معاشرتی اجتماعی زنا

September 18, 2013 at 05:56 , ,
ڈاکٹر سلیقہ وڑائچ؛

بات کو چھپانے یا ہمیشہ کی طرح دو چار دن واویلا کر کے بھول جانے سے کچھ حاصل نہیں ہونا۔ اجتماعی زیادتی کے مجرموں کو سرِ عام پھانسی دینے، الٹا لٹکا دینے اور ہمیشہ کے لئے عبرت بنا دینے سے یا نت نئے قوانین بنا دینے سے بھی کچھ ہاتھ نہیں آئےگا۔ برائی کو جڑ سے نکال پھینکنا ضروری ہے۔ وہ عمومی رویے بدلنے کی ضرورت ہے جو نوجوانوں کو اس نہج پر سوچنے، اس حد تک جانے پر مجبور کر تے ہیں۔کیا کبھی کسی نے غور کیا ہے کہ ہمارے معاشرے میں زیادہ تر مردوں کی عورت کے بارے میں رائے کیا ہے۔ کیا مجموعی تاثر یہی نہیں ہے کہ عورت ناقص العقل، ناقص العقیدہ یا فتنہ ہے۔ عام زبان میں باقی ضروریاتِ زندگی کی طرح عورت استعمال کی معمولی چیز ہے۔ یا “شوگر کوٹڈ” بیان مقصود ہو تو عورت ایک قیمتی زیور جسے سنبھال کر رکھنا ضروری ہے۔ یا مٹھائی کا ٹکڑا جسےلپیٹ کر رکھنا مکھیوں سے محفوظ رکھنے کا آخری حربہ ہے۔

تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ایمانی و اخلاقی ٹھیکیداروں نے بھی عورت کو گھر یا گھر میں پڑی کسی چیز سے ہی تشبیہ دی ہے کہ یا جسے تالہ لگانے کی اشد ضرورت ہے۔ مگر ٹھہریں ذرا اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں اورخود اندازہ کر یں۔ آپ کی نظر میں ایسے کتنے مرد ہونگے جنھوں نے کبھی کسی عورت کو مجسم انسان سمجھا ہو گا یا اس کی تضحیک نہیں کی ہوگی۔ عورت کو پاؤں کی جوتی، کمزور، کمتر یا گھٹیا نہیں سمجھا یا کسی نہ کسی طرح نیچا دکھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ ستم تو یہ ہے کہ پیدا ہوتے ہی بچوں میں تفریق شروع ہو جاتی ہے۔ بیٹے کی پیدائش پر مٹھائی اور بیٹی کی پیدائش پر نہ صرف تاسف سے بھرپور خاموشی بلکہ بیٹی کی ماں سے باقاعدہ افسوس کیا جاتا ہے۔ تو پھر اس سوال کی گنجائش ہی کہاں رہ جاتی ہے کہ ماں اچھی تربیت صرف بیٹی کی کیوں کرتی ہے۔ بیٹی کے لئے قواعد و ضوابط یا حدود کیوں متعین ہیں۔ باپ بیٹوں کو کیوں نہیں بتاتے کہ وہ جنسِ مخالف کو انسان سمجھیں۔ خواتین کے ساتھ مناسب برتاؤ کریں،اچھا رویہ رکھیں۔ مردانگی خود کو اور اپنے جذبات کو قابو میں رکھنے کا نام ہے۔ نہ کہ نہتی عورتوں یا ناتواں بچوں پر چڑھ دوڑنے اور ان کی بوٹیاں تک نوچ لینے کا۔ آخر اچھے رویے، اچھی تربیت اور مناسب تعلیم جنس سے بالاتر کیوں نہیں۔

اہلِ مشرق کے لئے قابلِ فخر ہماری ثقافتی پہچان ہمارا مشترکہ خاندانی نظام اپنے ساتھ بے شمار قباحتوں کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ مگر ہم بضد ہیں ہماری اقدار کاراگ الاپنے پر۔ ہاں ہم کبھی نہیں مانیں گے کہ دنیا بھر کی طرح ہمارے بچوں کے ساتھ زیادتی کے مجرم ہمارے اپنے ہی ہیں۔ اسی گھر میں والدین کے ہوتے ہوئے بھی بچے اپنے سگوں کی ہوس کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ مزید ستم ظریفی یہ کہ ہم چچا، ماموں، خالو، تایا، پھوپھا یا کسی اور اپنے کے کئے گئے جرم کو جرم کہنے پر تیار نہیں۔یا اگر جان بھی جائیں تو چھپانے پر بضد ہوتے ہیں۔ کہ “عزت” کا معاملہ اور اپنا خون یا “گھر کی بات گھر میں” کے بین بجنا شروع ہو جاتے ہیں۔

بہت حد تک مسئلے کی جڑ ملا کا وعظ یا منبر کی خطابت شریں آمیز نام نہاد اخلاقیات بھی ہیں مگر قانون اس سے بالا تر نہیں۔ تو پھر کیسے مان لیں کہ ریاست پر ملائیت کی حکومت نہیں۔ اگر نہیں تو ملا کی زبان اتنی درازکیوں ہے کہ اس کی لپیٹ میں پہلے سے ہی محروم عورت کا سارا وجود آگیا ہے۔ وہ جن کا کہنا ہے کہ زیادتی کا شکار عورت چار گواہ نہ لا سکے تو گھر بیٹھ جائے۔ خاموش ہو جائے۔ دراصل وہی سب سے بڑے مجرم ہیں۔ جن کے آگے ساری ریاست بھی یر غمال ہے اور انصاف بھی۔ نفرتوں کا زہر اگلتے یہ ناگ آزاد گھوم رہے ہیں۔ مگرانسانیت کو روند دینے والے ان اڑیل منہ زور گھوڑوں کو لگام دینا اب نوشتہ دیوار ہے۔

مگر سلگتا سچ یہ ہےکہ اس حمام میں سبھی ننگے ہیں۔ دراصل ہم سب ہی گناہگار ہیں۔ہم سب اپنی اپنی جگہ اس جرم میں برابر کے شریک ہیں۔ ہمارے پڑوس میں ایک واقعے نے پوری قوم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ اور رواں ماہ مجرموں کو سزائے موت بھی ہو گئی ہے۔ کیونکہ وہاں ابھی انسان بستے ہیں اور یہاںمسلمان؟ہر معاملے میں بھارت سے سبقت کے شوقین اس معاملے پر کیوں چپ سادھے بیٹھے ہیں، کوئی انصار عباسی کوئی اوریا جاں یا کوئی زید زمان حامد کیوں نہیں لب کشائی کرتا؟ یہاں ہم سب مردہ ضمیر، بزدل اور بے حس تماش بین ہیں۔ ہم سب “ریپسٹ” ہیں ہم جو اندھے ، بہرے گونگے آئے دن مردار خور گِدھوں کا رقص دیکھتے ہیں۔

معصوم بچوں کی آہیں بھی نہیں لگتی ہمیں۔ ہم روزانہ عورتوں اور بچوں کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی خبریں پڑھتے سنتے دیکھتے ہیں اور اس ظلم کو روکتے نہیں نہ احتجاج ہی کرتے ہیں۔ یوں جیسے ہم اپنی بیٹی کا “ٹائم” آنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ دراصل ہم سب ریپسٹ ہیں۔ہم سب اس جرم میں شامل ہوجاتے ہیں جب اسے صرف اخبار کی مصالحہ دار خبر سمجھ کر نظر انداز کر کے معاشرے میں موجود اس برائی کو پھلنے پھولنے کا موقع دیتے ہیں۔ اگر آج مسلمان تہیہ کر لیں تو قران و سنت اور احادیث سے اس مسئلے کا سادہ اور آسان حل بھی نکل آئے گا اور آسان پراسیکیوشن بھی جس میں کوئی چار گواہوں کی رٹ بھی نہ ہو پر ایسا کرنے کے لیے معاشرے کو اٹھ کھڑا ہونا ہو گا اور دین کو چند نام نہاد باریشوں کے ہاتھوں یرغمال بناکر اس کا مذاق بننے سے روکنا ہو گا۔

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



7 − = two

%d bloggers like this: