عورتوں کو دیکھنا!… باپ کی بیٹے کو نصیحت

September 22, 2013 at 08:33 ,
اردو ترجمہ: سلیقہ وڑائچ؛

اصل متن
کبھی نہ کبھی تو مجھے اپنے بیٹے سے یہ بات کرنا ہی پڑے گی۔ لیکن ایسے نہیں۔ میں موقع کی تلاش میں ہوں۔ کسی ایسے وقت میں جب اس کی شہوت بھری نظریں وہی کر رہی ہوں جو مردوں کی آنکھیں بخوبی کر لیتی ہیں… یعنی اپنی شہوت کے ہدف کا تعاقب۔ جگہ کوئی بھی ہو سکتی ہے جیسےسمندر کے کنارے یا کسی شاپنگ مال میں۔ لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ۔ ۔ ۔ البتہ مجھے پتا ہے کہ ایسا وقت آنے والا ہے جب مجھے اپنے بیٹے سے یہ باتیں کرناہی ہوں گی۔

***********


بیٹا یہاں آؤ بات سنو۔ دیکھو میرا مقصد تمھاری اہانت ہے نہ میں ہر وقت تم پر نظر رکھے ہوئے ہوں۔ لیکن میں دیکھ رہا تھا کہ تم کن نظروں سے اس لڑکی کو دیکھ رہے ہو۔ مجھے یہ بھی پتا ہے تم نے ایسا کیوں کیا ۔ لیکن دیکھو کسی عورت کو کس نظر سے دیکھا جانا چاہیے یہ ایک اہم معاملہ ہے جس پر بات کرنا ضروری ہے۔

بیٹا بہت سے لوگ تمہیں یہ سمجھانے کی کوشش کریں گے کہ عورت کو اپنے لباس کا دھیان رکھنا چاہئے اور ایسا لباس نہیں پہننا چاہئے کہ تم اُسے غلط نظروں سے دیکھنے پر مجبور ہو جاؤ۔ لیکن پتا ہے میں تمھیں کیا کہوں گا۔ ” یہ عورت پر منحصر ہے کہ وہ صبح کیسا لباس پہن کر نکلتی ہے لیکن یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اُسے انسان سمجھیں چاہے وہ جیسا بھی لباس پہن کر نکلی ہو”۔

تمہارا دل چاہے گا کہ اس کے جسم کا طواف کرتی اپنی نگاہوں کا الزام تم اس پر دھر دو کہ اُس نے کیا پہنا ہوا ہے یا نہیں پہنا ہوا۔ لیکن ایسا مت کرنا۔ مظلوم بننے کی کوشش مت کرنا۔ یہ آنکھیں تمہاری ہیں ، تم ان کے معاملے میں مجبور اور بے بس نہیں ہو۔ تمہیں اپنی آنکھوں پر پورا اختیار ہے۔ اس اختیار کو استعمال کرو۔ اپنی آنکھوں کی تربیت کرو کہ وہ اُس لڑکی کی آنکھوں میں دیکھیں۔ خودتہذیبی کا ثبوت دو اور اُس لڑکی کو دیکھنا سیکھو، نہ کہ اُس کے لباس یا جسم کو۔ یاد رکھو جس لمحے تم نے اس معاملے میں خود کو مجبور اور بے بس تسلیم کر لیا تو تم اس خود فریبی میں مبتلا ہو جاؤ گے کہ تمہارا یہ فعل محض ایک بیرونی تحریک کا قدرتی رد عمل ہے جس پر تمہارا کوئی قابو نہیں، تم صحیح اور غلط میں فرق نہیں کر سکتے، گوشت پوست کے جسم اور انسان میں فرق نہیں کر سکتے۔

دیکھو، یہ ایک مضحکہ خیز جھوٹ ہے۔ تم اتنے بےاختیار نہیں ہو اور جس لڑکی کو تم دیکھ رہے ہو وہ اپنے کپڑوں سے سوا بھی بہت کچھ ہے۔ وہ اپنے جسم سے سوا بھی کچھ ہے۔ بہت باتیں ہوتی ہیں کہ کیسے مرد عورت کو ایک ’چیز‘ بنا دیتے ہیں اور یہ بہت حد تک سچ بھی ہے۔ اصل مسئلہ ہی یہی ہے کہ ہم لوگ جس چیز سے محبت کرتے ہیں اسے اپنی ملکیت بنانا چاہتے ہیں۔ اگر تم سچ مچ کسی انسان سے محبت کرتے ہو تو پھر اُسے ’چیز‘ مت سمجھو۔ جس لمحے تم کسی انسان ، چاہے وہ عورت ہو کہ مرد، کو چیز سمجھنا شروع کر دیتے ہو ، تم انسانیت کے مقام سے گر جاتے ہو۔

ایک عورت کو کیا پہننا چاہیے یا کیوں پہنتی ہےاس بارے میں تمھیں دو طرح کی رائے ملے گی۔ ایک یہ کہ وہ لباس اس لئے پہنتی ہے تاکہ مرد کو اپنی طرف متوجہ کر سکے۔ دوسرا خیال یہ ہے کہ عورت اپنا آپ اس لئے ڈھانپے تاکہ مرداُس کے شر سے محفوظ رہ سکیں۔ بیٹا ، تم ان دونوں سے بہتر سوچ اپناؤ۔ کسی عورت کو بلکہ کسی بھی انسان کو تمھاری توجہ کیلئے لباس کا سہارا کیوں لینا پڑے۔ تم سب انسانوں کو اپنے ساتھی سمجھو اور لباس سے قطع نظر ان کو وہ توجہ دو جس کے وہ مستحق ہیں۔ اور پھر ایک عورت کو یہ کیوں لگے کہ اسے تمھیں تمھاری حد میں رکھنے کیلئے لباس پہننا پڑے گا۔ تمھارا اپنا آپ تمھارے اپنے اختیار میں ہونا چاہیے نہ کہ کسی اور کے۔

بد قسمتی سے جنسِ مخالف سے تعلق کی نوعیت یا رابطے کا تعین اندیشوں کی نظر ہو کر رہ گیا ہے۔ مثلاً مسترد کئے جانے کا خوف، ناشائستہ یا غیر مہذب ہونے کا اندیشہ اور آپے سے باہر ہونے کا ڈر۔ کسی حد تک اس میں مذہب بھی ملوث ہے۔ ہم ایک دوسرے سے خوفزدہ رہتے ہیں کیوں کہ ہمیں یہی سکھایا گیا ہے کہ دوسرا تمہارے لئے خطرہ ہے۔ ہمیں پڑھایا گیا ہے کہ عورت کا جسم مرد کو گناہ پر اکساتا ہے۔ ہمیں بتایا جاتا رہا کہ اگر عورت اپنے جسم کی نمائش کرے گی تو مرد بیہودہ حرکتیں کرنے پر مجبور ہو گا۔ ایک بات واضح طور پر سمجھ لو۔ ۔ ۔ ۔ عورت کا جسم بالکل بھی خطرہ نہیں ہے۔ عورت کا جسم تمھیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اگر تم گھٹیا حرکتیں کرتے ہو تو اس کی واحد وجہ یہی ہے کہ تم گھٹیا حرکتیں کرنا چاہتے ہو۔ سو عورتوں اور مردوں کے درمیان موجود اس خوف کو تقویت نہ دو۔

عورت کا جسم بے حد پر کشش، پر اسرار اور مرد کے لئے ایک حیرت کدہ ہے۔ اس کے جسم کا احترام کرو۔ یہ احترام تم تب کر پاؤ گے جب تم عورت کی عزت کرو گے۔ عورت کی عزت کرو، اس کے جذبات، احساسات ،خواہشات، امنگوں، خوابوں اور زندگی کے تجربات کی قدر کرو۔ اسے اعتماد دو۔ اس کی حوصلہ افزائی کرو۔ مگر یہ سب کرتے ہوئے اس گمان کو بھی دل میں نہ آنے دینا کہ وہ کسی بھی طرح تم سے کمتر یا کمزور ہے۔ سنو عورت کمزور ہر گز نہیں ہے ۔ وہ صنف ِ نازک نہیں، وہ صنف ِ دیگر ہے۔

میری ان باتوں کا بالکل بھی یہ مطلب نہیں ہے کہ تم عورتوں کو دیکھنا ہی چھوڑ دو۔ ہر گز نہیں، بلکہ اس کے برعکس میں تمہیں کہتا ہوں کہ انہیں دیکھو، ضرور دیکھو، انہیں سچ مچ دیکھو، صرف ظاہر آنکھوں سے نہیں، دل کی آنکھوں سے ۔ ایسے نہیں کہ وہ تمہارے احساسات کو گد گدائیں، بلکہ اُن کے اندر کے ایک بھرپور انسان کو دیکھو۔

مجھے امید ہے کہ جب تمہارا عورت کو دیکھنے کا انداز بدل جائے گا تو اُس وقت تمہارا رویہ بھی مختلف ہوگا جب تم عورتوں کے آس پاس ہوگے۔ اُن کے آس پاس مت منڈلاؤ، اُن کے ساتھ رہو,۔کیونکہ بہر حال وہ تمہارے ساتھ بلا خوف و خطر رہنا چاہتی ہیں۔ بغیر اس خوف کے کہ اُن کے کردار پر تم انگلی اُٹھاؤ گے، بغیر اس خوف کے کہ تم انہیں شرمندہ کرو گے، بغیر اس خوف کے کہ تم ان کی تذلیل کرو گے، بغیر اس خوف کہ تم انہیں ’چیز‘ سمجھو گے، بغیر اس خوف کے کہ تم ان کو کوئی دوسری صنف سمجھو گے۔ اور یہ صرف عورتیں ہی نہیں چاہتیں، یہ سب انسان چاہتے ہیں۔ بلکہ تم خود بھی دوسروں سے یہی کچھ چاہتے ہو۔

یہ پوسٹ لالاجی کے بلاگ سے نشرمکرر کے طور پر شائع کی گئی ہے۔

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



− seven = 2

%d bloggers like this: