علم یا عقیدہ، وقت کا تقاضا

October 15, 2013 at 04:19 ,
مبارک حیدر؛

کہتے ہیں ضرورت ایجاد کی ماں ہے ۔ ہمارے معاشرہ کو ان گنت دنوں سے ان گنت ضرورتوں کا سامنا ہے ۔۔ تو کیا ہم نے کچھ ایجاد کیا؟ کیا پھنسی ہوئی ٹریفک میں ضابطے توڑ کر نکل جانا یا کرپشن سے رستے بنانا ایجاد کہلائے گا ؟ نہیں ، ہم کچھ ایجاد نہیں کرتے ۔ کیونکہ ایجاد کی ماں ضرورت نہیں،علم ہے ۔ ضرورت اگرعلم کے اوزار سے محروم ہے تو کچھ ایجاد نہیں ہوتا۔

علم کیا ہے ؟ کیا معلومات کوعلم کہہ سکتے ہیں؟ نہیں ‘ یہ الگ الگ ہیں ۔ ہستی اور زندگی کے وہ حالات و واقعات جو معلوم کئے جا چکے ہیں ہم انھیں معلومات کہتے ہیں ۔ معلومات علم کے لئے ضروری تو ہیں ، لیکن معلومات خود علم کو جنم نہیں دے سکتیں۔ معلومات کا رشتہ حافظہ سے ہے۔ حافظہ سنبھالتا ہے ، لیکن کچھ تخلیق نہیں کرتا ۔ دنیا کے سارے کمپیوٹر اور سارے حافظ مل کر بھی خدائی ذرہ (Higgs Boson) دریافت نہیں کر سکتے۔

ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا ایمان اورعلم ایک ہی حقیقت ہیں؟ نہیں۔ ایمان تو سچ پر بھی ہو سکتا ہے اور جھوٹ پر بھی ۔ حقیقت پر بھی اور وہم پر بھی ۔ ایمان تو فزکس کے کسی قانون پر بھی ہو سکتا ہے اور کسی مفروضہ پر بھی ۔ ہر کوئی مفروضے بناتا ہے ، خود سائنس دان بھی مفروضے بناتے ہیں لیکن مفروضہ اس وقت تک علم نہیں ہوتا جب تک اسے انسانی مشاہدہ کے سامنے تصدیق کے ذریعہ ثابت نہ کر دیا جائے ۔ چنانچہ کائنات اور زندگی کی ظاہری شکلوں کے پیچھے چھپے ہوئے قانون کو دیکھنے کی صلاحیت علم ہے۔

علم اورعقیدہ میں فرق ہے ۔ علم انسان کی مشترکہ ملکیت بن جاتا ہے ، لیکن کوئی عقیدہ آج تک انسانوں کی مشترکہ ملکیت نہیں بن سکا کیونکہ عقیدہ کی تصدیق کا کوئی ایسا طریقہ موجود نہیں جو ہر نارمل انسان کو قبول ہو۔

ہمارا معاشرہ اس امر کا ثبوت ہے کہ ضرورت ایجاد کی ماں نہیں ۔ سچ یہ ہے کہ ایجاد علم سے پیدا ہوتی ہے ۔علم غور و فکر سے ،غور و فکر سوال سے ،سوال جستجو سے اور جستجو اعتراض و اختلاف سے جنم لیتی ہے ۔ ۔
لیکن اعترض و اختلاف منزل نہیں ۔ اختلاف کی منزل اتفاق ہے اور اعتراض کی منزل اصلاح ۔ لیکن انسان کے سفر میں ہر منزل فقط ایک پڑاؤ ہے ، مستقر ہے جس سے آگے ایک اور منزل یعنی ایک اور مستقر ہے۔ ہر اتفاق ایک نئے اختلاف ، نئے سوال ،جستجو سے گزر کر علم کے اگلے مرحلوں تک لے جاتا ہے ۔ کوئی ایجاد آخری اور مکمل نہیں ، کوئی علم آخری اور مکمل نہیں ۔ اسلئے کہ کائنات خود مکمل نہیں۔

اعتراض اور اختلاف کرتے رہو ، اس نیّت سے کہ علم بڑھتا رہے ۔ وہ علم جس کی تصدیق دنیا کا ہر شخص کرے ، وہ علم جو زندگی کی بقا اور مسرّت کے اوزار ایجاد کرتا رہے۔

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



− 1 = three

%d bloggers like this: