مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

July 24, 2013 at 02:15 ,
امام دین؛

شام میں جاری شعیہ سنی لڑائی اس وقت شدت اختیار کر گئی ہے اور اس خانہ جنگی کی لپیٹ میں اسلام کی برگزیدہ ہستیوں کے مزارت بھی آگئے ہیں۔ کچھ دن پیشتر نواسی رسولﷺ بی بی حضرت زینبؓ کے مزار پر راکٹ حملہ ہوا جبکہ اس سے اگلے ہی دن خالد بن ولید ؓکے مزارپر طیاروں سے حملہ ہوا جس سے مزار کی بلڈنگ کو نقصان ہوا۔

ایک نیک سیرت مسلمان کے لیے دونوں واقعات ہی باعث مذمت ہیں لیکن اسلام کی تاریخ جاننے والے اس رویے سے بخوبی آگاہ ہیں۔ یہ تاریخ اسلام کا پہلا ایسا واقعہ نہیں ہے اور نہ ہی ایسے واقعات چند ایک ہیں بلکہ مسلمانوں کی تاریخ ایسے واقعات جن میں قبروں کی بے حرمتی کی گئی سے بھری ہوئی ہے۔

سب سے پہلا واقعہ خلیفۃ اللہ، حضرت عثمانؓ کی شہادت کیساتھ ہی پیش آیا۔ ان کی شہادت ایسے حالات میں ہوئی کہ مدینہ میں عملاً ان کے قاتلوں کا راج تھا۔ ان بلوائیوں نے ان کی لاش کو دفنانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ ایک روایت کے مطابق ان کے جنازہ پڑھنے والوں کو بھی قتل کی دھمکی دی گئی۔ اس پر قتل کے تین دن بعد رات کے اندھیرے میں خاندان کے چند افراد نے ان کی لاش کو جنت البقیع کے عقب میں واقع یہودیوں کے قبرستان پہنچایا اور خاموشی سے نماز جنازہ ادا کر کے دفن کیا گیا۔

اس سے ملتا جلتا دوسرا واقعہ داماد رسول حضرت علیؓ کی شہادت پر پیش آیا جب ایک خارجی کے مہلک وار سےحضرت علی شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے۔ ایک عقلمند آدمی ہوتے ہوئے انہوں نے اپنے ورثا کو وصیت کی کہ ان کی لاش کسی گمنام جگہ پر دفن کی جائے، یہی وجہ ہے کہ آج کسی کو حضرت علیؓ کی قبر کا علم نہیں ہے۔ حضرت علی کی قبر کے بارے میں صرف قیاس ہی ہے، ایک روایت کے مطابق ان کی قبر افغانستان میں ہے، دوسری روایت کے مطابق ان کی قبر کوفے کے نواح میں ہے، تیسری روایت کے مطابق ان کی قبر مدینے میں ہے، چوتھی روایت کے مطابق ان کی لاش کو کو کوفے سے مدینے لایا جارہا تھا تو راستے میں یہ قافلہ لٹیروں نے لوٹ لیا اور لاش کو اسی مقام پر دفن کر دیا۔ایک اور روایت میں لاش کو واپس لاتے ہوئے ایک طوفان آیا اور ایک گھڑ سوار آیا جو لاش لے گیا، کہنے والے کہتے ہیں وہ گھڑ سوار خود علی تھے۔ ایک اور روایت کے مطابق اس طوفان میں علی کا تابوت اُڑ گیا اور جب طوفان تھما تو تابوت میں لاش غائب تھی اور ایک قبر بن چکی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی نہیں جانتا کہ ان کی قبر کہاں ہے۔

جب بنو عباس حکمران بنے تو دمشق میں عبداللہ بن علی بن عباس نے بنو امیہ کے سابق خلفاء کی قبریں ادھیڑ ڈالیں، امیر معاویہ کی قبر سے صرف مٹی اور دھول نکلی۔ کچھ قبروں سے نکلنے والے ڈھانچوں کو نکال کر سرعام لٹکایا گیا، ہاشم بن عبدالمالک جو تقریباً سات سال پہلے مرا تھا کی لاش صحیح سلامت ملی اسے نکال کر اس لاش کو کوڑے مارے گئے، سڑکوں پر گھسیٹا گیا پھر پھانسی دی گئی اور آخر میں جلا کر اسکی راکھ ہوا میں آڑا دی گئی۔
[History of Islam Vol. II p.276]

اسی نقش قدم پر چلتے ہوئے تاریخ میں ایک ایسا موقع بھی آیا جب بنو عباس نے امام حسین کا کربلا میں مزار گرا کر وہاں کاشت کاری کروا دی تھی۔امام حسین کے سر کی قبر کو بھی مسلمان سلطان عظیم فاتح، صلاح الدین ایوبی سے خطرات رہے۔ امام کا سر فلسطین سے اسی خدشے کے پیش نظر مصر لایا گیا لیکن پھر بھی نہ بچ سکا۔ صلاح الدین ایوبی نے وہ پوری مسجد ہی جلوا دی جس میں اس سر کو دفن کیا گیا تھا۔

حجاز میں عباسی دور میں ہزاروں قبروں پر مزارات تعمیر تھے۔ وہابی آئے تو سب گرا کر قبریں برابر کر دیں۔اس کے علاوہ اسلام کے عظیم سپوتوں نے کسی ہستی سے کوئی رعائیت نہیں برتی۔ پاکستان میں رحمان بابا کا مزار کے پی میں اتنا ہی معتبر سمجھا جاتا ہے جتنا لاہور میں داتا صاحب کا۔ حال ہی میں جب ملک میں طالبان کا بول بالا ہوا تو یہ مزار بھی اسلام کے سنہری اصولوں کی زد میں آگیا نہ صرف اس مزار کو گرایا گیا بلکہ قبر بھی کھود دی گئی۔

شام میں صحابی رسول حجر بن عدی اور لیبیا میں حسن عسکری کا مزار بھی دھماکے سے اڑا دیا گیا اور تازہ واقعات میں بی بی زینب کا مزار اور اسلام کی تلوار خالدبن ولید کےمزارات بھی مسلمانوں کے شر سے محفوظ نہ رہ سکے۔

مرزا غالب نے ایسے ہی کسی موقع کے لیے کہا تھا؛

؏اب تو گھبرا کر یہ کہتے ہیں کہ مرجائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

حقیقت یہ ہے کہ مسلمان زندہ لوگوں تو کیا مردوں کو بھی تحفظ دینے میں ناکام ہو گئے ہیں۔ جبکہ عدم برداشت اور تشدد کا رویہ ہمارے وجود کو گہنا رہا ہے۔ اسی فتنے سے بچانے کے لیے امریکہ بہادر نے ہم پر رحم کھایا اور مجاہد عظیم، اسامہ بن لادن کی لاش کو سمندر برد کر دیا نہیں تو ایسے واقعات اس کی قبر مبارکہ کیساتھ بھی پیش آتے۔

Related Posts

Comments

comments

1 Comment

  • بہت اچھا آر’ٹیکل ہے۔ لیکن ایک بات اور شامل نہیں ہوئی۔ ابن خلدون کی بیان کردہ روایت کو بھی شامل کرنا چاہیے جس کےمطابق واقعہ کربلا ہوا ہی نہیں اور امام حسین کو مدینہ سے کربلا کی طرف جاتے ہوئے راستے میں ہی شیہد کر دیا گیا تھا۔ اور رہی بات مردوں کو تحفظ دینے کی تو یہ وقعی بے وقوفی ہے۔ سعودی عرب اس معاملے میں بہتر ہے جو کہ قبروں میں ایسے کیمیکلز پھینک دیتا ہے جس سے لاش ختم ہو جاتی ہے اور پھر اسی قبر میں دوسرے مردے کو دفن کر دیا جاتا ہے اور پھر اس طرح یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ جگہ بھی نہیں بڑھتی اور قبرستان بھی نہیں پھیلتا۔

Leave a reply

required

required

optional



9 − = four

%d bloggers like this: