لاہور، پیرس اور وینس

August 23, 2013 at 09:00 ,
عدنان خان؛

کوئی تیس چالیس سال سے اہل لاہور کو مژدہ سنایا جارہا ہے کہ حکومت لاہور کو پیرس بنا دے گی۔ اگر لاہور پیرس بننے کی طرف قدم اٹھاچکا ہے، تو ایسے پیرس پر ہم اہل فرانس سے دلی افسوس کرنا چاہتے ہیں۔ بہرحال، مسئلہ اتنا الجھ چکا ہے کہ عوام تک صحیح صورت حال پہنچانے کے لیے ہم نے صوبائی وزیر برائے پیرس منصوبہ، جناب اللہ وسایا صاحب سے گفتگو کر کے ان کا موقف عوام تک پہنچانے کا فیصلہ کیا۔

عام آدمی: اسلام علیکم چوہدری اللہ وسایا صاحب
چوہدری: وعلیکم سلام۔ اور سنائیں، بال بچے، ڈھور ڈنگر تو خیریت سے ہیں؟
عام آدمی: جناب بال بچے تو راضی خوشی ہیں لیکن تین مرلے کے مکان میں ڈھورڈنگر رکھنا مشکل ہے، فی الحال کچن میں چند چوہے ہی پل رہے ہیں، اور تو کوئی جانور وہاں پلنا مشکل ہے۔
چوہدری: چلیں جی، کوئ جناور تو ہے نا۔
عام آدمی: چوہدری صاحب، میں روزنامہ خوشامد کے قارئین کی طرف سے چند سوالات کرنا چاہتا ہوں۔
چوہدری: ضرور کریں جناب۔ ہم جواب نہیں دیں گے تو ہماری تصویر کیسے چھپے گی۔
عام آدمی: جناب سب سے پہلے تو آپ اپنی وزارت برائے پیرس منصوبہ کے بارے میں بتائیں۔
چوہدری: چیف منسٹر صاحب زمانہ طالب علمی میں کچھ عرصہ پیرس لگا کرآئے تھے، جب سے ان کی خواہش تھی کہ لاہور کو پیرس بنا دیں۔ اس سے پہلے بھی تیس چالیس
سال سے مختلف حکمران یہی چاہ رہے تھے مگر بات آگے چلی نہیں۔ اس منصوبے کو جنگی بنیادوں پر مکمل کرنے کے لیے یہ وزارت بنائی گئی تھی۔
عام آدمی: مگر جناب باغوں کا شہر لاہور تو عالم میں انتخاب تھا۔اگر آپ اس کو واپس لاہور ہی بنا دیں تو بہتر نہیں ہوگا؟
چوہدری: یار تم بھی کنویں کے مینڈک ہی رہو گے۔ کبھی پیرس دیکھا ہے؟
عام آدمی: نہیں جناب، کیسا ہے؟
چوہدری: دیکھا تو میں نے بھی نہیں ہے، مگر سنا ہے کہ جنت ہے۔ اب یہ وزارت ملی ہے تو اچھی طرح دیکھ لیں گے۔ بجٹ کافی ہے ہمارے پاس۔
عام آدمی: سنا ہے پیرس کی سڑکیں کافی صاف ستھری اور تجاوزات سے پاک ہیں۔ لاہور تو تجاوزات اور گندگی سے اٹا پڑا ہے۔ آپ کی کیا رائے ہے؟

چوہدری: میں نے بھی چیف منسٹر سے یہی کہا ہے کہ پیرس ہمارے مزاج سے لگا نہیں کھاتا۔ اس برسات جب ہم چیف صاحب کے ساتھ لاہور کی سڑکوں میں چھپڑ چھپڑ کر رہے تھے تو ایک بندے نے کہا تھا کہ چیف صاحب، مبارک ہو آپ کی بہترین حکومت نے لاہور کو یورپ کا بہترین شہر وینس بنا دیا ہے۔ پھر اس نے بتایا کہ وینس کی سڑکوں پر بھی اتنا ہی پانی کھڑا ہوتا ہے لیکن لاہور کی طرح ایک مہینے نہیں، سارا سال۔ چیف صاحب نے اس افسر کی قابلیت کی بہت تعریف کی تھِی۔ اسے میں نے اپنی وزارت میں سیکرٹری لے لیا ہے۔
عام آدمی: تو کیا اب لاہور کو پیرس نہیں بنائیں گے؟
چوہدری: نہیں جی، میں نے وینس کی تصویریں دیکھی ہیں۔ لاہور کو ہم اب پیرس سے بہتر شہر وینس بنائیں گے۔ آپ بھِی تصویریں دیکھیں۔
چوہدری صاحب وینس کی تصویریں دکھاتے ہیں۔

چوہدری: دیکھیں کیسے ہر بندہ تیرتا پھر رہا ہے۔ گاڑیوں کی جگہ سارا کام کشتیوں سے ہورہا ہے۔ ساری دنیا کے لوگ اسے دیکھنے آتے ہیں۔ لاہور کو بھی ہم دنیا بھر کے سیاحوں کا مرکز بنا دیں گے۔اس بندے کو دیکھیں، کیسے کشتی کے پیچھے بندھا سکیٹنگ کر رہا ہے۔ تھوڑا سا انتظار کریں، لاہوریے بھی اسی طرح موج میلا کرتے نظر آئیں گے۔

عام آدمی: آپ لاہور کو وینس کیسے بنا سکتے ہیں؟

چوہدری: دیکھیں جناب، مہینہ تک توبارش کا پانی بہت ہوتا ہے۔ باقی دس گیارہ مہینے بارش کا پانی تو نہیں ہوتا، لیکن گٹر کا پانی گلیوں میں سارا سال موجود ہوتا ہے۔ اب پانی تو موجود ہے۔ اس کا استعمال ہی کرنا ہے۔

عام آدمی، ذرا گھبرا کے: آپ کے ذہن میں کیا ہے؟

چوہدری: دیکھیں جناب، سب سے پہلے تو ہم برساتی پانی کو نکلنے ہی نہیں دیں گے، اور نکاسی آب کا بجٹ ختم کر دیں گے۔ اس طرح پیسہ بھی بچے گا اور گلیوں میں پانی بھی وافر ہوگا۔ گلیوں کے نہروں میں تبدیل ہونے کے بعد لوگوں کو ایڈجسٹ ہونے میں کچھ ٹائم تو لگے گا، لیکن زیادہ نہیں۔ پہلے میں آپ کو لاہور کی برسات کی کچھ تصاویر دکھاتا ہوں۔ دیکھیں کہ لاہوری اتنے پانی میں گھبراتے نہیں ہیں۔ کام چلتا رہتا ہے۔

آپ دیکھ رہے ہیں کہ بسیں، ٹرک، گاڑیاں، موٹر سائکلیں، بندے، اور گدھے، کسی کو پانی سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ہر ایک خوش باش پھر رہا ہے۔ اب اس کو وینس کی تصاویر کے ساتھ رکھ کر دیکھیں۔ وینس میں بھی یہی ہو رہا ہے۔ پر سچی بات تو یہ ہے کہ وینس کے بندے کوئی اتنے حوصلے والے نہیں۔ لاہور جتنا پانی کھڑا ہے، پر کشتیاں لے آئے ہیں۔ لاہوریوں کو دیکھیں، کھوتوں سے ہی کام چلا لیتے ہیں، مجھیں [بھینسیں] بھی نہیں لاتے پانی میں ٹرانسپورٹ کے لیے۔

اب ہمارے پلانر اس پر کام کر رہے ہیں کہ پانی کو کیسے سارا سال لاہور میں رکھیں۔ آپ اس کے فائدے دیکھیں۔ پٹرول کی بچت، ہر سال نئی سڑکیں بنانے اور پرانی کی مرمت کا خرچہ بچ گیا، ڈینگی مچھر بھی صاف پانی میں ہوتا ہے، اس طرح کے پانی میں وہ بھی مر جائے گا، ایسے پانی میں صرف لاہوریے ہی زندہ رہ سکتے ہیں، ڈینگی نہیں۔ صحت پر ہونے والے خرچے کی بھی بچت۔ اور یہ ہر دوچار دن کے بعد جو مال روڈ پر جلوس شلوس نکلتے ہیں اور لڑکے ٹائر جلاتے سگنل توڑتے ہیں، یہ مسئلہ بھی حل ہو جائے گا۔ جوانوں کے لیے کرکٹ ہاکی فٹ بال کے میدانوں کی بھی ضرورت نہیں، جب کھیلنے کا موڈ ہو، باہر جاکر تیریں۔ تیرنا سب سے اچھی ورزش ہے جی، اور تیرتے ہوئے مجھیں بھی نہلائیں۔ فائدے ہی فائدے ہیں۔

عام آدمی: مہربانی چوہدری صاحب۔ آپ کا منصوبہ بہت شاندار ہے۔ میں بھی اپنی موٹر سائکل کی موٹر بوٹ بنوانے کی کوشش کرتا ہوں۔ محلے میں چنگ چی رکشے کا اچھا مستری ہے، وہ بنا دے گا۔ خدا حافظ۔

چوہدری: رب راکھا۔ اور جاتے ہوئے باہر مجھ کے پاس سے کوئی دودھ مکھن لے جانا اپنے جناوروں کے لیے۔

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



7 + = twelve

%d bloggers like this: