مسلمانوں کا شاندار ماضی اور حقیقت

June 25, 2013 at 22:20 ,
محمد عمر؛

برطانیہ میں مقیم ایک پاکستانی مصنف جو ابن ورق کے قلمی نام سے لکھتے ہیں، اپنی ایک کتاب (جس کے عنوان کا ذکر میں اس تحریر میں انہی وجوہ کی بنیاد پر نہیں کرپا رہا جن پر تنقید اس تحریر کا موضوع ہے) میں مسلمانوں کی تاریخ سے چند ایسے واقعات نقل کرتے ہیں جو بحیثیت مجموعی مسلمانوں میں پائی جانے والی جدیدیت دشمنی، عدم برداشت اور تشدد پسندی کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں۔ مذکورہ مصنف کے نقل کردہ واقعات کے علاوہ بھی تاریخ کی کتابیں ایسے سینکڑوں واقعات سے بھری پڑی ہیں جب اختلاف رائے کی بنیاد پر اور مروجہ عقائد کی نفی کرنے کی پاداش میں علما، محقیقین، فلسفیوں اور سائنسدانوں کو مسلمان معاشروں میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا، ان کو قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں، ان کو اپنے نظریات اور خیالات کی ترویج سے روک دیا گیا اور کئی ایک کی کتابیں جلا کر ان کی تعلیمات اور خیالات کا راستہ روکنے کی کوشش کی گئی۔ یہ سلسلہ صدیوں سے جاری ہے اور اس کے ختم ہونے کے آثار ہنوز دکھائی نہیں دیتے۔

مسلم امت کی تنزلی پر آپ چاہے کسی عام مسلمان سے رائے طلب کریں یا پھر کسی مدرسہ سے فارغ التحصیل نام نہاد عالم سے، ہمیشہ ایک لگی بندھی، دلیل سے عاری اور اندرونی تضادات سے بھرپور گفتگو سننے کو ملتی ہے۔ اغیار کی سازشوں، اپنے حکمرانوں کی بے حسی اور دین سے دوری پر ایک طویل آہ و زاری کے بعد ہمارے مسلمان بھائیوں کے پاس اپنی مجروح اناوں کی مرہم پٹی کے لئے ایک ہی حربہ باقی بچتا ہے: شاندار ماضی کے قصے۔ قرون وسطیٰ میں مسلم حکمرانوں کے زیر اثر علاقوں میں پیدا ہونے والےیا رہنے والے کسی بھی عالم کے کارنامے ایک بیہودہ احساس تفاخر کے ساتھ یوں بیان کئے جاتے ہیں جیسے یہ سب کے سب علما ان کے قریبی رشتہ دار ہوں۔ اور ایسا کرتے وقت ہمارے دوست شائد یہ بھول جاتے ہیں کہ ان میں سے کوئی ایک بھی برصغیر کے مسلمانوں نے پیدا نہیں کیا۔ نہ ہی وہ قرون وسطیٰ کے ان علما کے خیالات سے پوری طرح واقف ہیں، اور نہ ہی ان کو جاننا چاہتے ہیں۔ اور پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ اس قوم میں شائد گنتی کے چند افراد ہوں جو یہ جانتے ہوں کہ ان عظیم ہستیوں کو اپنے خیالات کی ترویج کی پاداش میں کس قسم کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔

ابن کمونہ ایک یہودی طبیب اور فلسفی تھا۔ یہ صاحب بغداد میں پیدا ہوئے۔ تیرہویں صدی عیسوی میں شائع ہونے والی اپنی ایک متنازعہ کتاب میں اس مصنف نے تینوں سامی مذاہب کا تنقیدی جائزہ لیا۔ بغداد میں یہ کتاب منظر عام پر آنے کے بعد ایک روز لوگوں کا ایک ہجوم ابن کمونہ کی رہائش گاہ کے باہر جمع ہو گیا، یہ تمام لوگ اس فلسفی کے قتل کا مطالبہ کر رہے تھے۔ یاد رہے کہ مذکورہ کتاب میں تینوں سامی مذاہب پر کم و بیش یکساں تنقید کی گئی تھی۔ معاملہ اس حد تک بگڑا کہ امیر کو اپنے افسران کے ساتھ مستنصریہ پہنچنا پڑا اور فوراً قاضی القضاۃ کو بلا کر اس معاملے کو حل کرنے کا حکم جاری ہوا۔ ابن کمونہ کو بلایا گیا لیکن وہ شائد خوف کی وجہ سے کہیں روپوش تھا اوراتفاقاً اس روز جمعہ بھی تھا۔ ابن کمونہ کی عدم دستیابی کے پیش نظر قاضی القضاۃ نے سماعت کو روکا اور جمعہ کی نماز کے لئے روانہ ہونا چاہا۔ لیکن عوام کا ہجوم قاضی کا راستہ روک کر کھڑا ہو گیا اور ملزم فلسفی کے خلاف فیصلے کا مطالبہ کرنے لگا۔ صورتحال کی نزاکت کے پیش نظر امیر نے خود باہر آکر ہجوم کو ٹھنڈا کرنے کی سعی کی لیکن اسے بھی الٹا ہجوم کی گالیوں اور طوفان بد تمیزی کا سامنا کرنا پڑا۔ امیر نے بمشکل ہجوم کو رام کیا، لیکن اس وعدے کے ساتھ کہ ابن کمونہ کو اگلے ہی روز شہر کی فصیلوں کے باہر زندہ جلا دیا جائے گا۔ تاہم ابن کمونہ کسی طرح فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا اور ہلہ میں اپنے بیٹے کے پاس پناہ لی اور باقی ماندہ عمر گمنامی کی زندگی گزاری۔

یعقوب الکندی کے نام سے ہر ماضی پرست مسلمان اچھی طرح واقف ہے۔ بعض لوگ الکندی کو عرب یا اسلامی فلسفے کا باپ کہتے ہیں۔ فلسفہ، طبیعات، حساب، طب، موسیقی، کیمیا، علم فلکیات، غرضیکہ کونسا ایسا شعبۂ علم ہے جس میں اس عظیم المرتبت دانشور نے خدمات سر انجام نہ دی ہوں۔ مامون، معتصم اور واثق کے ادوار میں الکندی کو خوب حکومتی سرپرستی ملی جس کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نابغۂ روزگار فلسفی نے اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے اور شعور انسانی کی ترقی میں اپنا بے مثل کردار ادا کیا۔ لیکن ایک افسوسناک انجام اس فلسفی کا منتظر تھا۔ خلیفہ المتوکل کے برسر اقتدار آنے کے بعد بنیاد پرست ملاوں نے الکندی کا جینا دوبھر کر دیا۔ اور پھر وہ وقت بھی آیا جب خلیفہ نے الکندی کا کتب خانہ قبضے میں لے لینے کا حکم جاری کر دیا۔ اس پر مستزاد یہ کہ اس عالی مرتبت مفکر کو ساٹھ سال کی عمر میں بغداد میں سر عام پچاس کوڑے مارے گئے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ ہر کوڑے کے ساتھ ہجوم خوشی سے تالیاں بجاتا اور نعرے لگاتا۔

ابن رشد، مسلم تاریخ کا ایک اور درخشاں ستارہ۔ کچھ لوگوں کے خیال میں یورپ میں رونما ہونے والی نشاط الثانیہ کی اساس جن فلسفیانہ بنیادوں پر اٹھائی گئی، ابن رشد کی تعلیمات نے ان کی تعمیر میں کلیدی کردار ادا کیا۔ خاص طور پر سچائی کی دوئی کا نظریہ ابن رشد اور مسلم سپین کی طرف سے یورپ اور جدید تہذیب کے لئے ایک گراں قدر تحفہ ہے۔ لیکن اس عظیم شخصیت کے ساتھ بھی کچھ زیادہ سلوکِ حسنہ روا نہیں رکھا گیا۔ بارہویں صدی کے اواخر میں جب ابو یوسف نے قرطبہ میں اقتدار سنبھالا، تو ابن رشد زیر عتاب آگیا۔ قرطبہ کی جامع مسجد میں ایک بڑا اجتماع منعقد کیا گیا۔ خلیفہ وقت، قاضی اور اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کے ساتھ ساتھ بڑے بڑے علما اور فقہا نے شرکت کی۔ ابن رشد اپنے شاگردوں اور پیروکاروں کی معیت میں حاضر ہوا۔ طویل بحث اور جرح کے بعد خطیب مسجد نے فتویٰ دیا کہ ابن رشد ملحد اور بے دین ہو چکا ہے۔ سزا کے طور پر ابن رشد کو ایک قریبی بستی میں اپنے شاگردوں سمیت نظر بند کر دیا گیا۔ سوائے چند ایک کتابوں کے، ابن رشد کی تمام کتابیں آگ کے سپرد کر دی گئیں اور اس عظیم فلسفی کو اپنی زندگی کے آخری سال ذلت اور گمنامی میں بسر کرنے پر مجبور کر دیا گیا۔ کچھ مورخوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ابن رشد نے اپنی نظر بندی کو توڑ کر بھاگنے کی کوشش کی اور اس کوشش کے دوران پکڑا گیا۔ لوگوں نے پکڑ کر اس بے مثل فلسفی کو جامع مسجد کے ستون کے ساتھ باندھ دیا اور ہر آنے جانے والے نمازی سے کہا گیا کہ وہ مسجد آتے جاتے وقت ابن رشد پر تھوکتے جائیں۔

ابن سینا کے نام سے کون واقف نہیں ہے۔ جب ہمارے دوست اپنے شاندار ماضی کا تذکرہ کرنا چاہتے ہیں تو سرفہرست افراد میں ابن سینا کا نام بھی شامل ہوتا ہے۔ ہمدان کے امیر نے ابن سینا کو اپنا وزیر مقرر کر رکھا تھا۔ اس دوران بنیاد پرستوں کے ساتھ اپنے اختلافات کی وجہ سے ابن سینا کو روپوشی اختیار کرنا پڑی۔ اس کی تلاش میں فوج نے ابن سینا کا گھر تباہ کر ڈالا، اور امیر نے اس کا سر قلم کرنے کے احکامات جاری کر دئے۔ ابن سینا نے طب پر اپنی معرکۃالآرا ء،کتاب القانون روپوشی کے انہی دنوں میں تحریر کی۔ تمام عمر دنیائے اسلام کا یہ عظیم سپوت اپنے خلاف ہونے والی سازشوں، کفر کے الزامات اور متوقع سخت سزاوں سے بچنے کی خاطر در در کی ٹھوکریں کھاتا پھرا۔ آج فخر سے اس کا نام لینے والے ہمارے مذہب و ماضی پرست دوستوں کے لئے شائد یہ چونکا دینے والی بات ہو۔

محمد زکریا رازی المعروف الرازی کو تاریخ میں عظیم ترین مسلم طبیب کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔ کچھ تاریخ دان اسے عرب گیلن (عظیم یونانی طبیب گیلن کی نسبت سے)کے لقب سے بھی پکارتے ہیں۔ الرازی نے تاریخ میں پہلی بار خسرہ اور چیچک کے درمیان فرق کو واضح کیا، عمل کشید کوبہتر بنایا، اور غالباً تاریخ میں پہلی بار میڈیکل ایتھکس کا خیال متعارف کروایا۔ ہر ایک عظیم شخصیت کی طرح علم طِب کے اس درخشاں ستارے کو بھی مسلم معاشرے میں کفر اور الحاد کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔ کہا جاتا ہے کہ امیر کو الرازی کی ایک کتاب میں پیش کئے گئے نظریات سے اتنا اختلاف پیدا ہوا کہ اس نے حکم دیا کہ الرازی کی یہ کتاب مصنف کے سر پر اس وقت تک زور زور سے ماری جائے جب تک کہ کتاب یا سر دونوں میں سے کوئی ایک پھٹ نہ جائے۔ ضعیف طبیب نے یہ سزا صبر سے برداشت کی، لیکن کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اواخر عمری میں الرازی کی آنکھوں کی بینائی چلے جانے کی وجہ اسی واقعے سے لگنے والی سر اور دماغ کی چوٹیں تھیں۔

ابن خلدون علم تاریخ کے بانی کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اگرچہ اس کے ساتھ ایسے کسی ناروا سلوک کے شواہد تو نہیں ملتے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ انیسویں صدی عیسوی تک دنیا میں کوئی اس شخص کے نام تک سے واقف نہ تھا۔ وہ تو بھلا ہو کافر مغربی محققین اور مستشرقین کا کہ انہوں نے اسلامی تاریخ کے اس عظیم سپوت کو گمنامی کے اندھیروں سے نکالا اور دنیا کو اس کی تعلیمات سے متعارف کروایا۔ نجانے اپنے شاندار ماضی پر فخر سے پھول کر کپا ہونے والے ہمارے دوست اس بات کو ہضم کر پائیں یا نہیں، لیکن حقیقت یہی ہے کہ مسلم معاشرے میں اس شخص کی صدیوں تک کسی نے ذرا برابر بھی پرواہ نہ کی۔

علم دشمنی کے یہ واقعات بیتی صدیوں تک ہی محدود نہیں، مسلم دنیا ابھی تک اس مہلک مرض کا شکار ہے۔ ایرانی مصنف دشتی کو ان کے نظریات کی بنیاد پر خمینی حکومت نے تراسی سال کی عمر میں قید میں ڈالا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔ جامعۃ الاظہر کے شیخ علی عبد الرازق نے ۱۹۲۵ میں اپنی ایک کتاب میں سیاست کو مذہب سے علیحدہ کرنے پر زور دیا۔ ان کے خیال میں ایسا کرنا عین اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے۔ ان خیالات کی پاداش میں شیوخِ جامعہ کے ایک ٹریبونل نے عبدالرازق کو جامعہ میں ان کے عہدے سے بر طرف کردیا اور زندگی بھر کے لئے کسی بھی قسم کے مذہبی عہدے کے لئے نا اہل قرار دے دیا۔ شامی مفکر صادق العزم کو اپنے ملحدانہ خیالات کی پاداش میں عمر کا ایک بڑا حصہ جلا وطنی میں گزارنا پڑا۔ سوڈانی مبلغ اور مجدد دین محمود محمد طہٰ کے ذکر کے بغیر شائد یہ سطور نامکمل ہی رہیں۔ ان کی کتابوں کو جلا دیا گیا، سترہ سال تک یہ عظیم عالم دین سزا سے بچنے کی خاطر روپوش رہا۔ آخر کار اسے گرفتار کر لیا گیا اور ۱۹۸۵ میں چھہتر سال کی عمر میں سر عام سولی پر لٹکا دیا گیا۔

دنیا میں اسوقت مسلمانوں کی آبادی دو ارب کے لگ بھگ ہو چکی ہے۔ اور انسانوں کے اس جم غفیر میں سے آج تک صرف دس مسلمان نوبل انعام کے حقدار ٹھرائے گئے ہیں۔ تین سیاست دان، دو انسانی حقوق کے کارکنان، دو ادیب اور فقط دو سائنسدان اس فہرست میں شامل ہیں۔ بنگلہ دیش کے محمد یونس اگرچہ ماہر معاشیات ہیں، تاہم انہیں امن کا نوبل انعام مل چکا ہے۔ مصر کے سابق صدر انور السادات کو امن کا نوبل انعام ملنے کے بعد مصری عوام اپنے صدر کی مخالف ہو گئی، عرب لیگ نے مصر کی رکنیت معطل کر دی اور آخر کار انور السادات کے خلاف یہ مخالفت اس کے قتل پر منتج ہوئی۔ انسانی حقوق کے لئے سرگرم ایرانی کارکن شیریں عبادی پچھلے چار سال سے جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں اور ان کو ملنے والا نوبل پرائز میڈل اور ڈپلومہ لندن میں واقع ان کے بنک سے چرا لیا گیا۔ شیریں عبادی نے ایرنی حکومت کو اس واقعے پر مورد الزام ٹھہرایا ہے۔ بنگالی معاشیات دان محمد یونس کو اس وقت اپنے ملک میں کئی قسم کے الزامات اور عدالتی کاروائیوں کا سامنا ہے۔ مصری مصنف نقیب محفوظ کو انور السادات کی حمایت کی پاداش میں سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا اور اس کی کتابوں پر عرب دنیا میں پابندی لگا دی گئی۔ ۸۲ سال کی عمر میں ۱۹۹۴ میں اپنے گھر سے باہر نکلتے ہوئے محفوظ پر قاتلانہ حملہ کیا گیا۔ حملہ آوروں نے چاقو سے اس کی گردن پر وار کیا۔ اگرچہ محفوظ اس حملے میں زندہ بچ گیا، لیکن اس کا دایاں ہاتھ کمزور ہو گیا جس کی وجہ سے اس کی لکھنے کی صلاحیت متاثر ہوئی۔ ترک مصنف ارحان پاموک کو اپنے ملک میں وطن دشمنی کے الزامات کے تحت طویل عدالتی کاروائی کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستانی طبیعات دان ڈاکٹر عبدالسلام کے ساتھ اس ملک میں جو سلوک روا رکھا گیا، اس پر پچھلے کچھ عرصے میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ ایک مخصوص مذہبی عقیدہ سے تعلق کی بنیاد پر ان کے لئے ملک میں حالات اس قدر تنگ کر دئے گئے کہ انہیں جلاوطنی اختیار کرنا پڑی۔ نوبل انعام حاصل کرنے کے بعد جب موصوف نے مادر وطن کی سرزمیں پر قدم رکھا تو اسلامی جمیعت طلبا نے ان کی ٹانگیں توڑنے کی دھمکی دی اور مجبوراً اس سائنسدان کو پروگرام کے برعکس ایک چھوٹی سے تقریب سے خطاب پر اکتفا کرنا پڑا۔ مرنے کے بعد جب اس سائنسدان کو ربوہ میں دفنایا گیا تو عدالتی حکم پر پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے قبر کی کتبے سے لفظ مسلمان کو کھرچ ڈالا۔

کچھ تعجب نہیں کہ اپنے علما، فلسفیوں اور سائنسدانوں کے ساتھ ایسا سلوک روا رکھنے والی قوم آج ہر طرح سے تنزلی اور پستی کا شکار ہے۔ کچھ روز پہلے ایک نامور اردو اخبار میں ایک کالم نظر سے گزرا۔ اس کالم کے مصنف نے قرون وسطیٰ کے یورپ اور قدیم یونان سے چند مثالیں دے کر یہ سوال اٹھایا کہ اگر سقراط، ارشمید س، گلیلیو وغیرہ کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کی فرد جرم مسلمانوں پر عائد نہیں ہوتی تو آپ مقدمہ چلائے بغیر مسلمانوں کو سائنس دشمن کیسے قرار دے سکتے ہیں۔ مجھے پڑھ کر قطعاً حیرت نہیں ہوئی، کیونکہ موصوف کی سوچ ایک عام مسلمان سے کسی صورت بھی مختلف نہیں۔ گلیلیو، سقراط، برونو اور دیگر کے ساتھ کئے گئے ان جرائم کے مرتکب افراد پر مقدمہ بھی چل چکا، ان کو سزا بھی مل چکی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کلیسا نے بھی اپنی غلطی پر سر عام معافی مانگ لی۔ عوام نے سائنس دشمن سوچ کو مسترد کر دیا، تاریخ نے علم کے دشمنوں کا نام کھرچ کر مٹا دیا اور اوپر بیان کئے گئے تمام کے تمام یورپی مفکرین آج دنیا بھر کی عوام کے لئے قابل احترام ہستیاں سمجھے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس ابن رشد، ابن سینا، الرازی، اور اس جیسے کئی دوسرے عظیم علما کے ساتھ ناروا سلوک کے مجرمین نہ صرف آج تک دندناتے پھرتے ہیں، بلکہ الٹا ہماری قوم انہیں اپنا روحانی و مذہبی پیشوا اور ہیرو مانتی ہے۔ فلسفے اور عقلیت کے دشمن امام غزالی کی رائے آج تک مسلمانوں کی واضح اکثریت کے لئے قانون مرتب کرنے والے مذہبی رہنماوں کے لئے حرف آخر کی حیثیت رکھتی ہے۔ آج بھی غامدی جیسے معتدل علما کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں اور اپنی سرزمین چھوڑ کر پردیس میں پناہ گزین ہیں۔ آج بھی مسلمان قرآن کی مبہم آیات کو سائنسی تحقیق پر تھونپنے کی کوشش کرتے ہیں اور آج بھی مودودی جیسے علما سائنس کے ختنے کر کے اسے مسلمان کرنے کے درپے ہیں۔ مسلمانوں پر فرد جرم اگر عائد کی گئی تو وہ ان جرائم کی ہو گی نہ کہ گلیلیو، برونو، ارشمیدس یا سقراط وغیرہ وغیرہ کے ساتھ کئے گئے نا روا سلوک کی۔ اور مجھے یقین ہے کہ ایک منصف ذہن اس فرد جرم کی بنیاد پر مسلم معاشرے کو سائنس دشمن ہی قرار دے گا۔ کیونکہ سائنس دوست معاشرے مدرسے میں قرآن حفظ کرنے کو سکول میں سائنس کی تعلیم حاصل کرنے سے افضل نہیں گردانا کرتے۔

علم دوستی سکول کی کتابوں میں لکھا ہوا ایک سبق نہیں، بلکہ ایک معاشرتی رویہ ہے۔ کتاب سے محبت، سوال پوچھنے کی حوصلہ افزائی، سوچ کی آزادی، فکر پر لگائی گئی قدغنوں سے چھٹکارا، جب تک ہمارے معاشرے میں ان روایات کو پروان نہیں چڑھایا جاتا، منزل تو درکنا، ترقی کی جانب ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔ مسلم معاشروں میں جب تک اس بات کا ادراک نہیں کر لیا جاتا کہ اقوام عالم میں با عزت مقام کے حصول کا راستہ جدید علوم و فنون سے ہو کر گزرتا ہے، پستی ہمارا مقدر بنی رہے گی۔ اور سب سے اہم بات یہ کہ مادی ایجادات کتابوں میں لکھے فارمولے اور معلومات رٹنے سے نہیں بلکہ جدت پسند اور تخلیقی و تنقیدی سوچ کی بنیاد پر ہی کی جا سکتی ہیں۔ پرکشش نوکری اور بہتر روزگار کی خواہش بجا، لیکن صحت مند اور ترقی یافتہ معاشرے کے حصول کے لئے بالغ النظر اور وسیع القلب افراد پیدا کرنا بھی ضروری ہوا کرتا ہے اور یہ سب کچھ صرف معیاری تعلیم کے بل بوتے پر ہی کیا جا سکتا ہے۔

Related Posts

Comments

comments

3 Comments

  • shahzeb

    Your narrative is useless without references. First of all, you need to cite sources so that any serious rebuttal is contemplated. Your work is simply a translation of some bigoted orientalist. I suggest all those who wish to understand this phenomenon to please read Edward Said’s Orientalism. Also, if you want to know about contribution of Muslim scientists, you must watch Jim Alkhalili’s documentary Islam and Science. Besides, giants like Bertrand Russell have clearly acknowledged the contribution of Arab scientists in the development of human civilization. As far as these factoids are concerned, human societies have always been far from perfect. One can always juxtapose these Muslim societies with those of the rest of the world and then deliver a verdict. And this defense of the Muslim heyday is never an apology for the present mess of the Muslim world. That, of course, is the result of colonization and dominance of those who preferred their vested interests over collective well being.

    • Muhammad Umer

      First of all all the events narrated here have been referenced from authentic sources. In case the reference has not been taken directly from sources of antiquity, it has been quoted from authentic writers. The question that who is authentic and who is not, is sometimes a matter of prejudice. Selection of sources is dictated by one’s own point of view, but still a certain level of impartiality can be achieved and that is what I always try to do. A list of referenced books can be provided to you on demand.
      Now lets come to your accusations of “bigoted orientalist” I think you didn’t read the article in full, or may be was so much disturbed by the facts presented in this article that you lost your power of reasoning and analytical skills. Nowhere in this article have I contested that Muslim scholars didn’t contribute at all or their contributions were in any way insignificant. Although that is a point of debate and we can have a discussion on that at some other place, I didn’t even touch this point in this article. So your accusations that this is a simple translation and that too of a bigoted orientalist, are simply baseless.
      The point we discussed in this article was that Muslim society in general has been anti-rationalist throughout its history. There may have arisen a few great men who fought for the cause of rationalism, but society in general didn’t support it, and that is the very reason why scientific revolution couldn’t take roots in Muslim societies. This is true that other societies, specially the European, have behaved similarly with their thinkers and philosophers in the past, but they have disowned and denounced anti-rational ideologies and behaviors since long. Catholic Church was forced to apologize for the atrocities it committed against scientists and philosophers of medieval ages and people in general now pay more respect to Galileo than the ones who persecuted him. In Muslim societies, exactly opposite is true. The biggest ideologue of anti-rationalist thought, Imam Ghazali, is still considered more authentic than Ibn-e Rushd. Our religious narrative draws more inspirations from Ghazali doctrine than that of Ibn-e Rushd. So unless and until we follow the same path of disowning anti-rationalist philosophers of our past and embracing rationalist ones, we do not deserve to take pride in the achievements of those rationalist philosophers. This was the main point of this article, which you missed, probably because you were blinded by the anger mentioned above.
      And lastly, if you can somehow prove that all what I have narrated above, was completely untrue, I will be really happy to retract my article. Give me authentic references and prove that nothing of the sorts happened with these thinkers of antiquity, I will openly apologize. But in case you are unable to prove…..

Leave a reply

required

required

optional



eight − = 4

%d bloggers like this: