منتخب اشعار کاشف بٹ کے قلم سے

November 11, 2012 at 18:18

اجائز  (کاشفؔ بٹ)۔
خبر ہے شہر کی اونچی عمارت سے
کسی گبرو جواں نے خودکشی کی ہے
خبر ہے شہر والوں کے رویے نے
اُسے تنہائی بخشی تھی
نفاست اور وجاہت سے مرقع وہ جواں
اِس شہر کے بونوں کی آنکھوں میں کھٹکتا تھا
اُسے کیا علم تھا اِس شہر کے بونے
اُسے تسلیم کرنے سے گریزاں میں
سو اُس کے بخت میں رکھا ہوا ماضی
اُسے فردا کی حد چھونے نہیں دیتا
اُسے جب شہر کے بونوں نے پہلی بار
ناجائز کہا تھا
اُس نے اپنی ماں سے پوچھا تھا
مرا باپو کہاں ہے؟؟
ماں طوائف تھی
مگر ماں تھی……
اُسے سینے سے چمٹا کے فقط یہ بول پائی
میں ہی تیری ماں
میں ہی باپو!!
مگر یہ شہر والے تو مجسم بُت کے گرویدہ ہیں
وہ یہ بات اب کیسے سمجھ پائیں
جسے ماں نو مہینے کوکھ میں پالے
وہ ناجائز نہیں ہوتا……
وہ ناجائز نہیں ہوتا……
میرا ہونا آدھا سچ ہے
(کاشفؔ بٹ)
________________________________________________
دور خلا میں ایک ہیولا
ہر اِک بندش سے رہا ہو کر
دائیں بائیں رقص کرے ہے
اور یہاں مجھ سا خاک نشیں
نامعلوم کشش سے بندھا
دھرتی ماتا کے سینے پر
غم کی ڈوری کھینچ رہا ہے
میرا تخیل دور خلا میں
روز اُسے ملنے جاتا ہے
اور پلٹ کے جب آتا ہے
دھرتی ماتا کے سینے پر
نقشِ آئندہ بناتا ہے
لیکن سارے نقش ادھورے
آنے والے کل کا منظر
آج لکھا تو جا سکتا ہے
لیکن پیش نہیں ہو سکتا
جس بندش کی ڈور ہلے تو
زیست اُلجھ کے رہ جاتی ہے
جانے کل کا منظر نامہ
اُس بندش کی ہمراہی میں
کتنی ڈوریں شامل کر دے
پیہم میں یہ سوچ رہا ہوں
نقش مکمل کون کرے گا
میرا ہمسر کون بنے گا
دور خلا سے ایک ہیولا
میری جانب دیکھ رہا ہے
میرا تخیل بول رہا ہے
میرا ہونا آدھا سچ ہے
اس آدھے سچ کی سولی پر
میں نے سدا لٹکے رہنا ہے
دور خلا میں ایک ہیولا
میری حیرت پر ہنستا ہے
اُس کو شاید علم ہے کاشفؔ
میرا ہونا آدھا سچ ہے
____________________________________
    کیوں
(کاشفؔ بٹ)
یہ جو ملبہ پڑا ہے
درحقیقت ایک مفلس کا مکاں ہے
آج جس کی دخترِ اصغر کی رخصت کی گھڑی ہے
ایک عشرہ قبل بھی ایسا ہوا تھا
باپ نے جب دخترِ اکبر کو اپنے ہاتھ سے رخصت کیا تھا
مفلسی اپنے مقامِ اوج پر تھی
آج بھی حالات لگ بھگ جوں کے توں ہیں
مفلسی اپنے مقامِ اوج پر ہے
دخترِ اصغر کی رخصت کی گھڑی ہے
باپ بیٹی کو تسلی دے رہا ہے
ماں کبھی کی مر چکی ہے
ماں اگر زندہ بھی ہوتی
تو فقط اتنا ہی کہتی
میری بیٹی! جا تجھے سسرال کا جیون مبارک
تیرا شہزادہ گلی میں منتظر ہے
اب تجھے اُس کی رفاقت میں یہ جیون کاٹنا ہے
رب تجھے جیون کی ساری نعمتیں دے
گرچہ اب ماں مر چکی ہے
لیکن اشکوں کے تسلسل میں مسلسل
باپ بیٹی کو دلاسہ دے رہا ہے
دخترِ اصغر مسلسل رو رہی ہے
وہ دلاسہ خاک سمجھے
اُس نے تو پوری طرح سے
زندگی کا روپ دیکھا ہی نہیں ہے
چھ بہاریں دیکھنے والی وہ کم سن
آج ستر سال کے بوڑھے کی ڈولی میں چلی ہے
گاؤں کی اونچی حویلی کی طرف
کیوں……؟؟
________________________________________________
ساہوکار
(کاشفؔ بٹ)

گزشتہ صبح کا اخبار کہتا تھا
سیاست میں نئی تبدیلی آئی ہے
حکومت اپنے سب وعدے نبھائے گی
یہ مشکل وقت بس اب جانے والا ہے
خبر تھی مفلسی دم توڑ جائے گی
مری دھرتی کا دامن چھوڑ جائے گی
مگر یہ اِک خبر تھی……
آج کے اخبار نے جس کی حقیقت کھول دی ہے
آج کے اخبار نے سُرخی لگائی ہے
گذشتہ شب کسی مفلس نے
اپنی لاڈلی بیٹی کو گروی رکھ کے
ساہوکار سے گندم اُٹھائی ہے
________________________________________________ 
غزل
(کاشفؔ بٹ)
رحم کی التجا نہیں کرتے
منتِ ناخدا نہیں کرتے

وہ قیامت کو باندھ رکھتے ہیں
پردۂ چشم وا نہیں کرتے

ہم وہ صیاد ہیں جو آہوں کے
پنچھیوں کو رہا نہیں کرتے

سام راجی فسوں سے کون لڑے
معجزے اب ہوا نہیں کرتے

یہ بھی الحاد کا کرشمہ ہے
ہم کبھی بددعا نہیں کرتے

ایسی کیا بات ہو گئی کاشفؔ
وہ مرا سامنا نہیں کرتے
________________________________________________
    حیرت
(کاشفؔ بٹ)
زیست اِک ایسی حیرت ہے جو
صبحِ مقدس کے ماتھے پر
بیتی شب کا نوحہ لکھ دے
________________________________________________
غزل
(کاشفؔ بٹ)
زمزمہ ہائے التفات جدا
میں جدا میری کائنات جدا

چھڑ گئی جنگ دیوتاؤں میں
خون روتا ہے سومنات جدا

یار لوگوں کی مہربانی سے
ہو نہ جائیں کہیں یہ ہات جدا

ایسی وحشت ہے کیا مرے اندر
ہو گئی آج مجھ سے رات جدا

مل گئے خواب میرے مٹی میں
کیسے ہوں گے نوادرات جدا

مدتوں بعد آشکار ہوا
تیرے میرے تصورات جدا
________________________________________________
غزل
(کاشفؔ بٹ)
عالمِ ناصبور سے پہلے
میں کہاں تھا ظہور سے پہلے

ایک عرصہ زمین چومی ہے
آسماں نے غرور سے پہلے

آنے والے کو جانتا ہوں میں
مل چکا ہوں حضور سے پہلے

امن کا راج تھا یہاں کاشفؔ
نیتوں کے فتور سے پہلے
________________________________________________
غزل
(کاشفؔ بٹ)
مطربہ ساز جگائے کہ پریشاں ہے دل
تار کوئی تو ہلائے کہ پریشاں ہے دل

میرے آنگن میں اُترتی ہی نہیں کوئی کرن
چھا گئے شام کے سائے کہ پریشاں ہے دل

صدمۂ ہجر ہوا کوہِ گراں میرے لیے
کون یہ بار اُٹھائے کہ پریشاں ہے دل

جانتا ہوں وہ نہ آئے گا مگر میرا خدا
معجزہ کوئی دکھائے کہ پریشاں ہے دل
________________________________________________
غزل
(کاشفؔ بٹ)
ایسی پڑی ہے دھول پروں پر جمود کی
کرنے لگا ہے بات پرندہ حدود کی

یہ شوق ہائے دید بھی کیسے عجیب ہیں
آئینوں کو تلاش ہے تیرے وجود کی

کل شب طوافِ چاہِ ذقن میں گزر گئی
محفل رہی عروج پہ رقص و سرود کی

لاتا ہے بزمِ یار سے ماحول کی خبر
سب قاصدوں سے تیز ہے رفتار دود کی
________________________________________________
غزل
(کاشفؔ بٹ)
ایسا نہیں اخبار بک رہا ہے
اِس دیس کا کردار بک رہا ہے

کیا پھر کوئی تقسیم ہو رہی ہے
ہر شخص کا گھر بار بک رہا ہے

انصاف کیا مفقود ہو گیا ہے
میزان میں معیار بک رہا ہے

جلتے ہوئے خیمے پکارتے ہیں
احباب کا کردار بک رہا ہے

کاشفؔ سپہ میدان میں کھڑی ہے
لیکن سپہ سالار بک رہا ہے______________________________________

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



− 4 = zero

%d bloggers like this: