طالبان کی دوبارہ حکومت، ناممکن کیوں

October 11, 2013 at 00:10 , ,
طاہر مہدی، مترجم امام دین؛

تاریخ خود کو بار بار نہیں دہراتی، اگر کوئی خیال کرتا ہے کہ یہ ایک دائرے میں گردش کرتی ہے تو اسے حقائق کا از سرنو جائزہ لینا ہوگا۔ ہر دفعہ تاریخ کا دائرہ پہلے سے زیادہ وسیع ہوتا ہے اور پہلے سے زیادہ کئی مواقع پر کئی اطراف کی جانب تاریخ کا جھکاؤ بھی ہوتا ہے۔ افغان تاریخ بھی اس اصول سے منحرف نظر نہیں آتی۔

1990 کی دہائی کے وسط میں افغانستان میں طالبان کا ظہور ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ اس علاقےکے طول و عرض پر چھا گئے۔ اس دور کا اختتام امریکہ کے 2001 کے افغانستان پر حملے پر ہوا جسے آج دنیا “دہشت گردی کے خلاف جنگ” کے نام سے جانتی ہے۔ تب سے آج تک طالبان کا اگرچہ مکمل خاتمہ ممکن نہیں ہو سکا اور آج وہ امریکہ کے اس خطے سے واپسی کے بعد اس ملک میں واپسی کے خواب بھی سجائے بیٹھے ہیں۔ کیا یہ ممکن ہو سکے گا اور کیا یہ ماضی جتنا ہی آسان ہو گا، میری رائے اس کی نفی کرتی ہے۔

۱:- افغانستان میں اب مزید انارکی باقی نہیں
جب طالبان کو نوے کی دہائی میں اقتدار ملا تو افغانستان مکمل طور پر انارکی کا شکار ملک تھا۔ کئی دہائیوں پر مشتمل جنگجو سرداروں کی حصول اقتدار کی لڑائی نے عام عوام کو جنگ سے متنفر کر دیا تھا۔ ملک میں حکومت نام کی کوئی شے باقی تھی نہ ہی حکومت کے ادارے ملک میں فعال تھے جو کسی قانون کی عمل درامد کرانے کو باقی تھے۔ پورے ملک کا تمام تر سیاسی اور معاشرتی نظام قدیم قبائلی نظام کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوا تھا۔ ان حالات میں عام آدمی بالخصوص مفلس اور نادار لوگ سب سے زیادہ متاثر ہونے والے لوگ تھے۔

ان حالات میں طالبان کا منظرعام پر آنا اندھیرے میں امید کی کرن تھی جو جنگجو سرداروں کے چنگل سے عام آدمی کو تحفظ مہیا کر سکے۔ طالبان کی صفیں مدرسوں کے طلبا اور اساتذہ پر مشتمل تھیں۔ طالبان پر اللہ کی معرفت کے حصول کا لیبل بھی لگاہوا تھا۔ طالبان نے ان حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک میں سیاسی خلا کو پر کیا۔ چونکہ ان کی ترجیح ملک میں امن و امان کا قیام سرفہرست تھا اس لیے لوگ ان کے گرد جوق در جوق اکٹھے ہوئے۔ اس تحریک کے نتیجے میں جب طالبان نے قندھار سے روس کے خلاف جنگ کے مجاہدین اور جنگجو سرداروں کی مٹھی میں موجودصوبوں کی طرف پیش قدمی کی تو ان کے علاقے طالبان کی جھولی میں پکے ہوئے پھل کی طرح گرے اور بعض اوقات عوام کی پرزور تائید کی بنا پر یہ علاقے بنا کسی گولی چلے بھی طالبان کے قابو میں آگئے۔ اس سارے عمل میں عوام کی شمولیت طالبان کی پرزور تائید اور حمایت کر رہی تھی۔

آج 2013 کا افغانستان تب نوے کی دہائی کے افغانستان سے یکسر مختلف ہے جس میں بے چینی اور افراتفری ہے نہ ہی حکومت پر عدم اعتماد کا اظہار۔ ایک عوامی اور آئینی حکومت ملک کے اقتدر پر فائز ہے جو مسلسل دو الیکشن جیت کر عوام کے اعتماد کی مہر ثبت کر چکی ہے۔ ملک کی ایک باقائدہ فوج ہے۔ ملک میں سینکڑوں کمپنیاں کام کر رہی ہیں اور تجارت پھل پھول رہی ہے۔اگرچہ حکومت کمزور ہے اور اس پر دھاندلی سے جیتنے اور کرپشن کے الزامات بھی ہیں لیکن مجموعی طور پر صورتحال اسی اور نوے کی دہائی سے یکسر مختلف ہے۔

ملک میں بحران ہیں لیکن ان کی شدت ویسی نہیں کہ طالبان اس نظام کی جگہ لے سکیں۔ درحقیقت اگر طالبان کو کوئی کردار چاہیے تو انہیں اس نظام کا حصہ بننا ہو گا نہ کہ وہ اپنا کوئی نظام نافذ کر سکیں۔ خلاصہ یہ کہ آج ویسے حالات ہرگز نہیں جن میں طالبان کے اقدامات پر عوم نے مہر ثبت کی تھی۔ بدلتے حالات کے مطابق طالبان خود کو ڈھالنے میں ناکام رہے ہیں اور آج کے حالات میں طالبان کی شریعت کا کوئی جواز بھی باقی نہیں ہے۔

یہ ایسی صورتحال ہے کہ کوئی دنیا سے الگ تھلگ ہو گر علیحدہ کسی جگہ گوشہ نشین ہو جائے اور جب ایک عرصے بعد واپس آئے تو وہ دنیا سے میل نہ رکھتا ہو بلکہ غاروں کے دور کی یادگار بنا ہوا ہو۔ طالبان کو اس تلخ حقیقت کے لیے خود کو تیار کرنا ہوگا۔

۲:- دنیا افغانستان کو اکیلا نہیں چھوڑے گی
اسی کی دہائی کے اخیر میں متحدہ ہائے روس کی افواج نے افغان سرزمین سے انخلا مکمل کیا۔ انہوں نے پیچھے نجیب اللہ کی حکومت چھوڑی جس کے متعلق سیاسی پنڈتوں نے پیشین گوئی کی تھی کہ اس کا اختتام چند ہفتوں کی بات ہے۔ لیکن اس کے برعکس روس کی مسلسل مالی اور فوجی پشت پناہی سے یہ حکومت مجاہدین اور جنگجو سرداروں کے خلاف اپنا وجود برقرار رکھنے میں کامیاب رہی اور اس دورانیے میں سب سے اہم واقعہ، واقعہ جلال آباد کو بھی برداشت کر گئی۔

نومبر 1987 میں دیوار برلن کے انہدام اور ریاست ہائے متحدہ روس کا تحلیل ہوجانےکے بعد روس نے نجیب کی حکومت کی پشت پناہی جاری رکھی، لیکن 1992 میں جب یہ پشت پناہی باقی نہ رہی تو یہ حکومت گرگئی۔

اس وقت تک امریکہ بھی اس خطے میں مزید قیام کا خواہاں نہیں تھا اور روس کے انہدام کا جشن منانے میں مصروف تھا۔ تب کچھ واقعات اس تیزی سے ہوئے کہ کسی کو بھی ان نتائج کی توقع نہ تھی۔ دنیا کا فوکس افغانستان سے یورپ اور وسطی ایشیاء پر تبدیل ہو چکا تھا۔ دنیا میں افغانستان کا تذکرہ برائے نام رہ گیا تھا۔

ملک میں سرد جنگ کے اختتام پر دنیا کی عدم دلچسپی عروج پر تھی۔ جنگجو سرداروں نے ملک پر قبضے کے لیے ہر جائز و ناجائز حربہ استعمال کیا۔ قتل و غارت، جنگ اور منشیات کی پیدوار افغانستان کے نام سے چپک چکی تھی۔ ان حالات میں پہلے مجاہدین اور پھر طالبان کا ظہور ہوا جنہوں نے دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی۔

آج کا افغانستان ان حالات سے یکسر عاری ہے جیسے نوے کی دہائی میں تھے۔ دنیا میں ہر طاقت کا افغانستان میں مفاد موجود ہے۔ نوے کی دہائی میں دنیا نے افغانستان کو بےیار و مددگار چھوڑ دیا تھا جس کے بطن سے دہشت گردی نے جنم لیا۔ لیکن آج دنیا ایک مضبوط افغانستان دیکھنا چاہتی ہے اور اس کے لیے ہر ممکن کوشش بھی کر رہی ہے۔

اگلے سال 2014ء میں نیٹو کے خروج کا نوے کے خروج سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ امریکہ یہ رسک لینے کو ہرگز تیار نہیں کہ اس کی غیر موجودگی میں طالبان اور دہشت گرد عناصر کو پھر سے پھلنے پھولنے کا کوئی موقع میسر آئے۔ امریکہ کے علاوہ دنیا کی دیگر قوتیں بالخصوص چائینا کے بھی اس خطے میں مفادات ہیں۔ اگر افغانستان میں دوبارہ انارکی جنم لیتی ہے تو ہمسائیہ ممالک کے لیے نتائج ہولناک ہوں گے۔ ان تمام ہمسائیہ ممالک مسلم ہیں اور ان میں مسلح آزادی کی جدوجہدوں سے بھی انکار ممکن نہیں۔ افغانستان کی انارکی ایسے عناصر کے مقاصد کو مہمیز میسر کر سکتی ہے۔

تو اگرچہ غیرملکی افواج افغان سر زمین پر رہیں یا نہ لیکن ان کے نقوش لمبے عرصے تک موجود ہوں گے۔

Continues Reading…, Page 2

Related Posts

Comments

comments

Pages: 1 2

Leave a reply

required

required

optional



five + 7 =

%d bloggers like this: