محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہے

February 15, 2014 at 00:00 , ,
لائبہ یوسفزئی؛

ہمارے ہاں ایک محاورہ مشہور ہے کہ محبت اور جنگ میں سب جائز ہے۔ آج کل جو کچھ ہورہا ہے وہ سب ان حالات پر فٹ آتا ہے ۔ یہ جنگ جس میں آج ہم بری طرح پھنس چکے ہیں اور اسے جنگ ماننے کو تو بالکل تیار ہی نہیں ہیں شاید یہ محبت کی کوئی قسم ہے۔

طالبان جب ہمارا کوئی سپاہی مارتے ہیں تو نام نہاد مذہبی اسکالر اس کو شہید ماننے کو تیار نہیں لیکن اگر کوئی دہشتگرد مرجائے تو وہ بقول فتویٰ فیکٹری صد فی صد شہید ہوتا ہے ۔حتیٰ کہ مولانا فضل الرحمن کا فرمانا ہے کہ طالبان کا مرنے والا کتا بھی شہید ہے۔

یہ طالبان کی خاص محبت ہے کہ وہ ہمارے ساتھ اتنے پیار و اخوت سے پیش آرہے ہیں اور اب تک 70 ہزار کو اپنی محبت سے نوازکر جنت میں پہنچا چکے ہیں ۔جبکہ ہمارے سیاستدانوں ، مذہبی اسکولرز کی بھی عوام سے یہ خاص محبت ہے کہ وہ اپنی محبت میں ان سے قربانی لے رہے ہیں اور عوام کو جنگ سے دور رکھنے کے لئے مذاکرات کا راگ الاپ رہے ہیں ۔

یہ بھی اس قوم کی محبت ہی تو ہے جو ڈاکٹر عبدالسلام ، ڈاکٹر پرویز ہود بھائی جیسے سائینسدان ، ملالہ یوسف زئی ، اعتزاز حسن شہید اور چودہری اسلم شہید کی جان کی بازی اور قربانیوں کو قبول کرنے کو تیارہی نہیں۔

اب سونے پر سہاگہ میڈیا بھی اپنی زندگی کی محبت میں طالبان سے امن کی اپیل کررہا ہے۔

طالبان جوکہ جنگ لڑرہے ہیں ان کی جنگ میں ان کے لئے سب کچھ جائز ہے ۔ وہ سپاہیوں کے سروں سے فٹبال کھیل سکتے ہیں ۔ مساجد ، امام بارگاہوں ، مندروں ، چرچوں ، میں خودکش کر سکتے ہیں ۔ معصوم اور بیگناہوں کا خون بہ آسانی کرسکتے ہیں ۔ ہر ستم اس قوم پر ڈھاسکتے ہیں جو بےچاری بےشمار مسائل میں گھری ہوئی ہے اور اب وہ محبت اور جنگ کا شکار ہے۔

اور ہم پاکستانی تو اب تک یہ فیصلہ ہی نہیں کرسکے کہ یہ جنگ ہے کہ نہیں یا کہ یہ کس کی جنگ ہے؟

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



nine − = 6

%d bloggers like this: