غزہ کا بحران: پس منظر اور اصل کہانی: نفرت کی تجدید (حصہ دوم)۔

September 16, 2013 at 06:51 ,
نئیر خان؛

اب دوسرا سوال یہ ہے کہ اسرائیلی شہری اموات بھی حماس سے نشانی میں چوک کا نتیجہ ہیں؟ایسا بالکل نہیں ہے۔ حماس کا اصل نشانہ ہے شہری آبادی بلکہ خاص طور پر بچے ہں ۔ ایسے سینکڑ وں مثالیں پش کی جاسکتی ہیں جن میں فلسطینی اور حماس خودکش بمباروں اور بندوقچیوں نے اسرائلی بچوں کے اسکول اور اسکول کی بسوں کو خاص طور پر ہدف بنایا۔ مثال کی طور پر 16جولائی2002ءکو پیش آنی والا واقعہ جوImmanuel bus attack کہلاتا ہے جس میں فلسطینی دہشت گردوں نے گھات لگا کر ایک بس جس میں اسرائیلی عورتیں اور بچے تھے،کو اندھا دھند فائرنگ کا نشانہ بنایا اور نوزائد بچوں تک کو نہیں چھوڑا۔ 9اگست2000ء میں ہونے والاSabarro restuarant massacreجس میں خودکش دہشت گرد نے15اسرائیلی شہریوں کو ہلاک اور 139کو زخمی کیا۔ مرنے والوں میں 7بچے اور ایک حاملہ عورت اور زخمی ہونے والوں میں 80بچے شامل تھے۔ یہ فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ تھا خصوصاً بچوں کی لئے۔ 26مارچ2000ءکاMurder of Shalhevet passکا واقعہ خصوصی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس میں عام دہشت گرد فائرنگ کی واقعات سے ہٹ کر بجائے کلاشنکوف کی ایک Sniper Riffleیعنی ایسے رائفل جس کی پر نشانہ لگانی کی لئے دوربین نصب ہوتی ہے استعمال ہوئے۔ اس رائفل کی ذریعےایک10ماہ کے اسرائیلی بچے کو نشانہ بنایا گاا۔ اس سے زیادہ دانستہ تاک کر نشانہ بنانے کی مثال ممکن نہیں ہے۔ PLO کی سرکردگی میں ستمبر2000میں شروع ہونی والی مہم کی دوران جوSecond Intifidaکہلاتی ہے، اسرائیلی آبادی پر لاتعداد حملے کئے گئے اور پانچ سال کے اندر1068 اسرائیلیوں کو ہلاک اور 7000 کو زخمی کیا گیا۔ جن میں 69فیصد عام شہری تھے۔ جواب میں اسرائیل نے 3000فلسطینیوں کو ہلاک کیا جس میں بہت کم تعداد عام شہریوں کی تھی جو صرف اس لئے ہلاک ہوئی کہ فلسطینی گوریلے اُن کی پیچھے جاکر چھپتے رہے تھے۔

ان بیان کردہ واقعات کو اُوپر دئیے ہوئی ناموں سے ہے یاد کیا جاتا جن کی تفصیلات آپ انٹرنیٹ پر دیکھ سکتی ہیں۔ ایسے درجنوں واقعات موجود میں جن میں فلسطینی گوریلوں نے اسرائیل میں بچوں کی اسکولوں اور تفریحی مقامات پر حملے کئے۔

یہ حقائق بتاتے ہیں کہ: اسرائیل فلسطینی شہری آبادی کو دانستہ نشانہ نہیں بناتا بلکہ حماس اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں اُن کو انسانی ڈھال کی طور پر استعمال کرکے موت کی منہ میں جھونکتی ہیں ۔حماس اور دیگر فلسطینی گوریلا جنگجو جان بوجھ کر بلکہ خصوصاً شہری آبادی کو نشانہ بناتے ہیں۔ اسرائیل چاہے تو فلسطین کی کل شہری آبادی کو نیست ونابود کردے لیکن وہ ایسا کرتا نہیں۔ حماس چاہتا ہے کہ وہ ساری اسرائیلی آبادی کو مٹادیے لیکنُ ایسا کرنا اُس کی بس میں نہیں گووہ ایسا کرنے کی کوشش میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھتا۔

اسرائیلی اپنے بچوں کو سائنس، آرٹ، فنون اور دیگر شعبہ ہائی زندگی میں بڑھتا دیکھنا چاہتی ہیں۔ اگر اُن میں سے کچھ فوج میں بھی جانا چاہیں تو اُس کی لئے انہیں سنِ شعور تک پہنچنے کا انتظار کرنا پڑی گا۔ بچپن میں کتابوں اور کھلونوں کی علاوہ انہیں کسے چیز سے سروکار رکھنی کی ترغیب نہیں دی جاتے۔ آپ آئی دن ایسے سینکڑ وں تصاویر دیکھتے ہونگے جن میں کسی فلسطینی نے اپنے نو عمر بچوں کو سر پر کفن اور جسم پر فوجی ملیشاءکی وردیاں پہنائی ہوتی ہیں اور ہاتھوں میں پلاسٹک کی یا اکثر اصلی کلاشنکوفیں پکڑائی ہوتی ہیں اور انہیں ریلیوں، جلوسوں اور فوجی پریڈوں میں فخر سے آگے کیا ہوتا ہے۔ کیا بچوں کی ساتھ اس سے بڑی کوئی زیادتی ہوسکتی ہے کہ اُن کی معصوم ذہنوں کو بجائے پیا ر کے نفرت سکھائی جائے اور جان لینے کے آلات سے اُن کی ننھے منھے ہاتھوں کو آشنا کردیا جائے۔ انہیں بجائے تعمیروو ترقی کے تخریب اور تباہ کاری کی تربیت دی جائے۔ فلسطینوں کے اس رویے سے ایسا لگتا ہے جیسا کہ وہ خود اپنی بچوں کو جنگ کا ایندھن بنتا دیکھنا چاہتے ہیں ۔فلسطینی بچوں کا یہ جہادی روپ صرف نمائش کی حدتک ہے نہیں ہے بلکہ اکثر حماس نے طالبان کی طرح نوعمر لڑکوں بلکہ اپنی خواتین تک کو خودکش حملوں کی لئے استعمال کیا ہے۔ یہ اپنے بچوں کا قتل نہیں ہے؟

اسرائیل کی پاس آبادی کی انتہائی کمی ہے،جبکہ عربوں کی پاس آبادی ہی آبادی ہے۔ اُن کی پاس بالغ مردوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ پھر وہ نوعمر بچوں کو کس بات کی جنگی تربت دی رہے ہیں ؟ اسرائیل کی سابقہ وزیر اعظم مسز گولڈمیئر نے کہا تھا کہ ”مشرق وسطیٰ میں اُس وقت تک امن نہیں ہوسکتا جب تک کہ عرب اپنے بچوں سے اتنا ہے پیارکریں جتنا کہ وہ ہم سے نفرت رکھتے ہیں”۔

کیا اسرائیلی ایک وحشی قوم ہے؟:
یہودی کا ایک عجب وغریب تصور ہماری ہاں موجود ہے۔ یہ بات ایک کلیہ کی حثیت رکھتی ہے کہ اگر کوئی یہودی ہے تو وہ لازمی طور پر ایک برا آدمی ہے۔ پاکستانیوں کے نزدیک اسرائیل کے تمام باشندے اور قیادت شقی القلب ہیں جن کا کام مسلمانوں پر ظلم وستم ہے کرنا ہے۔ وہ مسلمانوں اور انسانیت کے ازلی دشمن ہیں۔ کیا یہ سچ ہے؟

کوئی ہوشمند آدمی کی دوسرے کا برا نہیں چاہتا۔ امن ہر صحیح الدماغ انسان کی فطری خواہش ہے۔ اگر کوئی قوم ایسا نہیں چاہتی تو اُس کے افراد یناً جنون کا شکا رہونگے۔ وہ ہرگز بھی ایک معقول قوم نہیں ہوسکتی۔یہودیوں میں عقیلت پسندی اور دانشمندی کی سطح کیا ہے، اس کا اندازہ ان باتوں سے ہوسکتا ہے؛

دنیا میں ایک ارب چالیس کروڑ مسلمان بستی ہیں جو کہ دنیا کی کل آبادی کا20فصدع بنتی لیکن اب تک صرف 8 مسلمانوں نے نوبل پرائز حاصل کا ہے جن میں سائنس کی شعبوں میں صرف دوہے ایسی شخصیات ہیں۔ اُن میں سے بھی ایک کو ، یعنی ڈاکٹر عبدالسلام کو جو ایک احمدی تھا، باقی مسلمان، مسلمان نہیں مانتے۔ اس کے انتہائی تقابل میں دنیا میں یہودیوں کی کل تعداد صرف ایک کروڑ بس لاکھ ہے جو کہ دنیا کی کل آبادی کا0.2فیصد یا مسلمانوں کی آبادی ایک فیصد سے بھی کم بنتی ہے۔ لیکن اب تک 166 یہودیوں کو نوبل پرائز مل چکا ہے جن میں 100سے زیادہ سائنس کی شعبوں میں ہیں۔ یہ بات یہودیوں کی غیر معمولی علمی رجحان کو ظاہر کرتی ہے۔ کیا اتنی علم پسند قوم کی لوگ وحشی اور نیم پاگل ہیں؟

کیا یہودی دنیا میں ہلاکتیں بانٹتے ہیں؟ کیا انسانیت سے اُن کا کوئی تعلق نہیں ہے؟
بات اس کی برعکس ہے۔ نہ صرف یہ کہ تاریخ عالم کا سب سے بڑا طبعیات دان آئن اسٹائن اور جدید علم نفسا ت کا بانی سگمنڈ فرائد یہودی تھے بلکہ یہودیوں نے علم طب اور جراحی میں وہ کارہائے نمایاں انجام دئیے ہیں کہ انسانیت کا سر ہمیشہ اُن کی زیر بار احسان رہے گا۔ ہم یہ تو گنتی رہتی ہیں کہ یہودیوں نے کتنی سو فلسطینیوں کو ہلاک کیا لیکن اس بات سے بالکل غافل ہیں کہ اُن کی کوشش کی وجہ سے ہر روز اِن گنت انسانوں بشمول کروڑوں مسلمانوں کی جانیں بچ جاتی ہیں۔ دنیا میں وبائی امراض انسانی اموات کی سب سے بڑی ذمے دار ہیں ۔ آج سے چند صدیاں پہلی انسان کو ہیضہ، ٹی بی، نمونیا ، کولرا جیسے امراض کا کوئی علاج موجود نہیں تھا اور ان میں مبتلا ہونی والے شاذ و نادر بچ پاتے تھے۔ زخموں کے خراب ہوجانی سے اکثر زخمی چل بستے تھے۔ ان تمام بیماریوں سے صحت یابی صرف اینٹی بائو ٹک ادویات کی ذریعہ ممکن ہوئی۔ اگر یہ کہا جائے کہ علم طب میں سب سے بڑی ایجاد اینٹی بائوٹک ہے ہے تو یہ بےجا نہ ہوگا۔ جب ہماری یا ہماری کسے عزیز کی جان کسے وبائی مرض یا زخم اچھا ہونی سے بچ جاتی ہے تو ہمیں ان یہودیوں کو سلام پیش کرنا چاہئے۔

Baruch Blumbergنے سب سے پہلی وبائی امراض یا Infectionکے پھیلنے کی عمل کو دریافت کیا۔G. Edlemanنی سب سے پہلی اینٹی بائوٹک کی کیمیائی ہیت کو دریافت کیا ۔Sales Wakesmanنے Streptomycin ایجاد کی جو آج کی بیشتر اینٹی بائوٹک کی ماں ہے۔اگر یہودی برا ہے تو اُس کی ایجادات کیوں اچھی ہیں۔ ہمیں یہودیوں کی ایجادات سے بھی فائدہ نہیں اُٹھانا چاہیے تھا۔پولیو سے حفاظت کا ویکسین ایک یہودی Jonas Salkنے ایجاد کیا۔ اگر آج ہماری گھروں میں بچے لنگڑے لولے نہیں ہیں تو یہ ہم پر ایک یہودی کا احسان ہے۔ ورنہ پولیوج کا بخار جس کو آتا تھا اُسے اپاہج بناکر چھوڑتا تھا۔

ہم مسلمانوں کا یہ مسئلہ ہے۔ ہم مغرب کی ہر علمی ترقی سے تو فائدہ اُٹھاتے ہیں لیکن مغرب سے نفرت بھی کرتی ہیں۔ معروف اسلامی اسکالر مولانا مودودی کو جب بھی دل کا مسئلہ ہوتا تھا تو وہ سعودی عرب یا مصر نہیں جاتے تھے۔ وہ امریکہ کی طرف ہے بھاگتے تھے۔ بالآخر آخری دفعہ اُن کی طبیعت کی خرابی کی بعد اُن کا انتقال بھی نیویارک کے ہسپتال میں کافروں کے ہاتھوں میں ہوا۔

اگر ہم خود کو دیکھیں تو ہم نے تاریخ میں انسانیت کی لئے کیا خدمات انجام دیں ہیں ؟ ہم جب اپنی تاریخی کارناموں کو یاد کرتے ہیں تو سوائے جنگی فتوحات کی کوئی کارنامہ پش نہیں کرسکتی۔ قتل وغارت کی علاوہ اگر ہم نے دنیا کو کچھ دیا ہے تو اپنی ناکامواں کا ہر الزام ہے جو ہمیشہ ہم نے دوسروں کی سر پر تھوپا ہے۔ کیا مسلمان اپنی علمی پسماندگی کا الزام بھی اہل مغرب اور یہودیوں کو دیں گے؟ کیا ہم یورپ کی نوآبادیات اور سامراجیت کو اپنی سائینسی ناخواندگی کی وجہ قرار دیں گی جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ مسلمانوں میں آج جدید علم سے جو بھی تھوڑی بہت واقفت موجود ہے وہ اہل مغرب سے اُس تعلق کی بنا پر ہم تک پہنچی ہے جو اُس کی نو آبادیادتی نظام کی ہے دین ہے۔
(جاری ہے)

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



8 − five =

%d bloggers like this: