مغرب کی ضد میں

خانزادہ؛

مغربی تہواروں سے ہماراپہلا تعارف کالج کی زندگی میں ہوا۔ مدر ڈے پر ہمیں اپنے کالج کے مین گیٹ سے لیکر ایڈمن بلاک تک ہلکے نیلے رنگ میں لکھے ہوئے بینرز اور چارٹ لگے نظر آئے جن پر لکھے ہوئے مختلف نعروں کا خلاصہ یہ تھا کہ مغربی اولاد چونکہ بڑھاپے میں اپنے والدین کاسہارا بننے کے بجائے اُنہیں اولڈ ہاؤسز میں بھیج دیتی ہے لہٰذا مدر فادر ڈے کا ٹوپی ڈرامہ اُنکی ضرورت اور مجبوری ہے۔ اپنے والدین سے مُحبت کا اظہار کرنے کیلئے ایک دن مُتعین کرنا ہماری اعلٰی مشرقی اور مذہبی اقدار کی توہین ہے۔ جس ماں کے قدموں تلے جنت ہو، اُس سے محبت کا اظہارکرنے کیلئے تو زندگی کم پڑجاتی ہے۔ مغربی اولاد پر لگائے جانے والے الزامات اور ہماری ‘اعلٰی اقدار’ کے دعؤوں میں کتنی صداقت تھی (اور ہے)، یہ ایک الگ بحث ہے لیکن بُنیادی نُکتہ یہ تھا کہ ہم مغربی رجحانات کو اس لئے قبُول نہیں کرسکتے کہ ہمارا اپنا اخلاقی نظام اس سے متصادم ہے۔ جن مقاصد کیلئے ایک عُمر وقف کرنے کی ضرورت ہے، اُن کے لئے محض ایک دن مُختص کرنا کہاں کا انصاف ہے؟

آج جبکہ اس بات کو پندرہ سال گُزرگئے، بحث بد ل چُکی ہے۔ شدت پسندوں کے حملے میں زخمی ہونے والی 14سالہ ملالہ کی تعلیم کیلئے کی گئی کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کیلئے پچھلے سال 10 نومبر کو “یومِ ملالہ (ملالہ ڈے)” منانے کا اعلان ہوا تو اس بار ہلکے نیلے بینرزوالوں نے اسکے مقابلے میں “عافیہ ڈے” منانے کی تحریک چلائی اور اس موقعہ پر کی جانے والی مباحثوں میں یہ نکتہ کہیں نہیں آیا کہ کیا “قوم کی بیٹی” کے ساتھ محبت اور عقیدت کے اظہارکیلئے ایک دن کافی ہے؟ 14 فروری کو “حیا ڈے” منانے والوں نے بھی اس نُکتے پر بحث کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ گویا ہم نے بالآخرایک خالص مغربی رُجحان کے سامنے ہتھیا ر پھینک دیے اور “کُچھ اور بھی ہیں کام ہمیں اے غمِ جاناں” کا ورد کرتے ہوئے اپنے عزیزہستیوں اور عظیم مقاصد کیلئے محض ایک دن مختص کرنے کے فلسفے پر ایمان لے آئے۔

1993ء میں جب ناظرہ کی جگہ قرآن کو ترجمے کیساتھ پڑھانا سکولوں میں لازمی قراردیا گیا تو اسلامیات کے اُستاد (جو بقول خود جدی پُشتی مُلا اور مُتاثرینِ رائے ونڈ کے شیدائی تھے) نے ہمیں پہلے پارے کی ابتدائی آیا ت کی تشریح میں بتایا کہ سائنس اورمذہب دو متصادم نظریات ہیں۔ مذہبی تعلیمات سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو دِل سے نتھی کرتی ہیں جبکہ سائنس دماغ کوعقل و شعُور کا منبع سمجھتی ہے۔ اُنکے خیال میں چُونکہ سائنس مُشاہدات اور تجربات کی تابع ہے جبکہ قُرآن کے الفاظ ایک مُطلق حقیقت ہیں لہٰذا سائنس ایک دن اپنے عُروج پر پُہنچتے ہی مذہب کے پیروں میں سر رکھ دے گا۔ موصوف کا خیال تھا کہ دماغ اور سائنس پر بھروسہ کرنا مغرب کی کج روی ہے جبکہ دل اور ایمان پر بھروسہ کرنا ایمان کا تقاضا ہے (ایک روز اُنہوں نے کلاس میں پُوچھا کہ آپ کو دَم اور دوا میں سے کس پر زیادہ یقین ہے تو راقم نے دواکے حق میں ووٹ دیا۔ اُستادِ مُحترم نے خاکسار کی عقل پر تاسّف کا اظہار کرتے ہوئے ایک لمبی لاحول پڑھی!)۔

تاہم آج صُورتحال یہ ہے کہ روایتی مولوی ہوں، رائے ونڈ پرست مُبلغین ہوں یا سوشل میڈ یا پر دندناتے سائبر جہادی، سب سائنسی ترقی کے سامنے بے بسی کی تصویر بنے بیٹھے ہیں۔ جو مولوی صاحب دعوٰی کرتے تھے کہ ماں کے پیٹ میں پلنے والے بچے کی جنس کا علم صرف اور صرف خُدا کو ہوتا ہے، اُنکی اہلیہ بھی الٹراساؤنڈ ٹیکنیشن سے پیشگی خُوشخبری کی فرمائش کئے بنا نہیں رہ سکتیں۔ ہاں، دونوں مولویوں، مولوی باللسان و مولوی بالقلب، کی ضد یہ ہے کہ یہ سب کُچھ تو ہماری مذہبی کتابوں کے توسط سے پہلے ہی اشاروں کنایوں میں بتا دیا گیا تھا مغرب تو سائنس کے ذریعے محض پہیئے کو دوبارہ ایجاد کرنے کی بے وقعت سی مشق کررہا ہے ۔ گویا مذہبی نُکتہ نظرآج خود کو اس لئے ٹٹولنے پر مجبور ہے کہ اُسے سائنس (جی ہاں مغرب کی سائنس) کے پُجاریوں کے سامنے اپنا وجود منوانا ہے۔

بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ آج اگرغُلام، کنیز اور لونڈی جیسے قبیح تصورات ہمارے لئے مکروہ ہوچکے ہیں، تو اسکی وجہ بھی ہماری اپنی مذہبی تعلیمات نہیں۔ مذہبی تعلیمات میں لے دے کے غُلاموں سے “حُسنِ سلوک” کی تعلیم ہی ملتی ہے۔ غُلامی پر پابندی اور اسے ناقابلِ قبول قراردینا انسان کی ترقی پسند سوچ کا کارنامہ ہے۔ غُلامی پر پابندی کیلئے قانون سازی کی ابتداء کا سہرا مغربی اقوام کے سر ہے۔ چُنانچہ جن لوگوں کیلئے غُلامی اوراس جیسی دوسری قباحتوں کو تسلیم کرنا مُمکن نہیں وہ دراصل مغرب کی ترقی پسندی کو تسلیم کرتے ہیں۔

جو رسومات اور تصورات کل تک ہمارے لئے اجنبی بلکہ ناقابلِ قبُول تھے، آج ہمارے پاس اُنہیں اپنانے کے سوا اگر کوئی چارہ نہیں تو کیا یہ ہمارے لئے ایک لمحہِ فکریہ نہیں؟ اگر ہم انسانی شعُور کی ترقی کو تمام عالمِ انسانیت کا مُشترکہ اثاثہ تسلیم کرکے اپنے حصے کے حصُول کیلئے کوشش کرتے تو شاید آج ہمیں تعلیم سے لیکر دفاع تک اپنی تمام ضروریا ت کیلئے دیگر اقوام کیطرف نہ دیکھنا پڑتا۔ ترقی کے اُوپر مغرب کا مُتعصب لیبل لگانے کے باوجود اگر بالآخر ہمیں اسے تسلیم کرنا ہی ہے، تو یہ کام بروقت اور شعُوری طور پر ہونا چاہیئے۔ کیونکہ پسماندگی کا مقدر ترقی کے سامنے ہتھیارڈالنے کے سوا کوئی نہیں۔

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



two − = 1

%d bloggers like this: