ملالہ ڈرامہ بےنقاب

October 13, 2013 at 07:30
ندیم پراچہ، مترجم امام دین؛

ستمبر 2012ء میں پاکستانی کے شمالی علاقہ کی حسین وادی سوات کی ایک پندہ سالہ لڑکی کی خبر عام ہوئی کہ اسے طالبان نے سر میں گولی مار دی ہے۔

اس حملے کی خبر کو ملکی و غیر ملکی میڈیا نے خوب اچھالا اور تشہیر کرنے میں ہر چینل ایک دوسرے سے سبقت لے جانے میں پیش پیش تھا۔ پہلے پاکستانی اور پھر انگلینڈ کے ڈاکٹروں نے ملالہ کا علاج کیا اور اس کی حالت کو پے در پے کئی آپریشن کر کے خطرے سے باہر نکالا۔

آج ملالہ انگلینڈ میں رہتی ہے لیکن اپنی خواتین کے حقوق بالخصوص ان علاقوں جہاں جہالت عروج پر ہے اور شدت پسندی کا دور دورہ ہےاور دہشت گرد لڑکیوں کے سکول بم دھماکوں میں اڑا رہے ہیں، کے لیے آواز اٹھانے کے لیے مُصر اور پرعزم ہے۔

لیکن یہ تو ایک یکطرفہ کہانی ہے جسے مغربی میڈیا اور کچھ مقامی چینل چند ٹکوں کے عوض عوام کو بتا رہے ہیں۔ملالہ کو لگنے والی گولی کی تمام تر کہانی مغربی میڈیا کے توسط سے عام ہوئی۔

اپریل میں چند اخبار نویس پانچ ماہ کے لیے وادیٔ سوات میں اس معمے کو کھوجنے گئے۔ ان کی مشترکہ کاوش میں یہ بے شمار باتیں طشت از بام ہوئیں جن کے مکمل ثبوت بھی مہیا کیے جا سکتے ہیں اور یہ کہانی کا رخ یکسر بدلتے اور تصویر کا دوسرا پہلو نمایاں کرتے نظر آتے ہیں۔

یہ کہانی ملالہ کے بچپن سے شروع ہوتی ہے جب وہ کان کے درد سے ایک کلینک پر گئی تو وہاں اس کا ڈی این اے بھی لیاگیا۔

اس ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ جب یہ دعویٰ منظر عام پر آئیا کہ اسے گولی لگی ہےتو مجھے یاد آئیا کہ اس لڑکی کا ڈی این اے سیمپل میں نے ایک بوتل میں محفوظ رکھا ہوا ہے کیونکہ یہ میرا مشغلہ ہے۔سنسنی خیز انکشاف یہ ہے کہ وہ یورپی نسل کی گوری لڑکی ہے نہ کہ پاکستانی۔

اس واقعے کے بعد ڈاکٹر نے ملالہ کے باپ کو پیغام بجھوایا کہ وہ جانتا ہے کہ ملالہ اصل میں کون ہے تو ملالہ کا باپ دم بخود رہ گیا اور منت سماجت کرتے ہوئے اس معاملے کو دبانے کا مطالبہ کیا۔ ڈاکٹر نے اس شرط پر خاموشی کا وعدہ کیا کہ اگر وہ ملالہ کے بارے میں سب کچھ سچ سچ بتائے گا تو ہی وہ یہ راز، راز رکھے گا۔

ملالہ کے باپ نے اس ڈاکٹر کو بتایا کہ اس لڑکی کا اصل نام جین ہے اور وہ ہنگری میں 1997 کو پیدا ہوئی۔ اس کے اصل ماں باپ عیسائی مشنری سے وابسطہ ہیں جو 2002ء میں سوات کے سفر میں ملالہ کویہیں چھوڑ گئےجب وہ خود خفیہ طور پر عیسائی ہو گیا تھا۔

جب ان اخبار نویسوں نے ڈاکٹر سے پوچھا کہ وہ اب کیوں اس راز سے پردہ اٹھا رہا ہے تو اس نے کہا کہ اب اس کا شک یقین میں بدل گیا ہے کہ ملالہ کو سوات میں چھوڑ کر جانے والے لوگ پاکستان اور اسلام کے دشمن ہیں۔

اس نے یہ بھی بتایا کہ وہ یہ بھی ثابت کر سکتا ہے کہ جس نوجوان نے ملالہ پر گولی چلائی تھی وہ بھی نہ تو پشتون تھا نہ ہی طالبان۔ کیونکہ اس کا ڈی این اے بھی ایک کیس کے دوران اکٹھا کرنے کا اتفاق ہوا تھا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ غالباً اٹلی کا باشندہ ہے۔ مزید براں اس ڈاکٹر نے ان اخبار نویسوں کو ڈی این اے کے وہ نمونے بھی دکھائے۔

ان نمونوں کے نتائج اور یہ حقائق ڈاکٹر نے 2012 میں آئی ایس آئی کو ای میل کے ذریعے بھیجے۔ اس کے کچھ دن بعد اس کے کلینک میں پولیس کا چھاپہ پڑا جب وہ سعودی عرب شاہی خاندان کے کان درد کے علاج کے سلسلے میں گیا ہوا تھا۔پاکستان میں اس کے سٹاف پر پولیس نے تشدد کیا اور پوچھا کہ ان نمونوں میں کیا رکھا ہوا ہے۔

اس کے کچھ ماہ بعد ایک آئی ایس آئی کا کرنل اس سے ملنے آیا اور پولیس کے چھاپے کی معذرت کرتے ہوئے بتایا کہ آئی ایس آئی کو ملالہ کی اصلیت کا بخوبی علم تھا۔ کچھ تق و دو کے بعد ڈاکٹر اخبار نویسوں کو اس کرنل کا موبائل نمبر دینے پر بھی راضی ہو گیا۔

تاہم رابطہ کرنے پر اس کرنل نے اس واقعے سے لاعلمی کا اظہار کیااور معاملہ یہ طے پایا کہ اس کا نام شائع نہیں کیا جائے گا۔ اس کا حوالہ ایکس ماسٹر کے نام سے دیا جائے۔ایکس ماسٹر ان اخبار نویسوں سے بند ہوجانے والے سکولوں میں ملا اس نے ملاقات میں چہرے پر سپائیڈر میں کا ماسک چڑھایا ہوا تھا۔

اس نے بتایا کہ حب الوطنی سے مغلوب ہو کر اب وہ مزید اس راز کو اپنے سینے میں نہیں رکھ سکتا اورچاہتا ہے کہ حقیقت عوام تک پہنچ جائےکیونکہ ایسا ایک نہ ایک دن ہونا ہی تھا اور یہ اس کے باپ کی نصیحت بھی تھی کہ بڑی طاقت کے ساتھ بڑی ذمہ داری بھی آتی ہے۔ایکس ماسٹر سے اخبار نویسوں کو ثبوت سمیت کچھ نئے اور اچھوتے حقائق ملے۔

اس کے مطابق ملالہ پر گولی چلنے کا واقعہ خفیہ ادروں نے بنایا۔ یہ سارا منصوبہ پاکستانی اور امریکی خفیہ اجنسی نے مل کر رچایا تاکہ شمالی وزیرستان میں فوج کشی کی راہ ہموار کی جاسکے۔یہ مکمل طور پر ایک ڈرامہ تھا۔

اس کرنل سے سوال پوچھا گیا کہ اس نے وزیرستان پر حملے اور فوج کشی کا لفظ کیوں استعمال کیا وہ تو پہلے ہی پاکستان کا حصہ ہے۔ اس کے جواب میں اس آفیسر نے بتایا کہ وزیرستان پاکستان کے ہاتھ سے نکل چکا ہے وہاں اب طالبان کی خودساختہ حکومت ہے۔وہاں پر پاکستان کی حکومت پہلے بھی کبھی نہ تھی اور اس کو علاقہ غیر کہا جاتا تھا۔ یہ بات حکومت نے کبھی بھی عوام کو نہیں بتائی۔ اس خطے میں سونے، چاندی، ہیرے، کوئلے، تانبے اور پیٹرولیم کے بے پناہ ذخائر ہیں اور ڈائینوسار کے فوسلز بھی ہیں جبکہ امریکی انہی خزانوں کے لیے اس علاقے کی خاک چھان رہے ہیں۔

اخباری رپورٹرکے ثبوت مانگنے پر فوجی نے کچھ تصاویر دکھائیں جس میں ڈائینوسار کی ہڈیاں واضح طور پر دیکھی جاسکتی تھیں۔یہ تصاویر طالبان کے محکمہ ارکیالوجی نے کھینچی تھیں پھر ان کا مطالعہ طالبان کے جیالوجی کے محکمے کے سکالروں نے کیا اور اسی نتیجے پر پہنچے کہ یہ خطہ قدرتی وسائل سے مالہ مال ہے۔

جب یہ پوچھا گیا کہ کیا ثبوت ہے کہ ملالہ پر گولی چلانے کا واقعہ امریکہ اور پاکستانی ایجنسیوں نے رچایا تو اس کرنل نے جیب سے کچھ کاغذات نکالے اور کہا کہ یہ وہ ثبوت ہے جو طالبان کے کوانٹم فزکس کے شعبے نے ڈی کوڈ کیے ہیں۔ ان میں ٹویٹر پر علی اور ریمنڈ ڈیوس کی اس منصوبے کی ٹویٹس عکس تھیں۔

ریمنڈ ڈیوس امریکہ کی سی آئی اے کا ایجنٹ جبکہ علی لاہور میں آئی ایس آئی کا خفیہ کارکن تھا۔ ان ٹویٹس میں انہوں نے اس واقعے کی منصوبہ بندی کی۔ ان ٹویٹس کو سونامی خان نے صوابی میں پکڑا۔

ان ٹویٹس کی روداد کچھ یوں ہے۔
ریمنڈڈیوس:ہائے علی، کیسی گزر رہی ہے؟
علی: مزے میں یار
ریمنڈڈیوس:قطر آنے کا کوئی ارادہ بنا؟
علی: ہی ہی بہت جلد میں اپنا میڑک کر چکا ہوں بڑی مشکل سے ہوا ہے
ریمنڈڈیوس:ہاہا یہ تو ہے

آفیسر نے اس موقعے پر بتایا کہ سونامی خان بھی بیچ میں کود پڑا

سونامی خان: ایجنٹوں مجھے پتا ہے کہ تم دونوں کون ہو، اسلام دشمن اور پاکستان دشمن کمینو! علی اور ریمنڈڈیوس
علی:موتیاں والیو، تعارف شعارف توکراؤ اپنا ، ایوائیں کیوں لُچ تل رہے ہو اپنا
سونامی خان: چپ کر بدتمیز لبرل فاشسٹ۔ عمران خان ہمارا ہیرو ہے اور تم کمینو نے این اے 250 میں دھاندلی کی ہےاور ایک ارب جعلی ووٹ بھگتا دیے ہیں۔ لیکن انشااللہ نیا پاکستان اور تبدیلی آکر رہے گی۔

اس آفیسر نے یہ بھی بتایا کہ اس کوڈ کو مشہور زمانہ کوڈ بریکر اوریا جان مقبول نے توڑا جو دوسری جنگ عظیم میں بھی کارہائے نمایاں انجام دے چکا ہے۔اس نے اخبار نویسیوں کو کوڈ ڈی کوڈ کرنے کی ایک کتاب بھی دی جسے سونامی خان نے لکھا تھا اور اس سارے واقعے کی تصدیق اس ڈاکٹر، آفیسر اور اوریاجان مقبول سے ہوتی ہے۔

اس کتاب کا عنوان تھا
“ایک نام نہاد گولی مارنے کی کتھا جسے ایک لبرل فاسشٹ نے لبرل کو مار؛ کمینو!”

اس میں کچھ واقعات کی تفصیل حسب ذیل ہے؛

یکم اکتوبر 1997:
ملالہ ہنگری میں پیدا ہوئی اور اس کا نام جین رکھا گیا۔

4اکتوبر 2002:
اس کے والدین کو سی آئی اے نے بھرتی کیا اور انہیں عیسائی مشنری کے فرائض انجام دینے کے کورسز کرائے گئے۔

7اکتوبر 2003:
یہ سب لوگ پاکستان آئے اور سوات میں این جی او کے کارکن بن کر گئے۔ان کو آئی ایس آئی کا تعاون بھی حاصل تھا جہاں ملالہ کا والد عیسائی بن گیا۔ جین کو وہیں ملالہ کے طور پر چھوڑ کر اس کے اصلی والدین واپس چلے گئے۔

30اکتوبر2007:
ملالہ نے بلاگ لکھنا شروع کیا جس میں جماعتی بھائیوں کو انجیل پڑھنے کی ترغیب دی۔

21اکتوبر2011:
جماعتی بھائیوں نے ملالہ کو اپنا زہریلہ پراپیگنڈا بند کرنے کی درخواست کی اور اپنا ہوم ورک کرنے کا مشہورہ بھی دیا۔

یکم اکتوبر 2012:
سی آئی اے نے ایک پشتوبولنے والے اٹالین کو بھرتی کیاجو نیویارک میں رہتا تھا۔ اسے اس سارے ڈرامے کی تربیت وہیں دی گئی۔

7اکتوبر 2012:
امریکی سی آئی اے نے یہ پلان پاکستان کی آئی ایس آئی کو بتایا۔ آئی ایس آئی نے بھی اس کی تائید کی۔

11اکتوبر 2012:
اٹلی کا باشندہ رابرٹ پاکستان پہنچتا ہے جہاں اسے سوات میں ایک ازبک کے طور پرلے جائیا جاتا ہے۔

12اکتوبر 2012
رابرٹ کو ایک جعلی اور صرف دھماکہ کرنے والی بندوق دی جاتی ہے جسے لے کر وہ ملالہ کی سکول وین کو روک کر اس پر اندھا دھند گولی چلائی۔ وہ ایسی ایکٹنگ کرتی ہے جیسےاسے گولی لگ گئی ہواور اپنے ہاتھ میں چھپی ٹماٹو کیچپ کے پیکٹ سے خود کو رنگین کر لیتی ہے جیسے کہ خون نکلا ہو۔ یہ کام اس نے اس کمال مہارت سے کیا کہ ملالہ کے ساتھ بیٹھی شازیہ اور کائینات کو بھی کان و کان خبر نہ ہو سکی کیونکہ وہ عام سی بچیاں تھیں اور بندوق دیکھ کر ہواس کھو بیٹھی تھیں۔ ایک جعلی ایمبولینس بھی اس مقصد کے لیے وہیں تیار کھڑی تھی جو ملالہ کو سیدھا ہسپتال لے گئی۔ دنیا کو صرف یہ بتایا گیا کہ ملالہ کو طالبان نے گولی ماری ہے اور اس کی حالت تشویش ناک ہے۔

میڈیا میں آئی کہانی میں ملالہ کی سہلیاں صرف اس لیے شامل ہوئیں تاکہ وہ مشہور ہو سکیں کیونکہ ان کے رشتوں کی بندش کا مسئلہ چل رہا تھا۔ان سے میڈیا کو یہ بیان دیادلوایا گیا کہ ایک داڑھی والے نے وین رکوا کر ملالہ کا پوچھا اور پھر گولی چلا دی۔

لیکن کہانی اس سے بھی زیادہ دلچسپ ہے۔ آفیسر نے بتایا کہ اصل میں اس شخص رابرٹ نے وین رکوتو لی لیکن عین موقع پر ملالہ کا نام بھول گیااور اس نے ملالہ کو اس کے اصل نام یعنی جین سے پکارا۔ تو ملالہ کی ساتھی لڑکیوں نے حیرت سے ایک دوسرے سے پوچھا کہ یہ جین کون ہے تو رابرٹ کو سمجھ آئی کہ اس سے غلطی ہو گئی ہے۔ ملالہ نے اس موقعے پر چابکدستی سے کام لیا اور کہا کہ کیا تم جنت کا پوچھ رہے ہو۔ پھر اس نے بھی اٹالین میں جواب دیا کہ ہاں بھلکڑ میاں میں ہی ملالہ ہوں اپنا کام جلدی کرو کہیں کوئی گڑبڑ نہ ہو جائے۔ یہ سن کر رابرٹ نے کہا “اوہو ” اور پھر گولی چلا دی۔

میڈیا کو جو لڑکی ہسپتال میں دکھائی گئی وہ ملالہ نہیں تھی۔آفیسر کے موبائل میں ایک مووی بھی اخباری نمائیندوں نے دیکھی جس میں ملالہ سوات کے ایک تفریحی مقام پر موج مستی کر رہی تھی۔

پھر اس آفیسر نے یہ بتایا کہ زخمی ہونے والی لڑکی اسی ڈاکٹر کے پاس پہنچی جہاں اس نے اس کا ڈی این اے لیا جو پچھلے لیے گئے ڈی این اے کے سیمپل سے مختلف تھا اس طرح یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہسپتال پہنچنے والی لڑکی ملالہ نہیں تھی، ملالہ تو تب پارک میں موج میلا کر رہی تھی۔

اس ڈاکٹر کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملالہ کے آپریشن میں وہ بہانے سے چلا گیا اور اس کے کان کی میل لینے میں کامیاب ہو گیا ساتھ ہی ساتھ اس نے اپنے موبائل سے اس لڑکی کی تصویر بھی بنا لی۔ اخبار نویسوں کے اصرار پر یہ تصویر بھی انہیں مل گئی۔

اب ہمیں پختہ یقین ہو چکا ہے کہ ہمارے پاس اتنے زیادہ ثبوت ہیں کہ پاکستانی اور انٹرنیشنل سطح پر اس ڈرامے کو بے نقاب کرنا چنداں مشکل نہیں۔ ہم اس معاملے کا یو این او کے کمیشن سے تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ سچائی سامنے آسکے۔

ڈان پر اصل متن
—DISCLAIMER: The above article is a work of satire and fiction and in no way attempts to depict events in real life.
The article is a work of satire and fiction and in no way attempts to depict events in real life.

Related Posts

Comments

comments

1 Comment

Leave a reply

required

required

optional



7 − six =

%d bloggers like this: