غزہ: پس منظر، حقیقت: کیا اسرائیل ایک ناجائز اور غاصب ملک ہے؟

September 17, 2013 at 06:05 ,
نئیر خان؛

اکثر ہم نے اپنے الیکٹر ونک میڈیا پر ایسے مناظر دیکھے ہوں گےجس میں اسرائیلی فوجی ٹنک غزہ کے شہری علاقوں کی سڑکوں سے گزر رہے ہوں اور فلسطینی بچے اُن ٹینکوں پر پتھر پھینک رہے ہیں ۔ ان مناظر نے پاکستان میں لوگوں کو کچھ ایسا تاثر دیا ہے کہ غیرمسلح فلسطینی لڑکے اسرائیلی ٹینکو ں کا مقابلہ کررہے ہیں ۔ لیکن کسی نے بھی آج تک کوئی ایسا منظر نہ دیکھا ہوگا جس میں کسی اسرائیلی ٹینک نے پتھراؤ کرنے والے لڑکوں کا جواب گولہ پھنک کر دیا ہو۔ اگر اسرائیلی ٹینک ایسا کررہے ہوتی تو کوئی پاگل ہے اُن پر پتھرپھینکنے کے لئے آگے آتا۔ دراصل ان مناظر میں اسرائیلی ٹینک حماس کے عسکری ٹھکانوں کی طرف بڑھ رہے ہوتے ہیں جو غزہ کی گنجان آبادیوں کی وسط میں قائم ہیں جس کی لئے اُن کو غزہ کی گلیوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ فلسطنی بچے ان ٹینکواں پر پتھر ان سے نفرت کی اظہار کی طور پر پھینکتے ہیں، ان سے مقابلے کے لئے نہیں۔ اسرائلی فوجی ٹینکو ں اور بکتربند گاڑیوں میں اس لئے بند بیٹھے ہوتے ہیں کہ انہی پتھر پھینکنے والے بچوں میں کوئی بھی اُن پر دستی بم بھی پھینک سکتا ہے اور یہ بحث ہوچکی ہے کہ اسرائیل کو غزہ میں حماس کی خلاف فضائی یا زمینی کاروائی صرف حماس کی جانب سے اسرائیل کی شہری آبادی پر راکٹ اور مز ائل حملوں کی بعد ہے کرنی پڑتی ہے۔

کسی منظر کو دیکھنے کے لئے پوری تصویر کو دیکھنا ضروری ہے۔ اگر آپ کسی نالی کے سوراخ کی ذریعہ صرف اُس تصویر کا ایک چھوٹا سا حصہ دیکھیں گے تو آپ کو مکمل منظر کبھی بھی سمجھ میں نہیں آئے گا۔ اس طرح کی منظر بینی کوTunnel visionکہا جاتا ہے جس کا کہ پوری پاکستانی قوم شکار ہے۔ ہم لوگوں میں سے کتنے ایسے ہیں جو فلسطین کے مسئلہ سے شروع سے آخر تک واقف ہیں؟ہمارے لوگوں کی اس ضمن میں معلومات کا ماخذ”زرقا“ جیسے پاکستانی فلمیں یا پی ٹی وی کے کچھ جذباتی ڈرامے یا میڈیا میں پیشں کی گئی اسرائیلی زیادتویں کی تصویر کشی ہے۔

یہ کہنا مبالغہ آمیز نہ ہوگا کہ پاکستان کی18کروڑ کی آبادی میں سے شائد1800افراد بھی فلسطین تنازعہ کے تاریخی پس منظر سے واقف نہ ہونگے۔ کتنے لوگوں کو ان چٹان کی طرح ٹھوس تاریخی حقائق کا علم ہے کہ:
اسرائیلی کی ریاست 1947ءکی اقوام متحدہ سے منظور شدہ اُس قرار داد کی تحت وجود پذیر ہوئی جسے Balfour Deeclarationکہا جاتا ہے۔
اُسی قرار داد کی تحت جسے Partition Resolution کہا جاتا ہے ایک عرب ریاست کا فلسطین میں واقعہ ہونا بھی طے پایا تھا۔
٭ عرب ریاستوں نے Partition Resolutionکو یکسر مسترد کرکے1948میں اسرائیل پر ہلہ بول کر مسلح تنازعہ کا آغاز کیا۔ اس طرح وہ فلسطینی ریاست کے قیام میں از خود مزاحم ہوگئیں۔

ایک فلسطینی ریاست کے حصول کی لئے کبھی بھی کسی لڑائی یا تشدد کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ اسرائیل دو ریاستی حل پر ہمیشہ سے آمادہ رہا ہے۔ لیکن روز اوّل سے عرب ریاستیں اور فلسطینی بقائے باہمی کو مسترد کرتی آئے ہیں ۔ اُن کی نزدیک فلسطینی ریاست کے قیا م سے زیادہ اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹانا اہمیت رکھتا ہے۔1948ءمیں بھی عربوں کا موقف یہی تھا اور آج بھی اُن کا موقف یہی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ آج اُن کی اس موقف میں ایران بھی اُن سے دو ہاتھ آگے ہے۔پاکستان تو خیر اس سلسلے میں ہمیشہ ہی سے عربوں کی ساتھ رہا ہے۔ حماس کے منشور میں اسرائیل کو مٹانا پہلی اور آخری ترجیح ہے۔

ماہ دسمبر 2012ءکے دوسرے ہفتہ میں حماس کے رہنما خالد مشعل نے اپنے غزہ کے تاریخی دورے کی موقع پر حماس کے سربراہ اسمائیل حانیہ کے ساتھ ایک مشترکہ علامیے میں ببانگ دہل اس بات کا اعلان کیا کہ حماس کبھی بھی اسرائیل کی وجود کو تسلیم نہیں کریگا۔ اُس نے ان الفاظ میں اپنی موقف کا اعادہ کیا۔ فلسطین دریا(دریائے اُردن) سے لیکر سمندر(Mediterranean Sea)تک اور جنوب سے شمال تک ہمارا ہے۔ اس سرزمین کے ایک انچ علاقہ پر بھی کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔“

پاکستان، دیگر اسلامی ممالک اور حتیٰ کہ مغرب کی عوام الناس اس بات کو سمجھنی سے قاصر ہیں کہ فلسطینی ریاست کی آزادی کا مطالبہ اسرائیل نے کبھی بھی مسترد نہیں کیا۔ لیکن اگر اِسے آزادی دینی کا مطلب خود اسرائیل کا اپنا خاتمہ ہے تو اسرائیل اُسے کیسے مان سکتا ہے؟ اسرائیل گذشتہ64 سال سے عربوں سے بقائے باہمی کا مطالبہ کررہا ہے اور عرب مسلسل اُس سے اُس کے ہی مٹ جانی کا مطالبہ اور اس ضمن میں الامکان کوشش بھی کررہے ہیں ۔ نہ صرف اب تک لڑی جانی والی ہر لڑائی کا آغاز عربوں کی جانب سے ہوا بلکہ جیسا کہ ہم پچھلے مضمون میں بحث کرچکے ہیں غزہ میں پر تشدد واقعات میں سے ہر ایک کی ابتداءہمیشہ اور ہمیشہ حماس کی طرف سے ہوئی۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ خود تو فلسطین کے متعلق اقوام متحدہ کی بنیادی قرار داد کو ہی تسلیم نہ کریں اور یہ چاہیں کہ اسرائیل کے خلاف اقوام متحدہ میں نئی سے نئی قرار داد منظور بھی ہو اور اُس پر عمل درآمد بھی ہو؟ اسرائیل عربوں سے یہ کہتا ہے وہ اُس کی وجود کو تسلیم کریں تو وہPartition Resolutionپر عمل درآمد کرنے کو تیارہے۔ عربوں/فلسطینیوں کا کہنا یہ ہے کہ اُن کی اولین ترجیح تو یہ ہے کہ اسرائیل کو فی الفور ختم ہوجانا چاہئے تاکہ سارا فلسطین ایک عرب ریاست بن جائے۔ لیکن کیو نکہ اس پر عمل درآمد کرانا فی الحال اُن کی لئے ممکن نہیں ہے اس لئے ابھی تو اسرائیل فلسطین کو ایک ریاستی علاقہ دیدے، لیکن عربوں اور فلسطینیوں کا اسرائیل کو مٹانے کا مطالبہ اور کوششیں اپنی جگہ پر جاری رہیں گی، جن سے وہ کبھی دستبردار نہیں ہونگے۔ کیا آپ سے کوئی یہ کہے کہ وہ آپ کی وجود کو تو تسلیم نہیں کرتا لیکن آپ اُس کو ایک وجود دیدیں تو کیا آپ اُس کی اس بات کو ماننے پر آمادہ ہو جائیں گے؟

ماسوائے دو ممالک یعنی ترکی اور مصر کے علاوہ آج تک اسرائیلی ریاست کو کسی اور اسلامی ملک نے تسلیم نہیں کیا۔ وہ بھی 1948ءسے لیکر1978ءتک مصر اسرائیل سے حالت جنگ میں رہنے کی بعد بالآخر اسرائیل کو تسلیم کرنے پر آمادہ ہوا۔ لیکن ماضی قریب میں دوبارہ اخوان المسلمین کی مصر میں غلبہ پالینے کی بعد مصر میں اسرائیل کو مٹانے کی باتیں دوبارہ شروع ہوچکی ہیں۔ اب یہ صرف تھوڑے وقت کا معاملہ رہ جاتا کہ مصر بھی اسرائیل دشمنی کا پردہ پھر سے اُٹھالیتا لیکن اخوان کی حکومت چلتی بنی۔

کتنی عجیب بات ہے کہ ہم یہودی کے آزاد تو کجا زندہ رہنے کا حق کو بھی تسلیم نہیں کرتے لیکن یہ کہتے ہیں کہ وہ فلسطن کو آزادی نہیں دیتا۔ وہی غاصب ہے وہی ظالم ہے۔ ایران اور شام آج بھی یہ کہتے ہیں کہ اسرائیلی ریاست کو یورپ منتقل کردیا جائے۔

بیشتر فلسطینی جو اپنی لئے ایک آزاد ریاست کی خواہاں ہیں، اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرنے سے منکر ہیں۔ اس رویے میں تھوڑی بہت لچک صرف کچھ سال پہلی آئی جب 1990ءکی بعد پی ایل او کو یہ احساس ہونے لگا کہ اسرائیل کو جڑ سے مٹانے کا اُن کا دیرینہ خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ اُس نے اپنی بنیادی مقصد یعنی اسرائیل کی بربادی سے ہٹ کر دو ریاستی حل پر بات چیت پر آمادگی اختیار کرنا شروع کر دی لیکن اُس امن بات چیت کے عمل میں یہ دشواری آن پڑی کی خود پی ایل او کو فلسطینیوں کی حمایت سے محروم ہونا پڑا۔ اُسے تنہا حماس کی ہاتھوں انتخابات میں شکست ہوچکی ہے ۔ حماس نے 2007ءمیں تقریباً ساری غزہ پٹی پر قبضہ کر لیا۔ صرف مغربی پٹی کا چھوٹا سا علاقہ اب الفتح کی پاس ہے جہاں الفتح نے Palestinian National Authority اور State of Palestineکے دفاتر قائم کئے ہوئی ہیں۔ اسے اقوام متحدہ اور دنیا کے بیشتر ممالک فلسطینیوں کا باضابطہ نمائندہ مانتی ہے۔لیکن خود فلسطین کی اکثریت اُسے اپنا نمائندہ نہیں مانتے۔اب اسرائیل صلح کی بات کس سے کری؟

PLOایک فلسطینی قومی تنظیم ہے جبکہ حماس ایک انتہا پسند اسلامی تنظیم ہے۔اگر دیگر فلسطینی انتہا پسند تنظیمیں جیسے اسلامک جہاد یا Al Aqsa Martyr Brigade حماس کی ساتھ اتحاد کر لیتی ہیں تو پی ایل او کا وجود مکمل طور پر ختم ہوجائے گا۔ اس صورت میں اسرائیل کی سلامتی کی ضمانت کون دی گا؟ کیا اسرائیل اپنے ہاتھ سے ایک ایسے فلسطینی ریاست کوتخلیق کر سکتا ہے جس کا نصب العین ہے اسرائیل کو نیست و نابود کرنا ہو تاکہ وہ مسلسل اسرائیل کی لیے خطرہ اور درد سر بنا رہے ؟ اسرائیل اس قسم کا ایک تجربہ غزہ کو نیم خود مختاری دے کر چکا ہے۔ اس کا اسے کیا صلہ ملا، یہ ہم اس مضمون میں آگے چل کر دیکھیں گے۔

اگر اسرائیل کو امریکہ کی جائز حمایت حاصل نہ ہوتی یا پھر یہ اُس کی اعلیٰ ٹیکنالوجی کی صلاحتو ں اور اُس کی فوج کی بے جگری کی بدولت کامیاب نہ ہوتا تو اسرائیل کے وجود کو عرب کب کی مٹاچکے ہوتے۔

آج اسرائیل چاروں طرف سے اپنی جانی دشمنوں میں گھرا ہوا ہے۔ اسرائیل دشمنی میں پوری دنیا کے مسلمان یکجا و متفق ہیں۔ اپنے دشمنوں سے ذرا سے بھی رعایت یا نرمی برتنی کا مطلب خود اسرائیل کے لئے اپنی پروانہ ٔ قتل پر دستخط کرنے کی مترادف ہوگا۔اسرائیل افہام وتفہیم کی ذریعے تو ایک فلسطینی ریاست کو آزاد کرنی کی لئے ہمیشہ تیار تھا اور ہے، لیکن زور زبردستی اور تشدد کی دباؤ میں نہیں۔ اگر اسرائیل نے ایک دفعہ دہشت گردی کی آگے سر جھکا دیا تو یہ فلسطنیوں کے لئے اُس سے اپنی ہر بات منوانی کا آسان ترین طریقہ ہوگا۔

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



+ 9 = sixteen

%d bloggers like this: