ملائیت کی تازہ نُوسربازی

February 17, 2014 at 00:01 , ,
خاک نشین؛

ویسے تو ملائیت کُل کی کُل نوسربازی اور ٹھگی ہے۔ لیکن عصرِ حاضر میں دین کے نام پر ایک تازہ نُوسربازی کی جارہی ہے۔ پاکستانی طالبان کے مطابق مُلاعمر اُن کے امیرالمومنین جبکہ ملا فضل اللہ خلیفہ ہیں۔

اسلامی تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ امیرالمومنین اور خلیفہ کھبی بھی دو الگ عہدے نہ رہے ہیں۔ جو شخص خلیفہ ہوتا تھا اُس کو ہی امیرالمومنین کہتے تھے۔ یہی سنتِ اصحابِ پیغمبر اور طریقِ اسلافِ اسلامی ہے۔ کیا ایسی نوسربازی طریقِ اصحابہ و اسلاف اور شریعت سے کھُلا انحراف نہیں؟ ملائیت نے دین و شریعت کو اپنے گھر کی لونڈی بنا رکھا ہے۔

یہ طبقہ اپنی شریعت سے بھی نُوسربازی سے باز نہیں آرہا ہے۔ کیونکہ خلیفہ اور امیرالمومنین ایک ہی شخص ہوتا تھا۔ صوبوں میں خلیفہ یا امیرالمومنین اپنے نمائندہ کے طور گورنر کا تقرر کرتا تھا۔ خلیفہ اور امیرالمومنین کسی دور میں بھی دو الگ عہدے نہ رہے تھے۔

حضرت ابوبکر نے اپنے لیے خلیفہ الرسول کا لقب اختیار کیا۔ حضرت عمر نے اپنے لیے خلیفہ الرسول کی بجائے امیر المومنین کا لقب اختیار کیا جبکہ حضرت عثمان نے اپنے لیے خلیفۃ اللہ کا لقب پسند کیا اور ممبر رسول پر ابوبکر و عمر کی طرح دو سیڑھیاں نیچے بیٹھنے کی بجائے نبیﷺ کی جگہ پر بیٹھنا شروع کر دیا۔ اسی طرح حضرت علی نے خود کے لیے امام کا لقب پسند کیا۔ اس تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام القابات ایک ہی عہدے کے ہیں اور ہر حاکم کی اپنی صوابدید پر منحصر تھا کہ وہ اپنے لیے کونسا لفظ پسند کرتا ہے۔

ملائیت کی اس نُوسربازی سے قطعِ نظر طالبان اپنی نیت کا اظہار کررہے ہیں کہ وُہ پاکستان کی سرحدوں اور پاکستان کے وجود اور آئین کو تسلیم نہیں کرتے۔ ایک افغان باشندے ملاعمر کو اپنی مجوزہ شرعی ریاست کا سربراہ مانتے اور اسکے ہر حکم کے پابند ہیں۔ طالبان تو واشگاف انداز میں اپنی نیت کا اظہار اپنے عمل سے کررہے ہیں، مستی کی کیفیت میں تو ہم ہیں جو “راگ مذاکراتی” کی تان ہی ٹوٹنے نہیں دے رہے اور مذاکرات مذاکرات الاپ رہے ہیں۔

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



9 + one =

%d bloggers like this: