غزہ کا بحران: پس منظر اور اصل کہانی: نفرت کی تجدید

September 15, 2013 at 09:06 ,
نئیر خان؛

14نومبر2012کو اسرائلی فضائیہ نے بمباری کرکی حماس کی عسکرے بازو ال قسام کی افسر دوم احمد جباری کو ہلاک کر دیا۔ اسرائل نے اپیس اب تک جاری اس فوجی اپریشن کو ستون دفاع (Pillar of Defence) کا نام دیا ہے جس کی تحت اُس کی طا ری غزہ مںس حماس کی خفہe اڈوں کو نشانہ بنارہے ہں ۔ بدقسمتی سے ان حملوں کی لپٹ میں کئی فلسطنی شہری بھی آگئے جن میں کچھ نو عمر بچے بھی شامل ہیں۔ اُن معصوم بچوں کی لاشوں کی تصاویر سے پاکستانی اُردو میڈیا کے صفحات اور سوشل میڈیا کے برقی اور اق بھر چکے ہںں۔ یہ تصاویر نہایت اندوہناک نوعیت کی ہیں جو اسرائل کی ظلم و بربریت کی عکاسی کرتی ہیں۔ اسلامسٹ پروپیگنڈا ماہرین اور اُردو میڈیا کی بن آئی ہے۔ نئی مصنوعات کی کھیپ آئی ہے کفار سے نفرت کی دوکانیں ایک دفعہ پھر سج گئی ہیں۔ پاکستانی عوام کی اسرائیلی کی خلاف ساٹھ سالہ نفرت اور غم وغصہ ایک دفعہ پھر بھڑک اُٹھی ہے۔ موقع سے بھر پور فائدہ اُٹھاتی ہوئی جماعت اسلامی نے 23نومبر 2012 کو غزہ سے یکجہتی کی اظہار کی لئے یوم احتجاج منانے کا اعلان کردیا ہے۔

داستان اور زیب داستان

کئی دن سے جاری اس لڑائی میں اب تک تقریباً 100فلسطنیئ جن میں حماس کے جنگجو اور عام شہری دونوں شامل ہیں اور 8اسرائیلی شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔ یہ ہلاکتیں افسوس ناک ضرور ہیں لیکن اگر ہم ان کا موازنہ مشرق وسطیٰ میں جاری دوسری ہلاکت خزییوں سے کریں تو یہ تعداد کی لحاظ سے اُن کی سامنے ہیچ ہیں۔ مثال کی طور پر شام میں جاری بغاوت میں اسی سال اب تک تقریباً30,000 جانیں ضائع ہوچکی ہیں۔ جبکہ فلسطین میں گذشتہ دس سالوں میں ہونے والی کل ہلاکتیں اس کا ایک چوتھائی بھی نہیں بنتی ہیں۔بشراسد کی سرکاری فوجوں نے اپنی شہری آبادیوں کو فضائی بمباری کا نشانہ بنایا جس سے ہزاروں شہری بشمول عورتیں اور بچے جاں بحق ہوچکے ہیں ۔ اگر ہم اُن سینکڑوں شامی بچوں کی لاشوں کی تصویروں کو دکھائیں تو وہ اتنی ہی رقعت آمیزہونگی جتنی کہ چند فلسطینی بچوں کی بارود کی زخموں سے دریدہ لاشیں۔ لیکن 30,000افراد کی اموات پر آج تک جماعت اسلامی یا پاکستان کی عوام نے احتجاج تو کجا کبھی افسوس تک نہیں کیا۔ نہ ہی شامی بچوں کی چیتھڑی اُڑی لاشوں کو پاکستانی میڈیا نے آپ کو دکھایا ہے۔ لیکن ٹھہرئے! یہاں پرکچھ غلط کہہ گیا ہوں۔ آپ نے شامی بچوں کی لاشوں کو پچھلے دنوں سوشل میڈیا خصوصاً فیس بک پر ضرور دیکھی ہوںگی۔ لیکن شامی بچوں کی طور پر نہں بلکہ فلسطینی بچے سمجھ کر۔ جی ہاں جیسا کہ اسلامسٹ پروپیگنڈہ مشنری کا وطیرہ ہے، اسلامسٹ افواہ ساز شامی بچوں کی لاشوں کی تصویروں کو فلسطنی بچوں کی لاشیں بناکر سوشل میڈیا پر پیش کررہے ہیں۔ کچھ افراد نے فیس بک پر اس بات کو بے نقاب کیا ہے۔ لیکن جذباتیات کے آگے عقل کی یہاں کون سنتا ہے؟

شام ہے کی طرح یمن میں بھی سرکاری افواج اور القاعدہ کے مابنی جنگ میں کئی ہزار شہری کام آچکے ہیں۔دور کیوں جاتے ہیں؟پاکستان میں کیا کچھ کم ہو رہا ہے۔ ہزارہ قوم کی نسل کشی کو ہی دیکھ لیں۔ پاکستان میں 1980 ءکی دہائی کے وسط سے شروع ہونے والی فرقہ واریت دہشت گردی میں اب تک تقریباً 20,000شعیہ افراد کو قتل کیا جاچکا ہے جن میں 30فیصد مرنے والوں کی عمریں18سال سے کم ہیں اس کا مطلب 6000بچے ہیں۔ ان کی تفصیلات آپ http://criticalppp.com/archives/132675 پر ملاحظہ کرسکتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پاکستانی میڈیا اسرائیلی5 فضائی حملوں میں مرنے والے چند بچوں کی خون مں لت پت تصاویر تو ضرور شائع کرتا لیکن ذرا اُس سے پہلے ہلاک ہونی والے چھ ہزار معصوم پاکستانی شعیہ بچوں کی تصویریں بھی دکھا دیتا۔

ایک سانحے کا دوسری سانحے سے تقابلی موازنہ درست نہیں۔ نہ ہی ایک غلط کام دوسری غلط کام کی توجیح بن سکتا ہے۔ لیکن ہر غلط کام پر احتجاج تو ایک جسا ہی ہونا چاہیے۔ یہ تو نہیں کہ اپنی گھر میں تو آپ اونٹ نگل جائیں اور دوسری کی گھر میں جاکر زیرہ چھانیں۔

فلسطینی بچوں کا اصل قاتل کون؟:
کیااسرائیل فلسطین کے بچوں کو جان بوجھ کر قتل کرتا ہے؟ جواب ہے ”نہیں“۔ کیاحماس اسرائیلی بچوں کو جان بوجھ کر قتل کرتی ہے۔ جواب ہے ”ہاں“۔درج ذیل تفصیلات اس دعویٰ کو درست ثابت کریں گی۔

سب سے پہلی تو یہ دھیان کہ غزہ میں کشیدگی ہر بار شروع کون کرتا ہے۔ آئیں حالیہ تصادم کو ہیTest Case یا مثالی مقدمہ بناکر اس کی واقعات کی تسلسل کا جائزہ لیں۔

غزہ کا موجودہ بحران احمد جباری کی نومبر 14کی موت سے شروع نہیں ہوتا۔ مہربانی فرماکر کسے بھی مستند بین الاقوامی نیوز ایجنسی کیTime lineملاحظہ کریں۔ حالیہ خونی واقعات کی ابتداءدراصل24اکتوبر2012کو ہوئی ہے۔ امیر قطر کے غزہ کی اہم دورے کے ختم ہوتے ہی حماس نے بیٹھے بٹھائے بغیر کسی جواز کی6راکٹ جنوبی اسرائیلی شہری آبادی پر داغ دئیے۔ یہ راکٹ کئی رہائشی عمارتوں پر جاکر گرے جن میں6اسرائیلی شہری بشمول خواتین اور بچے زخمی ہوئے۔ اس کی کچھ گھنٹوں کی اندر اسرائیل نے جوابی کاروائی کی طور پر شمالی غزہ پر دو (2)ہوائی حملے کئی اور حماس کےچارشدت پسندوں کو ہلاک کردیا۔ ان حملوں میں سات افراد بھی زخمی ہوئے۔ اس کی بعد حماس نے انتقام کا اعلان کرتی ہوئی ایک رات میں 68راکٹ جنوبی اسرائیل میں پھینکے جن میں مزید 6 اسرائیلی شہری زخمی ہوئے جن میں دو شدید زخمی بتائے گئے۔ یہ خبر پاکستان کے انگریزی پرچےExpress Tribune کی25 اکتوبر2012ءکی اشاعت پرموجود ہے۔ شاید دیگر انگریزی پرچوں میں بھی شائع ہوئی ہو۔ اُردو میڈیا میں بھی یہ خبر آئی یا نہیں آئی، اس کی بارے میں یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اُردو میڈیا کے پاس ایسے دوربین ہے جس سے اسرائیلی بمباری تو نظر آتی ہے، حماس کے راکٹ نہیں۔

آئیں اب اس سے تھوڑا پیچھے چلتے ہیں۔ اسی سال9 مارچ سے لیکر15مارچ2012ءتک اسرائیل اور حماس کی مابین ایسا ہی تصادم ہوتا رہا ہے۔ یا کیسے شروع ہوا؟ یہ ایسے شروع ہوا کہ9مارچ2012ءکو بغیر کسی اشتعال کی حماس کے شدت پسندوں نے جنوبی اسرائیل پر 300راکٹ چلادئیے۔ جس سے ہلاک ہونیوالوں میں 8بچے اور 8خواتین شامل تھیں۔ جواب میں اسرائیل فضائیہ نے اگلے 6دن تک حماس کی اسلحے کے ذخائر، راکٹ داغنے کے اڈوں، اسلحہ ساز فکٹر یوں، عسکری تربیتی مراکز، چوکیوں، سُرنگوں اور شدت پسند افراد کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں حماس کے22شدت پسند اور 4شہری ہلاک ہوئے۔ بعد ازاں یہ بھی معلوم چلا کہ ان4شہریوںکی ہلاکت کا اسرائیلی حملوں سے کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ وہ ایک مقامی حادثے کا شکار ہوئے تھی جنہیں پروپیگنڈہ ماہروں نے اسرائیلی بمباری سے جوڑ دیا تھا۔ ان تمام حملوں غیر ارادی ضمنی نقصان کا تناسب حیرت انگیزم طور پر کم رہا۔ یہ ایک محتاط اور تیربہ ہدف نشانی بازی کی غیر معمولی مثال ہے۔ لیکن ہر بار ایسا ممکن نہیں۔ گہیوں کی ساتھ گھن کو پسنا ہے پڑتا ہے۔

مثال کی طور پر 23جولائی2002ءکو اسرائیلی جنگی ہوائی جہازوں نے غزہ شہر کی ایک اقامتی فلیٹ پر3میزائل داغ کر حماس کی عسکری بازو غزادائین ال قسام کی کمانڈر اور مطلوبہ افراد میں سرفہرست صالحہ شہیدا کو ہلاک کردیا۔ اس کاروائی میں کئی منزلہ عمارت مکمل طور پر زمین بوس ہوگئی جس میں 14فلسطینی شہری بھی ہلاک ہوگئے۔ لیکن کوئی بیواقوف ہی یہ کہے گا کہ اسرائیلی طیارےاُن 14شہریوں کو ہلاک کرنے آئے تھے۔ وہ حماس کے دہشت گرد صالحہ شہیدا کو مارنے کی لئے آئے تھے۔ شہریوں کو مارنا اُن کا مقصد نہیں تھا۔ لیکن دہشت گرد کو مارتے ہوئی وہ14شہری بھی اُن کی لپیٹ میں آگئے۔ کیونکہ وہ بھی اُسی عمارت میں مقیم تھے۔
کسی بھی فوجی تصادم میں دونوں اطراف سے خونریزی ناگزیر ہوتی ہے لیکن قصوروار عام طور پہل کرنے والے کو سمجھا جاتا ہے۔ آپ پچھلی کئی سالوں میں ہونی والی غزہ کی لڑائواں میں سے ایک ایک کیTime lineکو دیکھیں۔ ہر دفعہ پہل حماس کی طرف سے ہوتی ہے۔ ایک بھی ایسے مثال آپ کو نہ ملی گی جس میں اسرائیل نے بیٹھے بٹھائے غزہ پر جارحیت دکھائی ہو۔ ہر دفعہ لڑائی کو اُس پر مسلط کردیا جاتا ہے۔ اسرائیل ایک خوشحال صنعتی ملک ہے۔ یہودی فطرتاً کاروباری لوگ ہیں۔ اسرائیل کا جنگ میں اپنا وقت اور توانائی ضائع کرنا ایک ترجیحی عمل نہیں ہے۔ جب کہ حماس صرف اور صرف ایک جنگجو گروہ ہے۔ اُن کی معیشت کا دارمدار سعودی عرب اور دوسری عرب ملکوں سے ملنی والی امداد پر ہے جو انہیں لڑآئی کے عوض ہی دی جاتی ہے۔ اس لئے لڑنا ہے اُن کاکام ہے۔ اسرائیل کے پاس کرنے کے لئے اس سے کئی اہم دوسرے کام ہیں۔ جنگ اُس کی لئے ایک بےکاراور نقصان دہ کام ہے۔ وہ پہلے جارحیت کیوں کرے گا؟ لیکن اُسے اپنی بقا اور شہریوں کی حفاظت کے لئے لڑنے پر مجبور کردیا جاتا ہے۔

حالیہ لڑائی میں 14اور 20نومبر کی درمیان حماس نے اسرائیل پر400سے زیادہ راکٹ داغے جن میں سے تمام کا رخ اسرائیل کی شہری آبادی کی طرف تھا۔ یہ شہری آبادی کو نقصان پہنچانے کی ایک دانستہ کوشش ہے۔ کوئی شریک (Collateral) یا ضمنی نقصان نہیں۔ اسی سال حماس 1,000 سے زیادہ اور 2009ءسے لیکر اب تک 2,500 سے زیادہ راکٹ اسرائیل پر پھنک چکا ہے۔ اگر وہ راکٹ اسرائیل کی گنجان آبادیوں پر گر جاتے تو اسرائیل کی آبادی کا ایک بڑا حصہ اب تک ختم ہوجاتا۔ لیکن یہ صرف اسرائیل کیIron Dome Missile Defence Systemکی بدولت ہے کہ جو اپنی طرف پھینکے گئے تمام راکٹوں میں سے تقریباً نصف، جن میں گنجان آبادیوں کی طرف بڑھتے ہوئے تقریباً تمام راکٹوں کو فضا میں ہی تباہ کردیتا ہے۔ یہ اسرائیل کی اعلیٰ ٹیکنا لوجی اور حماس اور عربوں کی ٹیکنالوجی کی کمی کا کمال ہے جس کی وجہ سے اسرائیلی آبادی کا بڑا حصہ آج تک محفوظ ہے۔ ورنہ حماس نے اپنی طرف سے اسرائیلی شہری آبادی کو نیست ونابود کرنی میں کوئی کسر نہیں اُٹھارکھی۔ اس کی باوجود حماس کے پھینکے ہوئے راکٹ،Grad Missilesاور مارٹرشلب اسرائیل کی مضافائی آبادیوں تک پہنچ ہے جاتے ہیں اور اُن کی کئی شہریوں، جن میں بچے بھی شامل ہیں، کی اموات کا سبب بنتی ہیں۔ اسرائیلی بچوں کی لاشیں ہمارا میڈیا کبھی نہیں دکھاتا۔ بیشتر بن الاقوامی میڈیا جو کہ سامی مخالف Anti-Semitic بائیاں بازو کے افراد سے بھرا پڑا ہے اسرائیلی شہری نقصانات کو کم اہمیت دیتا ہے۔ کون یہاں پر اس بات کو سنے گا کہ اسرائلی بچے بھی اتنی ہے معصوم ہیں جتنا کہ عرب بچے ۔ اس تمام کشیدگی کے دنوں میں اسرائیلی شہری اپنی گھر سے باہر رکھی بڑی پائپوں اور حفاظتی خندقوں مں راتیں گزارتے ہیں۔ اُن کی بچے راکٹ حملے کا انتباہ ہے سائرن بجتے ہی اپنے اسکول کی میزوں کی نیچے دبک جاتی ہیں۔ اسرائیلی شہری آبادی ایک مسلسل خوف کی سائے میں زندگی گزار رہے ہے۔

جبکہ اس کے برخلاف ساری فلسطینی آبادی اگر اسرائیل کے نشانے پر رکھی ہوئی ہے تو اگر اسرائیل فلسطینی شہریوں کو نقصان پہنچانا چاہتا تو ایک دن میں ہزاروں کو ماردیتا۔ پچھلے دس سال میں کچھ ہزار عسکریت پسندوں کے ساتھ صرف چند سو فلسطینی شہری نہ مرتے۔ لیکن کوئی یہ بتائی کہ جب اسرائیل کی شہری آبادی پر راکٹوں سے حملے ہوں تو کیا وہ اُن عسکریت پسندوں کو بھی نہ نشانہ بنائی جو کہ ان حملوں کی ذمہ دار ہیں صرف اس لئے کہ وہ اپنے شہریوں کی پیچھے چھپ کر بیٹھے ہیں ؟ اسرائیل پر شہریوں کے قتل کا الزام لگانے والوں نے کیا کبھی حماس سے بھی پوچھا ہے کہ وہ اسرائیلی شہریوں کو کیوں مارتا ہے؟

ایسی کوئی مثال موجود نہیں ہے جہاں اسرائیل نے فلسطینی شہری آبادی کو خصوصاً نشانہ بنایا ہو۔ جب بھی کوئی فلسطینی شہری مرا ہے وہ عسکریت پسندوں اور اُن کے راکٹ داغنے کے ٹھکانوں سے قریب ہونیکی وجہ سے مرا ہے۔ اسرائیل کا نشانہ عسکریت پسند ہوتے ہیں ۔ فلسطینی شہری اموات شریک یا ضمنی نقصان کا نتیجہ ہوتے ہیں۔یہ تصویر ثابت کرتی ہے کہ فلسطینی شہری اموات کا ذمہ دار اصل میں کون ہے؟ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ حماس کی طرف سے راکٹ بالکل اپنے شہری آبادی کی بیچ و بیچ قائم شدہLaunching Padسے داغا جارہا ہے۔ اب اگر اسرائیلی جنگی طیارےاس ٹھکانے کو تباہ کریں گی تو ساتھ اقامتی عمارتیں بھی لازمی تباہ ہونگی۔ لیکن کیااسرائیل صرف اس وجہ اس ٹھکانے کو تباہ نہ کرے کیونکہ اس کی اطراف میں فلسطینی آبادی ہے اور خود اپنی شہریوں کو یہاں سے چھوڑے ہوئے راکٹوں سے مرنے دے؟

دراصل اپنی شہری آبادی کو انسانی ڈھال بنانا دہشت گرد ملکوں اور تنظیمو ں کا سب سے بڑا ہتھیارہیں۔ مثال یہ طور پر 2002ء میں افغانستان پر نیٹوکے فضائی حملوں کی دوران طالبان نے اپنے شہروں کے ہسپتالوں اور اسکولوں کی چھتوں پر طیارہ شکن توپیں نصب کی ہوئی تھیں۔ جب نیٹو کے طیارے اپنی طرف آنے والی فائرنگ کے جواب میں اُس کے منبع کو نشانہ بناتی تھی تو وہ ہسپتال یا اسکول تباہ ہوجاتا تھا۔ اس پر طالبان ساری دنیا کو نیٹو کی بربریت کی کہانیاں سناتے پھرتے تھے کہ اُنہوں نے تو ہسپتالوں تک کو نہیں چھوڑا۔ دراصل انسانوں کے جذبات کو بھڑکانا اور اس طرح اپنی لئے حمایت پید ا کرنا اور اپنے دشمنوں کو بدنام کرکے نفرت کو فروغ دینا دہشت گردوں کے اہم ترین ہتھکنڈے ہیں۔ دہشت گردی ایک نفسا تی جنگ کا نام ہے۔ صرف اصل لڑائی کا ہے نہیں ۔ پراپیگنڈہ کی لڑائی میں اسلامسٹوں سے کوئی نہیں جیت سکتا۔ اس لئے بھی کہ ساری دنیا میں انہیں بائیں بازوں کے افراد کی حمایت بھی حاصل ہے جو عالمی مڈ یا پر چھائے ہوئے ہیں۔ آج بھی نیٹوکےDronesکی حملوں میں دہشت گردوں کی ساتھ ساتھ چند پاکستانی شہری اس لئے مرجاتے ہیں کہ دہشت گرد شہریوں کے درمیان اپنے پوشدہ ٹھکانے بناتے ہیں۔ اس حکمت عملی میں طالبان اور حماس ایک سے بڑھ کر ایک ہیں۔

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



+ 5 = eight