ملا ڈھکن فسادی (حصہ دوم)۔

August 9, 2013 at 02:15

عدنان خان؛

ملا ڈھکن کی حالت آزمائش پر مجھے بہت ترس آیا۔ "ملا صاحب، آپ اس آزمائش میں کاہے کو پڑتے ہیں۔ چلیں آپ کو لے کر فوڈ سٹریٹ چلتا ہوں۔ وہاں قلعے کے ساتھ بیٹھ کر آرام سے کھائیں گے۔ موسم بھی اچھا ہے اور وہاں رونق بھی دیکھ لیں گے" میں نے کہا۔

میں اپنی ننھی منی سی سوزوکی گاڑی میں بیٹھا اور ملا ڈھکن کے لیے دروازہ کھولا۔ وہ گاڑی میں بیٹھے اور گاڑی اک صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے ان کی طرف خوب جھک گئی۔ "انتہائی نابکار گاڑی ہے۔ کسی مشرک کی بنائی ہوئی گاڑی سے اور کیا توقع کی جا سکتی ہے۔ مومنین سے اسی طرح گھبراتے ہیں یہ کفار اور ان کے بنائے ہوئے آلے" ملا ڈھکن خفت مٹاتے ہوئے بولے۔

"پرواہ مت کریں مولانا۔ پچھلی بقر عید پر اس کی ڈگی اٹھا کر اور سیٹ نکال کر اس میں قربانی کی گائے لاد چکا ہوں۔ یہ گاڑی کافی وزن اٹھا لیتی ہے"۔ میں نے ان کو تسلی دی۔باقی سفر خاموشی سے کٹا۔ وہ گھبرائے ہوئے تھے اور سانس بھی آہستہ آہستہ لے رہے تھے۔ بر خلاف عادت ہر چند لمحوں کے بعد بلا وجہ کھانسنے کنکھارنے اور تھوکنے چھینکنے سے بھی پرہیز کر رہے تھے۔ لگتا تھا کہ انہیں ایسی کسی بھی حرکت سے چلتی گاڑی کے زمین بوس ہونے کا خدشہ تھا۔

گاڑی پارک کی اور کسی مناسب میز کی تلاش شروع کی۔ ملا ڈھکن کو ایک اچھے منظر والی میز پر بیٹھنے کا اشارہ کیا تو وہ بولے "آخر میں بیٹھتے ہیں۔ شروع میں بہت رش ہو گا"۔
"ملا صاحب وہاں تو فسق و فجور کا بازار گرم ہو گا۔ بازار حسن کے پاس بیٹھ کر کیا کریں گے آپ؟"
"برادر شاید کسی کے مقدر میں ہو کہ ہمارے ہاتھوں گناہوں سے تائب ہو جائے"۔ وہ بولے اور ایک بالاخانے کے قریب ہی ایک میز پر جا بیٹھے۔ بیرا آیا توبولے "بھیا لپک کر ایک مرغ مسلم، دو کلو کڑاہی، ایک جگ لسی، اور درجن بھر روغنی نان لے آؤ۔ باقی ان صاحب سے بھی پوچھ لو کہ اپنے لیے یہ کیا پسند کریں گے "۔

میں نے بیرے کو اپنے لیے ایک پلیٹ کباب لانے کا کہا۔ ہم بازار کی رونق دیکھنے لگے۔ سورج غروب ہونے کو ہی تھا لیکن ابھی روشنیاں جلانے کی نوبت نہیں آئی تھی۔ کچھ فاصلے پر ایک بالاخانے کے سامنے ایک سازندہ بیٹھا اپنے ستار کی مرمت کی کوشش کر رہا تھا۔ ایک ہری پگڑی والے مولانا اس کے پاس سے گزر کر سیڑھیاں چڑھنے لگے۔

mullah-dukhan2"استغفراللہ۔ اب اللہ کا نام لینے کے دعوے دار بھی فسق و فجور میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ امت پر زوال نہیں آئے گا تو اور کیا ہوگا۔یہی سب دین میں بگاڑ کا باعث ہیں۔ ویسے یہ ہر وقت مدینے کا نام لیتے ہیں۔ مدینے میں ایسی حرکت کرتے تو سنگسار کر دیے جاتے۔ افسوس صد افسوس"۔ ابھی ان کا اظہار افسوس جاری تھا کہ ایک کالی پگڑی والے حضرت بھی اسی بالاخانے کا رخ کرتے نظر آئے۔ "افسوس! کوئی تعجب نہیں ہے اگر ان اماموں کے پیچھے کھڑے ہونے والی نوجوان نسل اگر بے راہ روی کا شکار ہو رہی ہے۔ اگر بنیاد کی اینٹ ہی ٹیڑھی ہو گی تو عمارت میں کجی تو آئے گی ہی۔ یہ سب جہنم کی راہ پر چل رہے ہیں"۔اسی اثنا میں بیرا کھانا سامنے رکھ گیا اور دوسری طرف ایک کالے جبے و دستار میں ملبوس ایک بزرگ سیڑھیاں چڑھنے نظر آئے۔ ملا ڈھکن نے غصے میں کچھ کہنے کا ارادہ ہی کیا تھا کہ میں بولا "مولانا کھانا کھائیں۔ یہ سب تو یہاں نظر آتا ہی رہے گا"۔"کیسے کھانا کھا سکتے ہیں اس فسق و فجور کے عالم میں۔ دین کی تباہی نظر آ رہی ہے اور تم کھانے پر اصرار کر رہے ہو۔دیکھا تم نے ان روافض کا حال۔ پھر تم اصرار کرتے ہو کہ یہ مسلمان ہیں۔ یہ کفار ہیں کفار۔ کبھی متعہ کو جائز کہتے ہیں اور کبھی کوٹھوں کا رخ کرتے ہیں۔ یہ ہوس کے پجاری ہیں۔ نفس کے غلام ہیں یہ"۔

اتنی دیر میں ایک اور مولانا، جن کو میں ملا ڈھکن کے ہی مسلک کے ایک عالم کے طور پر جانتا تھا، اسی دروازے میں داخل ہوتے نظر آئے۔ میں نے استفہامی نظروں سے ملا ڈھکن کی طرف دیکھا تو وہ بولے "لگتا ہے کہ کوئی مصیبت کی ماری شدید علیل ہے اور دم درود کے لیے ایک عالم کو اس نے بلایا ہے۔ یا ممکن ہے کہ اس کا آخری وقت آگیا ہو اور اب اسے جہنم سامنے صاف نظر آ رہی ہے تو توبہ کرنا چاہتی ہو۔ تم کھانا کھاؤ۔ کھانا سامنے رکھا ہو تو جماعت میں شامل ہونے کی جلدی کرنے کی بجائے کھانا کھا لینے کا حکم ہے"۔یہ کہہ کر وہ سامنے پڑے کھانے کی طرف متوجہ ہو گئے۔ابھی میرے لیے آئی ہوئی کبابوں کی آدھی پلیٹ بھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ اپنا مرغ مسلم اور کڑاہی صاف کرنے کے بعد وہ میری پلیٹ میں بھی شروع ہو گئے۔
"مل بانٹ کر کھانے سے محبت بڑھتی ہے" انہوں نے ازراۂ لطف فرمایا۔

میں نے پلیٹ ان کے سامنے سرکاتے ہوئے کہا "مولانا ماشااللہ عقائد کے لحاظ سے تو آپ ایک صحیح العقیدہ صالح سلفی ہی، پھر آپ کا نام روافض کے سے انداز میں صہیب عباس کیوں رکھا گیا ہے؟ کیا آپ کے اجداد رافضی تھے؟ ایسے نام کے ساتھ آپ کوئٹہ یا گلگت گئے تو آپ کا آئی ڈی کارڈ دیکھ کر آپ کو تو وہیں رافضی قرار دے کر ڈھیر کر دیا جائے گا"۔

وہ بولے "الحمداللہ سو پشتوں سے ہمارے اجداد اہل سنت ہی ہیں۔ ہوا ایسا کہ میری پیدائش سے کچھ پہلے ابا مرحوم کراچی منتقل ہو گئے۔الحمداللہ رہائش تو اہل سنت کے محلے میں ملی، لیکن ان کا کاروبار ایک ایسے علاقے میں تھا جہاں روافض کی اکثریت تھی۔ ان کو اہل سنت جان کر کوئی ان کی دکان کے قریب بھی نہیں آتا تھا۔ انہیں دنوں میری پیدائش ہوئی تو انہوں نے میرا نام صہیب عباس رکھ دیا اور عقیقے کی دیگیں اپنے بازار میں اتروا دیں۔ الحمداللہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی اور عم رسول اللہ کے نام کی نسبت مجھ ناچیز کے نصیب میں لکھی تھی۔ اب اگر کسی غلط فہمی کی وجہ سے یہ مشہور ہو گیا کہ وہ عقیقے کی نہیں بلکہ حضرت امام حسین کی نیاز کی دیگیں تھیں اور ابا مرحوم شیعان علی میں سے تھے، تو اس میں ان کا کیا قصور۔ انہوں نے تو کبھی اس علاقے میں اس بات کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔ بہرحال، میری پیدائش ابا مرحوم کے لیے بہت مبارک ثابت ہوئی۔ ان کا کاروبار دن دوگنی رات چوگنی ترقی کر گیا۔ گو کہ وہ کفار کا علاقہ تھا، لیکن وہ بھی طرح طرح کے طغرے آ آ کر ابا مرحو م کی دکان میں آویزاں کر جاتے۔ تحفہ قبول کرنا مستحب عمل ہے۔ ابا مرحوم نے انہیں کبھی نہ روکا۔ لیکن گھر واپس آ کر اللہ کے فضل سے وہ روزانہ دس رکعات نماز شکرانہ ادا کرتے کہ اللہ تعالٰی نے انہیں اہل سنت کے گھر پیدا کیا اور وہ شرک سے بچے رہے"۔

"بے شک سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں" میں نے کہا۔ "دریں چہ شک" وہ بولے اور اشارے سے بیرے کو بل لانے کا کہا۔ اسے محض اتفاق ہی سمجھنا چاہیے کہ اس اشارے کے بعد وہ ٹائلٹ چلے گئے اور اسی وقت ان کی وہاں سے واپسی ہوئی جب بیرا بل کی رقم لے کر واپس ہوا۔

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



3 − = two