محرم الحرام کی رسومات پر نظرثانی کی ضرورت

November 5, 2013 at 03:30
خاک نشین؛

نئے اسلامی سال کا آغاز ہوا چاہتا ہے۔ ماہ محرم نواسہِ پیغمبر امام حسین انکے اصحاب اور خانوادے کے خون سے عبارت ہے۔ چونکہ اسلامی تاریخ کے اس عظیم سانحہ نے اسلام میں گروہ بندی کو کھول کے رکھ دیا۔ آج بھی اس سانحہ کے حوالے سے امت مسلمہ تفریق کا شکار ہے۔ ایک گروہ اس سانحہ کی یاد مناتا ہے اور دوسرا گروہ اس سانحہ کی یاد منانے سے روکتا ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ اس سانحہ کی یاد منانا چاہیے یا نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سانحہ کی یاد میں جن رسومات کا آغاز ہو چکا ہے ان کا جائزہ لیا جائے اور سوچا جائے کہ ان رسومات کو کس طرح انسانیت کے لیے سودمند بنایا جاسکتا ہے۔

١۔: ایک محتاط اندازے کے مطابق صرف محرم کے ابتدائی دس دنوں میں لاکھوں علم، شبیۂ روضہ، شبیۂ جھولا، شبیۂ مہندی، شبیۂ زوالجناح، شبیۂ تابوت وغیرہ ماتمی جلوسوں میں برآمد کیے جاتے ہیں۔ ہر سال ہزاروں نئی شبیہے تیار کی جاتی ہیں۔ شبیۂ روضہ، شبیۂ جھولا، شبیۂ تابوت، شبیۂ مہندی کی قیمت کم از کم دو لاکھ روپے سے شروع ہوتی ہے۔ شبیۂ علم کی کم از کم قیمت تیس ہزار روپے سے شروع ہوتی ہے۔ شبیۂ زوالجناح کے زیور کی قیمت کم از کم ایک لاکھ روپے سے شروع ہوتی ہے۔ جبکہ شبیۂ زوالجناح کی قیمت دو لاکھ سے شروع ہوتی ہے۔ یعنی ہر سال محرم کے ابتدائی دس دنوں کے دوران صرف نئی شبیہوں کی خریداری پر کروڑوں روپے صرف کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح صرف ابتدائی دس دنوں میں کروڑوں روپے نیازوں پر خرچ کیے جاتے ہیں۔ زاکرین اور علماٴ کو مجالس کے کروڑوں روپے ادا کیے جاتے ہیں۔ نامور علماٴ و زاکرین ایک مجلس کے پچاس ہزار روپے سے دو لاکھ روپے تک وصول کرتے ہیں۔ مختصرا ابتدائی دس ایام میں اربوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔ اگر اس تمام عمل پر نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوگا کہ انسانیت اور سماج کو اس تمام مشق سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہورہا ہے۔ لیکن تھوڑی سے اصلاح سے اس جذبہ کو انسانیت کے لیے انتہائی سودمند بنایا جاسکتا ہے۔ ان اخراجات کی آدھی رقم یا کچھ حصہ بھی جدید تعلیمی اداروں، ہسپتالوں، اولڈ ہاوسز، رفاعی امور پر خرچ کیا جائے تو بہت سارے مسائل کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ بہت ساری بچیوں کی شادیاں ممکن ہوسکتی ہیں، بہت سارے بےروزگاروں کو روزگار مہیا کیا جاسکتا ہے۔ معیارِ زندگی کو بہتر کیا جاسکتا ہے۔ اس جذبہ کا رخ اگر حقیقی معنوں میں انسانیت کی طرف موڑ دیا جائے تو انقلابی تبدیلیاں رونما ہوسکتی ہیں۔ میں ہرگز نہیں کہتا کہ ان رسومات کو ختم کردیا جائے، میرا مدعا یہ ہے کہ ان رسومات پر اُٹھنے والے اخراجات کا معقول حصہ رفاعی امور کے لیے وقف کیا جائے۔

٢۔: ایک محتاط اندازے کے مطابق صرف دس محرم کو ایک کروڑ سے زائد لوگ پاکستان میں زنجیرزنی کرتے ہیں۔ امام حسین کی یاد میں اپنا خون بہاتے ہیں۔ یہ خون ایک جذبہ کے تحت بہایا جاتا ہے، جس کا محور انسانیت کو قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت میں زنجیرزنی کی اس رسم سے انسانیت کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا ہے۔ زنجیرزن اپنے خون کا بہتر مصرف کرسکتا ہے، اگر اپنا خون کسی بلڈبنک کو امام حسین کی قربانی کی یاد میں عطیہ کر دے۔ تاکہ یہ خون کسی ضرورت مند مریض کی جان بچانے کے کام آسکے۔ تب حقیقی معنوں میں خون انسانیت کے لیے کارآمد ثابت ہوگا۔ پاکستان میں صرف ہر دس محرم کو ایک کروڑ خون کی بوتلیں جمع کی جاسکتی ہیں۔ دہشتگردی کی شکار قوم کے لیے یہ خون انتہائی مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

٣۔: ایک محتاط اندازے کے مطابق تین کروڑ سے زائد افراد پاکستان میں سینہ زنی کرتے ہیں۔ اگر یہ تین کروڑ افراد امام حسین کی یاد میں سال کا ایک دن فلاحی و رفاحی امور مثلا شہر، قصبہ یا دیہات کی صفائی، بلامعاوضہ کسی فلاحی عوامی منصوبہ میں مشقت وغیرہ سرانجام دینے کے لیے وقف کردیں تو اس ملک کی حالت سنور جائے۔

۴۔: اگر منبرِ حسینی سے سُروں اور راگوں کے بجائے علمی و عقلی گفتگو کی جائے، معاشرتی و سماجی مسائل کو اجاگر کیا جائے، مسائل کے حل تجویز کیے جائیں، مذہبی سوچ سے بالاتر ہوکہ فقط اچھے انسانی معاشرے کی تشکیل پر توجہ دی جائے تو دہشتگردی، غیرانسانی رویوں، تعصب، نفرت، تفریق کے جذبوں کے مقابل انسانیت، محبت، اتحاد کے جذبوں کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



5 + two =

%d bloggers like this: