فلسطین تنازعہ کا تاریخی پس منظر

September 29, 2013 at 09:48 ,
نیئر خان؛

جب تک ہم تاریخ کا بغور جائزہ نہ لیں ہم اس تنازعہ کی پس منظر سمجھنے میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔

فلسطین میں عبرانی نسل کی لوگوں کی آمد تقریباً1250 سال قبل از مسیح ہوتی ہے۔ یوں فلسطین صدیوں تک یہودیوں اور فلسطینوں کا مشترکہ وطن رہا ہے۔ ساتویں صدی میں اسے عربوں نے تسخیر کرلیا۔

اُس کی بعد فلسطین تقریباًپانچ صدیوں تک راشدین، اموّی، عباسی اور فاطمی ادوار وں میں عرب سلطنت کا حصہ اور بعد ازاں یہ ترکوں کی زیر تسلط آگیا۔عرب ادوار میں بیشتر فلسطینی عیسائیت سے مسلمان ہوگئے لیکن یہودی اپنے مذہب پر قائم رہے۔ ترکوں نے اپنی سامراجی دور کی دوران یہودیوں پر اتنی مظالم کیے کہ اُن میں بیشترنقل وطنی کرکے دنیا کے مختلف ملکوں میں منتشر اور دربدر ہونے پر مجبور ہوگئے۔ ہر جگہ اُن پر مظالم ہوئے اور کوئی بھی انہیں اپنی ہاں بستا دیکھنا پسند نہ کرتا تھا۔ اُس کی پہلی وجہ یہ تھی کہ کیتھولک عیسائی انہیں مسیحا کا قاتل سمجھتے تھے اور دوسری وجہ یہ کہ تیز کاروباری اور سائنسی ذہن رکھنے کی وجہ سے بہت جلد اپنی آپ کو مالی طور پر اتنا مستحکم کرلیتے تھے اور مقامی لوگ اُن سے حسد کرنا شروع کر دیتے تھے۔ مال دار اور بےاثر ہونا اُنہیں مقامی آبادی کا آسان شکار بنادیتا تھا اور مذہبی اور نسلی تعصب کو بنیاد بنا کر اُن کی املاک کو لوٹنا اور انہیں معتوب رکھنا ہر خطے اور ہر صدی کا معمول رہا ہے۔ یہودی بے وطن ہونے کا عذاب صدیوں تک سہتے رہے۔

حالانکہ اس بات کی کوئی مثال موجود نہیں کہ دنیا کے کسی خطے میں رہتے ہوئے یہودیوں نے جارحانہ یا دھونس اور ستم زوری پر مبنی رویہ اختار کیا ہو یا وہ مجرمانہ سرگرموُں یا دہشت گردی میں ملوث رہے ہوں۔ جبکہ آج مغربی ممالک میں رہنے والے مسلمان ان تمام حرکات کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ یہودیوں سے یورپ میں ہونے والے انسانیت سوز سلوک کو یہودیوں کی رویے کا ردعمل بتاکر درست قرار دینے والے پہلے یہ فیصلہ کریں آج مغرب میں بسنے والے کروڑوں مسلمانوں سے اہل مغرب کو کیا سلوک کرنا چاہئے۔

پہلی جنگ عظیم میں ترک سلطنت عثمانیہ مرکزی طاقتوں یاCentral Powersکا حلیف تھا جو کہ جرمنی اور آسٹریا، ہنگری کے اتحاد پر مشتمل تھا۔ جنگ کی دوران عرب بغاوت کی نتیجے میں 1916 ءتک پوری مشرق وسطیٰ کے ساتھ فلسطین صوبہ بھی سلطنت عثمانیہ کے ہاتھ سے جاتا رہا۔ بالآخر1918ءمیں پہلی جنگ عظیم مرکزی طاقتوں کی شکست پر اختتام پذیر ہوئی۔

1916ءمیں Sykes-Picotمعاہدے کے تحت فلسطین، اردن اور عراق کوبرطانوی مینڈیٹ جبکہ لبنان اور شام کوفرانس کی مینڈیٹ میں دیا جانا طے پایا جن کو ایک مخصوص مدت میں آزاد ملکوں کی طور پر وہاں کی مقامی لوگوں کی حوالے کر دیا جاناتھا۔

1917میں برطانوی سیکرٹری خارجہ آرتھر بیلفور نے ایک فلسطنیی ریاست کی قیام کی تجویز پیش کی جو عربوں اور یہودیوں کا مشترکہ وطن بن سکے۔ یہ اعلانBalfour Declerationکہلاتا ہے۔ جسے مختلف صورتوں میں پہلی لیگ آف نیشنز اور بعد میں UNOکی تائید ملی۔ اس اعلان میں یہ کہا گیا کہ دنیا بھر سے یہودی باشندوں کی فلسطین منتقلی اور منتشر خانہ بدوش عرب گروپوں کی فلسطن میں شہریت اختیار کرنے نیز مذہبی و شہری آزادی اور مذہبی رواداری کی حوصلہ افزائی کی جائے گے۔ فلسطینی ریاست کی لئے جو علاقہ تجویز کیا گیا اس میں موجودہ اسرائیل، مغربی پٹی اور غزہ کے علاوہ دریائی اردن کے مشرق کا وہ علاقہ بھی شامل تھا جو اب اردن کی بادشاہت کہلاتا ہے۔ یہ علاقہ اپنی رقبے کے لحاظ سے موجودہ شام کے کل رقبے یا عراق کی نصف رقبے کی برابر تھا۔

برطانوی مینڈیٹ نے فلسطین کو وہ حقوق دیئے جن سے انہیں سلطنت عثمانیہ نے محروم کر رکھا تھا۔سلطنت عثمانیہ کی دوسو سال کی جابرانہ ترک غلامی نے فلسطینیوں کو اتنا کچلا تھا کہ وہ نہایت پسماندگی اور ناخواندگی کا شکار خانہ بدوشی کی زندگی گزار رہے تھے۔ انہیں ترُک اور دیگر عرب قومیں ایک جداگانہ قومی حثیت سے نہ دیکھتی تھیں۔

برطانیہ کی عطا کردہ اس نئی شہری آزادی سے فلسطینیوں نے سرعت کی ساتھ فائدہ اُٹھایا۔ انہیں اس بات کا بخوبی اندازہ تھا کہ یورپ سے آئی ہوئی جدید علوم سے بہرہ ور یہودیوں کے مقابلے میں فلسطینی بدوؤں کی معاشی اور شہری حثیت کمزور ہوگی۔یوں بھی یہودیوں کی خلاف مسلمانوں کا روایتی تعصب بھی کچھ کم نہ تھا۔ چنانچہ اُنہوں نے شدومد کی ساتھ یہودیوں کی فلسطین کی طرف نقل وطنی کی مخالفت شروع کردی۔ ان میں فلسطین رہنما امنت الحسنی سب سے آگے تھا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ شروع میں وہPan-Arabismیا بین العربیت کا قائل تھا۔ وہ بجائے فلسطین کے ایک جداگانہ قومی حثیت کے اُسے شام کا ایک صوبہ دیکھنا چاہتا تھا۔ لیکن جب1920میں برطانیہ نے شام کا مینڈیٹ فرانس کے حوالے کردیا اور Greater Syriaبرتر و عظیم شام کی تحریک اپنی آپ مرگئی۔ اس کی بعد1921میں الحسنیی نے اپنی آپ کو فلسطین کا مفتی اعظم بنالیا اور فلسطینی قومی تحریک کو اسلامی رنگ میں ڈھال دیا۔

فلسطین اور دیگر عرب اقوام نے لیگ آف نیشنز( League of Nations اقوام متحدہ یا UNOسے پہلی اقوام عالم کی تنظیم کا نام تھا) کی یہودیوں کی فلسطین منتقلی کا فیصلہ ماننے سے انکار کردیا۔1918ء میں پیرس میں ہونی والے عالمی امن اجلاس میں عرب نمائندہ نے کہا” یا تو ہم یہودیوں کو سمندر میں دھکیل دیں گی یا پھر وہ ہمیں صحراؤں میں واپس بھیجیں۔“ یروشلم کے فلسطینی لیڈر عارف پاشا رجانی نے کہا کہ” یہودیوں کی ساتھ رہنا عربوں کی لئے ناممکن ہے۔ وہ جہاں کہیں بھی بس رہے ہیں وہ وہاں ناپسندیدہ لوگ ہیں۔ کیونکہ وہ جہاں بھی جاتے ہیں وہاں مقامی لوگوں کا معاشی طور پر خون چوستی ہیں۔ اگر لیگ آف نیشنز نے ان کی ہجرت کو نہ روکا تو فلسطین میں ان کے خون کے دریا بہا دئیے جائیں گے۔“ لیگ آف نیشنز نے اپنی قرار داد پر عمل درآمد جاری رکھا۔ تاہم عرب مزاحمت کی وجہ سے یہودیوں کی فلسطین کی جانب ہجرت کا عمل نہایت سست ہو گیا۔

یروشلم تنازعے کا پہلا مرکز بنا جب1920 میں اطراف میں بسنے والی عربوں نے جتھوں کی شکل میں یہودی آباد کاروں پر حملے شروع کردئیے۔ یروشلم کے عرب مئیراور دیگر سرکردہ عربوں نے یہودیوں کی خلاف جہاد کا اعلان کردیا۔ جو یہودی کہیں نظر آتا اُسے مار دیا جاتا۔ یہودیوں کے گھر اور دکانیں لوٹ لی گئی۔ Nebi Musa Riotیہ 90سال سے جاری تنازعہ کا نقطہ آغاز تھا۔

اگلی دو دہائیاں فلسطین میں یہودیوں کے خلاف عربوں کے تشدد آمیز کاروائیو ں سے بھری پڑی ہے جن کا حال ہم مضمون میں آگے چل کر پڑھیں گے۔ اُس کی بعد1940ءکی دہائی تو یہودیوں کی سر پر کئی قیامتیں لے کر آئی۔ اُن کی ساتھ نازی یورپ اور فلسطین میں وہ مظالم ہوئے جن کے ذکر سے انسانیت کانپ اٹھتی ہے۔ لیکن اُن کا ذکر ہماری یہاں کبھی نہیں ہوتا۔ یہ مضمون ایسے ہی کچھ واقعات سے گرد کی تہیں ہٹاکر انہیں اجاگر کرنی کی کوشش کریگا۔ یہ واقعات اسرائیل ریاست کے قیام کو ناگزیر بنانے کا موجب بنے۔

فلسطین کی پہلی تقسیم :
تاریخی اعتبار سے فلسطین کا خطہ دریائے اردن کے دونوں اطراف کی سر زمین پر مشتمل تھا۔ ابتدائی بیلفور اعلان کے وقت فلسطین کا علاقہ تقریباً موجودہ شام کی رقبے کی برابر وسیع تھا، جبکہ یہاں کی کل آبادی دس لاکھ نفوس سے کچھ زیادہ پر مشتمل تھی جس میں تقریباً10فیصد یہودی افراد تھے۔ اس لحاظ سے یہ ایک غیر آباد اور پسماندہ علاقہ تھا جہاں اگر کسی چیز کی بہتات تھی تو وہ زمین کی تھی۔

ہماری یہاں اکثر لوگ اسرائیل کو برطانیہ کا پیدا کردہ ایک فتنہ ثابت کرنی کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن کیا وہ مشرقِ وسطیٰ کے نقشے پر سعودی عرب سمیت کسی ایک عرب مملکت کی نشاندہے کرسکتے ہیں جس کو موجودہ شکل دینے میں برطانیہ کا ہاتھ شامل نہ ہو۔ اس لحاظ سے تو پاکستان سمیت بیشتر اسلامی ممالک کو بھی برطانیہ کی پیدا کردہ فتنہ کہا جانا چاہیے اور اُن کے وجود کو بھی مٹ جانا چاہیے۔

1921ء میں مشرق وسطیٰ کی تاریخ میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو عرب ممالک اور خود فلسطینیوں کی فلسطین کی خود مختاری کی تحریک سے خلوص کا پردہ چاک کرتا ہے۔
سلطنت عثمانیہ کے زیر اطاعت فلسطین کا دریائی اردن کا مشرقی علاقہVilayet of Syriaکا ایک حصہ تھا۔ پہلی جنگ عظیم کے خاتمے پر برطانیہ کے جنگی حلیف حجاز کے حاکم حسین شریف(شریف ِمکہ) کی بیٹی امیر فیصل نے شام میں ہاشمی سلطنت کا اعلان کردیا اور یہاں سے Greater Syriaکی تحریک کا آغاز بھی ہوا۔ فلسطنیی رہنما امین الحسینی اس تحریک کازبردست حامی تھا۔ اس تحریک کے نظریے کے مطابق تمام فلسطین بشمول دریائی اُردن کے دونوں کناروں کے علاقوں کو شام کا ایک صوبہ ہونا چاہیے تھا۔ لیکن جنگ کی خاتمے سے پہلے ہی اتحادی ممالک کے درمیا ن ہونی والیSykes-Picotمعاہدے کے مطابق شام کو فرانس کے مینڈیٹ میں دیا جانا طے ہوچکا تھا۔ اس معاہدے کا احترام کرتے ہوئے برطانیہ نے1920ء میں شام کو فرانسی مینڈیٹ کے حوالے کردیا اور امیر فیصل کے قائم کیے ہوئے تختِ شام (Hashemite Kingdom of Syria)کی حمایت کرنی سے معذرت اختیار کی۔ فرانس مقررہ وقت میں شام کو شامی باشندوں کی ہاتھوں سونپنا چاہتا تھا۔ اُس نے جزیرہ نما عرب کے امیر کو وہاں کا حاکم تسلیم نہیں کیا اور Maysalunکی لڑائی میں امیر فیصل کو شکست دے کر اُس کی بادشاہت کا خاتمہ کر دیا۔

فلسطین برطانوی مینڈیٹ کا حصہ تھا۔ عرب حاکموں نے برطانیہ پر زور ڈالا کہ وہ امیر فیصل کو Transjordaniaکا حکمران بنادیں۔ جیسا کہ ہم ذکر کرچکے ہیں بنیادی بیلفور اعلان کے مطابق فلسطین کی تجویز کردہ مملکت میں دریائی اردن کے مشرقی کنارے کے علاقے کو بھی شامل ہونا تھا جو کہ اُس وقت Transjordaniaکہلاتا تھا اور یہ فلسطینیوں اور یہودیوں کا مشترکہ وطن ہونا تھا۔ اب عرب ممالک کے دباؤ میں آکر برطانیہ نے فلسطین کی پہلی تقسیم کے اور 1921ء میں Emirate of Transjordan نام سے ایک امارت بناکر امیر فیصل کو وہاں کا حکمران بنادیا (بعد میں امیر فیصل کو عراق کا اور اُس کے بھائی عبداللہ کو ٹرانس جورڈن کا حکمران بنایا گیا)۔ 1946ء میں یہ امارت اردن کی بادشاہت میں تبدیل ہوگئی۔1951ءتک یہ ایکBritish Protectorateرہے اور بعد میں ایک خود مختار بادشاہت کی شکل اختیار کرگئے۔
تاریخی طور پر اردن کی کبھی بھی کوئی علیحدہ حثیت نہیں رہی۔ موجودہ اردن کا علاقہ ہمیشہ فلسطین کا حصہ رہا تھا (پہلی جنگ عظیم کے دورانTransjordaniaکا جنوبی علاقہ حجاز کی امارت میں شامل کر لیا گیاتھا)۔
فلسطین کی یہ تقسیم جو عرب ممالک کی ایماپر ہوئی کئی لحاظ سے حیرت انگیز تھی۔ اس تقسیم کے تحت فلسطین کا تقریباً دوتہائی حصہTransjordanکو دی دیا گیا۔ نہ صرف یہ کہ عرب ممالک مکمل طور پر اس تقسیم کی حامی بلکہ اس کی بانی تھے، فلسطینی رہنماؤں کو بھی اس بٹوارے پر کوئی تکلیف نہ ہوئی۔ امین الحسینی جیسے فلسطینی تحریک کے ٹھیکیدار نے اُف تک نہ کی۔ بات صرف اتنی تھی کہ یہاں پر فلسطین کو ہتھیانے والے خود مسلمان تھے۔ فلسطینیت کا سارا جذبہ تو یہودی کے خلاف ہی جوش مارتا ہے۔یہ واقعہ فلسطین قوم پرستی کے ڈھکوسلے کی قلعی کھول دیتا ہے۔

فلسطینیو ں کا اردن سے اختلاف1960ءاور 1970ءکی دہائواں میں مختصر عرصے کے لئے سامنے آیا لیکن اُس کی وجوہات اور تھیں۔ فلسطین کی پہلی تقسیم پر کسی فلسطینی کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ اردن کی بادشاہت نے صرف فلسطین کے بڑے حصے یعنی مشرقی کنارے کے علاقے پر قائم ہونی پر ہے اکتفا نہیں کیا بلکہ1948ء میں اُس نے فلسطینیوں سے اپنی مزید ہمدردی کا اظہار اس طرح کیا کہ مغربی کنارے کی پٹی(West Bank) پر بھی قبضہ کرکے بیٹھ گیا جو 1967ءتک برقرار رہا۔ ہم اس قبضے کا حال آئندہ مضمون میں پڑھیں گے۔

1948ءسے شروع ہونی والی عرب جارحیت اور اسرائیل کے ہاتھوں شکستوں کی نتیجے میں تقریباً 400,000 بے گھر فلسطینی افراد نے اپنے برادر اسلامی ملک اُردن میں پناہ لی۔ اُردن نے اپنی مسلمان عرب بھائیوں کی مہمان نوازی کچھ یوں کی کہ اُنہیں اپنی شہروں میں آنے سے روکے رکھا اور سرحدی صحرائی علاقوں تک محدود کردیا۔ اُردنی حکومت اور فلسطینی مہاجروں کی درمیان اختلافات بڑھتے چلے گئے۔

1969-70 میں فلسطینی دہشت گردوں نے کئی اُردنی ہوائی جہاز اغوا کرکے تباہ کردئیے۔ ستمبر1970میں اُردنی فوج نےAjlamاور Jarashکے مقامات پر کئی ہزار فلسطینیوں کا قتل عام کیا (ایک اندازے کی مطابق مرنے والوں کی تعداد 25,000سے زیادہ تھی) جس میں اُسے پاکستانی فوج کی خدمات بھی حاصل تھیں۔بیشتر فلسطینی مہاجروں کو لبنان میں دھکیل دیا گیا۔ ایک پاکستانی برگیڈیر نے اس قتل عام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس برگیڈیر کا نام ضیاءالحق تھا جس نے بعد میں پاکستانی فوج کی سربراہ کے عہدے تک ترقی پائی اور اقتدار پر قبضہ کرکے ملک کا صدر بھی بنا۔

لیکن اُردن اور خود پاکستانی فوج کی ہاتھوں فلسطینیوں کے قتل عام کا کتنے پاکستانیوں کو علم ہے؟ بھلا مسلمان ہی مسلمان کا قاتل کیسے ہوسکتا ہے؟ مسلمان کا قاتل تو صرف کافر ہے ہوسکتا ہے۔

اصل میں اسرائیلی ریاست اور اردن دونوں فلسطین کا حصہ تھے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ایک یہودی ریاست میں تو تقریباً چودہ لاکھ سے زیادہ فلسطینی خوشحال شہری زندگی گزار رہے ہیں لیکن ایک اسلامی ملک میں ان کی لیے کوئی جگہ موجود نہیں ہے۔فلسطینی اپنی آبائی سرزمین پر مہاجر بن کر بھی نہ رہ سکے ۔یہ ہے اسلامی عرب بھائی چارے کا پھل۔

اُردن فلسطینی خود مختار ریاست کاکتنا بڑا حامی ہے اس کا اندازہ اردن کے بادشاہ حسن عبداللہ کی1981ءکے اس تاریخی بیان سے ہوسکتا ہے” فلسطین اُردن ہے اور اُردن فلسطین، فلسطین کی علیحدہ سے کوئی حثیت نہیں۔“

اسرائیل ریاست کا ناگزیر ہونا اور اقوام عالم کی منظوری:
اب ہم اپنے موضوع کی طرف واپس آتے ہوئے 1920ءکیNebi Musa Riotsسے آگے کے واقعات کا ذکر کرتی ہیں۔ واضح رہے کہ اُس زمانے میں الیکٹرانک میڈیا پہلے تو موجود نہیں تھا اور بعد میں صرف اپنی ابتدائی اشکال میں ارتقاءپذیر تھا۔ پرنٹ میڈیا کے ذرائع بھی محدود تھے۔ اس لئے ان واقعات کو وہ تشہیر نہ مل سکی جس کے وہ مستحق تھے۔ آج کے بہت کم تاریخ کے طالب علم ان باتوں سے آگاہ ہیں اور عام عوام کو تو ان کی ہوا تک نہیں لگی خاص طور پر اسلامی دنیا میں۔ اس مضمون میں دانستہ ان واقعات کے ناموں کو انگریزی میں اُنہی ناموں سے درج کیا گیاہے جن سے وہ جانے جاتے ہیں ۔ ہر وقوعہ کی تاریخ بھی درج ہے۔ ایسے قارئین جن کو سچ کی تحقیق کی جستجو ہو وہ فلسطین کی مستند تواریخ اور وکی پیڈیا یا ایسے دوسری قابلِ اعتبار ویب سائٹس کیTime linesپر ان کوCross Checkکر سکتے ہیں ۔ البتہ وہ جو صرف یکطرفہ بات سننا چاہتے ہیں اُنہیں پاکستانی میڈیا اور Anti-Sematic پروپیگنڈا کی دنیا میں رہنے کا پورا حق ہے کیونکہ وہ اُن کی پہلے سے ذہن نشین نظریات کی تائیدکرتے ہیں۔

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



4 + four =

%d bloggers like this: