طالبان سے مذاکرات

February 4, 2014 at 16:11 , ,

مبارک حیدر؛

یہ ایک اہم سوال ہے کہ جنرل مشرف کی غداری اور موجودہ مذاکرات میں کیا رشتہ ہے ؟ …غداری تو منتخب حکومتیں گرانے میں بھی کی گئی ، لیکن مقدمہ ایک سرکاری ملازم کے بال خراب کرنے پر قائم ہوا ہے ، حالانکہ جج نے گلاب کی پتیوں سے بھری مانگ جیب سے کنگھا نکال کر فورا ٹھیک کر لی تھی ۔ اور پھر سات برس قوم کو گھوڑی بنا کر اس کی ایال یوں کھینچی کہ اسے ہلنے نہیں دیا ، بس گھڑ سواری کی تصویر بنتی رہی ، کیونکہ اسلام کے سیاہ پوش محافظوں اور “جمہوریت پسند جرنیلوں” کی وہ مسلح طاقت اسکے پیچھے متعین تھی جس نے بعد ازاں ایک اور مجاہد ممتاز قادری کی حفاظت کی ۔

لہٰذا واضح ہے کہ موجودہ مقدّمہ کا تعلق جامعہ حفظہ کی لال مسجد سے ہے جس کے محافظوں میں گھنے بالوں اور پیچیدہ آنکھوں والے جج کا نام اونچا تھا ۔

تحریک خلافت کی علاقائی شطرنج میں جامعہ حفظہ کی حیثیت شاہ مات جیسی تھی یعنی پاکستان پر حزب التحریر کے علاقائی بازو کا قبضہ ۔ اسے روک کر جنرل مشرف نے اس آئین پاکستان سے غدّاری کی جو جنرل ضیاء کے دور سے مکمل طور پر آئین خلافت کا جزو بن چکا ہے ، جس آئین کے لئے طالبان نے بے جگری سے جنگ کی ہے ۔ موجودہ مذاکرات میں طالبان نفاذ شریعت کے ساتھ ساتھ غالباً جرنیل کی تحویل مانگیں گے تاکہ اسے اسلامی قانون کے تحت سزائے موت دی جا سکے ۔ پیش بندی کے طور پر حکومت پاکستان نے آئین سے غدّاری کا مقددمہ قائم کر رکھا ہے تاکہ حوالہ کرنے کے مطالبہ کو ٹال کر ، یعنی عدالت کے ذریعہ سےسزا سنا کر فوج کو نہ صرف تذلیل سے بچایا جائے بلکہ اسے آئین کی اطاعت کا اعزاز دے کر مطمئن کیا جا سکے ۔ لگتا ہے اس عمل کو جرنیلوں کی تائید حاصل ہے ۔

موجودہ مذاکرات میں ایسا ممکن ہے کہ ان قربانیوں کے بدلے قلیل مدّت کا امن خرید لیا جائے ، جس کی ضرورت طالبان کو ہے ، مملکت کو نہیں ۔ کیونکہ مملکت کا کوئی نیا نقصان ممکن نہیں ۔ وقت اور مراعات کی ضرورت صرف طالبان کو ہے جن کے خلاف بڑے آپریشن کو قومی اور عالمی حمایت حاصل ہے اور افواج کی اکثریت اس کے لئے پہلے سے زیادہ تیار ہے ۔ اگر آپریشن اچھے برے طالبان اور سٹریٹجک گہرائی وغیرہ کے مزاحیہ فارمولوں کے بغیر کیا جائے تو افغان اور امریکی افواج کے ساتھ سٹرٹیجک اشتراک ممکن ہے ، جس کے نتیجہ میں طالبان دو طرفہ مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ طالبان کو کسی ایسی خوفناک جنگ سے بچنے کی سخت ضرورت ہے ۔ ان کی یہ ضرورت موجودہ مذاکرات سے پوری ہوگی۔

مملکت کی نمائیندگی کرنے والے چونکہ طالبان ہی کے ہم خیال ہیں لہذا وہ طالبان کو مین سٹریم میں لانے کا فارمولہ پیش کر کے قوم پر احسان کریں گے یعنی طالبان کو عام معافی کے ساتھ ساتھ مملکت کے اقتدار میں شریک ہونے کی دعوت دی جائے گی ۔ یہ طالبان کی فتوحات میں اضافی فتح ہوگی ۔

پاکستان کو سعودی عرب کے اسلامی معاشرہ میں تبدیل کرنے کا عمل نہ صرف ہمارے خوشحال طبقوں اور اشرافیہ کو بلکہ افواج اور عوام کو پسند آے گا ۔ کیونکہ ایران کی طرح شریعت کا استعمال صرف دینی قوتوں کی بالا دستی قائم رکھنے تک محدود رہے گا اور کسی صاحب حیثیت شخص کو زندگی کا لطف اٹھانے سے روکا نہیں جائے گا، صرف آداب اور احتیاط کی ضرورت ہوگی۔ عالمی قوتیں بھی سکھ کا سانس لیں گی جو شریعتی نظام کے تحت چلنے والے ملکوں کے ساتھ مزے میں ہیں ۔ اگر انھیں اسلامی قوتوں سے جارحیت یا سبوتاژ کا خطرہ نہ ہو تو انھیں ہماری رات دن کی عبادت اور اللہ سے مانگتے رہنا اچھا لگتا ہے ۔ کیونکہ ہماری قوت ایمانی سے ہمارے عقیدوں کے وہ اختلاف جنم لیتے ہیں جن کے باعث ہم نہ صرف اسلحہ کے اچھے خریدار بن جاتے ہیں بلکہ اشیائے صرف کے حاجت مند بھی ۔

لیکن سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ یورپ اور خود امریکہ میں اسلام کے عالمی غلبہ کی تحریک بڑھتا ہوا خطرہ بن رہی ہے ۔ اور وہاں کے عوامی حلقوں میں اضطراب بڑھ رہا ہے ۔ چنانچہ روس سمیت عالمی طاقتیں پاکستان میں شریعتی نظام کو گہرے شک کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔

اگر ہمارے اسلام پسند حکمران طبقے امریکہ ، یورپ روس اور بھارت کے خدشات دور کرنے میں کامیاب ہو گئے تو ہم جلد ہی شریعت کی برکات سے فیض یاب ہو سکیں گے ۔ ورنہ خطرہ ہے کہ غیر یقینی کی موجودہ اذیت کچھ عرصہ جاری رہے گی ۔ یعنی بڑے آپریشن کو ملتوی کر کے طالبان کو بہتر تیاری کا وقت دیا جائے گا ۔

ہمیں جلد یا بدیر یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ ہمیں اسلامی شریعت چاہئے یا مذہب کو ذاتی زندگی تک محدود کر کے انسانی عقل و خرد سے چلنے والا جمہوری نظام ۔

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



9 − = two

%d bloggers like this: