مذہبی روادی کا پرچار یا منافقت

December 4, 2014 at 06:43

EasyNarrative:


پچھلے دو دن سے کافی کشمکش کا شکار تھا اس لیے جنید جمشید کے حضرت عائشہ کے بارے میں ادا کیے گئے کلمات کی نہ تو کوئی وڈیو اپنے پیج پر شئیر کی نہ کوئی بات کی۔۔ لیکن اب جس طرح اس وڈیو پر “مٹی پاو” ہورہا ہے اور اپنا بکرا آج پھنسا ہے تو یہ مولوی کیسے قابلِ عمل حل بتا کر اس کو بچارہے ہیں جبکہ دیگر مواقع پر ان کی شعلہ بیانی قابلِ دید ہوتی ہے جس میں یہ “سنتِ ضیاء” پر عمل کرتے ہوئے سماج کو ہماری اجتماعی قربانی کا درس دینے لگتے ہیں اسلیے سوچا جنید جمشید کے اس عمل کے بعد لوگوں کے کانوں میں یہی مناسب وقت ہے کچھ حقائق کو گوش گزار کردیا جائے

مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ میں ایک آمر کے بنائے “توہینِ مذہب” قانون کا مخالف ہوں اور اس کے خاتمے کی خواہش رکھتا ہوں لیکن بدقسمتی سے مجھے جنید جمشید پر اس قانون کے بھرپور “اطلاق” کی خواہش ہے تاکہ آج ان مولویوں میں سے کسی کے گھر کو آگ لگے تو ان کی بھی آنھکیں کھلیں جب ان کے کسی پیارے کا جنازہ پڑھانے سے بھی علماء انکار کردیں گے۔۔

یہ بھی نہیں رہیں گے جو وہ دن نہیں رہے
کچھ لوگ اپنے ظلم مگر گن نہیں رہے

میرے جیسے لبرل انسان کے پاس جنید جمشید پر “توہینِ مذہب” قانون کے استعمال کے لیے کچھ دلائل ہیں جو دینے سے پہلے آج میں جنید جمشید صاحب کی زندگی کے کچھ پوشیدہ گوشوں کو منظرِ عام پر لانا چاہتا ہوں جو اس سے قبل کرتا تو اندھی عقیدت کاشکار ہمارے لوگ سننے کو تیار نہ ہوتے۔

جنید جمشید صاحب کے تازہ کارنامہ پر جس کا پسِ منظر میں ذرا بیان کردوں کہ کچھ عرصہ قبل ان کی ایک وڈیو سوشل میڈیا پر منظرِ عام پر آئی جس میں یہ فرما رہے تھے کہ خاتون کو ڈرائیونگ کا حق نہیں ہونا چاہیے جس پر خواتین نے سوشل میڈیا پر سخت ردعمل کا اظہار کیا اور ان کی سعودی عرب سے “درآمد شدہ” سوچ کی مذمت کی۔ جنید جمشید اس بات کو دل پر لے کر بیٹھ گئے اور بجائے اپنے بیان کی وضاحت کرتے یا خواتین کی دل آذاری پر معذرت کرتے جناب نے ایک اور وڈیو ریکارڈ کروا ڈالی جس میں خواتین کو ذہنی بیمار قرار دینے کے لیے دین کا سہارا لینے کی غرض سے ہمارے نبی محمد ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ کو پیغمبر اسلام ﷺ کی زندگی میں مسائل پیدا کرنے والی شخصیت قرار دیا اور اس کی وجہ انکا عورت ہونا بیان کی۔ جس کے بعد توقع کے عین مطابق ملک بھر میں وہ وڈیو جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور لوگوں کی طرف سے سخت ردِ عمل سامنے آیا۔

لوگوں کے ردِعمل کی تپش محسوس کرتے ہوئے تبلیغی جماعت کے روحِ رواں مولانا طارق جمیل نے ایک وڈیو پیغام میں جنید جمشید کے بیان کی مذمت کی اور کہا کہ “جنید جمشید نے یہ بیان اپنی جہالت کی وجہ سے دیا ہے جس پر انہیں فوری طور پر توبہ اور معافی مانگنی چاہیے۔ جنید جمشید کے ان خیالات کو تبلیغی جماعت اور مجھ سے ملا کرمت دیکھا جائے۔” جس کے چند گھنٹوں بعد موصوف جنید جمشید نے بھی ایک وڈیو جاری کی جس میں لوگوں سے درخواست کی کہ “ان سے نادستہ بہت بڑی غلطی ہو گئی ہے اور کیوں کہ وہ نہ تو عالم ہیں نہ مفتی اس لیے ان کی جہالت کو معاف کردیا جائے کیونکہ انہوں نے دن میں تین بار وعظ بیان دینے ہوتے ہیں اس لیے ان کو معلوم نہ ہوا کہ ان کے منہ سے کیا کلمات نکل گئے۔”

اب اس مسئلہ کو جس آسانی سے ختم کرنے کی کوشش کی گئی اس پر چند سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ پہلی بات تو یہ کے صاف نظر آرہا ہے کہ مولانا طارق جمیل اور جنید جمشید نے میچ میں “سپاٹ فکسنگ” کررکھی تھی جس کے لیے انہوں نے بڑی خوبصورتی سے جنید جمشید کو بنا کر “بال” دی تاکہ ان کی وکٹ بھی نہ گرے اور بالر کا “کیرٗیر” بھی بچ جائے۔ مولانا طارق جمیل نے اپنے بیان میں انتہائی سادگی سے بیان کردیا کہ جنید جمشید کے بیان کو ان سے یا تبلیغی جماعت سے ملاکر نہ دیکھا جائے۔ جنابِ والا تو جو جنید جمشید کو عروج بخشنے میں ان کا کردار ہے جو سوشل میڈیا پر اپنی اور جنید جمشید کی تصاویر کی وہ تشہیر کرتے ہیں اور پاکستان کے گلی چوراہوں سے لے کر دنیا بھر میں بڑے بڑے مذہبی اجتماعات میں جنید جمشید کو ساتھ لے کر گھومتے ہیں اور تبلیغی جماعت کے “برینڈ ایمبیسیڈر” کے طور پر ان کی “مارکیٹینگ” وہ کرتے رہے ہیں اس کے بعد بھی ان پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی کہ وہ ایک دین سے نابلد شخص کو (جو اب بقول مولانا طارق جمیل کے “جاہل” ہے) ایک عالم کے طور پر لوگوں میں متعارف کرواتے رہے اور اس سے تبلیغ اور درس و تدریس کا کام لیتے رہے؟ کیا وہ اس جرم کے قصور وار نہیں کہ انہوں نے ایک جاہل شخص کی صرف شہرت سے فائدہ اٹھانے کی غرض سے اس کو “پروموٹ” کیا؟

اب آجائیے مولانا طارق جمیل کے بیان کردہ دوسرے جملے پر جو ان کی نیت کو مزید مشکوک کرتا ہے۔ مولانا طارق جمیل کو انتہائی خوبصورتی سے “فرار” کا راستہ بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ “فوری طور پر معافی مانگو اور توبہ کرو” جناب یہ “نسخہِ کیمیا” باقی پاکستانیوں کے لیے قابلِ عمل کیوں نہیں؟ مجھے معلوم ہے آپ فرمائیں گے کہ آپ نے کبھی توہین مذہب کرنے والوں کو مارنے کے فتوے نہیں دیے تو جناب آپ نے کبھی ان کو بچانے کے لیے یوں آواز بھی تو نہیں اٹھائی۔ آپ کو اپنی پوزیشن اب واضح کرنا ہوگی۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ توہینِ مذہب کا پاکستانی قانون غلط ہے اور یوں معافی مانگ کر “گناہِ کبیرہ” کی توبہ قبول کی جاسکتی ہے تو کھل کر سامنے آئیں اور اس قانون کے خلاف بات کریں اور قانون کے تحت جیلوں میں سزا کاٹنے والے مجرموں کی جان چھڑوائیں۔ لیکن اگر آپ اس قانون کو ایک “مثالی” قانون مانتے ہیں تو جنید جمشید پر بھی اس کے اطلاق کی مہم چلائیں۔

اب ذرا کچھ گذارش جنید جمشید صاحب سے۔۔ حضور آپ نے اپنی معافی نامہ والی وڈیو میں اعتراف کیا کہ آپ کوئی عالم یا مفتی نہیں اور جہالت و کم علمی کی بنیاد پر ایسی گفتگو کرگئے۔ جنابِ والا اگر آپ عالم نہیں تو کیا آپ کو احساس ہے کہ آپ جیسا کم علم شخص جب دین کی تبلیغ کرے گا تو وہ اس بھاری ذمٰہ داری سے انصاف نہیں کرسکے گا اور ایسے جاہلانہ بیان دے کر علماء کی بدنامی اور دینِ اسلام کے تشخص کی تباہی کا باعث بنے گا؟ آپ جواب دیں کہ جب آپ عالم نہیں تو کیوں ٹی وی چینلز سے مذہبی پروگراموں میں شرکت کے کروڑوں روپے وصول کرتے رہے؟ یقین مانئیے آپ سے کہیں زیادہ بڑے پن اور غیرت کا مظاہرہ آپ کی وڈیو منظرِ عام پر آنے والے روز امریکہ میں ریپبلکن پارٹی کی “غیر مسلم” کمیونیکیشن ڈائریکٹر الزبتھ لوٹین نے دکھایا ہے جنہوں نے امریکی صدر اوباما کی بیٹیوں کا تمسخر اڑانے پر تنقید کے بعد اپنے عہدے سے استعفٰی دے دیا۔ دینِ اسلام کی حرمت آپ سے تقاضا کرتی ہے کہ آپ بھی تبلیغ سے علیحدہ ہو کر اب خاموشی سے زندگی گزاریں اور دین کو کریڈٹ کارڈ کے طور پر”کیش” کرنا بند کردیں۔ ہاں ایک بات اور براہِ مہربانی ٹیکس پورا ادا کرکے رزقِ حلال کمائیں۔

آخر میں کچھ عرض اپنے پاکستانی بہن بھائیوں کے لیے۔۔۔ جناب صرف داڑھی رکھ لینے سے اور سرِعام نماز روزہ کی نمائش کرنے والا لازمی نہیں کہ اندر سے بھی وہی ہو۔

تیرے ہوتے ہوئے بھی اے خالق
مجھ پر ہربندے نے خدائی کی

جہاں ہم نے کوٹ رادھا کشن میں معصوم شہزاد اور شمع کو ان کے دودھ پیتے معصوم بچوں کے سامنے مذہب کی توہین کے جھوٹے الزام میں زندہ جلا ڈالا، ملتان یونیورسٹی کے ہونہار طالبعلم جنید حفیظ کو جیل میں ڈلوا دیا اور ان کا مقدمہ لڑنے والے انسانی حقوق کے نامور وکیل راشد رحمان کو صرف ایک مبینہ توہینِ مذہب والےملزم کا وکیل ہونے کی وجہ سے قتل کر ڈالا، سلمان تاثیر شہید کے قاتل کو پھولوں کی پتیوں کا لباس پہنا ڈالا کیا آج جنید جمشید کے لیے ہمارا نرم رویہ ظاہر نہیں کرتا کہ کوئی بھی داڑھی رکھ کرہماری مذہبی عقیدت کا ناجائز فائدہ اٹھا سکتا ہے؟ ذرا سوچیے شاید جنید جمشید کے اس مقدمے کو ایک ٹیسٹ کیس کے طور پر لے کر ہم یا تو اس بدترین کالے قانون سے جان چھڑوا سکتے ہیں یا اپنے اس “مقدس” مولوی جنید جمشید کو سزا دلوا کر اپنے ہاں پائے جانے والے دہرے معیار کو ختم کرسکتے ہیں!

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



− 6 = one

%d bloggers like this: