عقل و شعور کا ارتقاء

November 4, 2013 at 06:44
مبارک حیدر؛

گرچہ پچھلے چار ہزار برس میں نسل انسانی کے فکری ارتقا میں تیزی آئی ہے اور پچھلی چار صدیوں میں تو اس کی رفتار دن بہ دن بڑھ رہی ہے ، پھر بھی انسانی معاشروں میں ابهی تک عقل و شعور کو فیصلہ کن مقام حاصل نہیں ہو سکا۔ اب بھی جارحانہ رویّے غالب ہیں، زیادہ تر فیصلے اب بھی جسمانی قوت سے ہوتے ہیں۔ ہمارے ارتقا میں ابھی ذہن کا رول نووارد کا سا ہے۔ ہماری اکثریت ابھی عقیدوں اور تعصبات کے پیچھے چلتی ہے۔ حتیٰ کہ بہت سے ایسے لوگ جو بظاہر دانشور دکھائی دیتے ہیں ، بڑی آسانی سے فکری ارتقا کے کسی ایک مرحلے پر اٹک کر اسے اپنی شناخت بنا لیتے ہیں۔ اور پھر اپنی اس شناخت کے تحفظ کے لئے ارتقائی عمل کی راہ میں دیوار بن کر ڈٹ جاتے ہیں۔ یہ رویے شاید ہمارے کسی ایسے وجود سے تعلق رکھتے ہیں جو نئے افکار اور تجزیاتی استدلال کی بجا مقرر رستوں پر قائم رہنے میں آسائش محسوس کرتا ہے۔

ہمارے وجود کا یہ دوسرا اور غالب پہلو ہمارا جسمانی وجود ہے۔ ہمارا یہ جسمانی وجود ہماری حیوانی وراثت ہے۔ جسم کی نسل در نسل نشو و نما ایسے جینیائی احکام کی غلام رہی ہے ، جو لاکھوں برس میں برائے نام ہی تبدیل ہوئے ہیں۔ لاکھوں برس میں ہمارا جسم اپنی صلاحیتوں کو دو گنا بھی نہیں کر پایا۔ ہم بارہ فٹ کے نہیں ہوسکے۔ ہم سو میل کی رفتار سے نہیں دوڑ پائے۔ ہم ہاتھوں سے ایک ٹن وزن اٹھآنے کے قابل نہیں ہوئے اور اپنی عمر دو سو سال تک نہیں بڑھا پائے۔ یعنی ہمارا جسم باقی حیوانات سے بہت کم مختلف ہوسکا ہے لیکن ان معذوریوں کو ہم نے اپنے ذہن کی مدد سے پیچھے دھکیلا ہے۔

انسانی محنت کا احترام کرنے والے ہر شخص کی نظر میں ہمارے ہاتھ کی ساخت اور صلاحیتوں کا بڑا مقام ہے۔ انسانی معاشرہ اور ذھانت کی ترقی میں انسانی ہاتھ کا کرداریقینا شاندار رہا ہے لیکن اس بیان میں اکثر اوقات علمی اور معروضی تجزیہ کی بجائے عقیدت اور سیاست غالب آتی دکھائی دیتی ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے سرمایہ اور “صلاحیت” کے قصیدہ خوانوں کے ہاں دکھائی دیتی ہے۔ حالانکہ سچ یہ ہے کہ انسانی ہاتھ اور سرمایہ دونوں کی طاقت اور شناخت انسانی ذہن ہے ، جو دونوں کو موثر بناتا ہے۔ مناسب منصوبہ بندی (یعنی ذہن) کے بغیر سرمایہ کی فراوانی کے باوجود پراجیکٹ ناکام ہو جاتے ہیں جبکہ ایک عمدہ منصوبہ بندی (ذہن) سرمایہ کے بغیر بھی راستے بنالیتی ہے۔ اسی طرح بے مغز محنت چاہے انقلاب کے لئے ہو یا کوئی پرزہ بنانے کے لئے ہو، عمر بھر ٹکریں مارنے میں لگی رہتی ہے جبکہ ذہانت نہ صرف محنت کو کم کر سکتی ہے بلکہ مشین اور کمپیوٹر ایجاد کر کے “محنت” کو غیر ضروری بنا دیتی ہے۔

سماجی سرمایہ کو “محنت” نے نہیں بلکہ “انسانی محنت” نے جنم دیا۔ ہم خالص محنت یعنی بیل اور گھوڑے کی محنت کو سرپلس ویلیو کا ذریعہ نہیں کہتے۔ انسانی محنت میں شعور کا عنصر سرمائے کو پیدا کرتا ہے۔ مارکس کی فکری غلطیوں میں ایک غلطی یہ بھی تھی کہ انہوں نے شعور اور محنت کے توازن میں محنت کو مقدّم تصور کر کے اسے تقدیس دے دی جس کے نتیجہ میں ان گنت روشن ضمیر دانشوروں نے محنت کشوں کے حقوق کے لئے اپنے مفادات قربان کر دیے ، اور یہ لوگ نہ صرف عمر بھر مزدور نہ ہونے پر ندامت کا شکار رہے بلکہ بے صلاحیت “پرولتاریوں” کی قیادت میں مضحکہ خیز سیاست کرتے رہے۔

اس میں شک نہیں کہ انسانی ہاتھ کی انگلی پکڑ کر ہمارا انسانی وجود یعنی ذہن جوان ہوا ہے۔ لیکن کیا اس طے شدہ سچائی کو ہر بات سے پہلے دہرانا ہم سب پر فرض کر دیا گیا ہے؟ کہ اگر ہم بھول جائیں تو بالکل ویسے ہی سزاوار قرار پائیں جیسے دینی بزرگوں کی مجلس میں “با سم الله ” بھولنے پر۔

اگر انسانی ہاتھ کی انگلی پکڑ کر ہمارا انسانی وجود یعنی ذہن جوان ہوا ہے، تو اس انسانی وجود نے بھی ہاتھ سے بیوفائی نہیں کی۔ اسے مشقت سے رہائی دلانے کے لئے اس نے کائنات کی الہڑ اور اکھڑ حقیقتوں کو کام پر لگایا ہے۔ ہم ذہن کی طاقت سے وہ تخلیق کر پائے ہیں جو کائنات میں پہلے موجود نہ تھا۔ ہمارا ذہن خود سے بیوفائی کر لیتا ہے لیکن جسم سے بیوفائی نہیں کرتا۔ ہم ایک ملی سیکنڈ میں کائنات کے حسین ترین امکانات کا تصور کر سکتے ہیں۔ یوں ہم اپنے ذہن و فکر کی رسائی سے رنگ ہا رنگ ذہنی مسرتیں حاصل کر سکتے ہیں لیکن ہمارا ذہن جسم کے بغیر کائنات کی سیر پر خوش نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس ہمارا جسم ہمارے ذہن کی سرگرمی سے اکثر بیزار رہتا ہے۔ اسے عادت اور معمول میں رہنا پسند ہے۔ یہ ذہن کو سو رہنے پر اکساتا ہے۔

یوں عقیدہ جنم لیتا ہے۔ عقیدہ عقد عقدہ سب بندش کی شکلیں ہیں۔ وفا ، استحکام اور نظام خوب سہی لیکن یہ کائنات کی حرکت کا ساتھ نہیں دیتے۔ جو ہر پل بدلتی اور سوال اٹھاتی ہے۔ ذہانت سے عاری جسم کائنات کی حرکت کا ساتھ دینے سے قاصر ہے۔ یہ اگر بدلتا ہے تو مجہول و مفعول کی حیثیت سے۔ اس کا انسانی حصہ یعنی ذہن بھی بدلتا ہے لیکن معروف اور فاعل کی حیثیت سے۔ ہم نئے نظام بناتے ہیں تاکہ ہستی کا ساتھ دے سکیں۔ ہم اگر ذہن کا ساتھ دیں تو ہمیں فطرت کے موجودہ اصولوں سے اختلاف ہونے لگتا ہے ؛ ہم انہیں بدلنے کی آرزو کرتے ہیں۔ جدید انسانی معاشرے قدرت کی بنائی ہوئی کئی باتوں کو بدل رہے ہیں لیکن ابھی بہت کچھ ایسا ہے جو ہمیں پسند نہیں ، جسے بدلنے کی ضرورت ہے۔

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



+ six = 14

%d bloggers like this: