قوم، قبیلہ، ذات، گوت، نسل، خاندان، برداری کا نظام اور اس کے مضمرات

August 19, 2013 at 09:00 ,
انا الحق؛

یہ اہم موضوع جو ایک بہت بڑی معاشرتی بیماری ہے اور اس وقت معاشرے کا ناسور بن جاتی ہے جب ان پر یقین کرنے والے ان کو اپنے ایمان کا حصہ بنا لیتے ہیں۔

یہ تمام نام کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں ہم اکثر اوقات اپنے اردگرد ان الفاظ کو سن رہے ہوتے ہیں اور ان کا اپنی زندگیوں پر گہرا اثر بھی دیکھتے ہیں۔ یہ تمام الفاظ کسی بھی علاقے میں پائے جانے والے لوگوں نے اپنی تقسیم کے لیے متعین کر رکھے ہوتے ہیں۔

جب ہم مختلف علاقوں میں جاتے ہیں تو ہر جگہ ہی ہمیں یہ قبائل، ذات پات اور نسل کا نظام نظر آتا ہے مگر جس طرح سے اس کا رائج پاک و ہند میں نظر آتا ہے اس طرح یہ ایک معاشرتی بیماری بن گیا ہے۔

جب انسان خانہ بدوش تھے اس وقت وہ قبائل کی صورت ہی رہتے تھے اور قبائل کے مابین جنگیں ہوتی رہتی تھیں جو مظبوط اور طاقتور مشہور ہوئے وہ معتبر اور عظیم ٹھہرے ان کے علاوہ وہ جو مذ ہب کو لے کر آئے یاں ان کے رکھوالے بنے وہ بھی دوسروں سے بلند سمجھے جانے لگے اور آہستہ آہستہ وہ نسل در نسل چلنے لگے۔ بہت سے لوگ آج بھی اپنی ذات، نسل، قوم، اور قبیلہ پر فخر کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

اگر انسانوں کی اس طرح سے تقسیم کا مطالعہ کیا جائے تو اسے علم الانساب کہا جاتا ہے جو کہ کسی بھی انسان کے نسب کاتاریخ کے آئنے میں مطالعہ کیا جانا ہے اور اس کو شجرہ نسب کی صورت لکھا جاتا ہے۔

جدید علم الانساب میں سب سے اہم جنیاتی علم الانساب شامل ہے جس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ وراثتی طور پر کوئی نسل کہاں سے ہجرت کر کے موجودہ علاقے میں نمودار ہوئی۔ اس سے ہم کسی بھی قوم کا تاریخی پس منظر تلاش کر سکتے ہیں۔

اس کو مذہب میں ہمیشہ ہی اچھی نظر سے دیکھا گیا جس کے مطابق یہ انسانوں کی پہچان کے لیے ضروری ہے مگر اس بات کے برعکس کہ یہ انسان کی پہچان کے لیے ضروری ہے وہ اپنے باپ سے پہچانا جا سکتا ہے جبکہ قبیلے اور نسل کا فخر لے کر انسان دوسروں کو نیچ سمجھنے لگے اور معا شرتی تقسیم بہت گہری ہو جائے۔

اسی طرح سب سے پہلے ہم دیکھتے ہیں حسب و نسب: نسب آدمی کی اصل اور نژاد کوکہتے ہیں اور حسب کا مطلب ہے کسی شخص کی ذاتی قابلیت اور لیاقت یعنی ذاتی اوصاف جو اس کے باپ دادا میں تھے جو اس کے لیے فضیلت اور بزرگی کا باعث ہوں۔ اس سے ظاہر ہے کہ اس طرح انسانوں کو تقسیم کرنے کا مقصد انسان کی مدد نہیں بلکے اس کو اونچ نیچ کے چکر میں ڈال کر جدا کرنا ہے۔

نسل: یہ بہت اہم قسم کی تقسیم اس کے مطابق جس طرح تمام حیوانوں کی نسلیں آپس میں جدا جدا ہوتی ہیں جب کہ ان کا تعلق ایک ہی جنس سے ہوتا ہے مگر انواع میں فرق ہوتا ہے ایک دوسرے کے بالوں، جلد کا رنگ، آنکھوں کا رنگ، چہرے کے خدوخال، بالوں کا انداز، انکھوں کی بناوٹ اور استخوانی ڈھحانچے میں بھی فرق ہوتا ہے۔ اس تقسیم میں اہم ترین سیاہ فارم اور سفید فارم ہیں جو دونوں ہی انسان کی نسل سے ہیں مگر سیاہ فارموں کو ہمیشہ غلام اور حقارت کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے۔ بے شک یہ طبعی اور فطری تقسیم ہے مگر کوئی بھی انسان رنگ و نسل میں کسی سے افضل نہیں ہو سکتا۔ اور اس تقسیم کا انسانی جسم پر بہت اہم استعمال ہے بہت سارے جدید طریقہ علاج میں نسل کو ہی مد نظر رکھا جاتا ہے۔

قوم: قوم کی بنیاد عموما نظریات پر استوار ہوتی ہے لیکن پاک و ہند میں اس کو بھی اونچ نیچ کی تقسیم میں ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ جیسے جو قوم اپنے نظریات کو بلند اور الہامی سمجھنے لگے وہ دوسروں کا جینا اجیرن بنا دیتے ہیں جیسے مسلمان کے نظریات جب وہ دوسروں سے بہت بہتر معتبر اور الہامی سمجھا جانے لگے تو وہ مابین اقوام جنگ کے سوا اور کوئی نتیجہ نہیں دے سکتا۔

قبیلہ: قبیلہ ایک ہی جد امجد یا مورث اعلی کی اولاد ہوتی ہے اور قبیلہ افراد کے ایسے گروہ کو کہتے ہیں جو ایک مخصوص علاقے میں رہتے ہوں ان کی زبان ایک ہو اور ان کے رسوم و رواج بھی ایک جیسے ہوں۔ اپنی ثقافت، مذہبی رسوم و رواج کی آنے والی نسلوں تک منتقلی کے لیے ان کے سردار ہوتے ہیں اور وہی ان کا مذہبی راہنما بھی ہوتے ہیں۔ یہ قبائل کا نظام شروع میں انسانیت کی بقا کے لیے ضروری تھے جو چھوٹے گروہوں میں رہ کر ایک دوسرے کا دفاع کرتے تھے مگر اس تقسیم کے بہت سارے نقصانات موجودہ دور میں نمایاں ہیں جب کہ تہزیب اور ثقافت ارتقاء کے عمل پر گامزن ہے۔

ذات: تمام گوتیں کسی ایک ذات سے تعلق رکھتی ہیں اور ان تمام منفرد گوتوں یا شاخوں کا جد امجد ایک ہی ہوتا ہے اسی لیے ایسی تمام گوتوں کو ذات کہا جاتا ہے۔ یہ نظام پاک و ہند میں بہت بری طرح رائج ہے جب کہ یورپ تقر یبا اس کو ختم کر چکا ہے کیونکہ ہر ذات ایک جد امجد ہونے کی وجہ سے اس کے نقش قدم پر چلتے تھے اور مسلح رہتے تھے اس کے علاوہ لباس رہن سہن اور ثقافت کی جنگیں بھی جاری رہتی تھیں۔

گوت: ایک قبیلے کی ذیلی شاخیں گوت یا گوترہ کہلاتی ہیں۔۔ ایک خاندان کئی ذیلی شاخوں میں تقسیم ہوتا ہے ہر شاخ گوت کہلاتی ہے۔

خاندان: خاندان سے مراد افراد کا ایسا گروہ ہے جو رشتوں نا طوں کی وجہ سے منسلک ہوں۔ یہ ایک سماجی گروہ ہوتا جو اپنے خاندان کے تخفظات کو مد نظر رکھتا ہے۔

یہ مختلف اجزائے اقوام تھیں جن کی وضاحت ضروری تھی جو ظاہر کرتیں ہیں کہ انسان نہ صرف مذہبی طور پر تقسیم کیا گیا ہے بلکے معاشرتی اور سماجی طور پر بھی اتنا ہی تقسیم کیا گیا ہے۔ ان تمام چیزوں کا مقصد اگر صرف ایک دوسر ے کی پہچان ہے تو ان کے مضر اثرات کیوں ہیں۔

وراثتی بیماریاں اور آپسی شادیاں: یہ مسلہ بہت شدت اختیار کر گیا ہے عموما اونچی ذات والے کوشش کرتے ہیں کہ وہ اپنے خاندان میں ہی شادی کریں جس کی وجہ سے بہت ساری وراثتی بیماریاں ایک ہی گھر میں اکھٹی ہو جاتی ہیں۔ اس کی سب سے اہم وجہ کزن میرج ہے وہ کزن جو بچپن سے ایک دوسرے کے رشتے میں باندھ دیے جاتے ہیں یاں اور اپنی بلندی کا رشتہ نہیں ملتا۔ وراثتی بیماریاں جو کہ خاندان میں موجود ہوں جب وہ اکھٹی ہوتی ہیں تو بچوں میں نمایاں ہو جاتی ہیں۔ اس لیے کوشش یہ کی جانی چاہیے کہ دور دور علاقوں اور خاندانوں میں شادی کی جائے تاکہ بیماریوں کو کم کیا جا سکے اور عموما یہ بیماریاں پیدائشی ہوتی ہیں۔

ذہانت کی کمی: اپسی شادیوں کا سب سے بڑا مسلہ ذہانت کی کمی ہو جانا ہے کیونکہ کہ پیدا ہونے والے بچے جسمانی طور پر بھی کمزور ہوتے ہیں جنیاتی مادہ اگر مسلسل دہرایا جائے تو کمزور جین دب جاتی ہیں اور طاقتور بیماری والی جین نمایاں ہو جاتی ہیں۔

شادیوں کا مسلہ: ذات پات کی تقسیم کی بدولت اکثر لڑکیوں کے بال والدین کے گھر ہی سفید ہو جاتے ہیں اور ان کی شادی اپنی ذات کے برابر نہیں ہو پاتی کیونکہ عزت تو زیادہ قیمتی ہوتی ہے ایسے والدین کو نہ کہ بیٹی کی جسما نی ضرورت۔

سید اور چودھری: سید اور چودھری اور وہ اقوام جو اپنے آپ کو مافوق الفطرت سمجھنے لگ گئیں ہیں سید جن کو آل علی ہونے پر فخر ہے اور برھمن جو کہ اعلی ذات ہیں دوسروں سے یہ وہ اقوام ہیں جن کو لوگوں نے دنیوی دیوتا بنا رکھا ہے چاہے کتنے بھی گناہ کے مرتکب ہو جائیں۔ اس طرح کی بہت ساری ذاتیں ہیں۔

طبقاتی نا ہمواری: بے شک یہ تقسیم معاشرے کو مختلف طبقوں میں تقسیم کر دیتی ہے جس میں امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہو گیا ہے اور یہ اونچ نیچ کا چکر اتنا زیادہ ہے گویا دیوتا اور اس کے غلام زمین پر ہوں۔

معاشرتی بیماری: یہ حسب نسب اور ذات پات کی بیماری اتنی پرانی اور جڑیں رکھتی ہے کہ علم اور آزادی کے سوا اس سے نجات ممکن نہیں اور زندگی ایک خاندان تک بہتر گزار لینا بھی بڑی بات ہے کہ انسان اپنے اباواجداد کی تعریف کے قصیدے پڑھتا رہے جو غفلت کے سوال کچھ نہیں اور اپنی زندگی کو دوذخ بنانے کے مترادف ہے۔

شجرہ نسب: یہ درخت کی ماند نسل کو ظاہر کرنے کا طریقہ ہے جو عرب میں رائج تھا جنہوں نے اپنے گھوڑوں ، اونٹوں تک کے شجر نسب تک ازبر کر رکھے تھے۔ اس کے علاوہ اسلام میں موجود تمام جنگیں انیہں شجروں کے درمیان رہیں جیسے بنو ہاشم، بنو امیہ ، بنو عباس ، بنو زبیر اور بہت سارے ایسے قبائل جنہوں نے جنگ کے سوا کچھ نہیں کیا۔

ڈی۔این۔ ٹیسٹ اور جینیاتی شجرہ نسب: جدید سائنس نے جس طر ح بہت سارے مسائل کا حل نکال دیا ہے وہاں یہ ٹیسٹ بھی ایک نعمت سے کم نہیں جس میں والد کی پہچان اور اس کی نسل کا اندازہ لگانا مشکل نہیں رہا۔

ایک نظریہ کے مطابق بہت سارے لوگ جو دعوہ رکھتے ہیں کہ وہ بہت عظیم جد امجد کے سپوت ہیں ان کو جنیاتی ٹیسٹ کروا لینا چاہیے کیونکہ کہ نوے فصید اقوام جعلی ہیں۔

سیاہ غلام: یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ کون ہیں سیاہ فارم لوگوں کے نجات دہندہ مسلمان یاں یورپ والے بہت دیر تک سیاہ فارم انسانوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا یہ ابراہم لنکن اور کنگ لوتھر ہی تھے جنہوں نے ان کو آزادی دلوا دی باقی سب جھوٹ ہے

پیشہ یاں ذ لت: جس طرح کی تقسیم ہندو ازم میں کی گئی ہے وہ عموما پیشہ وارنہ ہے نہ کہ نیچ اور کمتر ہونے کی بنیاد پر۔ اور ہمارے معاشرے میں موچی، کمہار، لہار اور ترکھان، تیلی، نائی وہ عظیم پیشے ہیں جو ہم سب ہی ہیں۔ ایک سید بھی موچی ہو سکتا ہے اور چودھری کمہار۔

بی بی یاں مسلمان دیوی: وہ خواتین جو پاکستان کے گاوں میں آج بھی بی بی، سید، درویش، اور پیر فقیر کی صورت میں نظر آتی ہیں اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ پیدائشی ایسی تھیں۔ بلکہ ان کو برابری کا رشتہ نہیں ملا یاں ایسا ہو ا کہ وہ سید تھیں اور سید لڑکی کا غیر سید سے رشتہ کرنے کی بجائے قران سے شادی کو ترجیح دی جاتی ہے کیوں کہ ماں کا اپنی پاکدامنی اور باپ کو اپنی عزت کا فکر ہوتا ہے۔ ہر انسان کی فطری خواہش ہے کہ وہ جسمانی خواہش پوری کرے پر ایسا نہیں ہوتا۔

وقت ہے ایک ہونے کا: اگر آپ کو لگتا ہے کہ اب بھی ان ذات پات کی ضرورت ہے تو آپ اپنا خیال بیان کر سکتے ہیں اس کے علاوہ بہتر ہو گا کہ تعمیری تبادلہ خیال کیا جائے۔ یہ مضمون آگہی اور علم کی روشنی کے لیے لکھا گیا ہے ان ذات پات سے نکل کر ایک انسانوں کے رشتہ سے منسلک ہو جاو بے شک فلاح پا جاؤ گے۔
Different People of Glob

Different People of Glob

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



− two = 3

%d bloggers like this: