مسلم دنیا میں ڈی این اے سے ولدیت کی تصدیق

June 15, 2013 at 16:00 ,

ڈاکٹر سلیقہ وڑائچ؛

نکاح عرفی، اسلامی طریقے سے نکاح کی وہ صورت ہے جس میں میں کوئی جوڑا رائج سرکاری طریقےسے عقد کیے بغیر یا قانونی اندراج کے بغیر انفرادی طورپر دو گواہوں کی موجودگی میں نکاح کا اقرار کرتا ہے۔ عام طور پر نکاح خوان کی موجودگی میں ایک سادہ کاغذ پر شادی کرنے والے جوڑے اور دو گواہوں کے دستخط لیے جاتے ہیں اور یوں شادی کی رسم ادا ہو جاتی ہے، جامعہ اظہر کے سنی علما نےاسکے حق میں فتوے دے رکھے ہیں۔ بیشتر اسلامی ممالک میں اس طریقۂ ازدواج کو مسترد کیا گیا تاہم مصر میں اسے خاصی مقبولیت حاصل ہے، خاص طور پر یونیورسٹیوں اور کالج کے طلباء وطالبات میں کمزور مالی حالات اور اسلامی معاشرے میں شادی سے پہلے تعلقات کی ممانعت کے باعث یہ طریقہ خاصا مقبول ہے، یاد رہے عرب معاشرے میں شادی کے لیے مرد کا اقتصادی لحاظ سے مستحکم ہونا ضروری ہے تاکہ نہ صرف یہ کہ وہ مہر کی رقم ادا کر سکے بلکہ وہ اپنے نئے خاندان کی کفالت کر سکے اور طلبا چونکہ دوران تعلیم اتنے اخراجات نہیں اٹھا سکتے لہذاانکے لیے یہ خاصا مقبول طریقہ ہے۔
چونکہ اسکو سرکاری طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا اسلیے کسی ناچاقی یا عدم نباہ کی صورت میں باقاعدہ طلاق کی ضرورت بھی نہیں پڑتی بلکہ اسی طریقے سے باہمی رضامندی سے اسے ختم کر دیا جاتا ہے۔ تاہم اس شادی کی بدولت پیدا ہونے والے بچوں کو وہی اسٹیٹس اور مراعات حاصل ہیں جو کہ باقاعدہ رسم ورواج یا قانون کی سر پرستی میں شادی کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے بچوں کو، اور انکا اندراج قانونی طریقے سے ہوتا ہے لیکن باپ کی موجودگی اور سر پرستی میں۔ البتہ دھوکہ دہی کے بہت سے ایسے واقعات سامنے آئے ہیں کہ جس میں کوئی فرد اس طرح کے تعلق کو ماننے سے انکار کر دے، یا طلاق کےبعد بچوں کی ذمہ داری سے بچنے کی خاطر ایسی شادی کی تردید کردے۔ مصری عدالتیں ایسے بہت سے مقدمات سے نمٹ رہی ہیں۔ اس سلسلے میں 2006 میں قاہرہ کی ہند النایوی کا مقدمہ زبان زد عام رہا۔ ہند کا تعلق ایک با اثر خاندان سے تھا اور اسکے مطابق اسکی بیٹی لینا کا باپ ایک مشہور اداکار احمد الفشاوی تھا جو بچی کی کفالت اوراسے اپنانے سے انکاری تھا۔ ہندکے مطابق احمد نے اس سے اسکا نکاح نامہ لیکر تلف کر دیا تھا اور ہند کے پاس کوئی ثبوت نہیں بچا تھا کہ وہ اپنا مقدمہ ثابت کر سکتی۔ لیکن اس نے اپنی بچی کے حقوق کی خاطر آواز اٹھائی۔ اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں اس نے معاشرے کے امتیازی سلوک کو یوں بیان کیا۔ “میں نہیں چاہتی کہ میری بیٹی کا کوئی نام نہ ہو اور وہ تمام عمر ناجائز کے نام سے جانی جائے اور سماجی طور پرنفرت کا نشانہ بنے۔ سکول میں، ہسپتال میں اور دوستوں کے درمیان اجنبی رہے اور اسکا پاسپورٹ بھی نہ بن پاَئے”۔
صرف 2006 تک نامعلوم یا متنازعہ ولدیت کے ایسے 14000 کیسز عدالتوں میں موجود تھے جن میں تقریبا9000 کیسز عرفی شادی کے تھے اور ان کی کثیر تعداد ایسے کیسز کی تھی جن میں نکاح نامہ اور شادی کے باقی ثبوت غائب کر دیے گئے تھے، اور انکو حل کرنے کےلیے ڈی این اے ٹیسٹ کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا، ہند کے مبینہ شوہر نے ڈی این اے ٹیسٹ کروانے سے انکار کر دیا تھا کیونکہ وہ اس وقت کے قانون کے مطابق لازمی نہیں تھا، ہند نے میڈیا کے ذریعے ایک تحریک چلائی جس کا مقصدایسے بچوں کو انکے حقوق دلاناتھا جوکہ اسطرح کی شادیوں کی بدولت پیدا ہوئے ہوں اور جن کو معاشرہ انکے ناکردہ گناہوں کی سزا دے رہا تھا۔ اس مقدمے نے مصری پارلیمنٹ کو مجبور کیا کہ ایسا قانون بنایا جائے تا کہ متاثرہ بچوں کو تحفط فراہم کیا جائے اور ڈی این اے ٹیسٹ کو لازمی قرار دیا جائے۔ یوں وہاں وہی بحث چھڑ گئ جو آج ہمارے یہاں ریپ کے کیسز میں ڈی این اے کولازمی قرار دینے کی ہے کہ اس سے ایسے مقدمات کو فروغ ملے گا یا مستقبل میں ایسے واقعات کا سد باب ہو سکے گا، مگر ایک واضح فرق یہ تھا کہ وہاں کے مفتیِ اعظم شیخ علی جمعہ نے ڈی این اے ٹیسٹ کو لاگو کرنےکی حمایت کی تھی۔
دوسری طرف متحدہ عرب امارات میں (ک-الف) کو منفی ڈی این اے ٹیسٹ کے باوجود گیارہ سالہ بچے کا باپ قرار دے دیا گیا، تاکہ نہ صرف وہ اسکو اپنا نام دے بلکہ اسکے اخراجات کی بھی ذمہ داری اٹھائے،عدالت نے یہ حکم بچے کے پیدائش سرٹیفکیٹ پہ دیاکیونکہ وہاں کےقانون کیمطابق کسی شخص کو یہ حق حا صل ہے کہ بچے کی پیدائش کے سات دن کے اندر وہ ولدیت سے انکار کر دے، مقامی جریدے کے مطابق 34 سالہ ک- الف کی درخواست پر بچے کا ڈی این اے ٹیسٹ کیا گیا جس سے یہ ثابت ہو گیا کہ وہ اسکا باپ نہیں تھا۔ سائنسی ثبوت ہاتھ میں لیے اس نے اعلیٰ عدالتوں کا دوازہ کھٹکھٹایا، لیکن چونکہ اسکی سابقہ بیوی دورانِ حمل اسکے نکاح میں تھی، لہذا اسکی کہیں شنوائی نہ ہوئی۔
عرب ممالک میں آئے دن مشکوک ولدیت یا ولدیت کی تردید کے مقدمات سامنے آرہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے ڈاکٹر احمدالقصیبی جو کہ اسلامی اسکالر بھی ہیں کا کہنا ہےکہ ایسے مقدمات میں کثیر تعداد گھریلو خادماوں کے مالکوں پر الزامات کی ہے اور طلاق یافتہ خواتیں کے بچوں کی ولدیت کی ہے۔ اسکے علاوہ غیر قانونی طور پر مقیم افراد بچوں کے سکول میں داخلے کیلئے مقامی لوگوں کی مدد سے جعلی سرٹیفکیٹ بنا لیتے ہیں اور بعد میں جائداد کی تقسیم کیلئے ان کی ولدیت کو غلط ثابت کرنے کیلئے بھی ایسے مقدمات سامنے آئے ہیں،ان کے مطابق قرآن پر حلف کے علاوہ، ہسپتال یا میڈیکل رپورٹس اورڈی این اے ٹیسٹ پر ہی حتمی فیصلہ کیا جانا چاہیے۔
سعودی عرب کا نظام انصاف قاضی کے گرد گھومتا ہے، ملزم کے مقدر کا فیصلہ جج کی ذاتی سوجھ بوجھ یا عقاٰئد پر ہوتا ہے اگر جج یا قاضی چاہے تو وہ کسی سائنسی ٹیسٹ کو یکسر رد کر سکتا ہے یاقبول کر سکتا ہے۔ لبنان کے ایک اخبار”دی ڈیلی سٹار” کے مطابق 2008 میں ریاض کی ایک عدالت نے جنوبی صوبے نجران کے ایک شخص کو مجبور کیا کہ وہ 50 سال بعد اپنی بیٹی کو تسلیم کرے، دس بچوں کی ماں کو اسکے باپ نے نصف صدی تک تسلیم کرنے سے انکار کیا ہوا تھا کیونکہ اسکی ماں اسے جنم دینے کےبعد چل بسی اور سوتیلی ماں نے اسکی پرورش کی لیکن باپ نے اسے کبھی اپنی بیٹی نہیں مانا بالآخر ڈی این اے ٹیسٹ سے اسکی ولدیت ثابت ہوئی۔ اسی طرح مقامی جریدے گلف نیوز کے مطابق کونسل آف سینئر سکالرز نامی تنظیم ایسے سعودی بچوں کے ولدیت کے مقدمات میں ڈی این اے کو استعمال کرنے پر زور دے رہی ہے جن کی مائیں غیرملکی ہیں اور یہ بچے کسی ایسی حادثاتی شادی کے نتیجے میں پیدا ہوئے جس میں انکے سعودی باپ 2 سے 4 ہفتے کی شادی کے بعد انکی ماؤں کو ہمیشہ کیلیے چھوڑ کر چلتے بنے۔ ان میں زیادہ تعداد ایسی شادیوں کی ہے جو کسی ملک میں سیر و سیاحت، تعلیم یا کاروبار کی غرض سے جانے پر وقوع پزیر ہوئیں۔ ابتک 853 ایسے بچوں کا اندراج ہو چکا اور یہ تعداد بڑھنے کی توقع کی جارہی ہے۔
بحرین،عمان، کویت اور قطر میں عدالتی نظام مذہب سے قدرے آزاد ہے اور ایک مقامی عدالت کے وکیل سے استفسار پر اسنے واضح کیا کہ عدالت اگر فیصلہ کرے کہ فیصلہ کسی بھی جدید قسم کے ٹیسٹ سے ہو گا تو عدالت ایسا کرنے کا اختیار رکھتی ہے، تاہم ایسے کیسز میں عدالت کے حکم کے بغیر کوئ شخص محض ڈی این اے ٹیسٹ نہ تو کروا سکتا ہے نہ اسکی بنیاد پر کوئی غیرت کے نام پر قتل کر سکتا ہے بلکہ بدچلنی کے الزام کا ایک باقاعدہ مقدمہ بنتا ہے، جس میں مدعی کو الزام ثابت کرنا پڑتا ہے ورنہ اسے خود جیل کی ہوا کھانی پڑتی ہے۔
درج بالا تفاصیل کا مقصدپاکستانی علماء کی اہل عرب کی اندھی تقلید کو اجاگر کرنا ہے جو کہ اپنے فیصلوں میں بہر حال پاکستانی مفتیوں کو خاطر میں نہیں لاتے۔ بلکہ اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان کے فیصلے کو کسی عرب ملک میں کوئی پزیرائ حاصل نہیں ہوئی ۔ البتہ ملک بھر سے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پرسوشل میڈیا میں ہونے والے احتجاج کے بعد سندھ اسمبلی کی طرف سے ڈی این اے ٹیسٹ کو جنسی زیادتی کے مقدمات میں لازمی قرار دینے اور حکومت کے ٹیسٹ کے اخراجات اٹھانے کی قرارداد پاس کرنے کی خبر بہر حال خوشگوار ہے کہ ا س سے کم از کم سندھ کی حد تک جنسی زیادتی کی شکار خواتین سے حکومتی ہمدردی کا اظہار ہوا۔ ان لوگوں کے لیے جنہوں نے انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھائی تھی اور معتدل اورترقی پسند طبقے کیلیے یہ خبرخوش آئند ہے۔ امید ہے باقی صوبے بھی سندھ کی تقلید کرینگے اور بالآخروفاقی حکومت بھی اس ضمن میں ٹھوس اقدام اٹھائے گی۔

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



5 + = nine

%d bloggers like this: