قصہ ایک ہوسٹل کا

December 3, 2013 at 06:55 , , ,
عدنان خان؛

آج لاہور میں ہونے والے ہنگاموں کی تحقیقات کے لیے ہم نے سارے فریقین کا موقف جاننے کی کوشش کی۔ سب سے پہلے ہم اسلامی جمعیت طلبا کے ترجمان جناب ناظم گجر تک پہنچے اور ان سے صورت حال جاننی چاہی۔

ہم: جناب ناظم گجر صاحب، یہ کیا معاملہ ہوا ہے؟

ناظم گجر: آج صبح سویرے ہی جب کہ ہوسٹل میں مقیم طلبا نیند سے بیدار بھی نہیں ہوئے تھے تو پنجاب پولیس نے پنجاب یونیورسٹی کے ہوسٹل سے انہیں باہر نکالنے کی کوشش کر ڈالی۔ ان بچارے طلبا کی ابھی آنکھ بھی نہ کھلی تھی۔ ابھی نہار کا تڑکا ہی تھا اور بمشکل صبح کے گیارہ ہی بجے تھے اور فضا میں کافی خنکی تھی۔ یہ بچارے منہ پر پانی کے چھینٹے بھی مارنے نہ پائے تھے کہ پولیس نے ڈنڈے مار دیے۔ کچھ گھبراہٹ، کچھ نیند کا غلبہ۔ ان میں سے چند نہر پر نکل گئے۔ وہ تو خدا کا شکر ہے کہ نہر کے کنارے پر اب جنگلے لگ گئے ہیں ورنہ ضرور چند طلبا ادھ کھلی ادھ مچی آنکھوں کے ساتھ نہر کے ٹھنڈے پانی میں گر کر شدید زکام کا شکار ہو جاتے اور صحت کی نعمت کھو بیٹھتے۔ خدا نے بڑی خیر کی۔ بہرحال، یہ بچارے ٹھٹھرتے ٹھٹھرتے سڑک کے کنارے فٹ پاتھ پر ہی لیٹ کر سونے کی کوشش کرنے لگے۔ اس پر امریکہ کے ہاتھوں بکے ہوئے میڈیا نے الٹی سیدھی خبریں چلا دیں کہ طلبا نے ٹریفک بلاک کر دی ہے وغیرہ وغیرہ۔

ہم: لیکن یہ چند بسوں کو ٹیڑھا کھڑا کر کے سڑک بلاک کرنے کی تصویریں بھی تو آئیں تھِیں؟

ناظم گجر: جوانی کی نیند بہت ظالم ہوتی ہے صاحب۔ آپ بھی تو کبھی جوان رہے ہوں گے؟

ہم نے ڈرتے ڈرتے اثبات میں سر ہلا کر تصدیق کی۔

ناظم گجر بولے: بس صاحب، یہ طلبا نیند میں تو تھے ہی۔ کرنا خدا کا یہ ہوا کہ سٹاپ پر بس آ کر رکی تو یہ باہر چلتی ہوئی ٹھنڈی یخ ہوا سے بچنے کے لیے اس میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔ ڈرائیور تو آپ جانتے ہی ہیں کہ پنجاب حکومت کے اشاروں پر چلتے ہیں اور جمعیت کو بدنام کرنے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ اس شیطان نے بس موڑ کر آڑے رخ کھڑی کی اور چابی جیب میں ڈال کر نہر میں شڑاپ سے چھلانگ لگا کر مزے سے نہانے لگا۔ دیکھیں اس طرح طنزیہ انداز میں مت مسکرائیں۔ مجھے معلوم ہے کہ باہر حکومت نے افواہ پھیلا دی ہے کہ اسے جمعیت کے لڑکوں نے ڈنڈا ڈولی کر کے نہر میں پھِینکا ہے لیکن یقین جانیے یہ صرف پروپیگنڈا ہی ہے۔ ڈرائیور کو گرمی لگ رہی تھی، خود ہی نہر میں کود کر نہانے لگا۔

ہم: دسمبر میں صبح کو اتنی گرمی؟ اور انڈوں پر اتنا یقین؟

ناظم گجر: برادر بزرگ، وہ شکل سے ہی پینڈو لگتا تھا۔ ناشتے میں چار انڈے چڑھا کر کم دودھ اور تیز پتی کی چائے پی گیا ہو گا۔ گرمی چڑھ گئی ہو گی۔ اس میں حیرت کی کیا بات ہے۔ یہ پکی خبر ہے، پورے چار گواہ ہیں ہمارے پاس۔ ہمارے لڑکوں نے خود عینی شہادت دی ہے۔ جب وہ اسے ڈنڈا ڈولی کر کے نہر میں اچھال رہے تھے تو اس کی جیب سے نکل کر شڑاپ سے پانی میں ابلا ہوا انڈا گرتے سب نے دیکھا تھا۔ بلکہ ایک برادر نے اسے کیچ کرنے کے لیے اس کے پیچھے چھلانگ بھی لگائی تھی۔ نہیں ملا۔

ہم: اچھا اب آپ کیا حکمت عملی اختیار کریں گے؟

ناظم گجر: دیکھیں برادر، اب ہم اکٹھے ہوں گے تو پھر ہی کچھ سوچیں گے۔ ابھی تو سب طلبا پانچ پانچ دس دس کی ٹولیوں میں شہر کی طرف نکل گئے ہیں۔ بچاروں کے پاس کوئی ٹھکانہ تو ہے نہیں۔ ادھر ادھر مارے مارے پھر رہے ہیں۔ اوپر سے لاہور کی دسمبر کی سردی ہے۔ سردی سے بچنے کے لیے کبھی کسی بس میں گھس جاتے ہیں اور کبھی کسی بس میں۔

ہم: لیکن وہ بسوں کو سڑک پر ٹیڑھا کھڑا کر کے چابی کیوں غائب کر دیتے ہیں؟

ناظم گجر: پنجاب حکومت کے اشاروں پر بس والے شیشے کھول کر بس چلا دیتے ہیں تاکہ یہ معصوم طالب علم ٹھنڈ لگوا کر ہسپتال پہنچ جائیں۔ اسی لیے بس کو روکا جاتا ہے اور پنجاب حکومت کے اس گماشتے سے چابی لے کر محفوظ کر دی جاتی ہے۔ جان کی حفاظت ہر شے پر مقدم ہے برادر۔

ہم: اور یہ بس کو آگ لگانے کا واقعہ بھی تو ہوا تھا؟

ناظم گجر: اس بس کا ڈرائیور سگریٹ نوشی کا عادی ہو گا۔ اس کی بے احتیاطی کی وجہ سے بس میں سوئے ہوئے ہمارے معصوم طلبا کی جان خطرے میں پڑ گئی تھی۔ بچارے بعد میں باہر ٹھنڈی ہوا میں سکڑے سمٹے بیٹھے اس بس کی آگ تاپتے رہے۔

ہم: سنا ہے کہ پچھلے دنوں القاعدہ کا کوئی دہشت گرد بھی انہیں ہوسٹلوں سے پکڑا گیا تھا ؟

ناظم گجر: یہ پنجاب حکومت کی طرف سے جمعیت کو بدنام کرنے کی کوشش ہے۔ جمعیت کا اس سے ہرگز کوئی تعلق نہیں ہے۔

ہم: لیکن خبر آئی تھی کہ پکڑنے والوں کو وہاں کسی نے اپنے آپ کو جمعیت کا ناظم بتا کر اسے اپنا مہمان کہا تھا، اور اسے چھڑانے کی کوشش کی تھی؟

ناظم گجر: اوہ اچھا آپ اس مظلوم شخص کی بات کر رہے ہیں۔ برادر وہ افغانستان سے یہاں ہینگ بیچنے آیا تھا۔ یہاں لاہور تک پہنچتے پہنچتے تھک گیا۔ ہوسٹل میں اسے ایک کمرہ خالی نظر آیا تو وہاں دو گھڑی کو رک گیا تاکہ سانس درست کر کے آگے نکل جائے۔ اس پر پنجاب حکومت نے بدمعاشی کرنا چاہی تو ہمارے ناظم نے اس غریب الوطن مسافر کا ساتھ دیا کہ وہ اس کا ہمسایہ تھا۔ ہمسائے کے بہت حقوق ہوتے ہیں برادر۔

ہم: بہت بہت شکریہ ناظم گجر صاحب۔

ناظم گجر: برادر، میرا میاں صاحب کے لیے پیغام تو لیتے جائیں۔

ہم: جی فرمائیں۔

ناظم گجر: میاں! توں ہالی گجر دا پیار دیکھیا اے، ہن گجر دے کھڑاک نوں تک۔

جمعیت کا موقف لینے کے بعد ہم نے جماعت اسلامی کا موقف لینے کے لیے ان کے ترجمان مظلوم خان معصوم سے رابطہ کیا۔

ہم: معصوم صاحب، یہ پنجاب یونیورسٹی کے ہوسٹل کا کیا قضیہ کھڑا ہو گیا ہے؟

معصوم: یہ امریکی غلامی کا نتیجہ ہے۔ جکومت وقت اسی طرح اندھی ہو کر ان کے احکامات مانتی رہی تو جو بھی ہو جائے وہ کم ہے۔

ہم: یعنی آپ کا خیال ہے کہ یہ سب صدر اوبامہ کی ہدایت پر ہوا ہے؟

معصوم: دیکھیں جناب، امریکیوں کی وجہ سے ہی یہ حکومت ہمارے سر پر مسلط ہوئی ہے۔ اگر دفعہ 62 اور 63 کا صحیح اطلاق ہوتا تو آج یہاں صالحین کی حکومت ہوتی۔

ہم: یعنی جماعت اسلامی کی؟

معصوم: ماشااللہ، آپ حق بات کرنے میں ہچکچاتے نہیں ہیں۔ ان دفعات پر صرف ہم ہی پورا اترتے ہیں۔ باقی سب فاسق فاجر اور منافق ہیں۔

ہم: اچھا معصوم صاحب، اب یہ حکومت آ ہی گئی ہے تو اس سے ہی گزارہ کرنا پڑے گا۔ آپ اس ہوسٹل کے واقعے پر کیا کہتے ہیں، آپ کی اطلاع کے مطابق کیا ہوا؟

معصوم: ہونا کیا ہے جناب۔ سوئے ہوئے نہتے صالحین کو اس طرح صبح سویرے بستر سے باہر نکال دینا کہاں کی شرافت ہے؟ یہ نہایت نیک اور شریف بچے ہیں۔ جماعت اسلامی ان کی پوری تربیت کرتی ہے اور جمعیت کے معاملات پر پوری نظر رکھتی ہے۔ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ یہ کسی برائی میں ملوث ہوں۔ یہ ہمارے مستقبل کے اراکین اور راہنما ہیں۔ یہ تو اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ان کے ارد گرد کا ماحول بھی نہایت پاکیزہ رہے۔ اسی سلسلے میں یہ لوگوں کو اکثر زد و کوب بھی کرتے رہتے ہیں۔ بلکہ جنرل ضیا الحق شہید کے زمانے میں تو یہ سال کے سال ڈنڈے ہاتھ میں تھا کر شہر بھر میں پھیل کر نیو ائیر نائٹ کے غل غپاڑے کو بھی کنٹرول کرتے تھے۔

ہم: لیکن یہ کیا بات سننے میں آ رہی ہے کہ جمعیت کے اراکین کے کمروں سے شراب بھنگ وغیرہ وغیرہ برآمد ہوئی ہیں۔

معصوم: ضرور یہ اراکین شعبہ کیمیا اور نباتات کے طلبا ہوں گے اور بغرض تجزیہ ان اشیا کو کمرے میں رکھے ہوئے ہوں گے۔ آپ لوگ بھی بغیر کسی تحقیق کے الزام لگا دیتے ہیں۔

ہم: اور یہ بسیں اور ٹرک پکڑنے اور جلانے کا کیا قصہ ہے؟

معصوم: ایسا کچھ بھی نہیں ہو رہا ہے۔ یہ صرف ہمیں اور ہمارے بچوں کو بدنام کرنے کے لیے میڈیا کے ذریعے پنجاب حکومت مہم چلا رہی ہے۔

ہم: اور یہ ٹریفک جام کس وجہ سے ہوئے ہیں؟

معصوم: بھائی یہ لاہور شہر ہے۔ کروڑ سے اوپر کی آبادی ہوگی۔ اور بیس تیس لاکھ گاڑی بھی یہاں چلتی ہوگی۔ اتنی گاڑی بھی اگر ٹریفک جام نہیں کرے گی تو پھر اور کیا کرے گی؟ اس کا الزام ہمارے بچوں پر لگانا محض بدنیتی اور بدباطنی ہے۔ ذرا تصور تو کریں کہ بیس تیس لاکھ گاڑیاں کتنی ہوتی ہیں؟

ہم: یہ یونیورسٹی کے ہوسٹل میں القاعدہ کے دہشت گرد کے پکڑے جانے کی کیا کہانی ہے؟

معصوم: دہشت گرد وغیرہ کچھ نہیں تھا۔ بچوں کو عربی زبان اصل لہجے اور تلفظ سے سیکھنے کا شوق ہو گیا تھا اس لیے انہوں نے ایک عرب کو اپنے پاس رکھ لیا۔ بس اتنی سی بات تھی۔ ورنہ وہ عرب تو محض یہاں افغانی چلغوزے بیچنے آیا کرتا تھا۔

ہم: اچھا اب جب کہ یہ ہوسٹل لڑکیوں کو دے دیا گیا ہے تو اب آپ کی آئندہ حکمت عملی کیا ہو گی؟

معصوم: ہم اپنے ان بچوں، اپنے ان مستبقل کے جماعت کے اراکین، کی پوری حمایت کرتے ہیں اور ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے تاقتیکہ پنجاب حکومت ان کو لڑکیوں کے ہوسٹل میں سیٹل کر دے۔

ہم: لیکن جناب، جب ان اراکین جمعیت نے مشرف کے دور میں عمران خان کو پکڑ کر مشرف کے حوالے کیا تھا تو اس وقت تو جماعت کا موقف یہ تھا کہ اس کا جمعیت سے کوئی تعلق نہیں ۔ اب آپ ان کو اپنے بچے اور مستقبل کے اراکین اور رہنما کہہ رہے ہیں۔

معصوم: آپ کو غلط یاد آ رہا ہو گا۔ آپ نہارمنہ چار دانے بادام کے کھایا کریں۔ سب جانتے ہی ہیں کہ جمعیت ہماری نرسری ہے جہاں ہم ان بچوں کو مستقبل کے صالح معماروں کے طور پر تیار کرتے ہیں۔

نوٹ: یہ ایک فرضی فکاہیہ طنزیہ تحریر ہے۔ اس کی کسی زندہ یا مردہ شخص سے مشابہت محض اتفاقیہ اور نہایت پرلطف سمجھی جائے۔ برائے مہربانی اسےحقیقی رپورٹنگ سمجھنے والوں پر لطیفے پوسٹ نہ کیے جائیں۔

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



2 + = six

%d bloggers like this: