لے پالک

October 9, 2013 at 06:03
ڈاکٹر سلیقہ وڑائچ؛

پاکستان اگر چہ آبادی کی کثرت اور وسائل کی قلت کا شکار ہے۔ لیکن کوئی بھی اخبار اٹھا کر دیکھ لیں یا کسی بھی شہر کے درو دیوار کی عبارت پڑھ لیں، گلی گلی کھلے کلینک ہوں یا خواتین کی کوئی محفل، بے اولادی، بانجھ پن یا اولاد نہ ہونے کی شکایت دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی بانجھ پن کی تعریف کے مطابق شادی کے پہلے دو سال میں اولاد کے حصول کی لگاتارکوشش کا بار آور نہ ہونا بے اولادی یا بانجھ پن کے زمرے میں آتا ہے۔ بے اولاد جوڑوں کو طبی معاونت کی ضرورت ہوتی ہے۔ مروجہ طریقہ علاج پر اوسطاً 2 لاکھ سے 5 لاکھ روپے تک اخراجات اٹھتے ہیں۔ اولاد حاصل کرنے کے جدید طریقہ علاج جسے آئی وی ایف کہا جاتا ہے پر اوسطاً تقریباً دس سے بارہ لاکھ روپے خرچہ آتا ہے اور اس کی کامیابی کی شرح بھی بیس سے تیس فی صد تک ہوتی ہے۔ یوں حصولِ اولاد کی خاطر بے تحاشہ پیسہ علاج معالجے کی مد میں لگا دیا جاتاہے۔ اولاد اور خاص طور پر اولادِ نرینہ حاصل کرنے کی یہ خواہش بہت سے جعلی ڈاکٹروں، اتائیوں، چالباز عاملوں اور پیر فقیروں کا ذریعہ معاش بن گیا ہے اور ضرورت مند افراد ایسے نیم حکیموں کے ہتھے چڑھ کے روپے پیسے اور صحت کا اچھا خاصا نقصان کربیٹھتے ہیں۔

مذہبی اور سماجی حوالے سے منہ بولے یا لے پالک بچوں کو حقیقی اولاد نہ سمجھنے کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں لوگ بچوں کو گود لینا معیوب سمجھتے ہیں۔ اسلام میں لے پالک اولاد کو غیر حقیقی اولاد ہونے یااپنا نام نہ دینے اور پیغمبرِ اسلام کی اپنے منہ بولے بیٹے کی بیوی سے شادی کا حوالہ آج بھی مسلم اکثریتی ممالک میں لے پالک بچوں کی کفالت سے احتراز کی بہت بڑی وجہ ہے۔ یتیم و بے آسرا بچوں کی کفالت قریب و دور کے رشتہ داروں کی ذمہ داری سمجھی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ عرب ریاستوں میں لے پالک بچوں کی کفالت ایک غیر معمولی بات ہے۔ عراق میں قانون کے مطابق کوئی غیر مسلم کسی مسلمان بچے کی کفالت بھی نہیں کر سکتا۔ ملائشیا میں بھی یہی قانون موجود ہے۔ ایران کی پارلیمینٹ میں لے پالک بیٹی سے شادی کی اجازت کے بل کی منظوری کے حالیہ واقعےنے اس مایوسی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

پاکستان کے گزشتہ کئی سالوں سے حالتِ جنگ میں ہونے اور آسمانی و زمینی آفتوں کی وجہ سے کثیر تعداد میں بچے بے گھر ہوئے ہیں۔ 2005 میں ایشیا چائلڈ رائٹس میں چھپنے والی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بارہ سے پندرہ لاکھ بچےبالکل بے گھر ہیں یا تمام دن محنت مزدوری کر کےرات کو اپنی انتہائی کم آمدنی کے ساتھ گھروں کا رخ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یتیم خانے بھی اپنی گنجائش سے زیادہ بھرے پڑے ہیں۔ بے گھر بچوں کی کثیر تعداد جرائم پیشہ افراد کے ہتھے چڑھ کر نہ صرف جرم کا راستہ اختیار کرتی ہے۔ بسا اوقات والدین گداگری جیسے گھناؤنے کام کے لئے بچوں کو کرائے پر بھی دیتے ہیں بلکہ عموماً بیچ بھی دیتے ہیں۔

بے گھر بچے خوراک کی شدید قلت کا شکار ہیں۔ 5 سال کی عمر سے کم کے 25 فی صد بچے اپنے قدرتی وزن سے کم وزن رکھتے ہیں۔ اور یونیسف کے مطابق چھ لاکھ بچے محنت مزدوری پر مجبور ہیں۔ مزدور بچے بھی استحصال کا شکار ہیں کہ ایسے بچوں سے کام بھی زیادہ لیا جاتاہے اور مزدوری بھی کم د یجاتی ہے یا نہیں دی جاتی۔ اور ایک اندازے کے مطابق 85 فی صد بچےجسمانی و جنسی استحصال کا شکار ہوتے ہیں۔ بے آسرا بچے جنسی بیماریوں، خصوصاً ایڈز جیسے موذی مرض، کے پھیلاو کا بھی باعث بنتے ہیں ۔ اس سلسلے میں ایک اہم مسئلہ بچوں کی شناخت کو خفیہ رکھنے کا ہے۔ حال ہی میں عامر لیاقت نے ایک ٹی وی پروگرام میں ایک جوڑے کو نومولود بچہ انعام میں دے دیا۔ جس پر عالمی میڈیا کی جانب سے شدید تنقید کی گئی۔ کیونکہ لے پالک بچوں کو لوگ نہ صرف اپنا نام نہیں دیتے بلکہ ایسے بچوں کو عموماً گُناہ کی پیداوار سمجھا جاتا ہے ۔چنانچہ جب تک معاشرہ ایسی کفالت کو قبول نہیں کر لیتا تب تک بچوں کی لے پالک حیثیت کو خفیہ رکھنا بھی نہایت اہم ہے۔

اہلِ مغرب میں بچوں کو گود لینا کارِ خیر سمجھا جاتا ہے۔ کچھ مغربی اداکاراؤں نے بچوں کو گود لینے کی ترغیب کے لئے مختلف ممالک سے بچے گود لئے۔ مثلاً انجلینا جولی، نکول کڈمین، شیرون سٹون او کچھ دوسرے۔ ہمسایہ ملک بھارت میں بھی فلم انڈسٹری کے ممتازنام اس فہرست میں شامل ہیں، جیسے سبھاش گھئ، روینہ ٹنڈن اور سشمیتا سین۔ اگر بچوں کو اپنانے کی حکومتی سطح پر حوصلہ افزائی کی جائے تو شاید ہم بہت سارے بچوں کو والدین جیسی نعمت عطا کرنے کا باعث بن سکیں ۔ صرف اس لیے ان بچوں سے نفرت اور توہین آمیز رویہ رکھنا مناسب نہیں کہ ان کے والدین کا علم نہیں بدقسمتی سے کسی کے بھی بچوں پر ایسا وقت آسکتا ہے کہ خدانخواستہ کسی حادثے کے نتیجے میں اس کے بچوں سے والد کا نام چھن جائے۔ قدرت کے حسین تحفے، یہ ننھے پودے مناسب دیکھ بھال اور نشو ونما پا کر نہ صرف تناور درخت بن سکتے ہیں بلکہ قومی دھارے میں ایک صحت مند اضافہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ لیکن حکومت، میڈیا اور سول سوسائٹی کو اس مقصد کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا پڑے گا اور صدیوں پر محیط جاہلانہ روایات پر مبنی معاشرے کے خیالات بدلنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



+ 6 = ten

%d bloggers like this: