی ہیں- یہ معاشرے فرد کے دینی عقائد کو اجتماعی معاملات سے جدا رکھتے ہیں- یہ مضبوط معاشرے قانون کی تعظیم کرنے والے، پر امن اور تخلیقی صلاحیتوں سے بھرپور ہیں جنھیں مزید روشن مستقبل کی امید ہے – یہ صدیوں سے شرف انسانی کے ایک مقام سے اگلے بلند تر مقام کی طرف بڑھ رہے ہیں- کیا یہ ان پر الله کا کرم نہیں؟
ہم مسلمان اپنی سر زمینوں میں، خصوصا” پاکستان میں ہر صبح ایک نئی قیامت نازل ہوتی دیکھتے ہیں – ہماری سرزمینوں پر یا تو بد دیانت شکرے قابض ہیں یا سفید جبّوں میں لپٹے مفت خورے ، کہیں دہشت گرد قاتلوں کا قبضہ ہے تو کہیں خود کش روبوٹ حاوی ہیں جنھیں یہ بے کردار مفت خورے چابی لگاتے ہیں— اور تباہی کی اس منزل کی طرف صدیوں سے ہمارا سفر جاری ہے جو ہمیں پستی کے ایک گڑھے سے اگلے گڑھے میں ڈالتا جا رہا ہے، جہاں سے واپسی کے آثار بھی نہیں – لیکن ہمارے فخرکا چڑھتا سمندر ہے کہ اترتا ہی نہیں – کیا یہ ہم پر الله کا کرم ہے ؟
کیا بنی آدم کا خالق اپنی مخلوق کی اتنی بڑی اکثریت سے نفرت کر سکتا ہے؟ جب ہم یہ دعوی کرتے ہیں کہ مسلمان مرد انسانوں کے اس جنگل میں چلنے والا سب سے اعلی جانور ہے حتیٰ کہ اس کی عورت بھی اس سے کمتر ہے تو اس کے باالواسطہ معنی یہ ہوتے ہیں کہ الله باقی سب انسانوں کو نا پسند کرتا ہے ، کیونکہ اگر وہ انہیں پسند کرتا تو سب کو مسلمان مرد بنا دیتا – مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر الله اتنے انسانوں سے نفرت کرتا تو انھیں پیدا کیوں کرتا؟ کیا رسول الله نے یا قر’ان نے اتنی بڑی انسانیت سے نفرت کی تعلیم دی ہے ؟ مسلمانوں کی اکثریت کا یہ عقیدہ نہیں-
اگلا سوال یہ ہے کہ ترقی کیا ہے یا یوں کہیں کہ الله کا کرم کیا ہے؟ ہمارے علما کہتے ہیں کہ دین کی گہرائی میں اترتے جانا ترقی ہے-” اس دنیا کی زندگی اس آزمائش کے لئے ہے کہ ہم الله کی کتنی اطاعت کرتے ہیں- لہٰذا عاقبت کی تیاری کرو”- اس تعلیم کا مقصد کیا ہے؟ اس کا مقصد یہ ہے کے الله کی دنیا کے لئے الله کے بناۓ ہوئے قوانین کی اطاعت کرنے کی بجاۓ زندگی سے دور ہو جاؤ ، کسی “ہدایت یافتہ” مقصد کے لئے قتل کرنے اور مرنے کے لئے تیار ہو جاؤ ، منظم مذہبی قیادت اور اسکی پشت پناہی کرنے والوں کے احکام کی اطاعت کرو کیونکہ وھی تو ہیں جو “ہدایت یافتہ” مقصد کاعلم رکھتے ہیں-
لیکن کیا دین کے یہ سرکردہ رہنما دنیوی زندگی سے دود ہونے کے اس سبق پر خود بھی عمل کرتے ہیں؟ کیا یہ دولت کو ترک کر دیتے ہیں؟ کیا یہ دنیا کے بہترین ہسپتال کی تلاش چھوڑ کر صرف دعا پر انحصار کر لیتے ہیں؟ کیا یہ اپنے بیٹوں کو بہترین تعلیمی اداروں میں نہیں بھیجتے؟ کیا یہ جدید ترین قیمتی کاروں اور بوئنگ طیاروں کی بجاۓ گدھوں اور اونٹوں پر سوار ہوتے ہیں؟ کیا یہ اپنے بیٹوں کو بھی الله کی راہ میں خود کش دھماکوں کے لئے روانہ کرتے ہیں ؟

 

Comments from Author

This is my blog “Growing with the world (Part 2)” Dawn was under great pressure for the first part, so they could not publish this one (part 2, which raised some some questions). I stopped writing for Dawn to spare them the embarrassment. But I feel many friends may be interested in reading and discussing these questions
حصہ اول

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



8 − = one

%d bloggers like this: