معاشرے میں مذہب کی ضرورت

October 23, 2013 at 19:17 ,
مبارک حیدر؛

ہمارے مسلم معاشرے اتنی سنگین ضرورتوں کے باوجود کچھ ایجاد نہیں کرتے۔ کیونکہ ایجاد کی ماں ضرورت نہیں،علم ہے۔ ضرورت اگرعلم کے اوزار سے محروم ہے تو کچھ ایجاد نہیں ہوتا۔ ہم نے علم کو اپنے ایمان کا دشمن قرار دے کر ایمان کی ترقی کو اپنی ترجیح بنارکھا ہے ، لہذا ہم نے تین صدیوں سے اپنی بڑھتی بگڑتی ضرورتوں کا کوئی حل ایجاد نہیں کیا۔

کچھ دوستوں نے اس بیان سے اختلاف کرتے ہوئے لکھا کہ اس سے ایک آفاقی سچائی کی نفی ہوتی ہے کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔ مجھے اس اعتراض کی اہمیت کا اندازہ اس وقت ہوا جب ایک شخص نے میرے بارے میں لکھا کہ جب میں ضرورت کی بجائے علم کو ایجاد کا خالق کہتا ہوں تو میں دراصل بڑی چالاکی سے مارکس کے فلسفہ مادیت کو کمزور کرنے اور اس کی جگہ مذہبی فلسفہ کو بحال کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اس دوست نے بتایا کہ انسان کو ضرورت ہی نے کام کرنے پر مجبور کیا اور اس کے نتیجہ میں زبان اور علم پیدا ہوئے۔ تاہم اس دوست کی توجہ اس طرف نہیں گئی کہ وہ ان گنت حیوان حتیٰ کہ پالتو جانور جن کی ضرورتیں اور اذیتیں انسانوں سے کم نہیں ، آخر کیوں لاکھوں برس میں کوئی زبان اور علم پیدا نہیں کر سکے۔

میں مارکسزم پر اپنا اختلافی نقطہ نظر لکھنے سے ہمیشہ پرہیز کرتا ہوں کیونکہ اس وقت دنیا بھر کے انسان دوستوں کا مقابلہ وسطی صدیوں کی منظم جہالت سے ہے ، جس میں انسان دوست قوتوں کا اتحاد ضروری ہے۔ ایسے وقت میں بعض دوستوں کا مجرد فکری اضطراب مسائل پیدا کرتا ہے اور سماجی حقائق کی روشنی میں غلط ہے۔

ضرورت اور محنت سے متعلق ان سادہ سی سچائیوں پر شاید ہی کسی کو اعتراض ہو۔ مگر حقیقت یہ ہے یہ سچائیاں اور یہ محاورہ کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے ، مارکس کی دریافت نہیں۔ یہ محاورہ صدیوں سے مومنوں اور ملحدوں، عینیت پرستوں اور مادیت پرستوں کو یکساں قبول رہا ہے۔ مارکس نے تو اس سے آگے کی بات کی۔ اس نے اس صداقت پر زور دیا کہ ضرورت (حاجت ، جبریت، تقدیر) اندھی ہے ،تاریک ہے ، اس کا ادراک آزادی ہے ، روشنی ہے۔ یعنی ضرورت کی تاریکی سے نکلنے کے لئے خود ضرورت رہنما نہیں بنتی ، نہ ہی محنت رہنمائی کرتی ہے ، بلکہ ادرا ک یعنی متعلقہ ضرورت یا مجبوری کا ادراک ، ہی جبر سے قدر کی طرف رستے دکھاتا ہے۔ مارکس کا یہی نقطہ نظر اسکے فلسفہ کو میکانکی مادیت سے ممتاز کرتا ہے۔

ہمیں اچھا لگے یا برا ، لیکن سچ یہ ہے ضرورت خود ایک محرک سے زیادہ کچھ نہیں۔ ضرورت ایک حیوان کو بھی تحریک کرتی ہے لیکن حیوان لاکھوں برس میں نہ علم پیدا کرتا ہے نہ کوئی ایجاد۔ علم محض ضرورت سے پیدا نہیں ہو جاتا۔ یہ اس ذہانت کا پھل ہے جو زندگی کے ارتقائی عمل سے پیدا ہوئی۔ زندگی کو ارتقا کے لئے بقا کی جنگ نے مجبور کیا۔

اسی بحث کے ساتھ جڑا ہوا سوال یہ ہے کہ انسانوں کے رویوں اور اعمال میں علم و شعور کا کوئی رول ہے یا نہیں ؟ جمادات اور فطرت کے عناصر اپنی خاصیتوں سے ذرا سا انحراف نہیں کرتے۔ حیوانات بھی اپنی جبلتوں کے مطابق رد عمل ظاہر کرتے ہیں جن کا پیشگی اندازہ کافی حد تک ممکن ہوتا ہے۔ ایک کم ذہین انسان کے رد عمل کا اندازہ بھی کسی حد تک ممکن ہوتا ہے لیکن انسانی دماغ کی نشو و نما اسکے رویوں کو پیچیدہ بناتی چلی جاتی ہے ، حتیٰ کہ اسکے فیصلے اس کی “فکری منطق ” کے پابند ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ جب ہم کسی ضرورت یا جبریت سے دوچار ہوتے ہیں تو ہمارا علم وشعور ہی ہمارے ردعمل کا تعین کرتا ہے۔ سادہ ترین مثال یہ ہے کہ اگر ایک جانور کو رسی سے باندھ دیا جائے تو وہ آزادی کے لئے کوئی ایسا طریقہ ایجاد نہیں کرتا جو اسی طرح بندھا ہوا انسان کرتا ہے۔ برطانیہ کے ایک مقامی پرو فیسر کا رد عمل اپنی بیٹی کی ڈیٹنگ کا سن کر اسی طرح کا نہیں ہوتا جیسا ایک پاکستانی گارڈ کا ہوسکتا ہے ، جو لندن میں تیس برس سے آباد ہے۔

کیا علم کو ایجاد کا خالق کہنے سے علّت و معلول کا سلسلہ ( Causation) ٹوٹ جاتا ہے ؟ یعنی کیا اس بیان سے کسی ما بعد الطبیعاتی فلسفہ کے لئے میدان صاف ہو جاتا ہے ؟ گرچہ دہریت کو پھیلانا سکیڑنا میرا درد سر نہیں ، تاہم یہ میرا ایمان ہے کہ انسانی نسلوں کی بقا صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ انکے فیصلے انسانی علم کی روشنی میں ہوں جو قابل تصدیق ہو اور مزید علم کے رستے کھولے۔ کیونکہ ہر معلوم کے پیچھے ایک نامعلوم منتظر ہے کہ اسے معلوم کیا جائے۔

جب ہم کہتے ہیں کہ کائنات اور زندگی کی ظاہری شکلوں کے پیچھے چھپے ہوئے قوانین کوجان لیناعلم ہے، اور جب ہم علم سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ انسانی ادراک کے متفقہ معیاروں سے تصدیق کیا جا سکے ، تو ہم دریافت کرنےکی انسانی کاوش کوعلم کا سرچشمہ قرار دیتے ہیں۔ انسانی کاوش کا یہ چشمہ ، تجسس اور انہماک کی گہرائیوں سے نکلتا ہے۔ تجسس اور انہماک تربیت اور تہذیب نفس سے آتے ہیں ، فرد کی تربیت اور تہذیب معاشرتی اداروں سے آتی ہے۔ معاشرتی اداروں کی کارکردگی معاشرہ کی ترجیحات کا نتیجہ ہوتی ہے۔

فیصلہ کن اہمیت کا سوال یہ ہے کہ کیا یہ ترجیحات معاشرہ کی ضرورت سے طے ہوتی ہیں ؟ روز اول سے ہمارے معاشرہ کی ترجیح اسلام ہے۔ اسلام جو مسجدوں اور مدرسوں میں ہی نہیں بلکہ گلیوں کوچوں بازاروں پارکوں چھتوں تہ خانوں بیڈ روموں اور غسل خانوں تک بن طلب کئے مفت اور وافر دستیاب ہے۔ کیا یہ ہماری مادی ضرورت ہے؟ کیا ترجیحات مادی حالات سے پیدا ہوتی ہیں؟ ہماری ترجیحات کونسے مادی حالات کا نتیجہ ہیں؟ حیوان خود کشی نہیں کرتے۔ انسان کرتے ہیں۔ کیا خود کشی کو انسانی ضرورت کہا جا سکتا ہے؟ اور اگر کوئی معاشرہ اجتماعی خود کشی کو ترجیح بنا لے تو اس نے کس ضرورت کو پورا کیا؟

نہیں۔ انسان اور انسانی معاشرے کسی میکانکی یا حیوانی اصول سے فیصلے نہیں کرتے۔ ہمارے فیصلے ہمارے افکار کی نگرانی میں ہوتے ہیں۔ افکار غلط بھی ہوتے ہیں اور صحیح بھی۔ یہ سنبھالتے بھی ہیں اور اجاڑتے بھی۔ ہم صحیح ان افکار کو کہتے ہیں جو انسانی زندگی کو سنواریں اور آسودہ کریں۔

جب کوئی معاشرہ اجتماعی خود کشی کو حیات جاوداں مان لے تو اسے کون بچا سکتا ہے؟ لیکن ایسا بھی ہوتا ہے کہ افراد کی طرح قومیں آدھی مر کر بھی جینے کی طرف لوٹ آتی ہیں جیسے جاپان۔ جبر کی اندھیر نگری میں ادرا ک کی مشعل سے راستے روشن کرنے کا یہی عمل آزادی ہے۔

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



+ three = 6

%d bloggers like this: