مسلمانوں میں فرقہ بندی عقلی دلائل کی روشنی میں

December 14, 2012 at 09:38 , ,

امام دین
مسلمانوں کےتیسرے خلیفہ حضرت عثمانؓ نے جب اقتدار سنبھالا تو چہ مگوئیاں شروع ہو گئی کہ اقتدار کے اصل حقدار حضرت علیؓ تھے لیکن ان لوگوں کی آواز کو کچھ خاص پزیرائی نہیں ملی البتہ ایسے لوگوں  کو کھل کر بات کرنے کا موقع حضرت علیؓ کے دور میں ملا اور لوگوں نے اس بات کا برملا اظہار کیا کہ انہوں نےنبی اکرمﷺ سے سن رکھا ہے کہ میرے بعد خلیفہ اہلِ بیت سے ہو گا۔ اسی اختلاف پر مسلمان پہلی بار دو دھڑوں میں بٹ گئے اور اسلام میں ایک نیا فرقہ بننے کا سبب بنا۔
علما نے قرآن و سنت اور احادیث کی روشنی میں دونوں فرقوں کے حق میں دفاتر کے دفاتر لکھ ڈالے ہیں اور آج دونوں فرقے ایک حقیقت ہیں اور مسلمانوں کی اکثریت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ دونوں فرقوں میں کچھ اختلافات ضرور ہیں لیکن اسلام کے بنیادی عقاعد ایک ہی ہیں اور ایک دوسرے کے لیے واجبِ احترام ہیں۔

مسلمانوں میں سوچنے کی ذمہ داری صرف علما نے اپنے لیے از خود منتخب کر لی اور عام لوگوں کو اس عمل سے یہ کہ کے دور کر دیا گیا کہ یہ آپ کے سوچنے کا کام نہیں ہے۔ اس کے دماغ میں یہ بات راسخ کر دی گئی ہے کہ چونکہ اس کا علم محدود ہے اور اسے حدیث کو پرکھنے کے علم کا بالکل بھی علم نہیں لہذا یہ کام صرف اور صرف علمأ دین کا ہے جیسے ایک ماہر سرجن ہی صحیح جراحی کر سکتا ہے ۔ عقلی لحاظ سے یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ عام مسلمان جو دنیاوی علوم میں تو ساری دنیا کو اکھاڑ پچھاڑ سکتا ہے لیکن جس بات پر دین کا لیبل لگ جائے وہاں اسے کی سوچ پر تالے لگ جاتے ہیں اور اس سے آگے اس کے پر جلنے لگتے ہیں۔ حالانکہ اسلام کو نقصان اسی سوچ نے پہنچایا ہے کہ عام شخص دین میں سوچ بچار اور سوال نہیں کر سکتا۔ دین   میں قیاس نہیں یہ فقرہ ایسے ہی وقتوں کے لیے ایجاد ہوا ہے۔
دنیائے سائینس میں ایک اصول رائج ہے کہ کہی کہائی بات خواہ وہ کتنی ہی حقیقت پر مبنی ہو اس وقت تک تسلیم نہیں کیا جاتا جب تک اس کے حق میں ٹھوس دلائل نہ دیے جائیں، اسے تحریری شکل نہ دے دی  جائے اور کسی معتبر جرنل میں اس میدان کے نامی گرامی سکالر ز کی جانچ کے بعد اس  کی اشاعت نہ ہو جائے۔ اشاعت کے بعد بھی اس میں ترمیم کی گنجائش رہتی ہے اگر کوئی دوسرا اس سے بھی مضبوط دلائل دے ، تو اسی جانچ کے عمل سے گزر کر وہ اپنی بات کی اشاعت کر کےپچھلی کو رد یا اس میں ترمیم کر سکتا ہے۔ لیکن جب بات دین کی آتی ہے تو ممبر پر کھڑا ایک نیم خواندہ شخص ایسی بات کر دیتا ہے جس سے لاکھوں کروڑوں کی دل آزاری ہوتی ہے اور بعض اوقات حالات بھی کشیدہ ہو جاتے ہیں تاہم یہ ایک عام خیال ہےکہ صرف مُلا ہی دین میں تمام خرابیوں کے ذمہ دار ہیں، کچھ حد تک تو یہ بات درست ہے لیکن دین میں بہت سے فعل اور بھی عوامل سے شامل ہو گئے ہیں اور ان کا ایک مختصر  عقلی جائزہ پیشِ خدمت ہے۔
سب سےپہلے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ مذہب ایک سماجی علم ہےکیونکہ مذہب لوگوں کی اجتماعی زندگی میں مثبت تبدیلی کا نام ہے۔ اسلام کے متوالے بڑے فخر سے بتاتے ہیں کہ یہ دین ہمیشہ رہنے کے لیے ہے کیونکہ اس میں تمام زمانوں کے مسائل کا ہے اور یہ حل مسلمان علما اجتہاد کر کے عام مسلمانوں کو بتاتے ہیں اور ان کا ماننا ان پر ایسے ہی فرض ہے جیسے اسلام کے دیگر ارکان۔ یہ سوچ آج سے کچھ سو سال پہلے تک تو شائد کامیاب رہی ہو گئی لیکن آج کے حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ اس سوچ کا عقلی جائزہ لینا چاہیے۔
اس جائزے کی وجہ یہ ہے کہ علما اجتہاد تو کر لیتے ہیں لیکن یا تو معروضی حالات سے یکسر مختلف ہوتا ہے اور قابلِ عمل ہی نہیں ہوتا یا دیگر فرقوں کے علما اس کو اپنے فرقے سے متصادم دیکھ کر رد کر دیتے ہیں۔ اس کی ایک مثال علامہ طاہرالقادری کی ایک تقریر سے پیشِ خدمت ہے۔ بقول علامہ طاہرالقادری، “حضرت ابوبکرؓ حضرت محمدﷺ  کے گھر گئے تو دیکھا کہ انصار کی کچھ بچیاں گانا گا رہی تھی اور دف بجارہی تھی یہ دیکھ کر آپؓ غصے میں آگئے اور کہا کہ نبی کا گھر اور یہ شیطانی آلات، پھر آپ کی نظر محمدﷺ پر پڑی تو آپؐ نے فرمایا کہ انہیں منع نہ کرو ہر قوم کا ایک دن عید کا ہوتا ہے آج ہماری عید کا دن ہے۔ یہاں حدیث کا مفہوم ختم ہوتا ہے لیکن میں یہ بات اخذ کرتا ہوں کہ جب ابوبکرؓ نے گانا گانے سے منع کیا تو اس سے سلسلہ سہروردیہ وجود میں آیا، جب نبی اکرمؐ خاموش بیٹھے سن رہے تھے تو اس سے سلسلہ قادریہ وجود میں آیا اور جب آپؐ نے گانے کی اجازت دے دی تو اس سے سلسلہ چشتیہ وجود میں آیا”۔ اس بات سے پتہ چلتا ہے کہ اگر حدیث کی صحت ٹھیک ہے تو حدیث کے مفہوم کے ختم ہونے کے بعد جن تین سلسلوں کا ذکر کیا وہ اصل میں قادری صاحب کی اپنی سوچ ہے۔ ایک طرح سے یہ قیاس ہی ہے۔ چونکہ ان کے ماننے والوں کی ایک بڑی تعداد ہے تو ان کی تقلید کرنے والے اب اس بات کو دین کا درجہ دیں گےجبکہ دوسرے یا تو خاموش رہیں گے یا مخالفت کریں گے تو یہاں سے ایک الگ فرقہ وجود میں آجائے گا۔  لیکن دونوں طرح کے لوگوں میں ایک شے مشترک ہے وہ یہ کہ اگر یہ قیاس کسی عام مسلمان نے کیا ہوتا تو یقیناً قابل گردن زنی قرار پاتا۔ یہ فرقہ بندی صدیوں چلتی اور ایک دو نسلوں بعد کے لوگوں کو یہ تک نہ پتہ ہوتا کہ ان کے مسالک میں کیا اختلاف تھا۔ عام مشاہدے کی بات ہے کہ اختلاف وقت کے ساتھ ساتھ خود بخود ختم ہو جاتا ہے لیکن مسلمان فرقوں میں بٹے ایک دوسرے کو کافر قرار دے کر قتل و غارت تک کر دیتے ہیں۔
جیسا کہ شروع میں عرض  کیا کہ مسلمانوں میں پہلا فرقہ حضرت علیؓ کی خلافت پر وجود میں آیا، سوچنے کی بات ہے کہ جب کبھی یہ فرقے بنے تھے تو اصل اختلاف لکھ کر کسی جگہ محفوظ کر لیا جاتا اور آنے والے وقت کے لوگوں پر چھوڑ دیا جاتا کہ وہ تاریخی حقائق کی روشنی میں عقل استعمال کرتے ہوئے ایک بات کو مان لیں اور دوسری کو چھوڑ  دیں۔  لیکن اب حضرت علیؓ نہیں ہیں لیکن مسلمانوں کے فرقے آج قتل و غارت پر اترے ہوئے ہیں اور کوئی بھی دلیل سے بات کرنے اور سننے کو تیار نہیں۔ حالانکہ اختلاف کی اصل وجہ ختم ہو چکی ہے۔ محمدﷺ کے اس قول کے بعد کہ “اگر ایک نکٹا حبشی بھی تم لوگوں کو اسلام کے مطابق چلائے تو تم اس کی اطاعت کرو” اس بات کی گنجائش بھی نہیں رہتی کہ صرف اہل بیت ہی مسلمانوں کے حکمران ہو سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو محمدؐ کے وصال کے بعد جب مہاجرین اور انصار میں خلیفہ کے مسئلے پر اختلاف سامنے آیا تو جہاں حضرت عمرؓ یہ بات بتا کر سب کو قائل کر سکتے تھے کہ انہوں نے آپؐ سے سنا تھا کہ خلیفہ قریش سے ہو گا وہاں یہ بھی کہ سکتے تھے کہ خلیفہ اہلِ بیت یا بنوہاشم سے ہو گا۔ اگر وہاں کسی کو معلوم نہ تھا تو اس بات کا یقین کرنے میں بھی حرج نہیں کہ اگر پہلے تین خلفا کے سامنے جا کر کوئی یا خود حضرت علیؓ یہ بتاتے کہ حکمرانی صرف اہلِ بیت کا حق ہے تو یقیناً خلیفۂ وقت اقتدار چھوڑ کر کسی اہلِ بیت کو دے دیتے۔ خیر ان باتوں کے حق میں اور مخالفت میں لاکھوں صفحے سیاہ کیے جاچکے ہیں۔ مقصد یہ کہ اگر اصل اختلاف کہیں لکھا ہوا تو کسی زمانے میں جب اختلاف نہ رہتا تو سبھی لوگ کسی ایک بات پر متفق ہو جاتے۔
اس سے کچھ مماثلت بریلوی اور دیوبندی مسالک میں بھی پائی جاتی ہے۔ دونوں مسالک امام ابو حنیفہ کے مقلد ہیں لیکن ان میں اصل اختلاف انگریزوں کی برِصغیر آمد اور حاکم بن جانے پر ہوا۔ بریلوی مدرسہ نے فتویٰ دیا کہ عام مسلمان کے دینی عقائد و عبادات پر انگریزوں نے کوئی پابندی نہیں لگائی اس لیے ان کے دین کو کوئی خطرہ نہیں جبکہ دیوبندی مدرسہ نے فتویٰ دیا کہ انگریزوں کے حاکم بن جانے سے مسلمانوں کے دین کو خطرہ ہو گیا ہے اس لیے مسلمان یہ علاقہ چھوڑ دیں۔ اس فتویٰ کے نتیجے میں مسلمانوں کے ایک بڑی تعداد نے اپنے گھر بار بیچ کے افغانستان کا رخ کیا کچھ وہاں چلے گئے اور اکثریت پنجاب کے مغربی علاقے میں بس گئی۔ آج انگریز اس خطے کے حکمران نہیں رہے اور مسلمانوں کو ایک الگ ملک پاکستان مل گیا ہے جس مسئلہ پر یہ دو مسلک وجود میں آئے اس کی بنیاد ختم ہو گئی ہے لیکن ان کے ماننے والوں کو آج اس وجہ کا علم نہیں ہے اور آج بھی دونوں مسالک ایک دوسرے کی مخالفت برائے مخالفت کر رہے ہیں۔
مسلمان حکمرانوں نے بھی بہت سے اجتہاد کیے اور ان کے یہ اجتہاد یا تو اس وقت کی ضرورت تھے یا ان کی اپنی۔  بنو امیہ کے خلیفہ عمربن عبدالعزیز نے نو مسلموں کو سہولت دی کہ ان سے جزیہ وصول نہیں کیا جائے گا ان کی اس بات کو بہت پزیرائی ملی اور آج تک کسی نے اس کو غلط نہیں کہا حالانکہ ان کے وزرا نے اس کی اس بنا پر مخالفت کی تھی کہ اس سے حکومت کی ٹیکس میں کم آمدن ہوگی۔ دین میں یہ نئی بات ایک حاکمِ وقت کے قیاس سے وجود میں آئی اور آج تک رائج ہے۔
اسی طرح جب بنو عباس کی حکومت آئی تو انہوں نے لوگوں کو کربلا کی یاد میں گھروں سے نکال کر سڑکوں پر کھڑا کر ماتم کروایا یہ اسلامی تاریخ میں پہلی بار ہوا کہ لوگوں نے باقاعدہ اجتماعی شکل میں واقعہ کربلا کی یاد میں ماتم کیا۔ بنو عباس کی حکومت تو ختم ہو گئی لیکن ماتم کربلا آج بھی شعیہ مسلک کا اہم جز بن کر سب کے سامنے ہے۔
ایک اور فرقہ جو اب تاریخ کے اندھیروں میں گم ہو گیا ہے معتزلہہے۔ عقل و دلیل اور استدلال اس مسلک کا خاصہ تھا ۔ اللہ کے فرمان کو عقل و استدلال سے پرکھا جا سکتا تھا اور علم کی وضاحت کے لیے عقل کے استعمال سے سچ کو جھوٹ سے اور صحیح کو غلط سے الگ کیا جا سکتا ہے۔ عباسی خلیفہ مامون الرشید اسی مسلک سے تعلق رکھتا تھا۔ اس مسلک کے ماننے والے عقلی دلائل کے استعمال میں غیر ضروری بحث میں الجھ گئے اور قرآن کو اللہ کی کتاب کی بجائے اللہ کی مخلوق قرار دے دیا گیا۔ اس غیر ضروری بحث میں ان لوگوں کو مقبولیت ہوئی جو قرآن کو اللہ کی کتاب سمجھتے تھے اور یہ مسلک اپنی موت آپ مر گیا۔ حالانکہ عقلی دلائل کوئی بری بات نہیں لیکن اس کا مقصد دین میں لوگوں کی بہتری کے لیے اجتہاد کرنا ہو نہ کہ غیر ضروری مباحثوں میں الجھ کر عام لوگوں کی دلچسپی کو ختم کر دینا۔ اس مسلک کے خاتمے کے بعد مسلمانوں میں سوچ اور عقل کے استعمال پر پابندی لگ گئی اور اس کی جگہ اشعری مسلک نے لے لی مولانا غزالی اسی مسلک کے حامی تھے۔ آج تک مسلمان اسی دورِ عباسی کے اجتہاد میں زندگی بسر کر رہے ہیں اور ساتویں صدی سے آگے نہیں بڑھ پا رہے۔ آج کے دور کے تقریباً تمام سنی مسالک کسی نہ کسی طرح اشعری مسلک کی شکل ہی ہیں۔ دنیا آگے بڑھ گئی جبکہ مسلمانوں نے اپنی عقل پر پردے ڈال لیے۔
اگر عیسائی بھی اپنے اجتہاد کو دین کا درجہ دے دیتے تو یقیناً آج ان کا دین اسلام سے بہتر قرار پاتا کیونکہ آج کے مسلمان اپنے اپنے ممالک کے قوانین انہی غیر مسلم کفار سے مستعار لے رہے ہیں۔ مجیب الرحمٰن شامی صاحب کا فقرہ ہے کہ ہمارے عدالتی نظام کے وکلا فقہ وکٹوریا کے علما ہیں۔ وقت کی ضرورت ہے کہ باہمی فرقہ پرستی چھوڑ کر جو بھی اجتہاد کریں وہ لوگوں کی بھلائی اور آسانی کے لیے کریں اور اسے دین کا درجہ نہ دیں صرف علم کا ایک شاخسانہ قرار دیں اور آنے والے وقتوں میں اس میں ترمیم کی گنجائش چھوڑیں ۔ نہیں تو اتنے فرقے بن جائیں گے کہ گنتی بھی ممکن نہیں ہوپائے گی۔

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



− 7 = zero

%d bloggers like this: