نسل انسانی کا تحفظ

January 7, 2014 at 00:02 , ,
مبارک حیدر؛

کہا جاتا ہے کہ تیز اور قریبی رابطوں نے ہماری دنیا کو ایک گاؤں کی طرح بنا دیا ہے۔ یعنی رابطے اتنے تیز ہیں کہ ایک گاؤں کی طرح ہمارے مسائل اور وسائل سب کی پہنچ میں ہیں یا کم سے کم سب کے سامنے ہیں۔ کسی سے کچھ پوشیدہ نہیں۔ اور اس گاؤں کے ایک حصہ میں ہونے والی تبدیلی کا دوسرے حصوں پر فوری اثر پڑتا ہے۔ لیکن کیا کرہ ارض کو عالمی گاؤں کہنا درست ہے ؟

گاؤں کے آگے تو دوسرے گاؤں اور شہر اور آبادیاں ہوتی ہیں۔ ایک گاؤں کے وسائل کم پڑ جائیں ، روزی تنگ ہو جائے ، کوئی وبا پھوٹ پڑے ، گاؤں کے سرکردہ لوگ بد انصاف اور بےعقل ہو جائیں ، گاؤں کی آبادی اتنی بڑھ جائے کہ پہلے گھروں میں گنجائش ختم ہو جائے اور نئے گھروں کے لئے جگہ نہ ملے تو لوگ دوسرے گاؤں یا علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔ ہمارے گلوبل ولیج کے آس پاس تو نہ کوئی آبادی ہے نہ زمین۔ اگر اس گاؤں میں آپکی یا میری زندگی یا ہماری اولادوں کی زندگی تنگ ہو جائے تو کہاں جایئں گے ؟

اس سوال کا سامنا ہماری دنیا کے ہر فرد کو ہے لیکن کیا اس سوال کا ادراک بھی ہر فرد کو ہے ؟ اس عالمی گاؤں کے مسائل کیا ہیں اور ان کا ذمہ وار کون ہے؟ اکیسویں صدی میں فرد اپنی انفرادیت پر زور دے رہا ہے۔ باشعورمڈل کلاس ہو یا پسماندہ ممالک کے محنت کش طبقے سب کو “کچھ نہ کچھ” نہیں بلکہ “سب کچھ” چاہئے۔ لوگ سخت ناراض ہوتے ہیں اگر ان سے پوچھا جائے کہ آپ نے یہ “سب کچھ” حاصل کرنے کے لئے کیا کیا کچھ کیا ؟ اگر فرد خود خفا نہیں ہوتا تو اسکے “انسانی حقوق” اور “طبقاتی حقوق” کے نمایندے خفا ہونے کے لئے تیار ملتے ہیں۔

دوسری طرف سماج کی نمائیندگی کرنے والی حکومتیں اور ادارے ہیں۔ یہ سماج کی منظم قوتوں کے نمایندہ ہوتے ہیں ، جن میں سیاسی جماعتیں، فوجی اور سول افسر شاہی کے سرکردہ عناصر یا منظم مذہبی دھارے ہوتے ہیں۔ ایسا صرف پسماندہ معاشروں میں ہی نہیں بلکہ یورپ ، امریکہ ، روس اور چین میں بھی اقتدار کی ساخت اور ترکیب یہی ہے۔ یہ مختصر حکمران گروہ ملکی نظام اقتدار کو چلانے کے لئے معاشرہ سے مختلف ٹیکسوں کی شکل میں ہر سال ہیبت ناک بجٹ اکٹھا کرتے ہیں۔ لیکن ایسے ممالک کم ہیں جہاں عام لوگوں کی اجتماعی یا انفرادی آسودگی کے لئے حکمران طبقے ایسے ہی پریشان ہوتے ہوں جیسے کوئی اپنے بچوں کی آسودگی کے لئے پریشان ہوتا ہے۔

نیک دل لوگوں کی صدیوں سے خواہش رہی ہے کہ سب انسانوں کو زندہ رہنے کا حق ملے ، رزق ملے ، پھلنے پھولنے کے مواقع ملیں۔ لیکن انیسویں اور بیسویں صدی کی فرد نواز تحریکوں نے کچھ ایسے موقف اختیار کیے جن میں فرد کا دنیا میں آ جانا ہی اس بات کی ضمانت بن جاتا ہے کہ اسے معاشرہ سب کچھ فراہم کرے ، یعنی فرد کو جنم دینے والے والدین اور خاندان سے معاشرہ یہ پوچھنے کا حق ہی نہیں رکھتا کہ انہوں نے کس اصول اور تیاری کے تحت بچے پیدا کئے ؟ معاشرہ بالغ فرد کی کفالت کو بھی مشروط نہیں کر سکتا یعنی معاشرہ کو یہ حق نہیں کہ کفالت کے عوض فرد کو اسکی مرضی کے خلاف کام پر مجبور کرے۔۔۔۔

اسلامی شریعت کے مطابق زیادہ بچے پیدا کرنا مسلمان کے لئے سعادت ہے اور ہر پیدا ہونے والے مسلم بچے کا رزق الله کے پاس ہے ، جبکہ غیر مسلم بچے کے والدین کو نہ صرف اپنے بچوں کی کفالت خود کرنی ہوتی ہے بلکہ بیت المال کو اضافی ٹیکس ادا کرنے ہوتے ہیں تاکہ مسلم بچوں کو وہ رزق پہنچ سکے جس کا اللہ نے وعدہ کر رکھا ہے۔ جب مسلم آبادی زیادہ بڑھ جائے تو ارد گرد کی آبادیاں فتح کر کے اسلام کا دائرہ پھیلانا ایک عمدہ حل بن جاتا ہے۔ یعنی کچھ مسلمان راہ حق میں شہید ہو کر جنت کے بے حساب رزق کے حقدار ہو جاتے ہیں، اور باقی بطور غازی نئے وسائل سے بہرہ ور ہو کر الله کا شکر ادا کرتے ہیں۔ عیسائیت اور اسلام میں محروم افراد کے لئے خیرات فی سبیل اللہ کا راستہ بھی موجود ہے جس کے ذریعے سے محروم کو رزق اور مالدار کو آخرت مل جاتی ہے۔ ہندو مت میں بھی بھیک اور خیرات کا دروازہ کھلا ہے۔

لیکن مسلہ تو جدید معاشروں کو در پیش ہے جو انسانی حقوق کے علمبردار ہیں اور نہ تو فاتح اور ذمی کے تصور کو مانتے ہیں نہ ہی خیرات کے ادارے کو۔۔۔۔ ان معاشروں کے سامنے یہ کٹھن سوال ہے کہ کام نہ کرنے والے افراد اور اقوام اور انکے غیرذمہ داری سے پیدا کئے جانے والے بچوں کی پرورش اور تعلیم کی ذمہ داری عالمی گاؤں کے متحرک اور تخلیقی لوگوں پر کیوں ہے؟ یعنی محنت کرنے والے اور پرفارم کرنے والے انسانوں کی تخلیق اور کمائی سے ان بچوں اور افراد کی کفالت کیوں کی جائے ؟۔۔۔۔۔۔ دوسری بات یہ کہ اس عالمی گاؤں میں ان گنت لوگ ایسے ہیں جو یا تو مستقبل کے سنگین مسائل کے نام تک سے واقف نہیں یا نظریاتی طور پر مسائل کو تسلیم ہی نہیں کرتے۔ مثَلاً گھٹتی ہوئی فی کس زرعی زمین ، کم پڑتے آبی ذخائر ، خلا سے آنے والی ناگہانی تباہی ، ممکنہ جوہری جنگوں کی تباہی اور وبائین۔ کیا ان لوگوں کی لاتعلقی کے باوجود باقی لوگوں پر فرض ہے کہ تمام انسانی نسل کے مشترکہ مستقبل میں ان لوگوں اور قوموں کو حصہ دار بھی تسلیم کریں لیکن ان کی انفرادی یا قومی آزادی میں دخل بھی نہ دیں ؟

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



+ 5 = six

%d bloggers like this: